مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط:۱۵ )

شاہ میر۱۳۴۳؁ء کو اپنے دادا قور شاہ کی پیشگوئی کے مطابق کشمیر کا بادشاہ ہوا ، وہ لوگ جو عقل کو کل سمجھتے ہیں اور قدرت کے منصوبوں سے یا تو صرف نظر کرتے ہیں یا اس وہم و گماں میں رہتے ہیں کہ انسان کلی طور پر اپنی تقدیر آپ بناتا ہے زندگی کے کسی نہ کسی موڈ پر اپنے خیالات بدلنے پر مجبور ہوتے ہیں ، کس سے اندازہ رہا ہوگا کہ شاہ میر جو ایک طرح سے کسمپرسی کی حالت میں وارد کشمیر ہوا ایک روز اس مملکت کا بادشاہ بھی ہوگا ، کس سے اندازہ رہا ہوگا کہ اپنے چچا کے ہاتھوں زچ ہوکر بھاگا ہوا رینچن بھی اس ملک کا بادشاہ ہوگا اور آگے بھی کس کو یہ اندازہ رہا ہوگا کہ چک خاندان کا پہلا اور اولین بادشاہ بھی انہی حالات کا شکار ہوکر یہاں پناہ گزین ہوگا اور پھرتخت شاہی کا وارث بھی ہوگا ، یہ صرف اس مملکت کی تاریخ نہیں بلکہ بھارت اور دنیا کی کوئی بھی تاریخ پڑھئے اندازہ ہوگا کہ ہزاروں جلیل و قدر حکمراں جنہوں نے بڑی بڑی دنیاؤں پر راج کیا ، نہ تو راج گھرانوں کے بیٹے تھے اور نہ ہی کسی طرح بادشاہوں سے منسلک تھے ،، اور وہ جو بڑے بڑے شاہی گھروں میں پیدا ہوئے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوئے ، بس ایساہوتا رہا ، جب اللہ کی مرضی ہوتی ہے تو احمق ترین انسان کو بھی بادشاہت عطا کرتا ہے ، یوں تو کشمیر میں رینچن ( صدرالدین ) نے اسلام کی قندیل روشن کی اور مختصر سی مدت میں اسلام کی روشنی پھیلانے میں بڑی کاوشیں بھی کیں لیکن اس کے بعداسلام کو جو فروغ شاہ میر کے دور میں ملا وہ تاریخ کا ناقابل فراموش باب ہے ، اس کی وجہ یہ تھی کہ شاہ میر پہلے ہی سے ایک مسلم گھرانے کا چشم و چراغ تھا اتنا ہی نہیں بلکہ مسلم گھرانے میں ہی اس کی پر ورش بھی ہوئی تھی بلکہ اس کے دادا قور شاہ اپنے وقت کے زبردست بزرگ اور عالم تھے ،، سوادِ کنیر سے۲۴ سالہ قیام کے بعد ۱۳۴۳؁ء میں شاہ میر سلطان شمس الدین کے لقب کے ساتھ حکمرانی میں مصروف ہوا ، سلطان شمس الدین نے نہایت عمدگی سے امور ،ملکی انجام دینے شروع کئے ، اگر چہ کچھ خود سروں نے بغاوت کا علم بھی بلند کیا ، اور مغلوب بھی ہوگئے ، یہ بادشاہوں کے ساتھ ایک معمول کی بات رہی ہے ، بغاوت میں لون خاندان آگے تھا اس لئے شمس الدین نے انہیں پشت بہ دیوار کرکے ، ماگرے اور چک خاندان کو آگے بڑھایا،آخر تین سال ۵ماہ کی حکمرانی کے بعد ۱۳۴۷؁ء میں دارِ فانی سے کوچ کیا اور بمقام سنبل دفن ہوا ، سنبل سرینگر بانڈی پور سڑک پر ایک معروف گاوں ہے ، جہاں ان کا مقبرہ سلطان بادشاہ سے مشہور ہے ، سلطان کے پسماند گاں میں دو بیٹے جمشید اور علی شیر تھے جنہوں نے یکے بعد دیگرے حکومت کی ،، آگے بڑھنے سے پہلے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ یہاں سلاطین کی کہانی سنانے کے بجائے بہتر یہ ہے کہ پہلے آپ کو اس مملکت کشمیر کے مشہور پہاڑوں ، مقامات اور راستوں کا ایک مختصر سا خاکہ سمجھاؤں تاکہ آگے پیچھے آپ یہ اچھی طرح سمجھ جائیں کہ ہم کہاں کی اور کس خطے اور کس راستے کی بات کر رہے ہیں ،اس کی معقول وجہ یہ ہے کہ اب کشمیر میں مسلم سلاطین کا دور شروع ہوتا ہے جس کے پیچھے پیچھے ہی ڈوگروں کا دور بھی آنے والا ہے ، دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ سلاطین کشمیر کے بعد سے اب تک کشمیری لوگ اور عوام غلامی کی زنجیروں کو نہیں توڑ پائے ہیں ، کیا یہ عبرت کا مقام نہیں کہ صدہابار جہاں کے بادشاہوں نے اس کوہستانی حصار سے نکل کر جنوبی ہندوستان معہ کابل قندہار میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑھے ہیں وہ ایک طویل عرصے سے خود ایک کنویں میں قید ہوکر رہ گئی ہے ، جس سے وہ نکل ہی نہیں پاتی،،، بہت سارے عوامل اس کے ذمہ دار ہیں ، جنہیں سمجھنا لازمی ہوگا ، کیونکہ یہ وہی کہانی ہے جو کشمیر سے شروع ہوکر زمانہ حاضر میں فلسطین تک پھیل چکی ہے ،اور ماضی بعید میں رومن ، مصری ، یونانی اور، موہنجدورو،ہڑپا کی تہذیبوں کے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا ہے ، عروج کے بعد زوال ،،میں اس کشمیر اور کشمیر کے ان علاقہ جات کے بارے میں مختصر طور بتاؤں گا تاکہ آپ یہ اچھی طر ح سمجھ سکیں کہ ہندو راجگان کے بعد سلاطین مسلم، یہاں تک کہ مہاراجہ نے انگریزوں سے جس کشمیر کو ۷۵۰۰۰ ہزار نانک شاہی سکوں کے عوض خریدا تھا اس کے علاقہ جات ، کوہستان کیا اور کہاں ختم ہوتے تھے ، میں ان علاقوں کے راستوں کا بھی اگلی قسط میں ذکر کروں گا تاکہ آپ پڑھتے پڑھتے ان راستوں پر بھی چل سکیں اور یہ جو موجودہ دور میں گلگت ، بلتستان ، وادی گلوان ،اور اقصائی چن پر تنازعات ہیں ان کی اصل نوعیت کیا ہے ، اگر چہ ہمیں بار بار یہی محسوس ہوتا ہے کہ ان پرانی کہانیوں میں رکھا کیا ہے ، آج کی بات کریں اور مستقبل کو چھو\ڑدیں۔ لیکن آپ اور ہمارا زمانہ بھی پانچ سو ہزار سال کے بعد ماضی بعید ہی کہلائے گا ، اصل میں دنیاکا ماضی ایک آئینہ ہے جس میں حال اپنا چہرہ دیکھتا ہے اور مستقبل اپنی زلفیں سنوارتا یا الجھاتا ہے ، لیکن عجیب تر بات یہ ہے کہ وقت ہر قوم کا اور ہر فرد کا احتساب کرتا ہے ، یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی کہ عیش و عشرت کی زندگی کن کے حصے میں آئی اور ذلت و خواری کی زندگی کن کے حصے میں آئی ، مغلوں کو یاد کیجئے ، اندلس (ہسپانیہ ،سپین ) کو یاد کیجئے،روما کو یاد کیجئے غرض جس بھی ملک کی تاریخ آپ پڑھیں گے ہمیں نتائج ایک جیسے نظر آتے ہیں ، آج جو یورپی تہذیب و تمدن راج کر رہا ہے محظ دوسو سال پہلے تاریک بر اعظم کے طور پر جانا جاتا تھا اور اگلے دوسو برسوں میں دنیا کی قیادت کہا ں ہوگی، نہیں بتا سکتے ،، بہرحال ہم اس اور اگلے آرٹیکل میں علاقہ جات اور راستوں کا تذکرہ ،تھوڑی سی تفصیل سے کریں گے ، کشمیر کے مشرقی پہاڑوں کا سلسلہ یارقند اور لاسہ تک کہیں نہیں ٹوٹتا اور اس کی شمالی سرحدوں کے پہاڑ تاشقند اور خوقندتک مسلسل چلے جاتے ہیں ، مغربی پہاڑوں کا سلسلہ ہزارہ اور اس کی جنوب میں جموں اور ہندوستانی حدود تک پھیلے ہوئے ہیں ، ان پہاڑوں کے بیچ میں بکثرت درے ، میدان، اور سطح مرتفع موجود ہیں ، ان پہاڑوں کے بیچ کے کئی علاقے اکثر و بیشتر ہماری تاریخ کے مطابق کشمیر کے حصے اور زیر نگین رہے ہیں ، بڑے بڑے علاقے جوکبھی کشمیر ہی کہلاتے رہے ہیںاسطرح ہیں ، تبت کلاں،، اس علاقے کو کشمیری لوگ اپنی زباں میں بوٹن کہتے تھے ،، اس کا دارالخلافہ لیہہ( لداخ )رہا ہے لیہہ ۔ تک پہنچنے کے لئے دو راستے ہیں ایک کرگل سے بٹالک اور پھر لیہہ جس کی لمبائی ۴۶۲ کلو میٹرس ہے اور دوسرا سونہ مرگ ، لمایارو سے لیہہ پہنچتا ہے ،یہ سفر ۴۳۰ کلو میٹر کا ہے اور یہ راستہ بڑا حسین اور خوبصورت ہے ۔ زوجیلا سونہ مرگ سے ہی شروع ہوجاتا ہے ، لداخ میں زیادہ تر بودھ بستے ہیں اگر چہ مسلم بھی ہیں ان میں زیادہ آبادی اہل تشیع کی ہے ، تاریخ حسنؔ کے مطابق یہ تبت کا دارلخلافہ عرصے تک رہا ہے ، تبت خورد جس سے کشمیری زباں میں اسکردویا (ژیرو بٹن )بھی کہتے ہیں ، خط کشمیر سے ۱۵۱ میل کے فاصلے پر ایک ’’دل کشا آب و ہوا کا ریگستان )ہے یہ سطح سمندر سے ۷ہزار چوبیس فٹ کی بلندی پر واقع ہے دریائے سندھ اس کے بیچ میں سے گذرتا ہے اور یہی اسکردو ایک ایسا قصبہ ہے جو قراقرم کے سلسلے اور ہمالیہ کے بیچ خط تنسیخ کھینچتا ہے ، یہا ںتھوڑی سے برف باری ہوتی ہے ، کبھی کبھی راجا خود مختار رہے ہیں لیکن زیادہ تر کشمیر کے راجاؤں نے یہاں حکومت کی ہے اس لئے سارے حصے کو کشمیر ہی کا علاقہ سمجھا جاتا تھا ،،،دھان کی فصل نہ ہونے کے برابر اور گندم ، جو ، باجرہ اور ترنبہ یہاں بکثرت اگنے والی فصلیں ہیں ، پہلے سب کے سب سنی مسلم رہے ہیں لیکن شمس عراقی کے یہاں پہنچنے سے اہل تشیع فرقہ بھی پیدا ہوا ، ( شمس الدین عراقی خراسان سے کشمیر وارد ہوئے تھے ، مسلکی طور پر شیع تھے او ر تبلیغ کے سلسلے میں سید محمد بیہقی نے جو وزیر اعظم محمد شاہ کے تھے ، انہیں جبراً کشمیر سے نکال کر اسکردو کی طرف جلا وطن کیا تھا ( ما خذ ،، مولوی حشمت اللہ خان تاریخ جموں و ریاست ہای مفتوعہ مہاراجہ گلاب سنگھ )۔۔۔ گوریز اور تلیل۔۔ وادی گریز اور تلیل ڈسٹرکٹ باندی پور میں آتے ہیں یہ بانڈی پور سے ۸۶ کلو میٹرس کے فاصلے پر ، برفپوش پہاڑ وں سے گھری ہوئی حسین وادی ہے ،سطح سمندر سے اس کی بلندی ۸۰۰۰ فٹ ہے کبھی اگلے وقتوں میں اس کا راستہ بھی کشمیر سے منقطع ہوتا تھا لیکن اب لگ بھگ سارا سال راستہ کھلا رہتا ہے ، یہ بلتستان اور گلگت کے ساتھ ہی واقع ہے اس لئے یہاں کے لوگوں کا رہن سہن اور کلچر ایک جیسا ہے، لگ بھگ چھہ مہینے پہاڑیاں برف سے ڈھکی رہتی ہیں ،یہاں زیادہ تر آبادی سنی مسلموں کی ہے اور وادی گریز و تلیل ہمیشہ کشمیر ہی کا علاقہ رہا ہے اور آج بھی ہے ،،، حصورہ،، کشمیر کے شمال میں ۱۴۷ میل کی دوری پر یہ ایک پرگنہ ہے ( ضلع ) جس کی بلندی سطح سمندر سے ۷۸۵۴ فٹ ہے ، گریز کے مقابلے میں یہاں کم برف پڑتی ہے ، جو اور گندم کی کاشت ہوتی ہے، ، حصورہ کے پاس ہی کوہ الوند ( ننگا پربت ) ہے جس کی بلندی ۲۶۳۰۰ فٹ ہے ، ہمیشہ برف سے ڈھکا رہتا ہے ، یہ پرگنہ بھی اکثر تاریخ میں کشمیر کا ہی حصہ رہا ہے ، گلگت کشمیر کے شمال میں ۳۷۱ کلو میٹر کے فاصلے پر دیائے سندھ کے شمالی کے کنارے پر ایک درے کے درمیان واقع ہے،سطح سمندر سے ۴۸۰۰ فٹ کی بلندی پر واقع ہے پاکستان ایڈ منسٹرڈ علاقے میں پڑتا ہے ، بنیادی طور پر صدیوں سے کشمیر کا حصہ رہا ہے ،،، دراوہ اور کرناہ ،،کشمیر کے شمال سے مغرب میں دو دروں کے درمیان واقع ہے ، کرشن گنگا دریا ان کے بیچ میں سے بہتا ہے ، انڈین ایڈ منسٹرڈکشمیر میں پڑتے ہیں ،، شاردا ،، کرشن گنگا کے کنارے پر دراوہ پرگنیہ (ضلع )سے مشرق میں ایک چھوٹی سی جگہ ہے ، یہ اہل ہنود کا متبرک مقام ہے کیونکہ یہاں شاردا دیوی کا مندر ہے ، یہ سرینگر سے ایک ۱۶۰ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے ،،دچھنہ اور کھاورہ،، دریائے جہلم بارہمولہ کے تنگ درے سے آگے مظفر آباد تک مغرب کی طرف بہتا ہے اسی دریا کے شمالی کنارے پر دچھنہ کا علاقہ ہے اور جنوبی کنارے پر کھاورہ کا ،اس درے کا فاصلہ مظفر آباد تک ۱۵۰ کلومیٹر ہے ، ۴۷ سے پہلے یہی واحد راستہ کشمیر کو پنجاب سے ملاتا تھا جس سے کارٹ روڑ کہا جاتا تھا ۔ یہاں کے لوگ بھی سنی مسلم ہیں ،پو نچھ،، کشمیر کے مغرب میں واقع ہے ،سرینگ باہمولہ راستے سے ۱۲۸ کلو میٹر اور توسہ میدان کی راہ سے صرف ۶۵ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے ،اس علاقے کو راجہ للتا دت مکتا پیڈ نے آباد کیا تھا ،،مسلموں کے ساتھ ساتھ اہل ہنود بھی یہاں آباد ہیں ، شہر میں زیادہ برفباری نہیں ہوتی ، چکوں کے دور میں تھوڑی مدت کے لئے کشمیر سے الگ ہوا تھا ،،،،لیکن جہانگیر نے اس سے پھر فتح کیا ۔