مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط:۳ )

کشمیر میں بہت سارے تاریخ دان گذرے ہیں اور انہیں پڑھا جاسکتا ہے اس لئے میں کوئی تاریخ نہیں لکھ رہا بلکہ پانچ ہزار اٹھاسی برس اپنی تاریخ سے صرف وہ معلومات آپ کو فراہم کروں گا جو ضروری ہوں اورجو خود ایک تاریخ کی حیثیت رکھتے ہوں ، راج ترنگنی میں جو پہلا اور اولین مہاراجہ ہمیں نظر آتا ہے جس سے کلہن پنڈت نے ابتدا کی ہے وہ ’’راجہ اوکا نند ‘ ہے، اس کا دور ۱۷ سال تک ، ۳۱۲۱ ق، م میں رہا ہے ،،، اس کے بعد راج ترنگنی کے مطابق ۱۰۷۸ برس بعدراجہ سندر سین ۲۰۴۲ ق م ،میں راجہ رہا ہے اور اس نے ۴۱ سال تک حکومت کی ہے اس کے باپ کا نام ’’یندر سین ،نے فحاشی اور بد اعمالیوں کو زبردس فروغ دیا تھا جو اس کے بیٹے سندر سین کے زمانے میں اپنے شباب پر پہنچی ،اس راجہ کا دارالخلافہ سندر مت نگر رہا ہے جو اب آپ کی زبردست دلچسپی کا باعث اور آپ کے لئے ایک اہم انفارمیشن ہوگی کہ یہ سندر مت نگر ، میرے آج کے سوپوراور بانڈی پور جو کہ ایک معروف قصبہ ہے ،کے بیچ کرالہ سنگری ایک پہاڈی ہے جس کے دامن میں مشرقی طرف ’’ ولر‘‘ ہے اور جنوب مشرقی دامن میں اب بھی وٹلب گاوں ہے ، ، اب آپ اس بات سے حیر ت زدہ ہوں گے کہ یہ بالکل وہی جگہ ہے جہاں آج کل دنیا کی سب سے میٹھے پانی کی جھیل’’، جھیل ولر‘‘ ہے ،، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ آپنے اس جھیل کا نام نہ سناہو کیونکہ دنیا بھر کے سیاحوں کی یاترا اور کشمیر کی سیر اس جھیل ولر کو دیکھے بِنا ادھوری اور نامکمل ہی تصور کی جاتی ہے ، بلکہ اس جھیل کے حسن ،دلکشی اور دلفریبی کو چاندنی راتوں میں ہی اپنے شباب پر محسوس کیا جاسکتا ہے جب چاند آپ کے عین اوپر ۔ اپنے باراتیوں کے ساتھ ولر کے آئینے میں اپنے حسن و جمال کو دیکھ دیکھ کر ششدر و حیراں تکتا رہتا ہے بِنا کچھ کہے ، اتھاہ سناٹوں اور ابدی خاموشی کے گیتوں میں گم ۔۔ ،پہلے اس’’ سندر مت‘‘ کی کہانی جو ہماری تاریخوں میں درج ہے ، جیسا میں نے کہا کہ راجہ سندر سین جس کا یہ دارالخلافہ تھا، اپنے تمام برے خصائل ،کمینگی اور بد اعمالیوں کے اونچے زینے پر فائض تھا ، ظاہر ہے کہ اس کی طرز حکمرانی بھی اسی نوعیت کی رہی ہوگی ، اسی زمانے کی ایک حسرتناک اور اذیتناک حکایت یہ ہے کہ، ایک بار اس کے اسی (سندر مت) شہر میں کوئی باپ اپنی ہی بیٹی کی عصمت د ری کا مرتکب ہوا ، بیٹی کے شوہر نے سندر سین کے دربار میں فریاد کی ، سندر سین نے فوراً اس پر فیصلہ دیا کہ لڑکی کے شوہرکو زنداں میں ڈالا جائے کیونکہ اس نے اس راز کو افشا کرکے بہت بڑا جرم کیا ہے ، باپ کو رہا کردیا، یہ مثال در اصل یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ اس زمانے میں اس راجہ کا طرز حکومت کیا رہا ہوگا ، اس واقعے کے تھوڈی ہی مدت کے بعد ، اللہ کا غیض و غضب جوش میں آیا ، اور ایک زبردست زلز لے سے اس شہر کے چاروں طرف چشمے پھوٹے اور اس طرح یہ سارا شہر ایک بڑی جھیل میں تبدیل ہوا ، جو آجکل ایشیاء کی سب سے بڑی جھیل بھی تصور کی جاتی ہے ، ، اس کمبخت کی حکمرانی ۴۱ سال تک رہی ہے اور ۲۰۴۲ ق م میں اپنے تمام خاندان اور آبادی سمیت جھیل کے پانیوں گم ہوگیا اور یاد گار کے طور پر جھیل ولر چھوڑ گیا ، یہ کہانی عقلی دلیل سے فرضی اور گھڑی ہوئی داستاں نہیں لگتی بلکہ تاریخوں کے علاوہ یہ کہانی اب تک ہزاروں سال سے سینہ بہ سینہ بھی منتقل ہوتی رہی ہے ، ہانجی لوگوں سے میں نے بھی یہ سنا ہے کہ جب جھیل کا پانی کافی کم ہوجاتا ہے تو کچھ نشانات جھیل کی تہہ میںنظر آتے ہیں جنہیں ہم کوئی معنی نہیں پہناسکتے یہ جھیل ولر کرالہ سنگری ، جس سے آجکل حضرت بابا شکرالدین کی پہاڑی بھی کہتے ہیں کے دامن میں ہے اپنے چاروں طرف کی دلفریبی پر متحیر ہے ، اس خوبصور ت اور میٹھے پانی کی جھیل کی لمبائی ۱۵ میل اور چوڈائی ۶ میل ہے اور کشمیر کا مشہور و معروف ’’ جہلم ‘‘اس جھیل کے بیچ میں سے سوپور ، بارہمولہ سے گذرتا ہوا پاکستان کی طرف بہتا ہے ،اس طرح یہ دریائے وتستا یعنی جہلم کا ایک ڈیلٹا بھی نظر آتا ہے ، اس جھیل کے بیچ میں کشمیر کے مشہور ، عادل ،اولالعزم مومن صفت سلطان۔ زین العابدین۔ جسے کشمیری لوگ بڈشاہ کے نام سے عزیز رکھتے ہیں ،نے اس جھیل کے بیچ میں ایک جزیرہ نما تعمیر کیا ہے ، جو اس جھیل کے بیچ میں آج بھی سیاحوں اور کشمیریوں کے لئے حیرت اور استعجاب کا باعث بنا ہوا ہے ، یہ جزیرہ کیسے تعمیر ہوا اس بارے میں کئی روایات ہیں ،اس کی لمبائی شمال سے جنوب تک سو گز ہے اس کے شمالی گوشے میں تین طبقوں والی ایک خوبصورت اور مظبوط عمارت تعمیر کی تھی جو آج تک موجود ہے ۔ اس کے علاوہ یہاں دربار لگانے کا انتظام بھی رہا ہے ، یہ ’’ زینہ لانک ‘‘کے نام سے مشہور ہے اور مجھے بھی اس’’ لانک‘‘ پر اپنے بچپن کے دوران جانے کا اتفاق ہوا ہے ، ، اس زینہ لانک کے بارے میں یہ بات یہاں بہت ہی معروف اور تصدیق شدہ ہے کہ جھیل میں جب دریائے جہلم کا سیلابی پانی آجاتا ہے تو ولر کے کا پانی آس پاس کی بستیوں تک بھی پہنچ جاتا ہے لیکن یہ جزیرہ نما کبھی ان صدیوں میں نہ تو زیر آب آئی ہے اور نہ ہی ا اس کے زینوں سے اوپر پانی آجاتا ہے ، اس بات سے یہ روایت مشہور ہے کہ زینہ لانک بڈشاہ نے کچھ ایسے سائینٹفک انداز میں بنوائی تھی کہ یہ زمین کا ٹکڑا پانی کے ساتھ ہی اوپر چڑ ھتا ہے لیکن اپنی جگہ پانی پر تیرنے یا ایک بڑے جہاز کی طرح تیرنے سے قاصر ہے ، اسکے بارے میں یہ بھی ایک روائت ہے کہ بڈشاہ نے اس لانک کی بنیادیں استوار کرتے وقت کشمیر کے کسی بہت ہی بڑے بزرگ اور درویش سے دعا کروائی تھی ،اگر یہ سچ ہے تو وہ بزرگ حضرت سخی جانباز ولی ہی ہوسکتے ہیں جن کے مراسم بڈشاہ سے رہے ہیں۔ جو کچھ بھی ہو زینہ لانک آج بھی ولر کے صاف و شفاف پانیوں میں کسی بہت ہی بڑے راز کے ساتھ زین العابدین کی بڑائی اور اس کے خود درویش صفت ہونے کا اعلان کرتی ، یہاں مسجد کے پتھر اور سلطان زین العبدین کی بیٹھک کے نشانات کھندروں کی صورت میں آج بھی موجود ہے ،،، لانکریش پورہ جو کہ بانڈی کے ساتھ ایک گاوں ہے ولر کے کنارے واقر ہے اور یہاں سے ہی کشتی میں بیٹھ کر اس لانک تک آسانی کے ساتھ پہنچا جاسکتا ہے ، لیکن یہ سفر صبح سویرے اور تین چار بجے سے پہلے پہلے ہی واپسی پر اختتام کو پہنچنا چاہئے کیونکہ اس وقت کے بعد اچانک ولر میں طوفانی کیفیت پیدا ہوتی ہے ، لہریں بہت اونچی اٹھتی ہیں ، جن سے جھیل میں ڈوبنے کے امکانات بہت ہی زیادہ ہوتے ہیں اور کبھی کبھی اچانک اٹھنے والے ان طوفانوں میں ہانجی لوگ گھر کر ولر کے پانیوں میں سماجاتے ہیں ، جھیل ولر بانڈی پور ، سوپور اور اس سے ملحقہ درجنوں ملحقہ علاقوںمیں بچنے والے ہانجی اور کشتی بان طبقے کو روٹی روزی عطا کررہی ہے ، اس جھیل کی مچھلیاں ٹیسٹ میں سارے کشمیر میں مشہور ہیں ، یہاں سنگھاڈے بھی پیدا ہوتے ہیں اور اس کی پیداواروں میں ’’ندرو ‘‘خاص طور پر قابل ذکر ہے جو جھیل ڈل کے بعد سب سے مزے دار ’’ ندرو ‘‘ مانا جاتا ہے ،کرالہ سنگری جس کی چوٹی پر بابا شکر الدین کی زیارت ہے، مرجع نور بنی ہوئی ہے یہاں سال بھر عقیدتمند مرادیں لے کر آتے رہتے ہیں ، سوم اور ویر یہاں خصو صاً لوگوں کی آمد و رفت بہت زیادہ ہوتی ہے ، یہ شکر الدین صاحب ،کہا جاتا ہے ، مشہور صوفی بزرگ بابا ریشی کے پیرو مرشد رہے ہیں بابا ریشی نے اپنے مرشد کی خدمت میں بارہ سال گذارے ، یہ ریشی صاحب اپنے پیرو مرشد کے لئے نیچے ولر سے پانی اور دوسری اشیاء ضرورت’’ وٹلب گاوں )) سے اوپر پہاڑی کی بلند چوٹی پر چڑھاتے رہے ہیں،ظاہر ہے کہ ان زمانے میں کوہ کے دامن سے پہاڈی کی بلند چوٹی پر اپنے کندھے پر پانی کا گڑھا چڑھانا کس قدر مشکل اور محنت طلب رہا ہوگا ۔کہتے ہیں کہ ایک دفعہ اچانک ہی بابا شکر الدین کی نگاہ بابا ریشی کے کندھے پر پڑی جہاں پانی اوپر چڑھانے کی وجہ سے ان کے کندھے پر ایک گہرا زخم ہوچکا تھا ، جس سے پیپ رس رہی تھی ، اسوقت بابا شکر الدین نے اپنے اس مرید پر نگاہ کرم کی ، ایک تیر پھینکا اور اپنے طالب سے کہا کہ جہاں یہ تیر لگے گا تمہارا ٹھکانہ ونہیں رہے گا اور تمہاری بزرگی کا ڈنکا سارے زمانوں میں یکساں بجتا رہے گا ، یہ تیر ایک اونچے گھنے جنگل کی چوٹی پر آلگا تھا ، جہاں آجکل ، بابا ریشی،کا آستانہ عالیہ مرجع نور اور فیض و برکت کی آماجگاہ بنا ہوا ہے ، وٹلب سوپور سے پندرہ کلو میٹر دور بانڈی پور کے راستے میں اسی کرالہ سنگری کے دامن میں واقع ہے، کرالہ سنگری یا بابا شکر الدین کی پہاڑی کو پار کرتے ہی بانڈی پورہ جو، اب ایک ڈسٹرکٹ ہے، شروع ہوجاتا ہے ، یہاں سے بانڈی پور تک کا سارا راستہ جھیل ولر کے کنارے کنارے بانڈی پور تک پہنچتا ہے اس لئے ولر کا نظارہ سڑک پر سفر کرتے ہوئے بھی بہت ہی اچھی طرح سے کیا جاسکتا ہے ،چھوٹے چھوٹے گاوں جو راستے میں بانڈی پور تک آتے ہیں کی ،بڑی آبادی کا روز گار اسی جھیل کی پیداوار پر صدیوں سے رہا ہے،ہماری تاریخوں سے یہ گماں غالب آجاتا ہے کہ اس شہر کے جھیل میں تبدیل ہونے سے شاید سوپورتک کا سارا علاقہ زیر آب آیا تھا ، محمد الدین فوق کا خیال ہے کہ حضرت سلیمان جب اپنے تخت پر یہاں سیر کو آئے تھے تو قرین قیاس ہے کہ انہوں نے اسی جھیل کے پانی کو (کھادنیار)سے کسی طرح نکلوا نے کا بندوبست کیا ہوگا کیونکہ جس زمانے میں یہاں ان کی تشریف آ وری کا گماں ہوتا ہے اسوقت کشمیر کے علاقہ مراج اور کمراج دونوں میں خاصی آبادی اور آثار قدیمہ کا پتہ چلتا ہے ،’’کشپ ‘‘حضرت سلیمان کا کوئی دیو تھا یہ زمانے کے لحاظ سے درست نہیں لگتا ، کیونکہ ہمارے پاس کشمیر کی تاریخ پانچ ہزار سے بھی زیادہ عرصے کی ہے جب کہ حضر ت سلیمانؑ کلجگ سے اٹھارہ سو برس بعد میں آئے ہیں ، پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اپنے زمانے سے دو ہزار برس پہلے انہوں نے سرزمین کشمیر آبادکی ہوگی ،،،،،،