مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط:۱۲ )

جے سنگھ کے قتل کے بعد عوام کی خواہش تھی کہ وزیر مول چند تخت پر بیٹھے لیکن مول چند نے جے سنگھ کے بیٹے پرانو کو مسند تخت پر بٹھایا ،ظاہر ہے کہ مول چند نہ تو حریص تھا اور نہ ہی نمک حرام بلکہ ایک سلجھے ہوئے ذہن کا مالک تھا ، راج درباروں میں اس طرح کے لوگ بہت ہی کامیاب ہوتے ہیں ،اس سے مول چند کی قدرو منزلت اور عزت میں بھی اضافہ ہوا ،، کئی نزدیکی راجگاں پھکلی ، جموں ،کشتواڑ ۔ حملوں کے لئے پر تول رہے تھے لیکن مول چند کی ذہانت اور بہادری نے سب کے سر کچل دئے اور اس طرح سے امن و امان قائم ہوا ،لیکن بدقسمی سے مول چند کسی مرض میں مبتلا ا ہوا، اور ۱۱۶۷؁ء میں پرلوک سدھار گیا ، اس کے بعد راجہ پرانو کا بھرم ٹوٹا اور اس نے بھی وہی راستہ اختیار کیا جو اکثر و بیشتر راجاؤں کے لئے مخصوص رہا ہے، پرانو بیو قوف ثابت ہوا اس لئے شعبدے باز نئے نئے شعبدے بناکر اور دکھا کر پرانو کو فریب میں مبتلا کرتے رہے اور اس سے باور کرانے میں کامیاب ہوئے کہ اس سے دیو تاؤں کی آشیر واد حاصل ہے ،آخر کار ۷سال ۶ماہ اور ۱۰ روز کی حکمرانی کے بعد ہی اس دھرتی سے کوچ کر گیا ،، راجہ پرانو کی موت کے بعد اس کا بیٹا ورتی دیو ۱۱۷۰؁ء میں تخت پر بیٹھا ، اس نے ۷سال حکومت کی ، یہ راجہ لاولد تھا اس لئے ۱۱۷۷؁ء کے بعد ایک نئے خاندان کو حکومت منتقل ہوئی اس طرح ۱۶۰ سال کے بعد لوہر کوٹ کی حکمرانی کا خاتمہ ہوا ،،،۱۱۷۷؁ء میں ہم تاریخ میں ایک ایسے راجہ کا نام پاتے ہیں جس کا کوئی اتا پتا نہیں چلتا ، بلکہ اس کے باپ کا بھی نام تاریخ میں درج نہیں ، اس کا نام اوپیا دیو تھا اور یہ ۱۱۷۷؁ء میں تخت کشمیر پر بیٹھا ، کیسے بیٹھا اس پر دھند چھائی ہوئی ہے لیکن اتنا صاف ہے کہ فرقہ’’ لون ‘‘کی حمایت سے ہی اس سے یہ مسند حاصل ہوئی ، اور ایسا باور کیا جاتا ہے کہ یہ کشمیر کے ہی کسی راجگاں سے تعلق رکھتا تھا کئی بار ہماری تاریخ میں لون ‘‘ اور ڈانگر یا تانترین قبیلوں کا ذکر آیا ہے یہ قبیلے آج بھی کشمیر میں بودو باش رکھتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ماضی میں یہ بڑے اور جنگجو قبیلے رہے ہیں جن کا دخل حکمرانوں کی حکمرانی میں کلیدی رہا کرتا تھا ،، راجہ اوپیا دیو کی حماقتوں کے کئی واقعات ہماری تاریخ میں درج ہیں ،، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں کسی قسم کی سوجھ بوجھ اور ذہانت کا دور دور تک شائبہ نہ تھا ، ، سنگریزوں کو پتھروں کی اولاد سمجھ کر ان پر دودھ ڈلواتا تھا تاکہ وہ بڑے پتھر بن جائیں ،ایک بار جھیل ڈل کی سیر کرتے ہوئے صاف و شفاف پانی میں اپنی تصویر دیکھ کر ہنسا ، تصویر بھی جو ہنسی تو غصے میں پانی کو وہ چانٹا مارا کہ انگوٹھی انگلی سے پانی میں جا گری ، ہاتھ سے پانی پر لکیر کھینچ کر نشان لگادیا کہ یہاں میری انگوٹھی پانی میں جا پڑی ہے اور کئی دنوں کے بعد اس لکیر کو تلاش کرتا رہا ،تاہم اپنے حمائتیوں کی مدد سے ۹ سال ۴ مہینے تک حکومت کی ،اوپیا دیو کے انتقال کے بعد اسی لون فرقہ کی حمائت سے اس کا بھائی رسہ دیو تخت نشین ہوا ، اس نے بھی ۱۸ سال ۱۳روز حکومت کی ، لیکن کوئی قابل ذکر کارنامہ کہیں نظر نہیں آتا سوائے اس کہ تخت پر مزے لوٹتا رہا ۔ اس کے بعد ۱۲۰۴؁ء میں اسی خاندان کا راجہ جگ دیو تخت شاہی پر بیٹھا ، اتناہی کہا جاسکتا ہے کہ تپتے ہوئے ریگستانوں کے بعد ایک چھوٹا سا نخلستان نظر آیا ، یہ راجہ فوراًً ہی ظالموں ، خوش آ مدیوں ،چاپلوسوں اور فریبیوں کے خلاف کمر بستہ ہوا اور رعایا پروری کی بہترین مثال قائم کردی ، لیکن دغا بازوں اور ظلم و جبر کے عادی امرا وزرا ء نے ایک جھٹ ہوکر بغاوت کردی جس کے نتیجے میں راجہ کو معزول کردیا اور وطن چھوڑنے پر مجبور کردیا ، کچھ مورخوں کا خیال ہے کہ راجہ جگ دیو نے خود ہی کنارہ کشی اختیا ر کی ، لیکن یہ درست نہیں لگتا کیونکہ اس ر اجہ کے ساتھ صرف ایک وزیر نے وفاداری نبھائی جو اس کے ساتھ رہا اسی وزیر نے تھوڑے دنوں کے بعد ایک چھوٹی سی جماعت ہمدردوں کی بہم پہنچائی ، اور راجہ کے ہمراہ سرینگر پر زبردست حملہ کر کے قابض ہوگیا ، اس کے بعد تمام باغیوں کو مغلوب کیا اور اپنی رعایا کے لئے زبردست اور رات دن کام کیا جس کی وجہ سے جگ دیو کے نام کے ساتھ عوام نے ’’داتا‘‘ بھی لگادیا ،۱۴سال تین ماہ ا ور ۱۳ دن کی حکمرانی کے بعد اپنے ہی ایک رشتے دار پدم نے اس ’’داتا ‘‘ کو زہر دے کر ہلاک کیا ،،، پدم راجہ داتا کے دوسرے پسمانگاں کو بھی ٹھکانے لگانا چا ہتا تھا، جس میں راج دیو بھی تھا لیکن وہ بھاگ گیا ، ابھی پدم تاجپوشی کی خوشیوں میں ہی مست تھا کہ راج دیو کھادرہ پارہ سے بھاری جمعیت کے ساتھ حملہ آور ہوا پدم بھی مقابلے کے لئے نکلا ، راج دیو خائف ہوکر قلعہ میں پناہ گزین ہوا ،لڑائی چلتی رہی لیکن فیصلہ نہیں ہوپارہا تھا ،ایکدن کسی شخص نے زرد پاپوش بطور تحفہ پدم کے حضور پیش کیا ، پدم اس پاپوش کی خوبصورتی سے حیران تھے اور اسی دوران کسی پیادے نے پیچھے سے آکر اس کا سر قلم کیا ، راج دیو قلعے سے باہر آیا ، اور اس طرح تخت شاہی حاصل ہوا ،راج دیو نے معروف اور وفاداروزیر مول چند کے بیٹے کہکہ ،کوملکی امورات سونپ دئیے جس نے اپنے باپ کی مثال قائم کرتے ہوئے بہت ہی اچھی طرح ملکی امورات سر انجام دئے لیکن یہاں یہی کہا جاسکتا ہے کہ کشمیر کی بڑی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ کوئی قابل ، رعایا پرور شخص زیادہ دیر زندہ نہیں رہا ہے ، یہ مول چند کا بیٹا ’’کہکہ ‘‘بھی عالم شباب میں ہی کوچ کرگیا ، اس کے بعد بادشاہ کو ،کوئی ایسا بہتر شخص نہیں ملا بلکہ اس کہکہ کے بیٹے کے سر بھی وزارت کا تاج رکھا لیکن یہ’’ بلاد چندر ‘‘ کسی بھی طرح اس منصب کا اہل ثابت نہیں ہوا بلکہ باغیوں کے ساتھ بغا وت میں شامل ہوا ،، نصف سرینگر پر قبضہ کیا اور اپنے پایہ تخت کو اپنے نام پر جلدیمر نام دیا، کسی اور وجہ سے راجہ جلدیو ، پنڈتوں سے خفا ہوا اور یہ حکم دیا کہ تمام’’ بٹ‘‘ پنڈتوں کو قتل کیا جائے ،، اس دور میں بہت سارے پنڈت اور براہمن قتل ہوئے ،اس راجہ نے اپنے دور میں دو گاؤں آباد کئے ایک ’’لاجور ‘‘اور دوسرا ’’ارلو ‘‘آخر ۱۲۴۲؁ء میں ۲۳ سال ۳ماہ اور ۲۷ دنوں کی بادشاہت کے بعد پرلوک سدھار گیا ،، راج دیو کے بعد اس کا بیٹا سنگرام دیو ۱۲۴۲ ؁ء تخت شاہی پر بیٹھا۔کئی کام رفاہ عامہ کے کئے اور اپنی فوج کو مظبوط کیا تمام دشمنوں پر دھاک بٹھائی ،اپنے بھائی سورج دیو کو مد ارلمہامی عطا کی اور بلاد چندر کو اپنا سپاہ سالاربنایا۔ لیکن جلدہی سورج دیو سر کشی پر اتر آیا ،سنگرام نے بھائی کے تیور دیکھے تو ہوشیار ہوگیا ، بھائی کے ڈر سے بھاگ کر قلعہ بلاد چندر کے ہاںگگنہ گیر میں پناہ لی۔ سنگرام نے کوئی وقت ضائع کئے بغیر قلعے پر قبضہ کیا اور سور دیو جان بچانے کے لئے اسکردو جا پہنچا ’’ٹونگ ‘‘یہاں کے حاکم نے اس کی مدد کا ارادہ کیا لیکن سنگرام نے تیز رفتاری کے ساتھ اسکردو پر حملہ کرکے شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ،،سور ج دیو کوہستنانی علاقوں میں خاک چھاننے لگا لیکن اپنے ہی کچھ ہمراہیوں نے اس سے گرفتار کرکے سنگرام کے حوالے کیا ، جو سورج سے زبردست خفا تھا ، غصے کے عالم میں اس کے ٹکڑے کردئے ، ، بعد میں بہت پچھتایااور بلاد چندر کو معاف کیا ،، کچھ عرصے کے بعد پنڈت کلہن کے ر شتہ داروں نے علم بغاوت بلند کردی،لوٹ مار مچانے لگے ، اور بہت سارے مفسد بھی ان سے مل گئے ، سنگرام نے راجہ راجوری سے مدد چاہی،، مزید کمک کے ساتھ سنگرام نے مفسدوں اور باغیوں کے خلاف میدان کار زار گرم کیا ،سب کو مغلوب کیا اور کلہن کے رشتے داروں سے انتقام لینے کے بجائے انہیں معاف کیا ،اس راجہ نے قصبہ بیجبہاڑہ محلہ سنگرام اور چندرہ پار آباد کئے ،سنگرام کے عہد میں شاعروں ، اور عالموں وفاضلوں کی عزت افزائی ہوئی ، لیکن یہ سب پھر سنگرام دیو کے ساتھ ہی ختم ہوا ، سوپور میں بھی ایک محلہ اب تک سنگرام پورہ کے نام سے جانا جاتا ہے،اور سوپور سے تین کلو میٹر کے فاصلے پر ایک گاؤں سنگرامہ سے جانا جاتا ہے جو سرینگر سوپور روڈ پر واقع ہے یہاں سے سیدھی سڑک بارہمولہ اور اوڑی تک جاتی ہے ، نہیں معلوم کہ اس راجہ سنگرام کے ساتھ ان کا کچھ تعلق ہے کہ نہیں ، تاریخوں میں اس کے بارے میں کچھ نہیں ملتا ، لیکن زمانے اور نام کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے یہ کوئی بعید بھی نہیں کہ اسی راجہ کے نام پر یہ جگہیں بھی ہوں ،،آخر ۱۶سال ۱۰ روز کی بادشاہت کے بعد اس راجہ کو بھی اپنے اقربا نے ہی زہر کا پیالہ دے کر ہمیشہ کی نیند سلادیا ،،۱۲۵۸ ؁ ء میں سنگرام کی جگہ اس کا بیٹا رام دیو تخت نشین ہوا ،رام دیو نے باپ کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا ،ملکی امورات حسن تدبیر سے چلانے لگا اور اس کا دور جو ۲۱سال ایک ماہ اور بارہ دن پر محیط ہے کشمیر میں امن و امان ہی کا دور رہا،لیکن اس راجہ کی کوئی اولاد نہیں تھی ،،اپنے نام کی کچھ یادگاریں قائم کیں جن میں پرگنہ دچھن پارہ میں دریائے سندھ کے کنارے پر ایک مظبوط قلعہ تعمیر کرایا ۔ اس کی ر انی سدرہ نے اپنا نام قائم رکھنے کے لئے شہر سرینگر میں محلہ سدرہ مٹ کی بنیاد ڈالی جو بعد میں بانہ محل کے نام سے مشہور ہوا ، رام دیو نے اپنی زندگی میں ہی ایک برہمن زادے کو متنبیٰ بناکر ولی عہد کرلیا تھا آخر ۲۱ سال ایک ماہ اور ۱۲ دن کی حکمرانی کے بعد اس دنیا سے کوچ کر گیا ۔