مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

رشید پروینؔ سوپور
rashid.parveen48@gmail.com

(قسط:۲ )

اس سے پہلے کہ اصل کہانی پر آجائیں ہم آپ کو کشمیر کی خوبصورتی کے بارے میں بتانا چاہیں گے ، لیکن کیسے بتائیں ، ایسے الفاظ زباںِ اردو میں ہوں تو ہوں لیکن میرے پاس نہیں جو کشمیر کی خوبصورتی ، دلکشی اور دلفریبی کی تصویر کھینچ سکیں اس لئے میں ان عظیم شعرا کی طرف ہی رخ کروں گا جنہوں نے کشمیر دیکھا ، اور پھر اس کی سحر انگیزی کو اپنے الفاظ کا پیرہن پہنانے کی کوشش کی،،ملا عرفیؔ جو متاخرین میں سے ہیں نے یوں کہا ہے اور بالکل درست کہا ہے ،،
’’ ہر سوختہ جانے کہ بہ کشمیر در آید۔۔
گر مرغ کباب ست کہ بابال و پر آید ،،‘‘
(اگر بھنا ہوا پرندہ بھی کشمیر آئے تو اس کے بھی نئے سرے سے سے بال و پر آئیں گے)
کسی سلطان کا شعر ہے ،، کشمیر مگو رشک پری خانہ چین است ،،القصہ بہشت کہ بر روئے زمین است، (کشمیر تو چین کے پری خانے کے لئے باعث رشک ہے اصل یہ ہے کہ بہشت روئے زمین پر ہے)
اگر فردوس بر روئے زمین است ،،ہمیں استو ہمیں است و ہمیں است ،،، ( اگر کہیں زمین پر جنت ہے تو یہی ہے یہی ہے اور یہی ہے )
آبش چو گلاب ہر طرف گشتہ رواں ،خاکش ز ،زمین جنت آوردہ نشان گلنار وی ست نار موسی کلیم ،،،،،،،،، بارش ،مثال نغمہ روح رواں (اس کا پانی عرق گل کی مانند رواں ہے اس کی خاک جنت ِ نشاں ہے اس کا گلِ انار حضرت موسیٰ کی اس آگ کی صورت ہے جو انہیں طور پر نظر آئی تھی اور اس کی ہوائیں روح کی مہک کی طرح رواں دواں ہے ) در جستجو چون تو طئے کردہ عالمی را ،، مثل تو کس ندیدہ و نے از کسی شنیدہ(تیرے حسنِ بے مثل کی تلاش میں سارا عالم چھان مارا لیکن تجھ جیسی جنت زمین پر نہ کہیں دیکھی ، نہ سنی اورنہ کہیں موجود ہے )ذرہ ذرہ ہے میرے کشمیر کا مہماں نواز،، راہ میں پتھر کے ٹکڑوں نے دیا پانی مجھے ،، چکبستؔ اردو شعرا میں کشمیر کی خوبصورتی کی تصویر تمام ان بڑے شعرا نے کھینچنے کی سعی ناتمام کی ہے جو یہاں کبھی سیر و تفریح کے لئے آئے ہیں ، حفیظ ؔجالندھری نے تو پوری ایک بہت ہی خوبصورت نظم لکھی ہے، (ایک پہلو یہ بھی کشمیر کی تصویر کا ) ڈاکٹر اقبال نے بھی کشمیر کے حسن وجمال کو زبردست الفاظ میں سراہا ہے اور باقی رہے بالی وڈکے فلمی شعرا جنہوں نے فلموں کے لئے کشمیر پر گیت لکھے ہیں تو وہ بھی اپنی جگہ پر اپنا مقام رکھتے ہیں بلکہ کشمیر کے حسن ، دلفریبی اور دلکشی کا بیان ضرور ہیں لیکن ، جو لوچ ،جو حسن جو دلکشی ،جو دلفریبی ، یہاں کے ابھرتے سورج اور ڈھلتی شاموں کے سائیوں میں بسی ہے وہ کسی بھی شاعر اور تحریر میں موجود نہیں ، یہ وادی کشمیر ہے جنت کا نظارہ ،، یہاں کی برفپوش انچائیاں ، جھرنوں کے مسلسل ایک ہی لئے میں فضا میں رس گھولتے مدھر ساز ، کہساروں اور میدانوں کے مخملی فرش ، ٹھنڈے پانی کے قدم قدم پر بہتے آب حیات کی صورت چشمے ، چناروں کی گھنی اور شبنمی چھاوں ، باغوں اور گلستانوں میں اٹکھیلی کرتی پھولوں کی نرم و نازک ڈالیاں ، نیلگوں آکاش میں اڈتے پنچھیوں اور پرندوں کی چہچہاہٹ ،، پہاڈوں کی اوٹ سے ابھرتے سورج کی سونا بکھیرتی پہلی پہلی کرنوں اور شام کے مدھم سے ڈھلتے سائیوں کی سحر انگیزیاں بے پناہ اور لامحدود، ازلی و ابدی حسن کا احساس ہے جو کسی بھی طرح الفاظ کے پیرہنوں میں نہیں سما سکتا ،، کس کس چیز کی دلفریبی اور دلکشی کو بیان کیا جائے اور کیسے بیان کیا جائے اس لئے آگے ۔ بڑھتے ہوئے میں آپ کو بتادوں کہ کشمیر کی تاریخ کو پانچ ادوار میں بانٹا جاسکتا ہے جب کہ ’’سر والٹر لارنس نے، اپنی معروف کتاب ، the valley of kashmir میں چار ادوار کا تذکرہ کیا ہے ، میں آگے اس کتاب کا جب بھی ریفرنس دوں صرف ’’والٹر ‘‘ کے حوالے سے دوں گا،، ان ادوار میں پہلا دور ہندو راجگان (، ۲)سلاطین کشمیر کا دور جو کہ مسلم بادشاہوں پر محیط ہے (۳) پادشاہان چغتائی مغل ایمپائر (۴) پٹھانوں کا دور جنہیں درانی شاہان سے جانا جاتا ہے اور اس کے بعد (۵)ڈوگرہ مہاراجوں کا دور جس کا اختتام ۴۷ میں ہوا،، چونکہ میں کوئی تاریخ مرتب نہیں کر رہا بلکہ ان مضامین کا مقصد ہی صرف اتنا ہے کہ آپ کو کشمیر کی سوشیو پولٹیکل ،سیاسی ، سماجی ، تمدنی ، تہذیبی، رہن سہن ، ادب و ثقافت ، یہاں کے ساری دنیا میں مشہور خوبصورت ، روح افزا مقامات اور جھیلوں کے علاوہ یہاں کی ان معروف شخصیات کا آہستہ آہستہ تعارف دوں جنہوں نے کشمیر کے سیاسی دھاروں کو موڈا ہے اس لئے میں پہلے ادوار سے صرف ان بلند قامت اور اولعزم بادشاہوں کا مختصر سا ہی کا تذکرہ کروں گا جنہوں نے ان حدود سے باہر بھی اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڈے ہیں ،،، لیکن پہلے اس کا محل وقوع،، ،موجودہ ریاست جموں و کشمیر بر اعظم ایشیا کے تقریباً وسط میں ہے اور بر صغیر ہند و پاک کے عین شمال میں واقع ہے اس لحاظ سے اس جنت بے نظیر کو’’ ایشیا کا دل‘‘ ہونے کا شرف حاصل ہے ، اور انچائیوں کے لحاظ سے یہ بر صغیر کا تاج ہے ، یہ ہمالیائی اور پیر پنجال کی کوکھ میں ایک ’’ نقش پا‘‘ دکھنے کے باوجود دنیاکے ماتھے پر ایک چمکتے ہوئے ، تاباں اور درخشاں جھومر کی مانند ہے ‘‘ شاید قدرت یہ اعلان کرنا چاہتی تھی کہ نقش پا کی صورت بھی چاہوں تو وہ بنادوں جس کے حسن و جمال ، اور سحر انگیزیوں کو ماتھے کے جھومر کا درجہ بھی عطاکرسکتا ہوں ۔ریاست کے شمال میں روس اور سنکیانگ کا علاقہ ہے مشرق میں تبت جنوب میں بھارت ، پاکستان اور مغرب میں افغانستان واقع ہے ، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس کی سرحدیں دنیا کے پانچ ممالک سے ملتی ہیںاور دنیا کا سب سے بلند سطح مرتفع جس سے Roof of the world بھی کہتے ہیں ’’پامیر ‘‘کشمیر کے شمال میں واقع ہے ،ریاست جموں و کشمیر کا کل رقبہ لگ بھگ ۸۴۰۰۰ مربع میل سے بھی زیادہ ہے ۔اس رقبہ کے لحاظ سے جموں و کشمیر دنیا کے ۹۰ آزاد ممالک سے بڑا ملک ہے یہ رقبہ صوبہ جموں ، صوبہ کشمیر اور صوبہ لداخ و گلگت پر مشتمل ہے ،،، ڈوگرہ مہاراجوں تک یہی تفصیل تھی لیکن اس کے بعد ۱۹۴۷ میں جب بھارتی فوجیں سرینگر ائر پورٹ پر اتریں ، تو کشمیر کے حصے بخرے ہوئے ،جموں کشمیر کا یہ حصہ بھارت کے ہاتھ لگا جہاں شیخ محمد عبداللہ کشمیریوں کے واحد لیڈر مانے جاتے تھے اور ان کا فیصلہ ہی حتمی اور آخری فیصلہ تسلیم کیا جاتا تھا ، اور جہاں ان کی آواز اور دبدبہ کم تھا تو وہ حصہ پاکستان کے ہاتھ لگا ،پاکستان کا جنم خود بھی ۴۷ میں انگریزوں کے جاتے جاتے ہی ہوا اس لئے ا بھی تک وہ کوئی ایسٹیبلشڈ ریاست یا مملکت نہیں تھی ،پھر بھی قبائلی لوگ کشمیر کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہے ، یہاں بس اتنا ذکر ضروری ہے کہ مسلم آبادی ،عوام کی خوہش اور جغرافیائی لحاظ سے جموں و کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ ناگزیر تھا ، دوسری بات یہ کہ مہاراجہ خود بھی بھارت کے ساتھ الحاق کے قائل نہیں تھے بلکہ یہ تاریخی حقائق ہیں کہ ان کی پہلی ترجیح آزاد جموں وکشمیر کی تھی اور دوسری اوپشن آبادی کو دھیان میں رکھتے ہوئے پاکستان تھا ، تیسری بڑی بات یہ تھی کہ بھارت کا جموں و کشمیر کے ساتھ صرف مغل روڈ سے رابطہ تھا جو انتہائی دشوار گذاراور خستہ ہوچکا تھا اور لگ بھگ ناقابل استعمال تھا بلکہ ساری آمد ورفت بارہمولہ راولپنڈی روڈ سے ہی ممکن تھی جو دریائے جہلم کے کنارے کنارے واقع ہے اور اسی روڈ سے پنجاب تک کشمیر کی رسائی ممکن تھی ، اس سے ’’کارٹ روڈ ‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا ، بیل گاڈیوں کا کارواں اسی راستے سے کشمیر سے باہر پنجاب یا پنجاب سے وارد کشمیر ہوا کرتے تھے ، گورداس پور میں ایک دو کلو میٹر کی پٹی پنجاب کے علاقے سے تقسیم کے وقت حاصل کی گئی اور پھر جموں کو ایک ٹنل سے کشمیر سے سے ملادیا گیا ، یہی و ہ ر استہ ہے جو آج بھی برفباری اور بارشوں میں جان لیوا ثابت ہوتا ہے جس پر ہزاروں گاڈیاں اور ہزاروں مسافر کئی کئی دنوں تک در ماندہ ہوکر رک جاتے ہیں ، اور ہر برس اس روڈ کے حادثات میں ایک بڑی تعداد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے ،صرف تین آدمیوں کی وجہ سے جموں و کشمیر کے نہ صرف حصے ہوئے بلکہ پچھلے ستھر برس سے لاکھوں نوجوانوں کا لہو ان لوگوں کی گردنوں پرہے جنہوں نے رات کے اندھیروں میں عوام سے فریب اور جھوٹ کی بنیاد پر جموں و کشمیر کے ایک حصے کو بھارت کی غلامی میں دینے کا فیصلہ کیا اور کر دکھایا ،اور دوسرے حصے کو پاکستان میں رہنے دیا اور ان دو کے جھگڑے میں تیسرا کچھ حصہ چین کو بھی تحفے میں ملا ۔،، سب سے بڑی اہم بات یہ کہ پاکستان ،ہندوستان کے درمیان کئی جنگیں ہوچکی ہیں اور اب جب بھی کوئی نئی جنگ ہوگی تو آخری ہی ہوگی کیونکہ دونوں ممالک غربت اور افلاس کے مارے ہوئے ہونے کے باوجود ایٹمی پاور ہیں ،، یہ تین نام جو اس بندر بانٹ کے تاریخی طور پر ذمہ دار ٹھہرائے جاسکتے ہیں شیخ محمد عبداللہ آف کشمیر ، پنڈت جواہر لعل نہرو ، اور لارڈ مونٹ بیٹن ہیںجن کے ہاتھوں سے بھارت کی تقسیم انجام کو پہنچی ،تاریخ اپنے اپنے مناسب وقت کے ساتھ آگے آتی رہے گی ۔۔