سرورق مضمون

کشمیر : چوٹی کاٹنے کے واقعات میں اضافہ

کشمیر : چوٹی کاٹنے کے واقعات میں اضافہ

ڈیسک رپورٹ
جمعہ کو اننت ناگ میںاس وقت لوگ مشتعل ہوگئے جب یہاں کاڈی پورہ میں ایک لڑکی کے بال کاٹنے کا واقعہ پیش آیا ۔ اس نوعیت کے واقعات پچھلے دو ہفتوں سے پیش آرہے ہیں ۔ پہلے کولگام میں لڑکیوں کی چوٹی کے بال کاٹنے کی کئی واراداتیں سامنے آئیں ۔ بعد میں بانڈی پورہ میں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا ۔ سرینگر کے مضافات میں دن دہاڑے ایک دوشیزہ کی چوٹی کاٹ لی گئی ۔ اس سے پہلے افواہ اڑی تھی کہ گاندربل میں ایسا ہی ایک حادثہ پیش آیا ۔ لیکن ایسے کسی واقعے کی تصدیق نہ ہوسکی اور پولیس نے ایسا کوئی واقعہ پیش آنے سے انکار کیا۔ البتہ سرینگر کے علاوہ جنوبی کشمیر میں ایسے کئی واقعات پیش آئے ۔ آمنو کولگام کے علاوہ دمحال اور کیموہ کے علاقے میں لڑکیوں کے بال کاٹے گئے۔ کولگام میں کئی لوگوں نے الزام لگایا کہ اس طرح کے واقعات میں پولیس اور فوج ملوث ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے ایک شک آور شخص کو انہوں نے تحویل میں لیا تھا لیکن سیکورٹی فورسز نے مداخلت کرکے اسے چھڑا لیا۔ پولیس نے ایسے کسی بھی واقعہ میں ملوث ہونے سے انکار کیا اور جلد ہی اس طرح کی صورتحال پر قابو پانے کی یقین دہانی کرائی۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ بال کاٹنے والے لڑکیوں پر کوئی سیال یا گیس چھڑک کر انہیں بے ہوش کرتے ہیں جس کے بعد ان کے بال کاٹے جاتے ہیں ۔ اہم بات یہ ہے کہ اس حوالے سے اب تک کسی بھی ملوث شخص کی شناخت نہیں کی جاسکی اور ایک فرد بھی اب تک گرفتار نہیں کیا جاسکا ۔ پولیس اس معاملے میں خاموش پائی جاتی ہے۔ البتہ وزیراعلیٰ نے ہدایت دی ہے کہ ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے کر لوگوں کو اس وجہ سے پیدا ہوئی خوف و ہراس کی صورتحال سے نجات دلا یا جائے ۔ کئی علاقوں سے اطلاع ہے کہ لوگوں نے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر رات کو سڑکوں پر گشت لگانے اور شک آور افراد کو اپنی تحویل میں لینے کا اعلان کیا ہے ۔ کئی علاقوں میں اس پر شدت سے عمل کیا جارہاہے ۔
لڑکیوں کے چوٹی کے بال کاٹنے کے واقعات سب سے پہلے دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقے میں پیش آئے۔ وہاں جلد ہی صورتحال پر قابو پایا گیا ۔ اس دوران وادی میں ایسے کئی واقعات پیش آئے جس پر لوگوں میں سخت تشویش پیدا ہوگئی ۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ تشویش کولگام میں پیدا ہوگئی ۔ یہاں لوگوں نے ان واقعات کے خلاف منگل وار کو مکمل ہڑتال کی ۔ علاقے کے معزز شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلع میں پچھلے دو ہفتوں کے دورن مبینہ طورچودہ ایسے واقعات پیش آئے ۔ لوگ مطالبہ کررہے ہیں کہ بال کاٹنے والے افراد کی نشاندہی فوری طور کی جائے اور ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے ۔ علاقے میں اس طرح کے واقعات مالون ، چندر گی ، بانی وولہ ، گلوان پورہ اور منزگام میں پیش آئے ۔ پولیس نے مبینہ طور کیس درج کیا ہے اور تحقیقات شروع کی ہے ۔ بانڈی پورہ میں بھی مبینہ طور چوٹی کاٹنے کا واقعہ پیش آیا ۔ ترال کے املر گائوں سے اطلاع ہے کہ ایک اجنبی شخص نے گھر سے باہر کھڑی ایک لڑکی سے پینے کے لئے پانی مانگا ۔ لڑکی جونہی گھر کی طرف مڑی تو مذکورہ شخص نے اس کی چوٹی کاٹنے کی کوشش کی ۔ لیکن لڑکی نے کمال پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود کو بچایا۔ البتہ اس کی چوٹی کا معمولی حصہ کاٹا گیا ۔
ادھر حریت کانفرنس چیرمین(گ) سید شاہ علی گیلانی نے اس حوالے سے سخت تشویش کا اظہارکیا ہے ۔ سینئر حریت رہنما نے لڑکیوں کے بال کاٹنے اور سیکورٹی اداروں کی ملوث افراد کی نشاندہی میں ناکامی پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے اس حوالے سے دئے گئے بیان میں اسے کشمیریوں کو خوف و ہراس میں ملوث کئے جانے کی ایک سازش قرار دیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ اس طرح کے واقعات منظم سازش کا حصہ ہیں تاکہ لوگوں کوہراساں کرکے اصل مقصد سے دور رکھا جائے۔ گیلانی کا کہنا ہے کہ حکومت ہر محاذ پر ناکام ہوگئی ہے۔ اب لاقانونیت ہر جگہ پائی جاتی ہے ۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہوکر ایسی ہر سازش کو ناکام بنائیں ۔اسی طرح نیشنل کانفرنس کی طرف سے جاری بیاں میں اس حوالے سے حکومت کی بے حسی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔ پارٹی کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا کہ ماضی میں اس طرح کے کئی واقعات پیش آئے جن سے حکومت اپنی ناکامیوں سے لوگوں کی توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔ پولیس کی ملوث افراد کی کھوج نکالنے میں ناکامی پر سخت افسوس کا اظہار کیا گیا ہے ۔ بال کاٹنے کے واقعات کے حوالے سے کولگام کے ڈپٹی کمشنر نے تازہ صورتحال کا جائزہ لینے اور ان واقعات کی تحقیقات کے لئے ایک ٹیم تشکیل دی ۔ ڈپٹی کمشنر اننت ناگ ایک حالیہ میٹنگ میں تمام آفیسروں کو اس حوالے سے ہوشیار رہنے اور اپنے علاقوں مین اس پر قابو پانے کے لئے لائحہ عمل بنانے پر زور دیا ۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ انتظامیہ کو تاون دے کر ایسے واقعات میں ملوث افراد کی نشاندہی کرنے میں مدد کریں ۔ پولیس نے مختلف علاقوں میں کنٹرول روم قائم کرکے ٹیلی فون نمبرات مشتہر کئے ہیں ۔ تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے ۔ لوگوں میں اس معاملے پر سخت تشویش پائی جاتی ہے ۔ یہ معاملہ دن بدن سنگین بنتا جارہاہے ۔