سرورق مضمون

کشمیر میں کورونا کی نئی کروٹ ،لاک ڈاون پھر لاگو

کشمیر میں کورونا کی نئی کروٹ ،لاک ڈاون پھر لاگو

سرینگر ٹوڈےڈیسک
جمعہ کو راجناتھ سنگھ اپنے ایک اہم دورے پرپہلے لداخ پہنچ گئے۔ انہوں نے کئی سرحدی چوکیوں کا معائنہ کیا اور وہاں تعینات فوجیوں سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ چین کے ساتھ سرحدی تنازعے پر بات چیت جاری ہے۔ سنگھ نے کہا کہ کئی مرحلوں کی اس بات چیت میں بہت سے مسائل پر قابو پالیا گیا ہے ۔ تاہم انہوں نے مذاکرات کے حتمی نتائج پر کچھ کہنے سے انکار کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ بات چیت بہتر ماحول میں ہورہی ہے ۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے کچھ کہنے سے انکار کیا ۔ سنگھ کا کہنا ہے کہ بات چیت میں کافی پیش رفت ہوئی ہے اور اعتماد سازی کے کئی اقدامات کئے گئے ۔ تاہم انہوں نے اس بات پر کچھ کہنے سے انکار کیا کہ بات چیت کہاں تک نتیجہ خیز ہوگی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ بات چیت کا انجام کیا ہوگا ۔ وزیردفاع کا سرحدی علاقوں کا یہ دورہ حالیہ گلوان ویلی تنازعہ کے تناظر میں بڑا اہم خیال کیا جاتا ہے ۔ گلوان ویلی میں تعینات ہند پاک فوجوں کے درمیان ہوئی لڑائی میں بھارتی فوج کے بیس نوجوان مارے گئے اور دس اغوا کئے گئے ۔ اغوا کئے گئے فوجیوں جن میں ایک آفیسر بھی شامل تھا ، کو بعد میں رہاکیا گیا ۔ یہ تنازعہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا تھا ۔ تاہم دونوں طرف سے تنائو ختم کرنے کے لئے بات چیت پر زور دیا گیا ۔ پہلے فوجی سطح کے مذاکرات کے کئی دور ہوئے ۔ بعد میں وزیراعظم کے دفاعی مشیر اجیت ڈووال اور چینی وزیرخارجہ کے درمیان فون پر ایک طویل مکالمہ ہوا ۔ اس سے پہلے ہندوستان نے سو کے قریب ایسی فون ایپ بند کرنے کا اعلان کیا جن سے مبینہ طور چین کو کروڑوں روپے کی آمدنی ہوتی ہے ۔ اسی دوران چین کے ساتھ ہوئے کئی تجارتی معاہدے منسوخ کرنے کی دھمکی دی گئی ۔ اس کے بعد دونوں ملکوں نے باہمی لڑائی بات چیت سے ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اب تک کے مذاکرات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ تنائو بہت حد تک کم ہوگیا ہے ۔ کئی حلقوں کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں نے اپنی فوجین گلوان وادی سے ہٹانے اور لڑائی سے پہلے کی پوزیشنوں پر واپس تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ اس حوالے سے کافی پیش رفت ہوئی ہے اور فوجیں اپنی سابقہ پوزیشنوں پر آگئی ہیں۔ اس درمیان خیال تھا کہ وزیردفاع راجناتھ سنگھ لداخ کا دورہ کریں گے ۔ لیکن اچانک وزیراعظم نے خود لداخ پہنچ کر وہاں فوجیوں سے خطاب کیا ۔ اپنی تقریر میں مودی نے اعلان کیا کہ ہندوستان کی سرحد پار کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی ۔ انہوں نے اس بات کو واضح کیا کہ ملکی سرحدوں کو پھیلانے کا زمانہ ختم ہوچکا ہے اور کسی بھی ملک کو اپنی موجودہ سرحدوں سے آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ وزیراعظم کے بعد کئی حلقے امکان ظاہر کررہے تھے کہ وزیردفاع لداخ اور جموں کشمیر کا دورہ کریں گے ۔ یہ پیشن گوئی صحیح ثابت ہوئی اور سنگھ جمعہ کے روز لداخ پہنچ گئے ۔ یہاں انہوں نے وزیراعظم کی پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے دھمکی دی کہ جو کوئی ہندوستان کی سرزمین کی طرف آنکھ اٹھائے گا اسے نہیں چھوڑا جائے گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی ایک اینچ زمین کسی کو ہڑپ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان امن قائم کرنے میں پیش رفت کے بعد اس طرح کے بیانات سامنے آئے ہیں ۔
اس دوران جموں کشمیر میں پچھلے ایک ہفتے کے دوران کووڈ مریضوں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہونے لگا ۔ جمعرات کو پانچ سو کے قریب مثبت کیس سامنے آئے ۔ بدھ وار کو اس بیماری سے تیرہ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے ۔ جمعرات کو مزید چودہ افراد اس وجہ سے ہلاک ہوگئے ۔ اس کے بعد انتظامیہ نے کئی علاقوں میں ایک بار پھر لاک ڈاون کے اطلاق کا اعلان کیا ۔ پہلے کپوارہ میں لاک ڈاون نافذ کرنے کا حکم دیا گیا ۔ اس کے بعد سرینگر کے بہت سے علاقوں کو اس کے دائرے میں لایا گیا ۔ اننت ناگ اور پلوامہ کے کئی حصوں پر لاک ڈاون لگائے جانے کی اطلاع ہے ۔ ادھر نئے کیس سامنے آنے سے ان علاقوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے ۔ بہت سے ایسے افراد کے ٹیسٹ مثبت پائے گئے جن کی کوئی ٹراول ہسٹری ہے نہ ان کا ایسے مریضوں سے مبینہ طور میل جول رہاہے ۔ تاہم ایسے تمام افراد کو کورنٹائن سنٹروں میں پہنچادیا گیا ۔ طبی ماہرین نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ لوگ ضروری ہدایات پر عمل نہیں کررہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ جلسوں اور بہت سی تقریبوں میں جاکر آپس میں کوئی فاصلہ نہیں رکھتے ہیں ۔ اس وجہ سے کورونا وائرس بڑی تیزی سے پھیل رہاہے ۔ بہت سی نئی بستیاں وائرس کی لپیٹ میں آگئی ہیں ۔ سرینگر کے بہت سے علاقوں میں بڑی تعداد میں کووڈ کے مریض سامنے آئے ہیں ۔ ان علاقوں کو ریڈزون قرار دے کر وہاں لوگوں کی آمد رفت پر پابندی لگادی گئی ہے ۔ ہندوستان بھر میں کورونا وائرس کا قہر جاری ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ کئی ہفتوں تک اس طرح کی صورتحال قائم رہنے کا خطرہ ہے۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ گھروں کے اندر بیٹھے رہیں ۔