مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط:۱۸ )
میں نے ابتدا میں کہیں لکھا تھا اور فیصلہ بھی کیا تھا کہ کشمیر کے مشہور مقامات ، باغات ، دریا اور چشموں کے بارے میں اپنے اپنے عہد اور بادشاہوں جن کا تعلق ان کے ساتھ رہا ہے ، تذکرہ کیا جائے گا ، لیکن ۔ کشمیر کے پرگنوں پر مشتمل مختصر سی قسط کی جس طرح سے پذیرائی ہوئی ہے اور جس طرح سے پڑھنے والے کشمیر سے واقف ہوئے ہیں ، اس نے مجھے قائل کیا کہ اخبار بینوں کے لئے، جو ان قسطوں سے محظوظ ہورہے ہیں یہ بہتر ہے کہ جس طرح سے پرگنوں کو ایک ہی جگہ جمع کرکے معلومات پہنچانے کی کوشش کی ہے اسی طرح یہاں کے ، باغات ،دریا ، چشموں جھیلوں، یادگار ،عمارات اور قدیم پلوں کابھی تذکرہ بادشاہوں جنہوں نے ان کی تعمیر کی ہے ،کے صرف ناموں کے ساتھ کی جائے ، تاکہ آگے آنے والے تاریخی واقعات میں پڑھنے والے ان چیزوں سے کوئی اجنبیت محسوس نہ کریں اور یہاں آنے والے لاکھوں سیاحوں کو جب بھی ان میں سے کسی مقام یا تفریح گاہ سے متعلق جاننے کا خیال پیدا ہوجائے تو وہ صرف اسی ایک مخصوص قسط سے اپنی خواہش پوری کرسکیں، ا س طرح کشمیر کی تاریخ کے ساتھ ساتھ ، ایک ریفرنس بک بھی پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گی،اس قسط میں کشمیر کے باغات کا تذکرہ کروں گا ، طوالت سے بچنا قلم کا ر کی مجبوری ہوتی ہے کیونکہ اس سے بہر حال کالموں کے سائز کو لازمی طور پر مد نظر رکھنا پڑتا ہے ،، ہندو دور کی عمارات اور منادر اور محلات کا تذکرہ ان کے ادوار کے ساتھ ہوچکا ہے ، سلاطین کشمیر کے باغات اور نہروں کا ذکر مناسب لگتا ہے ، آپ آگے کشمیر کے مایہ ناز ،اولوالعزم ، اور بہت ہی مشہور متقی اور پرہیز گار بادشاہ سلطان زین العابدین، جو آج بھی پیار اور محبت کی وجہ سے ’’بڈشاہ ‘‘ کے نام سے ہمارے دلوں میں دھڑکتا ہے کا تذکرہ اپنے عہد کے ساتھ پڑھیں گے لیکن اس کے کچھ شہرہ آفاق باغات اور محلات کے تذکرے سے یہ قسط شروع کروں گا،مسلم سلا طین میں انہیں بہت ہی اونچا اور ہر دلعزیز بادشاہ ہونے کا مقام حاصل ہے،انہوں نے بے شمار باغات ، محلات ، اور دوسری عجوبہ روزگار یادگاریں تعمیر کی ہیں ،ان میں سب سے زیادہ مشہور چار باغات رہے ہیں ایک علاقہ زینہ گیر جو ان کے نام سے ہی پہچانا جاتا ہے میں ایک بہت ہی وسیع باغ تعمیر کرایا تھا جو نشاط اور شالیمار ہی کی طرح مشہور اور خوبصورت تھا ،، لیکن اس کی بلند عمارتیں دور دور تک مشہور تھیں ، ا س باغ کوترہہ گام کے پانڈو چک نے اجاڈا،،۔دوسرا باغ زینہ ڈب کے نام سے آج تک یاد کیا جاتا ہے، یہ سلطان کا قصر شاہی بھی تھا اور سرینگر کے شمال میں مرکز سے پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر ’’ نوشہرہ‘‘کے متصل واقع تھا ،اس میں بارہ طبقوں کی ایک عمارت تھی ،جس کے ہر طبقے میں پچاس پچاس کمرے تھے اور ہر کمرے میں پانچ سو آدمیوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی ،اس سے زینہ ڈب اور راز دان کے نام سے جانا جاتا تھا ،سندر لار سے ایک نہر نکالی گئی تھی جو صحن کے بیچ سے گذرتی تھی ،۔سکھوں کے زمانے تک اس کی بنیادیں نشان عبرت تھیں ،، زینہ پور اور اور زینہ کوٹ میں بھی اس طرح کی عجب اور شاندار عمارتیں وسیع و عریض باغات میں بنوائی تھیں ،زینہ لانک،اور زینہ کدل ، بھی ان کی یادگاریں ہیں حسین چک نے محلہ نو ہٹہ میں ایک وسیع باغ لگوایا تھا ،،، یوسف شاہ چک نے اپنے دور میں فتح کدل سے ڈل حسن یار تک دریائے جہلم کے کنارے ایک بہت ہی شاندار باغ لگوایا ،تھا جس کے نشانات افغان دور تک موجود تھے ،،گلمرگ کے بارے میں (والٹر لارنس ویلی آف کشمیر)کا خیال ہے کہ پہلی بار یوسف شاہ چک نے ہی اس سے دریافت کیا ،،، مغل بادشاہوں نے اپنے دور میں جھیل ڈل کے کنارے دریائے جہلم کے کنارے کنارے ، چشموں ، باغات اور محلات کی تعمیر کرائی جو آج تک مشہور ہی نہیں بلکہ جنہیں آج بھی لاکھوں لوگ ہر سال شوق سے دیکھنے آجاتے ہیں ، جروگہ شاہی ،،، اکبر ، مغل بادشاہ نے۹۹۶ھ میں کوہ ماران کے دامن میں دلکش اور پر فضا جگہ پر شاہی دولتخانے کی بنیاد ڈالی ،سنگ مر مر اور اسود کی اونچی اونچی عمارتیں اور محلات تعمیر کئے ،چھجوں کو جوہرات اور نگینوں سے آراستہ کیا ،، کوہ ماران کے ارد گرد شہزادوں کے لئے محلات بنوائے ، امیروں وزیروں کے لئے محلات اور ایک پر ہجوم بازار کی تعمیر کی ،شہر کا نام ’’ناگر نگر ‘‘سے مشہور ہوا اور اس شہر کے ارد گرد قلعہ کی فصیل تعمیر کروائی جو اب تک موجود ہے ، امیر خان نے نے ان عمارات کومنہدم کرکے ہیرے جواہر لوٹ لئے اور امیر آباد کی تعمیرات میں لگوادئے ،( حسن کا خیال ہے کہ اس عمارت سے شاید شیر گڈھی کی طرف اشارہ ہے ) ۱۲۲۷ ھ میں عطا محمد خان نے کوہ ماران کی چوٹی پر قلعہ بنوایا ،، قلعہ کے اندر رہنے والے اکثر لوگ جو منصب دار رہے تھے جان کے خوف سے یہاں سے نقل مکانی کر گئے اور یہ عمارتیں ویران ہوگئی،، دارا محل ،،،،،دارا محل،،، (پری محل )دارا شکوہ نے دارا محل کوہ ماران کے جنوبی دامن میں عمارتیں ،دلکش اور خوبصورت خلوت گاہیں منقش و رنگین درودیوار وں سے تعمیر کرادیں ، ان کے تہہ خانوں میں بکثرت عجائب روزگار حجرے بنوائے جن کے نشانات اب تک موجود ہیں باگ میں نہریں جاری کرادیں اور اپنے استاد ملاشاہ بدخشی کے لئے مشرق میں ایک مسجد اور اعلیٰ حمام تعمیر کرایا ،،، باغ فرح بخش،،، شالمار باغ کے نام سے مشہور ہے ،،، کچھ مورخوں کا خیال ہے کہ راجہ پرور سین جس نے سرینگر کی بنیاد رکھی تھی کے زمانے میں کوئی عبادت گذار ہارون میں گوشہ نشین ہوگیا تھا ، پرور سین اس سے اکثر ملنے جاتا تھا ، راجہ نے اسی کے لئے ایک محل تعمیر کروایا جس کا نام شالمار رکھا ، ،شاستروں کی زباں میں شال مکان کو کہتے ہیں یعنی کامدیو کا گھر ،،، یہاں ایک گاؤں آباد ہوگیا جس سے شالمار کہا گیا ،۱۰۲۹ھ میں یہ گاؤں جہانگیر سلیم کو پسند آیا اور اس نے یہاں اس باغ کی بنیاد ڈالی ،،اور اس باغ کی تعمیر میں بہترین کاریگر وں کا انتخاب کرکے اپنے حسین تصورات کو زمین پر اتارا ، نہروں آبشاروں حوضوں اور فواروں کے ساتھ ساتھ چمن زاروں اور سبزہ زاروں کو ایک ہی جگہ یکجا کرکے ابدی حسن کی تخلیق ہوئی ،، جو آج تک دنیا میں اپنی مثال آپ ہے ، تاریخ اس شعر سے نکالی ،،،،،،،،چو شد آراستہ باغ فرح بخش ،، بہ حکم حضرت ظلِ الہیٰ،، شہنشاہ شا ہان جہانگیر ،،کہ مشہور است انمہ تابہ ماہی ،،، پی تاریخ این گلزار ریان ،،، خرد فرمود ، فرحت گاہ شاہی ،،،(۱۰۳۰۔ھ۔۱۶۲۰ ءباغ نشاط،،، شالمار کے جنوب میں مشرقی پہاڑ کے دامن میں اسی جھیل ڈل کے کنارے آصف جہاں نے نے عمارتوں ، فواروں اور آبشاروں سے ایک اور باغ سجایا ، جو اپنی ہئیت میں شالمار ہی جیسا ہے ، ،، اس کی تاریخ ابھی فارسی اشعار سے نکلتی ہے جن کا ترجمہ یوں ہے ،،،’’جب خوبصوت اور حسین یاسمن ، چنبیلی اور گلاب کا شباب اپنے جوبن پر آیا تو باغ نشاط نشاط کھل اٹھا اور خورشید جہاں آصف زماں نے وہاں محفل سجائی اور شراب کے دور چلنے لگے ،تو باد نسیم کے کانوں میں سالِ تاریخ چپ کے سے کہی ،،(گلزار نشاط اور دلوں کا عیش ،، یعنی باغ نشاط ) ،، ۱۰۴۴ھ(۱۶۳۴)؁ء میں جب شاہ جہاں نے اس باغ کو دیکھا تو عش عش کر اٹھا ، دل میں خیال پیدا ہوا کہ اس سے اپنے نام سے منسوب کردے ، آصف جہاں سے تذکرہ کیا تو وہ چپ رہے ،، تب شاہ جہاں نے اس نہر کو بند کروادیا جس کا پانی نشاط کے بیچ سے گذرتا تھا ، اس کے ساتھ ہی یہ تاریخی طور پر درج ہے کہ آصف جہاں زبردست رنجیدہ ہوا ،ایک روز اسی افسردگی میں سوگیا اور اچانک فواروں اور آبشاروں کی سریلی آواز سے بیدار ہوا ، باہر آیا تو دیکھا کہ فوارے جاری ہیں اور نہر کا پانی اٹھکیلیاِں ،مچلتا اور بل کھاتا ہوا رواں ہے ، اپنے مالی کو بلایا اور ماجرا پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ اپنے مالک کو افسردہ پاکر میں نے شاہی باغ شالمار کی نہر کا رخ اس طرف پھیر دیا ہے ، ، تاکہ آپ کی افسردگی دور ہو ، اب میں راضی بہ قضا ہوں ، مجھے کوئی افسوس نہیں ،،، آصف جہاہ نے اپنے مالی کو سونے میں تولا ،، جہانگیر سے طلبی ہوئی اور اس جرا‘ت رندانہ پر باز پرس ہوئی تو مالی نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ نہر کے بند ہونے سے میرا مالک غمگین تھا ، میں نے اس سے بیقرار دیکھ کر اس کی دلجوئی کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ، میں سزا کا مستحق ہوں اور راضی بھی،، بادشاہ نے اس جرم کے بدلے میں مالی کی وفاداری پر اس کی داد دی اور اس سے بیش قیمت خلعت عطا کی اور آصف جاہ کو نہر جاری رکھنے کا فرمان بھی جاری کیا ،،، اس نہر کے لئے ہمیشہ کے لئے جاری رہنے دینے کا فرمان آج بھی کئی تاریخوں میں موجود ہے ،،، باغ جہاں آرا ،،، شاہزادہ دارا شکوہ نے ڈل جھیل کے جنوب میں حضرت بل کے جنوب میں بٹ مزار کے ساتھ ایک خوشنما جزیرہ بناکراس میں جہاں آرا کے نام سے ایک وسیع ،خوبصورت اورحسین باغ کی تعمیر کی تھی ،،وقت کے ساتھ ساتھ منہدم ہوا ۔ درانی عہد میں لعل شاہ نامی ایک فقیر وہاں آکر رہنے لگا تھا جس کی وجہ سے ’’یہ باغ جہاں آرا ‘‘، تکیہ لعل شاہ کے نام سے مشہور ہوا۔