خبریں

کشمیر کی صورتحال انتہائی خطرناک

کشمیر کی صورتحال انتہائی خطرناک

چین نے سخت پیغام جاری کرتے ہوئے خبردار کیاہے کہ کشمیر میں صورتحال انتہائی خطرناک بن گئی ہے اور ایسے میں بھارت معاملات کو حل کرنے کے بجائے امریکی بہکاوے میںآکر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش رہا ہے جس کا چین سنجیدہ نوٹس لے رہا ہے۔ تاہم چین نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان پر حملہ چین پر حملہ تصور کیا جائیگا کیونکہ چین پاکستان کی پشت پر کھڑا ہے ۔اس دوران چین نے بھارت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ خطے میں طاقت کا توازن بگاڑنے کی کوشش نہ کرے کیونکہ اس کا خمیازہ بھارت کو ہی بھگتنا پڑیگا۔چین نے عالمی برداری سے کشمیر کے حالات کا سنجیدہ نوٹس لینے کا مشورہ دیا ہے ۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جنگ شوائنگ نے بیجنگ میں پاکستان امریکہ تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کی امداد بند کر دی ہے اور اس کے کردار کو نظر انداز کردیا تاہم اگر امریکہ نے پاکستان کیخلاف کسی بھی طرح کی کوئی جارحیت کی تو چین پاکستان کا ساتھ دیگا ۔انہوں نے کہاکہ چین پاک دوستی کے بارے میں دنیا کو پتہ چل جانا چاہئے ۔انہوں نے کہاکہ اگر چہ چین کسی بھی طرح سے امریکہ سے الجھنا نہیں چاہتا ہے لیکن امریکہ جس طرح سے خطے میں مداخلت کررہا ہے وہ کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں ہوسکتی ہے ۔انہوں نے بھارت کو بھی خبردار کیا کہ وہ کسی بھی طرح سے امریکہ کے جھانسے میں آکر پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش نہ کرے کیونکہ چین پاکستان کی پشت پر کھڑا ہے لہٰذا اس معاملے پر بھارت کو بھی احتیاط سے کام لینا ہوگا ۔ چین نے صاف کر دیا کہ کشمیر میں کنٹرول لائن پر کشیدگی سے برصغیر کا امن خطرے میں پڑ گیا ہے لہٰذا اس مسئلے کو حل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ترجمان جنگ شوائنگ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ کشمیر میں جو صورتحال پیدا ہورہی ہے وہ انتہائی خطرناک ہےا ور اس صورتحال سے اب براہ راست عالمی برادری کی توجہ کو اپنی جانب مرکوز کر دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہندوپاک کے درمیان کشمیر میں کنٹرول لائن پر جو سرحدی کشیدگی بڑھ رہی ہے وہ نہ صرف ہندوپاک کے امن کو غارت کر رہی ہے بلکہ پڑوسی ممالک بھی اس سے متاثر ہونگے لہٰذا چین کسی بھی صورت میں اس مسئلے کو نظر انداز نہیں کرسکتا ہے۔ انہوں نے ہندوپاک کو مشورہ دیا کہ وہ اس نازک مرحلے پر کشمیر مسئلے کے حل کیلئے کوششیں شروع کریں۔تاہم چین نے دونوں ممالک کو پیش کش کی ہے کہ چین دونوں ممالک کو قریب لانے اور مذاکرات کی بحالی میں تعمیری رول ادا کر سکتا ہے۔چین کا کہنا تھا کہ ہندوپاک کے درمیان تعلقات کو بہتربنانے کیلئے تعمیری رول بھی اد ا کرنے کیلئے وہ تیار ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر چہ بھارت ہر محا ذ پر یہ کہتا آیا ہے کہ کشمیر کے معاملے پر تیسرے فریق کی ثالثی ناقابل قبول ہے لیکن اس کے باوجود جو صورتحال بن رہی ہے اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ جنگ سوائیگ کا مزید کہنا تھا کہ چین کو امید ہے کہ دونوں ممالک ہر محاذ پر آگے آنے کی کوشش کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے د رمیان کشیدگی کم ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کیلئے لازمی ہے کہ دونوں ممالک چین کی مدد لیں اور کشمیر مسئلے کے حل میں آگے نکل جائیں ۔انہوں نے کہا چین ایک تعمیری رول ادا کرنے کیلئے بھی تیار ہے ۔تاہم اس سلسلے میں جب نامہ نگاروں نے چینی ترجمان سے پوچھا کہ چین کس طرح سے دونوں ممالک کوقریب لانے کی کوشش کرسکتا ہے جبکہ چین اور بھارت کے درمیان پہلے ہی کشیدگی پیدا ہوچکی ہے تو انہوں نے کہاکہ آپسی مسائل اپنی جگہ ہیں لیکن کشمیر نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی ہے اور چین اس سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکتا ہے لہٰذا دونوں ممالک کو برصغیر کے امن کی خاطر بھی اس مسئلے کو حل کرنا ہی ہوگا کیونکہ اس مسئلہ کے لٹکتے رہنے سے برصغیر کا امن بھی خطرے میں پڑ گیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں کیا برائی ہے کہ اگر خطے کے دو نیوکلیائی ممالک ایک دوسرے کے قریب آجائیں اور اپنے مسائل حل کریں اور جو مسائل وہ آپسی طور پر حل نہیں کر سکتے ہیں چین کی مدد لیں ۔کیونکہ حقیقی معنوں میں ایک تعمیری رول ادا کرنے کیلئے تیار ہے ۔ وزرات خارجہ کے ترجمان نے کہاکہ چین ہندوپاک سرحدی کشیدگی پر متفکر ہے اور اگر یہ سلسلہ برقرار رہا تو پڑوسی ممالک کو بھی اس کی تپش محسوس ضرور ہوجائیگی جس میں امن کو خطرہ لاحق رہیگا ۔