مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط:۲۰)
درگاہ حضرت بل ۔تاریخی اہمیت اور موئے مقدس کی مناسبت سے میں نے مناسب سمجھا کہ اس شہرہ آفاق آستانہ عالیہ کی تاریخ ذرا تفصیل سے بیان کی جائے تاکہ پڑھنے والے۔جنہوں نے صرف نام سنا ہے بھی اس کی عظمتوں اور کشمیری عوام کے دل میں اس زیارت گاہ کے لئے بے انتہا محبت ، اور عشق کی کیفیات سے ا ٓ شنا ہوجائیں ،میرے کشمیر کے لوک گیتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جن میں اس آستانے کی عظمتوں اور اس سے متعلق ہمارے جذبات کی وابستگی کا اندازہ ہوجاتا ہے اور ہمارے لگ بھگ سبھی معروف شعرا نے منقبتوں اور نعتوں میں اپنی والہانہ محبت کا جو اظہار کیا ہے اس سے کشمیری زباں بولنے اور سمجھنے والے بڑی اچھی طرح جانتے ہیں ، بہر حال بات باغ صادق کی ہے ، جس کے نصیب میں شروع سے آخر تک کیلئے کشمیری عوام کے لئے خاص سجدہ گاہ بننا لکھا تھا ، خاص اس لحاظ سے کہ جن دنوں یہاں موئے شریف کی نشاندہی کی جاتی ہے لاکھوں کی تعداد میں لوگ یکجا ہوکر اس کا دیدار کرتے ہیں ، یہاں کے غریب اور نادار لوگ اس سے حج کا اطمینان پاتے ہیں ، اور یہ بات یہاں قابل ذکر بھی ہے کہ کشمیر کے کونے کونے سے لوگ اپنے سارے افراد چھوٹے بڑوں کے ساتھ اس مرجع نور سے دل کی روشنی پاتے ہیں ، جیسا کہ تا ریخ سے ظاہر ہے یہ باغ۔ صادق خان نے بنایا تھا ، خان آئے اور گئے لیکن صادق خان کا باغ ہمیشہ کے لئے مقدس۔ نظروں کا نور اور دل کا سرور ہو کر رہ گیا ۔ یہ اس موئے مقدس کی وجہ سے ہے ، اور یہ پیشگوئی شاہجہاں نے یہاں ایک بار نماز ادا کرنے کے بعد صادق خان سے کی تھی ،، اس کے ۶۷ برس بعد خواجہ نورالدین عشائی نے اس موئے شریف کو بیجا پور سے حاصل کیا ،، سید عبداللہ مدینہ شریف سے موئے مقدس کو اپنے ساتھ یہاں دکن کے شہر بیجا پور لائے تھے جہاں انہوں نے بودوباش شروع کی تھی ، سید عبداللہ مسجد نبویﷺ میں متولی رہے ہیں اور یہ موئے مقدس ان کے پاس تھا ، انہیں کہاں سے حاصل ہوا تھا اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ اس کے انتقال کے بعد یہ موئے شریف ان کے بیٹے سید حامد کے پاس رہا ، اورنگ زیب نے جب دکن فتح کیا تو بہت سے لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے اور بہت سے لوگ اقتصادی طور بھی تہی دست ہوئے جن میں سید حامد بھی تھے اور اس مجبوری کی وجہ سے انہیں یہ موئے شریف ہدیہ کرنے کا خیال آیا ، ان دنوں خواجہ نور الدین عشائی کسی کام کی وجہ سے بیجا پور میں تھے ،انہیں کہیں سے اس بات کی بھنک مل گئی ، نورالدین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس وقت کے بہت بڑے تاجر تھے جن کا کاروبار دور دور تک پھیلا ہوا تھا ، بہر حال نور الدین نے اس موئے شریف کو اس وقت کے ایک لاکھ روپیہ کے عوض حاصل کیا ،، لیکن بڑی جلدی اس بات کی بھنک مغل شہنشاہ اورنگ زیب کو ملی ، جنہوں نے بڑی تیزی سے احکامات صادر کرکے نورالدین عشائی کو گرفتا ر کروایا ، اور جیل میں ڈال دیا ، موئے شریف کو اورنگ زیب نے احترام اور محبت کے ساتھ خواجہ معین الدین چستی ؒ کی درگاہ میں رکھوایا ،، لیکن کسی طرح سے اورنگ زیب کو اس بات کا احساس ہوا ، یا القا ہوا یا سوچ و فکر کرنے کے بعد لگا کہ اس نے غلط قدم اٹھایا اور موئے شریف کو کشمیر بھیجنا ہی درست اور صحیح ہے ، اورنگ زیب نے نورالدین کی رہائی کے احکامات جاری کئے لیکن نورالدین قید میں ہی انتقال کرگئے تھے (۱۷۰۰)؁ء اس لئے اورنگ زیب نے موئے شریف اور نورالدین عشائی کی نعش کشمیر بھیجنے کا فیصلہ کیا ، نعش اور موئے شریف ایک ساتھ سرینگر پہنچ گئے ،، یہاں موئے شریف کو نورالدین عشائی کی بہن عنایت بیگم کی تحویل میں دیا گیا ، فاضل خان جو اس دور میں کشمیر کا حاکم تھا ۔نے یہاں کے ذی عزت شہریوں اور مولوی صاحبان کے ساتھ مشاورت کی اور یہ طے پایا کہ موئے شریف کے لئے مستقل طور پر باغ صادق خان کو وقف رکھا جائے کیونکہ انہیں اس بات کا پہلے ہی سے اندازہ ہو چکاتھا کہ اب کے بعد اس باغ کا ذرہ ذرہ لاکھوں فرزندان توحید کے سجدوں کا امین ہونے جارہا ہے ، عنایت بیگم کے بچے موئے مقدس کی نشاندہی کے لئے مقرر ہوئے جو بانڈے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اسی لئے آج بھی یہی خاندان موئے مقدس کی نشاندہی کرتا ہے ، اور آگے بھی ایسا ہی ہوگا ،،موئے مقدس کے لئے اس باغ میں مسجد کے ساتھ ایک دو منزلہ عمارت بھی تعمیر ہوئی جہاں سے موئے مقدس کی نشاندہی کی جاتی تھی ، یہ باغ جھیل ڈل کے بائیں کنارے پر ایک پر فضا اور دلنشین مقام ہے ، اس کے آگے جھیل اپنی تمام خوبصو رتی کے ساتھ جلواہ افروز ہے جس کے پس منظر میں یہاں سے مغلوں کے شاندار اور جاندار با غات کوہ کے دامن میں پھیلے ہوئے ازلی اور ابدی حسن کی مثال بنے ہوئے ہیں ،حضرت بل کا مطلب ہے ،، ’’احترام والی جگہ ‘‘اور یہ نام بھی باغ صادق کا یہاںموئے مقدس کی تشریف آوری پر ہی تجویز ہوا تھا اور جیسا کہ ظاہر ہے بڑا مناسب نام ہے ،، موئے مقدس کی وجہ سے جیسا میں نے کہا ہے یہاں لاکھوں لوگ ان بڑے دنوں پر جمع ہوجاتے ہیں جب موئے شریف کو زیارت کے لئے دکھایا جاتا ہے ، کشمیری لوگ اعتقاد پسند سیدھے سادھے لوگ تھے ، اور اس کا پورا فائدہ شیخ محمد عبداللہ نے یوں اٹھایا کہ حضرت بل درگاہ ان دنوں آکر عوام سے مخاطب ہوجاتے اور اس بات کا قطعی خیال رکھا کہ کوئی اور پولیٹیکل لیڈر اس طرف کا رخ نہ کرسکے ، انہوں نے اپنی قوم کے ساتھ جو بھی وعدے کئے اسی جگہ سے کئے ہیں جن میں سے کبھی کوئی پورا نہیں کر پایا بلکہ محظ یہاں سے گمراہ کرنے کے لئے عمر بھر اس درگاہ کا سہارا لیتے رہے ، بہرحا ل ان کی کہانی اپنی جگہ پر آئے گی فی الحال ہم درگاہ کی بات کریں تو کشمیر کی تاریخ میں ایک اہم موڑ اس وقت پیدا ہوا جب ۲۷ اکتوبر ۱۹۶۳ کو اچانک یہ خبر جنگل کی آگ بن کر پھیل گئی کہ موئے مقدس کو اپنی جگہ سے کسی نے اٹھا لیا ہے یعنی چوری ہوگیا ہے ،جس نے بھی یہ کام کیا تھا شاید کسی چھوٹے سے سیاسی مفاد کو مد نظر رکھ کر ہی کیا ہوگا اس بات کا اندازہ کئے بغیر کہ وادی کے لوگوں کے لئے موئے مقدس کی اہمیت اور عشق کیا ہے ، ۲۸ نومبر کی صبح کے سورج نے ایک نئے کشمیر کو دیکھا ، کہ کونے کونے میں رہنے والے لوگ اپنے گھروں سے اپنے سارے عیال ، بوڈھے ، بچے، جوان ، عورتیں سب سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے کے ساتھ ساتھ ماتم کناں ہوئے،یہ کوئی ایسی معمولی بات نہیں تھی کیونکہ لوگ زندگی اور موت ، سردی اور فرفیلی ہواؤں سے بے نیاز رات دن سڑکوں پر رہنے لگے اور اس احتجاج کا رخ کسی بھی وقت کسی جانب موڑا جاسکتا تھا ، اور پنڈت نہرو کے ایک اندازے کے مطابق کشمیر ہاتھ سے جارہا تھا ،، یہ احتجاج بالکل اسی انداز میں بغیر کم ہوئے بلکہ اس کی شدت میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا ،ان دنوں کشمیر کے وزیر اعظم شمس ا لدین تھے جنہیں بخشی غلام محمد کے بعد وزارت عظمیٰ پر فائض کیا گیا تھا ، یہ صاحب درگاہ پہنچے تو فوراً ہی اعلان کردیا کہ موئے شریف سے متعلق کوئی بھی اطلاع دینے والے کو ایک لاکھ روپیہ کا انعام دیا جائے گا ،،،، بڑی پولیٹیکل داستاں ہے اور اس سب کے پیچھے بھی سیاسی اغراض و مقاصد تھے جو ہم اپنی جگہ پر تفصیل کے ساتھ بیاں کریں گے ، لیکن مختصرطور سمجھنے کے لئے چند باتی ناگزیر ہوجاتی ہیں ، ، مولانا محمد سعید مر حوم جو نیشنل کانفرنس کے پہلے سیکریٹری رہے ہیں اور انہیں سیاسی برتن بنانے والے یا سیاسی کمہار کے نام سے جانا جاتا ہے مولانا محمد فاروق (عمر فاروق کے والد مر حوم ) کو پولٹیکل سٹیج پر کھڑا کرکے موئے مقدس ایکشن کمیٹی کے نام سے ایک فورم تشکیل دیا جس کے چیرمین یہی مولانا فاروق بنادئے گئے جو ان دنوں ابھی بچوں کے ساتھ عید گاہ میں کرکٹ کھیلا کرتے تھے یعنی بالکل ہی نابالغ تھے ، ۲۹ دسمبر کو کرفیو لگادیا گیا ، محمد شفیع قریشی اور شیخ رشید گرفتار کئے گئے ، ۳۱ دسمبر کو پنڈت نہرو نے بی این ملک کو یہاں بھیجاجو سی بی آئی کے چیف تھے ۔ آخر ۴ جنوری ۱۹۶۴ ؁ء کو ریڈیو کشمیر سے موئے شریف کی بازیافت کا اعلان پر اسرار طریقے سے ہوا ،، عوام کے اذہان میں کہیں سے یہ بات بیٹھ گئی کہ یہ اصلی موئے مقدس نہیں ہے بالکل ساراہی معاملہ کچھ اور ہے کیونکہ اب ایجی ٹیشن اور احتجاج اس مرحلے میں داخل ہوچکا تھا جہاں ہندوستان کشمیر کے حق رائے دہندگی کے مطالبے کوتسلیم کرنے یا کشمیر کو چھوڑنے پر مجبور تھا ،، (یہ ساری کہانی آگے اپنے دور کے ساتھ انشا اللہ آئے گی ) گلزاری لال ، نندہ اور دوسرے تب کے بڑے تمام لیڈراں اور عہدے دار کشمیر وارد ہوچکے تھے اور درگاہ حضرت بل میں ایک مختصر سی تقریب میں جس میں’’بانڈے ‘‘جو موئے شریف کی نشاندہی کرتے ہیں ، حضرت میرک شاہ جو کشمیر کے ایک بڑے بزرگ مانے جاتے ہیں ، ان کے علاوہ مولانا مسعودی ، میر وعظ مولوی فاروق اور دیگر بڑی شخصیات تھیں ،نے موئے شریف کی تصدیق کی ۔ اور لوگوں کو اطمینان دلایا کہ یہی موئے شریف اصل ہے ،،، لیکن کئی شخصیات جن میں خواجہ ثناوللہ (آفتاب)بھی ہیں نے اپنی دوسری طرح کی رائے کا اظہار کیا ،، یہ ساری کہانی دلچسپ ہے ، لیکن اس قسط میں مختصر طور ہم یہی کہیں گہ کہ موئے شریف کو بر آمد کیا گیا اور بقول شبنم قیوم (تاریخ و تحریک کشمیر )موئے شریف کو ایک ہاوس بوٹ کے تیسرے کمرے سے بخشی رشید کی نشاندہی پر بر آمد کیا گیا ، بخشی رشید یا کسی کو بھی ہندوستان نے اس چوری کے سلسلے میں نہ تو قید کیا اور نہ ہی کسی پر مقدمہ چلایا اگر چہ بڑی مدت تک ایکشن کمیٹی کا یہ نعرہ ہی رہا ،،، (۔۔موئے شریف کے چور کو ننگا کرو ننگا کرو )بھارت کی پارلیمنٹ میں بھی کئی بڑے لیڈراں اور گلزاری لال نندہ نے بھی مرکزی سر کار سے مجرموں کے چہروں سے حجاب اٹھانے کا مطالبہ کیا ، لیکن ایسا کیوں نہیں ہوا اور آج تک بھی ان چہروں کو پردے ہی میں کیوں رہنے دیا گیا؟ یہ ایک بہت ہی گہری سازش کا نتیجہ ہے اتنی ہی بڑی سازش جتنی کہ موئے مقدس کو اپنی جگہ سے اٹھانے کی سازش اور منصوبہ تھا ،، (انشا اللہ پردے سرکیں گے دھیرے دھیرے ) مولوی محمد سعید نے حضرت میر ک شاہ سے موئے شریف کی تصدیق کراکر کشمیر کو ایک بار پھر بھارت کی جھولی میں رہنے دیا ، یہ پنڈت نہرو کا بھی اعتراف رہا ، ،، اس کے ساتھ ہی شمس الدین وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھو بیٹھے ، بخشی غلام محمد جو کامراج پلان کے تحت پہلے ہی ، پاور سے محروم ہوچکے تھے اور اب صادق صاحب کی باری تھی جنہوں نے بحیثیت وزیر اعظم کے کرسی تو سنبھالی لیکن چھوٹی سی مدت کے بعد ہی وزیراعظم کے منصب سے اتر کر وزیر اعلیٰ کی نوکری تسلیم کی ۔