مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط:۱۳ )
پچھلی کئی قسطوں کے شائع ہوتے ہی درجنوں فون مجھے موصول ہو رہے ہیں ، وہ جو بھی کہتے ہیں اور جس طرح ہماری تاریخ میں دلچسپی دکھا رہے ہیں وہ میرے لیے بھی حوصلہ افزا ہے مجھے اعتراف ہے کہ ان میں زیادہ لوگ میری ریاست سے باہر کے ہیں،میں ان کا شکریہ ادا کرکے بس اس بات کی استدعا کرتا ہوں کہ میرے بجائے وہ میرے ان اخبارات کا شکریہ کریں جنہوں نے مجھے یہ سلسلہ شروع کرنے کی پریرنا اور ہمت دی ہے ، دیکھتے دیکھتے اب میرے کشمیر کے آٹھ اخبارات بھی اس سلسلے کو اپنے اپنے اخبارات میں ہفتہ وار جگہ دے رہے ہیں ،، اکثر تاریخ سے شغف رکھنے والوں کا خیال ہے کہ میں بہت ہی مختصر معلومات بہم پہنچا رہا ہوں اور پوری تفصیل نہیں لکھ رہا ،عرض ہے کہ آپ سب لوگ ہماری تاریخ دانوں کی لکھی ہوئی تاریخیں پڑھ سکتے ہیں ، اور میرے خیال میں بیس پچیس تاریخیں تو مارکیٹ میں بالکل مہیا ہیں جن میں کچھ فارن مورخوں کی لکھی ہوئی اچھی خاصی تاریخیں بھی ہیں ، اختصار میری مجبوری بھی ہے اور شاید اس لحاظ سے مناسب بھی کہ میں چاہتا ہوں کہ صرف ان راجوں ، مہاراجوں اورحادثات یا واقعات کا تذکرہ کروں جنہوں نے کچھ منفرد کیا ہو ، رعایا کی بھلائی کے لئے کچھ کیا ہو یا اپنی بہادری ، انصاف پسندی اور رعا یا پر وری سے اپنے پیچھے انمٹ نقوش چھوڑے ہوں ، باقی لاکھوں اور ہزاروں بادشاہوں کی کہانیاں مجھے ایک جیسی لگتی ہیں وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہے ہوں ، ایک ہی انداز اور انداز حکمرانی رہا ہے ، قتل کئے ہیں خود قتل ہوئے ہیں ، محلات کو آگ لگائی ہے اور خود بھی آخر اپنے محلات میں بھسم ہوئے ہیں ، ظلم و جبر کے پہاڑ عوام پر توڑٹے ہیں اور خود بھی اسی پہاڑ کے نیچے کچلے گئے ہیں ، ہندو پیریڈ ختم ہونے ہی والا اس کے بعد مسلم پیریڈ تھوڑی سی تفصیل کا تقاضا کرتا ہے انشااللہ بھر پور معلومات کے ساتھ حاضر رہوں گا،،،،رام دیو کا متنبیٰ لچھمن دیو۱۲۷۹ء میں گدی نشین ہوا ۔ ابتدائی دور میں اپنے وزیر سنگرام چندر کی حسن تدبیر سے امورات ملکی چلاتا رہا ،لیکن جلد ہی لچھمن کے بیٹے نے سہم دیو وزیر سے ان بن پیدا کی ، وزیر سنگرام چندر کے ساتھ میدان جنگ بھی گرم ہوا لیکن ابھی قسمت لچھمن پر مہربان تھی ، میدان جنگ میں سنگرام چند مارا گیا ،لچھمن کے دور میں ہی’’ کچل‘‘نام کا ایک فریبی کوہ سلیمان کے دامن میں آکر رہنے لگا ، اور اپنی شعبدہ بازی ، مکرو یب سے بیچارے لوگ جوق در جو ق اس کے پاس آتے رہے ، آہستہ آہستہ سارا شہر اور دور ونزدیک یہاںتک کہ اس شعبد ہ کے شعبدوں نے شہرت حاصل کی ، اسی اثنا میں کچل کو ’’بادشاہت ‘‘کی ہوس نے مغلوب کیا ، کشمیر میں ابھی تک بہت بڑی آبادی ضعیف الاعتقا د اور اندھی تقلید کی عادی ہے ، ایسے لوگ بہت جلد دوکھ کھا جاتے ہیں،امورات ملکی میں اس فریبی کا دخل بڑھتا گیا ، اس سے پہلے کہ راجہ لچھمن تدارک کرنے کی فکر کرتا وہ ۱۳ سال ۳ ماہ ۱۲ روز کی حکمرانی کے بعد جہاں سے کوچ کر گیا ،لچھمن کے انتقال کی خبر سنتے ہیں اس کا بیٹا سہم دیو جو جاگیر دچھن پورہ میں تھا فوراً سرینگر کی طرف روانہ ہوا اور بغیر کسی مشکل کے سرینگر کے پایہ تخت پر بیٹھا ، اس کے عہد حکومت میں جیسا کہ کچھ مورخ اتفاق کرتے ہیں شنکر اچاریہ وارد کشمیر ہوا ،، شنکر اچاریہ کے زمانے سے متعلق بہت سارے اختلافات ہیں ،، بعض مورخ لکھتے ہیں کہ پانچ چھ سو برس قبل مسیح ہوئے ہیں اور ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ مسیح کے آٹھ سو سال بعد ہوئے ہیں ، ہماری تاریخ ، مثلاً گلدستہ کشمیر ،اور گلزار کشمیر میں ان کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا ،البتہ تاریخ جدولی کشمیر میں جو کہ فارسی زباں میں ہے ان کے بارے میں ایک جملہ درج ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ شنکر اچاریہ اسی زمانے میں یہاں پہنچے ،،کچل شعبدہ باز سے مناظرہ کیا ، اس کی پول کھول دی اور آخر اس سے جلاوطن کرایا ،،اس کے بعد بودھ عالموں کے ساتھ مناظرے اور بحث و مباحث کئے ، اس طرح کشمیر میں شیو ازم کو مستحکم بنیادوں پر کھڑا کیا ،راجہ بھی اس کی صلاحیتوں اور ذہانت سے مرعوب تھا جس کی وجہ سے اس عہد میں کشمیر میں شیو ازم کو خاصا فروغ ملا ۔ کچھ لکھتے ہیں کہ شنکر کیدار ناتھ گیا جہاں اس نے ۳۲ سال کی عمر میں انتقا ل کیا اور کچھ مورخوں کا خیال ہے کہ سرینگر میں ہی اسی کو ہِ سلیمان ،اپنی رہائش گاہ پر پرلوک سدھارے اور اسی لئے اس کا نام بھی شنکر اچاریہ مشہور ہوا ،، شنکر اچاریہ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ سیروتفریح کی خاطر یہا ںوارد ہوئے تھے اور کچھ کا خیال ہے کہ یہاں بدھ مت اور جین مت کا بہت زیادہ اثر تھا ، اس سے ختم کرنے اور شیو مت کو فروغ دینے کی خاطر ہی یہاں پدھارے تھے ،جو کچھ بھی ہو یہ صحیح ہے کہ شنکر نے بدھ مت کے زور کو توڈ کر شیومت کا فلسفہ روشناس کرایا جو اسلام کے بعد بھی کسی نہ کسی طرح ابھی تک اپنے مدھم سے نقوش کے ساتھ کشمیر میں موجود ہے اور خصو صاً یہاں کی شاعری میں زبردست اثرات کا حامل ہے ،جس کی وجہ سے ہمارے بہت سارے شعرا تصوف اور شیو ازم میں کہیں بھی کوئی خط تنسیخ نہیں کھینچ پائے ہیں ،، اس زمانے میں یہ بھی دستور تھا کہ کوئی برا فعل کسی عورت سے سر زد ہونے کی صورت میں اس کے باپ کو سزا بھگتنی پڑتی تھی ،ایک بار راجہ سہم دیو کسی گلوکارہ سے بہت خوش ہوا اور کہا کہ ’’مانگ ۔ کیا مانگتی ۔ہم تجھے عطا کریں گے ‘‘ گلو کارہ نے اس دستور کا تذکرہ کیا اور اس سے منسو خ کرنے کی گذارش کہ ، اس طرح یہ قانون ختم ہوا ۔اس راجہ کی کہانی بھی وہی ہے کہ پہلے انصاف پسندے سے شروعات کی لیکن جلد ہی خرافات میں کھو گیا ،جب اس کی بد کرداریاں حد سے بڑھ گئیں تو ساز شیں تیز ہوئی اور آخر ۱۴ سال ۵ماہ اور ۲۷ دنوں کی حکمرانی کے بعد ایک دن قتل ہوا ،،، ،،۱۳۰۷؁ ء میں راجہ سہدیو نے عنان حکومت سنبھالی ، اس نے رام چندر کو جو راجہ سہم دیو کے زمانے سے امورات سلطنت سے کنارہ کش ہوا تھا پھر عزت و توقیر کے ساتھ واپس بلاکر سپاہ سالاری کا منصب عطا کیا ، اور خود امورات سلطنت کے نظم و نسق میں مصروف ہوا ،اسی سہدیو کے زمانے میں قدرت نے ایک نیا باب لکھنے کے لئے کاغذ کے اوراق ترتیب دینا شروع کئے ، حکومت کے بارہویں سال یعنی ۱۳۱۹؁ء میں شاہ میر ی خاندان کا ایک آدمی اپنے اہل و عیال کے ہمراہ اپنے وطن کنر سے براستہ پکھلی ۔ بارہمولہ پہنچا ، شاہ میر کا دادا مشہور و معروف بزرگ سائیں قور شاہ صاحب کرامت و خوارق عادات تھا ،کہتے ہیں کہ جب اس کے بیٹے شاہ چاہر کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور اس کی گود میں ڈالا گیا تو اس نے بشارت دی کہ یہ بچہ بڑا ہوکر ملک کشمیر کا بادشاہ ہوگا ،،جب شاہ میر جواں ہوا تو اپنے رشتے اور یار دوستوں سے اس نے اس پیشگوئی کے بارے میں سنا اور انہی کے استدعا پر کشمیر ہجرت کی ، اگر چہ ظاہری طور پر شاہ میر کے پاس نہ تو مال و دولت تھی ، اور نہ افوج کی کوئی کثیر تعداد ، بلکہ اصل الفاظ میں بڑی بد حالی اور کسمپرسی کی حالت میں یہاں قسمت آزمانے آیا تھا ،، اس مفلسی اور کسمپرسی کی حالت میں راجہ سہدیو کے دربار میں حاضر ہوا، جو شاہ میر سے اتنا متاثر ہوا کہ اس سے پرگنہ وہن میں دارہ ویر کا گاؤں جاگیر میں عطا کیا اور شاہ میر کو اپنی دوستی اور مصاحبت سے بھی سر فراز کیا ،تاریخ حسن نے ’’تاریخ فرشتہ ‘‘ سے شاہ میر کا حسب و نسب اس طرح سے درج ہے ،شاہ مرزا بن شاہ طاہر بن فور شاہ بن آل کشٹ بن ہنگو در بن بنگو در جس کی نسبت پانڈو پتر ارجن تک پہنچتی ہے ،یہی شاہ مرزا شاہمیری سلاطین کشمیر کا دادا ہے،،دوسرا بڑا واقع یہ ہوا کہ رینچن شاہ ولد بغین والئی تبت اپنے چچا کے ہاتھوں مغلوب بھی ہوا اور لاچار بھی کسی طرح سے جان بچاکر کشمیر آپہنچا اور سپاہ سالار رام چندر کے ہاں مقیم ہوکر اس سے مدد چاہی ،، چند سال تک موضع گگنہ گیر میں مقیم رہا اور اس دوران سہدیو نے اس کا وظیفہ مقرر کیا ،،تیسرا بڑا واقع اس زمانے اور اسی سہدیو کے دور میں یہ ہوا کہ چک فرقے کا دادا ’’ لنگر چک ‘‘بھی دردستان سے ، گلگت ، بلتستان ، وغیرہ،،سے راجہ کی فراخدلی اور مہمان نوازی کی باتیں سن کر کشمیر آیا ۔ ۱۳۰۷ ؁ء میں راجہ سہدیو کے دربار میں حاضر ہوا ، راجہ نے اس سے موضع ترہگام میں واقع پرگنہ ’’ اوتر ‘‘میں بودوباش کی اجازت دی ،،لنگر چک کے بارے میں تاریخی طور کئی عجیب و غریب کہانیاں درج ہیں ایک روائت یہ بھی ہے کہ اس خاندان کی ایک لڑکی انتہائی درجے کی خوبصورت تھی جو روز اپنی سکھیوں کے ساتھ دریا سے پانی لانے جاتی تھی ، ایک روز اکیلی گئی ، اور کسی دیو ہیکل جن کی اس پر نظر پڑی تو ونہیں پر حاملہ ہوئی، درد زہ کے وقت کوئی صورت بچانے کی نہ رہی تو کسی طرح سے رحمِ مادر سے بچے کو زندہ نکالا گیا ، جو بڑا تنومند اورطاقت ور تھا ،اسی بچے کانا م لنگر چک تھا اور رینچن شاہ اس کا پوتا تھا جو وارد کشمیر ہوا ، اگرچہ خود بادشاہ سہدیو اچھا ہی تھا،اور بسیار کوشش بھی کی کیں کہ سلطنت کو استحکام حاصل ہوجائے لیکن جب کوئی قوم بگڑ جاتی ہے تو معجزے ہی اس سے بدل دیتے ہیں ، ان معجزوں کے رقم ہونے کی ابتدا ہوچکی تھی ، سہدیو کے زمانے میں ہی ۱۳۲۳؁ء میں ذالقدر خان تاتاری ستر ہزار افواج لے کر کابل و پنجاب میں گھس کر قتل عام کرتا رہا اچانک اس کا رخ کشمیر کی طرف بھی ہوا اوریہاں ایک سرے سے دوسرے سرے تک بغیر کسی مزاحمت کے کشمیریوں پر بلائے ناگہانی بن کر ٹوٹ پڑا ، سہدیو حواس باختہ ہوکر کشتواڑ بھاگ گیا ، عوام بھی وحشت زدہ ہوکر محظ اپنی جانوں کی فکر میں بے خانماں پھرنے لگے ،، زالقدر خان کی قوت چونکہ اندھی تھی اس لئے جو جہاں کہیں سامنے نظر آیا قتل ہوا۔ اس میں بچے بوڈھے ،جوان مرد عورت کی کوئی تمیز نہیں رہی ، بس وہی لوگ زندہ باقی رہے جنہیں سپاہی اپنے قیدی بنالیتے ، ان میں بچے ، مرد اور عورتیں بھی تھیں ،ان کے علاوہ ذالقدر خان نے بہت سا مال و دولت جمع کی ، اور تاریخی طور پر یہ بات درست ہے کہ کشمیر میں یہ ذالقدر کا دور آٹھ ماہ جاری رہا اور ان آٹھ مہینوں میں جو کبھی اور جب کبھی بھی کوئی شخص نظر آیا اس کا قتل ہوا ،تمام ملک ویران ہوگیا ، ہر جگہ الو بولنے لگے ، دیہات و پرگنہ جات سب آگ لگا کر ختم کئے گئے اور کسی طرح سے راجہ سہدیو کا سپاہ سا لا ر رام طندر ان قیامت خیز دنوں میں اپنے قلعے گگنہ گیر میں معصور رہا ،اس کے ہمراہ اور بھی ہزاروں لوگ اس قلعے میں موجود تھے جن میں رینچن اور شاہ میر بھی تھے ،، تاریخ میں اس بات کی وضاحت نہیں یہ قلعہ گگنہ گیر ذالچو کی نظروں سے کیسے بچا ،، ذالچو موسم سرما کے آتے ہی کوچ کرنے کی فکر کرنے لگا اور لوگوں سے راولپنڈی کا شاٹ کٹ معلوم کیا ، انہوں ذالچو کو کہوری کے راستہ سے جوکہ کوہِ پیر بل ( دیوہ سر ) کے اوپر سے گذرتا ہے کی طرف رہنمائی کی ، ذالچو کے ساتھ قیدیوں میں سے پچاس ہزار بچے اور عورتیں تھیں ، جب دیوہ سر کی پہاڑی چوٹی کے اوپر پہنچے قدرت کاملہ نے ان کی ہیبتناک موت کا انتظام کیا ، ژالہ باری ،بارش اور پھر برفباری ، اتنی شدید کہ کوئی بھی متنفس اس قیامت کی خبر دینے کے لئے زندہ نہیں بچا جو ان پر دیوہ سر کی پہاڈی پر ٹوٹی تھی ، سب چپ کے سے موت کی آغوش میں سوگئے ، ۔۔۔۔ صاف ظاہر ہے کہ انسان منصوبے باندھتا ہے ،، قدرت ہنستی ہے اور اپنے منصوبوں پر عمل کرتی ہے جو کبھی کسی انسانی ذہن میں نہیں آتے