مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

 

(قسط:۲۱)

مجھے خود بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ ہمارے تاریخی اور مشہور باغات کا اتنا لمبا سلسلہ ہے ، میں اسی نتیجہ پر پہنچا کہ قدرت نے اپنی کرشمہ سازیوں سے بے انتہا حسن اور حسین نظاروں ، کوہساروں ، مرغزاروں ، ازلی اور ابدی ،لازوال چشموں اور ان میں رواں آب حیات کو جو خوبصورتی اور دلکشی عطا کی ہے ، اس کی کوئی اور مثال کہیں اور نہیں ،باغات کی تفصیل کے ساتھ حکمراں کا تذکرہ مفید ہی رہے گا ،، باغ توت ،، کہتے ہیں کہ مایا سوامی ایک سادھو نے تخت سلیمانی کے دامن میں گوشہ نشینی اختیار کی اور ریاضت میں مصروف ہوا، اس نے چونٹی کول کے کنارے پر ایک عالیشان باغ لگوایا جس سے تکیہ مایا سوامی سے جانا جاتا تھا ، حضرت میر محمد ہمدانی ؒ نے یہ تکیہ خریدا اور اس کے ساتھ دریائے جہلم ، (بِہت )کے کنارے امیراکدل سے کوہ سلیمان تک کا رقبہ بھی شامل کیا ، یہاں انہوں نے توت کے درخت لگوائے اور پھر اس سارے رقبے کو اہل شہر کے لئے بطور چراگاہ وقف کیا،،درانی بادشاہوں یعنی ۱۷۵۱؁ء تک یہاں بہت سے درخت موجود تھے ،( والٹر لارنس کے مطابق دلی کی صوبیداری ۱۷۵۱ میں ہی ختم ہوئی اور اس کے بعد موروثی بن گئی ) پھر کبھی یہ باغ گھوڈ دوڈ کا میدان بن گیا ، سکھوں کے زمانے میں پھر اس میں باغ لگوادیا گیا اور انگریز سیاحوں کے لئے اس میں عمارتیں تعمیر ہوئیں ، دولت آباد ،،جوگی لنگر پل سے سورہ ٹینگ تک راون رینہ کے بیٹے ابدال رینہ نے ایک بڑا باغ لگایا جو اس وقت رینہ واری کے نام سے مشہور ہے ،،کہتے ہیں کہ اس میں بکثرت انگور کی بیلیں تھیں ، حضرت شیخ حمزہ ؒ کم عمری میںکچھ وقت اس کی نگاہ بانی کرتے رہے ہیں اس کے بعد حضرت ؒ نے اپنی رحلت کے وقت اس باغ کو شہر کے قبرستان کے لئے وقف کیا اور ملہ کھاہ کے ساتھ شامل کیا ،،، امیر آباد ،،، امیر خان جوان شیر نے نندہ پورہ کی کسی ہانجی لڑکی سے شادی کی تو نندہ پورہ ہی میں اپنا محل تعمیر کروایا اور ایک بہت ہی خوبصورت باغ بھی لگوایا ،۔۔باغ آقا حسین ،،، آقا حسین افغان امیر تھا اور نشاط باغ کے جنوب میں یہ باغ لگوایا ،،، رام باغ ،،،یہ باغ دیوان کرپا رام نے لگوایا اور دودھ گنگا کے کنارے پر نٹی پورہ کے ساتھ واقع ہے (کشمیر کا حاکم ۱۸۲۷ سے۱۸۳۱؁ء ) تک ،، راجہ گلاب سنگھ کا یہاں سنسکار ہوا ، اور رنبیر سنگھ نے اس شمشان پر مندر اور عمارات بنوائیں یہ علا اقہ شہر میں داخل ہے اور اب بھی اسی نام سے جانا جاتا ہے ،،شیخ باغ ،،، امیرا کدل سے متصل مشرق میں ۱۸۴۳؁ء میں بسایا ،،، باغ ہری سنگھ ،،، شیخ باغ کے ساتھ ہری سنگھ نے اپنی حکومت میں بسایا ،،بسنت باغ ،،، شیر گڈھی کے مقابلے میں مشرق کی طرف دریا کنارے پر کرنل میاں سنگھ نے اپنے دور میں بنوایا ،، اور اس میں نو مسجدوں کے صحن اور حوض کے پتھر لگوادئے ، منشی باغ ،، منشی تلوک چند نے جو یہاں سکھوں کے عہد میں ایک کارکن تھے یہ باغ لگوایا تھا ،،، گلاب باغ ،،،، مہاراجہ گلاب سنگھ نے شیر گدھی کی طرف ٹینکی پورہ پل کی طرف بنوایا،،، حضوری باغ ،،،، ۱۸۷۱؁ء میں مہاراجہ رنبیر سنگھ نے شیر گڈھی سے اوپر بہمان سنگھ باغ کے ساتھ لگوایا ، مندر باغ ،،، مائسمہ کے درمیان مہاراجہ رنبیر سنگھ نے بسایا ،،، رگناتھ باغ ،،، پھاک پرگنہ کے حبک گاؤں میں سیف خان باغ کے نزدیک ہی رنبیر سنگھ نے بنوایا ،،، کوٹھی باغ ،،،، آج بھی اسی نام سے مشہور ہے ، امیرا کدل سے اوپر دریا کے کنارے جنوب کی طرف مہاراجہ رنبیر سنگھ نے ۱۸۷۵؁ء میں بنوایا اس باغ میں بڑی بڑی عمارتیں ، مرصع بنائی گئیں ،، خواجہ باغ ،،، جس سے شہر خاص والے سیدھے سادھے الفاظ میں خوجہ باغ سے جانتے ہیں ، خانیا ر کے تھنگہ محلہ میں خواجہ ثناواللہ شال نے زمین مالکان سے زمینیں خریدیں اور اپنے دولت خانے کے ساتھ ہی ایک وسیع و عریض دلکش باغ ، حوضوں فواروں اور ایوانوں کے ساتھ ۱۸۷۸؁ء میں بنوایا ،، یہ سرینگر کے آس پاس کے مشہور اور تاریخی باغات رہے ہیں اور ابھی تک ان کے نام باقی ہیں گر چہ باغات میں بستیاں موجود ہیں ، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ شہرہ آفاق کچھ باغات کو بھی اس فہرست میں شامل کرنا لازمی ہے اور ان میں ویری ناگ یقینی طور پر سر فہرست ہونا چاہئے ، یہ باغ کشمیر وادی کا دروازہ بھی کہلاتاہے ، اور جموں سے سرینگر سفر کرتے ہوئے جواہر ٹنل کو پار کرتے ہیں رائٹ سائڈ میں پہلاٹورسٹ پلیس ہے ، ویری ناگ اسلام آبا د سے ۲۶کلو میٹر اور سرینگر سے ۷۸ کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مشرق میں قدرت کے بے پناہ حسن اور کرشمہ سازی کا شاہکار ہے ،ویری ناگ ہزاروں برس سے کشمیر کی اس دھرتی پر موجود رہا ہے اور اس کے ساتھ بہت ساری اساطری اور دیوی دیوتاؤں کی کہانیاں منسوب ہے ،لیکن اس میں کوئی دو رائیں نہیں کہ ویری ناگ ایک محدود ائریا میں بہت سارے چشمے تھے ، جنہیں مغل شہنشاہ جہانگیر نے پہلی باردیکھا اور اپنی حسن نواز نگاہوں سے اس خوبصورتی کا تصور کرکے اس جگہ پر ابدی حسن کو تصورات سے زمین پر منتقل کرنے کا عزم کیا ، اپنے دور کے بہترین آرکیٹیچروں کے ساتھ صلاح مشورہ اور بہت سارے ڈیزائنوں میں ایک ڈیزائن منتخب کرکے اس پروجیکٹ کو مختصر وقت میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے احکامات صادر کئے، ان ان گنت چشموں کو ایک ہی تالاب کے ساتھ منسلک کیا گیا اور تالاب کو خوبصورتی عطا کرنے کے لئے کاریگر ایران سے منگائے گئے جنہوں نے ایک شاندار تالاب کی تعمیراعلیٰ قسم کے سنگ مر مر سے کی ،چشمہ ویر ی ناگ کو جہانگیر نے ۱۶۲۰ ؁ء میں بنوایا اور اس کے بعد شاہجہاں،جہانگیر کے بیٹے نے اپنے دور میں اس تالاب کے سامنے ایک وسیع و عریض بے پناہ خوبصورت باغ لگواکر باپ کے ساتھ اپنے نام کو بھی تاریخ میں رقم کروایا،کلہن کی راج ترنگنی میں اس چشمے کا نام ہندو میتھالوجی سے منسوب (نیل کنڈا )ہے یہاں سے ہندومیتھالوجی کے مطابق دیوی (وتستا )پرگھٹ ہونا چاہتی تھی لیکن شیو کو یہاں دیکھ کر اس سے واپس جانا پڑا ، اس جگہ کو ’’ نیل ناگ ‘‘جس سے اہل ہنود سب سے بڑا ناگ تسلیم کرتے ہیں کا جائے مسکن بھی مانا جاتا ہے ، ان سب باتوں کی وجہ سے ویرناگ اہل ہنود کی ایک مقدس زیارت گاہ بھی ہے ، اور سب سے بڑی بات یہ کہ ’’ وتستا ‘دریائے جہلم ،، کی آماجگاہ بھی یہی ہے کیونکہ اس پانی کے ساتھ آگے سنگم میں تمام ندیا ںملتی ہیں جو دریائے جہلم کا روپ اختیار کرتی ہیں۔۔،،اچھ و ل یا اچھ بل ۔۔۔( یعنی شہزادوں کی رہائش گاہ،،، )قصبہ اننت ناگ میں ۱۶۲۰؁ء میں مغل بادشاہ شاہ جہاں کی بیوی ملکہ نور جہاں نے بنایا ہے ، مغل تو یوں بھی حسن پرست تھے ، ان کی نظر اس معاملے میں بہت زیادہ تیز رہی ہے اور جہاں بھی کوئی خوبصورت چشمہ ،مقام یا جگہ نظر آئی ہے ان کے تصورنے اس مقام کی خوبصورتی کو ان کی نگاہوں کے سامنے بے حجاب کھڑا کیا ہے جس کے نتیجے میں مغل شہنشاہوں نے باغات کی ایک ایسی لمبی فہرست اپنی یادگاروں میں چھوڈی ہے جنہیں رہتی دنیا تک یاد کیا جائے گا کیونکہ ان میں سے کچھ سارے جہاں میں لامثال اورلا ثانی ہیں۔۔ مغل باغات کے شیدائی اور فدائی رہے ہیں تو ان کی دیکھا دیکھی ان کے امراوزرا اور ان کی چہتی بیگمات نے بھی بے شمار یادگاریں چھوڈی ہیں ، اچھ بل بھی نور جہاں کی ایک ایسی ہی یادگار ہے ، ان تمام باغات میں طبقے اور فوار ے یکسانیت رکھتے ہیں ،اور کہا جاتا ہے کہ ان تمام میں ایرانی تعمیر کا رنگ اور انداز نمایاں ہے جو ایک تصدیق شدہ بات ہے کیونکہ بار بار تاریخ میں یہ بات آجاتی ہے کہ مغل باد شاہوں نے ان باغات کی تکمیل کے لئے انہیں یہاں بلایا ہے ، اس باغ میں اسی زمانے کی ایک عمارت ابھی تک کھڑی ہے جس میں ایک حمام بھی ہے اور یہاں کے لوکل آدمی اس کے بارے ،میں کہتے ہیں کہ اس حمام کے نیچے ایک چراغ تھا جو کبھی بجھتا نہیں تھا اور یہی اس حمام کی گرمی کا مخرج رہا ہے جو ڈوگرہ شاہی میں بجھ گیا ، (خدا ہی بہتر جانتا ہے )لیکن حمام اور رہائش گاہ کے آثار ابھی اس جگہ واضح ہیں اور میں نے بھی کئی بار ان کا جائزہ لیا ہے ۔۔چشمہ شاہی ،، کا تذکرہ کئے بغیر یہ چپٹر نامکمل ہوگا ، چشمہ شاہی کا مطلب ہی (شاہوں کا چشمہ) ہوتا ہے یہ ایک بہت ہی مشہور چشمہ ہے جو زبر ون پہاڑ کی رینج میں جھیل ڈل کے سامنے ہے۔ اس چشمے کے ارد گرد باغ علی مرداں خان نے ۱۶۳۲؁ء میں بنوایا ہے ، کہا جاتا ہے کہ یہ چشمہ اصل میں کشمیر کی ایک ہندو سادھوی روپہ بھوانی کی دریافت ہے ، روپہ بھوانی اب بھی کشمیر میں احترام سے یاد کی جاتی ہے،اور اس کا تعلق ’’صاحب ‘‘خاندان سے رہا جس کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ اس چشمے کو چشمہ صاحبہ ‘ کہتے تھے جو بعد میں چشمہ شاہی ہوگیا ، یہ سچ بھی ہوسکتا ہے لیکن جب مغل بادشاہوں نے اس سے یہ شکل و صورت دی ہوگی تو یقینی طور پر یہ شاہوں کے چشمے سے ہی مشہور ہوگیا ہوگا ،شاہ جہاں نے اس کا افتتاح کیا ہے اور اس کے متصل اپنے بیٹے دارا شکوہ کے لئے ایک عظیم و شاندار عمارت بنوادی ہے جو پری محل کے نام سے مشہور ہے ، در اصل اس بڑی عمارت میں دارا شکوہ زیر تعلیم رہا ہے اور کئی برس یہاں گذارے ہیں،، یہ مقام سرینگر یعنی امیرا کدل سے ۱۴ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے اور اکثر سیاح لوگ یہاں سے آگے شالیمار اور نشاط وغیرہ کی طرف اپنا سفر جاری رکھتے ہیں ، یہ ان تمام باغات اور مشہور مقامات کا مختصر سا تذکرہ تھا (باغات کی ترتیب ، اور ان کے نام، و محل وقوعاور دوسری تفاصیل تاریخ حسن کھوئہامی سے ماخوذ ہیں) ،،،