مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط:۴ )
پہلی صدی عیسوی تک مجھے راج ترنگنی اور دوسری تاریخوں میں کئی ایسے ہندو حکمران نظر آئے جن کا دور ہر لحاظ سے اچھا اور زبردست رہا لیکن اختصار کو مدِ نظر رکھتے ہوئے میں پرور سین پر آجاتا ہوں جس کا ذکر ناگزیر ہے ہاں راجہ میگواہن جو قندہار سے کشمیر آئے اور مسند حکومت پر براجمان ہوئے زبردست بادشاہ گذرے ہیں ، جنہوں نے عدل و انصاف سے حکومت کی، ایک لشکر جرار تیار کیا اور ہندوستان پر حملہ آور ہوا ، تمام راجوں کو مطیع کرتا ہوا دریائے شور کے کنارے پہنچا ،وہاں سے سمندر عبور کرکے سنگلدیپ پر حملہ آور ہوجو آج کے سری لنکا کا نام تھا ،،اس راجہ کے بارے میں بہت ساری عجیب حکایات اور کہانیاں تاریخ میں موجود ہیں جن کا لب لباب یہ ہے کہ ، اس راجہ نے ہندوستان کے بڑے حصے پر ۳۵ سال تک حکمرانی کی،ہندو مورخوں نے بھی اس کے زبردست اور نیک دل راجہ ہونے اور اس کی فتوحات کے کے لحاظ سے اس سے بلند درجہ دیا ہے ،،، لیکن ۷۹ ء ؁ سے ۱۳۹؁ ء تک کا دور کئی لحاظ سے بہت ہی اہم ہے ،کئی مورخوں نے (۱۰۲ء سے ۱۶۲ء تک کی تاریخ دی ہے ) اور اس کا تذکرہ اس لئے ناگزیر بنتا ہے کہ اسی راجہ نے شہر خاص (سوریا نگر) سورج کا شہر۔کی بنیا ڈالی ہے جس سے آپ اور ہم سرینگر کے نام سے جانتے ہیں ، پرور سین عازم کشمیر ہوکر وارد خطہ ہوا ، تخت نشینی کے بیس سال بعد جب ہر طرف امن و امان قائم ہوا تو ایک بڑا لشکر لے کر ہندوستان پر یورش کی ،یہ راجہ بھی اپنے پیش رو راجوں کی طرح دریائے شور تک جاپہنچا،چناچہ پنجاب ، مالوہ اور ہندوستان کے ایک بڑے حصے کو فتح کرکے مال ودولت لے کر کشمیر واپس پہنچا تو ایک شہر بسانے کی خواہش ہوئی ،مورخین نے اس شہر کے بسانے کے بارے میں کئی حکایات لکھی ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ راجہ پرور سین جگہ کا انتخاب نہیں کر پارہا تھا ، ایک رات دریائے جہلم کے کنارے (دریائے بِہت) ایک مرگھٹ پر اس کی ملاقات دتیال ۔ ایک قوی ہیکل جِن کے ساتھ ہوئی ، ’’جن‘‘ بادشاہ سے خوش ہوااور بادشاہ سے کہا کہ کہ وہ صبح سویرے اپنے مکان سے نکل کر شمال کی طرف روانہ ہوجائے جس مقام پر چونے کی لکیر نظر آئے گی وہیں شہر بسالے ،یہ لکیر بادشاہ کو دوسرے روز کوہ ماراں یا ہری پربت کے دامن میں نظر آئی ، اس نشان کو تائید غیبی سمجھ کر کوہ ماران کے جنوب میں دریائے جہلم کے دونوں کناروں پر ایک وسیع تین لاکھ گھروں پر مشتمل شہر آباد کیا جس کا نام پرور سین ہی کے نام پر آہستہ آہستہ’’ سرینگر‘‘ہوا جو ہمارا موسم بہار کا دارالخلافہ آج بھی موجود ہے ، سری کا مطلب سورج اور نگر شہر کو کہتے ہیں ، اس طرح یہ سور یا نگر سے شاید سرینگر ہوگیا ہے ، جو بھی ہو جگہ کا انتخاب زبردست اور بے مثال تھا اس لئے کہ اس شہر کے آس پاس ہی ، مشہور جھیل ڈل ہے ، کچھ فاصلے پر جھیل آنچار ہے، یہ شہر دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں ایک ہے اور اس کی قدرتی لازوال خوبصورتی قدرت کے ہاتھوں جس انداز اور سلیقے سے سنوری ہے اس کی کوئی مثال نہیں ، یہ شہر اپنی خوبصورت جھیلوں ، باغات، بے پناہ حسین شکار گاہوں اور ڈل کے اندر قطار در قطار آرام دہ ہاوس بوٹوں کے لئے بھی بہت مشہور ہے ، یہ شہر اپنی دستکاریوں کے لئے سر فہرست تسلیم کیا جاتا ہے ، ‘‘ سرینگر جیسا میں نے لکھا ہے کہ دریائے جہلم کے دو کناروں پر آباد ہے جو پلوں سے جڑے ہوئے ہیں ،یہ پل اس کے بعد مختلف ادوار میں بنائے گئے ہیں کیونکہ پرور سین کے زمانے کے پلوںسے متعلق کوئی تفصیل تاریخ میں موجود نہیں ۔ ہاں شہر کا پل ناوہ پورہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسی زمانے کا ہے ،یہ پل آج بھی اسی نام سے جانا جاتا ہے اور اگر واقعی یہ اسی زمانے کا پل ہے تو یہی کہا جائے گا کہ سب سے اولین پل بھی پرور سین ہی کی دین تھی ،، تاریخ میں یہ بھی درج ہے کہ اس کے وزیر ’’سورک ‘‘ جس نے لنکا فتح کیا تھا۔ نے ’’پرگنہ پھاگ ‘‘میں موضع سودہ بھون جو اب سودہ کہلاتا ہے تعمیر کیا تھا ،،اس طرح سے اس کے ماموں جے ’’اندر‘‘ نے سرینگر کے شمال میں ’’ سوکرم ‘‘ آباد کیا تھا جس سے اب ’’ہارون ‘‘ کے نام پہچانا جاتا ہے ۔ پرور سین اور اس کے بعد ایک زمانے تک کے بادشاہوں نے کوئی پل تعمیر کیا تھا کہ نہیں یہ بھی معلوم نہیں۔ ، کلہن کے مطابق شہر بسنے سے پہلے بادشاہ (پراناڈشتھانہ) میں قیام پذیر تھا جو یقینی طور پر آج کا پاندریٹھن ہی ہوسکتا ہے جو سرینگر کے بالکل قریب ہی اب شہر سرینگر کے حدود میں ہی واقع ہے بعد میں شہر کے دونوں حصے سات پلوں سے جڑ گئے ، جن کی تعداد اب نو ہے ۔ان میں، حبہ کدل ، فتح کدل ، نوا کدل ،صراف کدل ، صفا کدل، امیرا کدل زینہ کدل، بہوری کدل بہت ہی معروف ہیں ان کے علاوہ اندرونِ شہر بھی بہت سارے چھوٹے چھوٹے پل ہیں جنہوں نے سرینگر کے مختلف حصو ں کو آ پس میں جوڈ دیا تھا ، ان سب کی اپنی اپنی تاریخی اہمیت ہے جس کا تذکرہ ان بادشاہوں کے ادوار میں ہی درست رہے گا جب یہ بنائے گئے تھے ، شہر سرینگر اپنی شکار گاہوں کے لئے بھی معروف ہے، ہوکر سر ،، بہت بڑی شکار گاہ ہے جو سرینگر کے شمال میں سوپور کپواڑہ روڈ پر واقع ہے ، یہ ۱۳ کلو میٹر پر محیط شاید سب سے بڑی سر ہے ، یہاں سائبریا سے مختلف پرندے ہزاروں کی تعداد میں ہجرت کرکے آجاتے ہیں اس کے علاوہ’’ خوشحال سر ‘‘ او ر ’’گلِ سر ‘‘سرینگر ائیریا ہی میں آتی ہیں اور مرکزی سرینگر سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ، داچھی گام کی شکار گاہ بھی بہت مشہور ہے جو نشاط شالیمار اور ہارون کے بعد ہی آتی ہے ، یہاں بہت خوبصور ہٹیں ہیں ، ہندوستاں کے تمام پرائم منسٹر اپنے اپنے ادوار میں یہاں قیام کرتے رہے ہیں ، پہاڑوں سے گھری یہ شکار گاہ بہت ہی خوبصورت جگہ ہے ڈاون ٹاون یا شہر خاص سرینگر کی ابتدائی بستی مانی جاتی ہے،اس کا حجم اور گھنی آبادی اس بات کا ثبوت دے رہی ہے کہ یہ حصہ ہی ابتدائی طور پر’’ پرور سین‘‘ کا شہر رہا ہے ،یہ سارا علاقہ جہلم کے کناروں پر مرکزی شہر سے پانچ کلو میٹر دور ہے اور یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ابتدائی بستاں ساری دنیا میں دریا کناروں پر ہی آباد ہوئی ہیں جہاں ابتدائی اور بڑی بڑی تہذیبوں نے جنم لیا تھا ،اس وقت شہر خاص ۳۹ بڑے بڑے علاقہ جات پر مشتمل ہے جن میں تمام ادوار کے آثار قدیمہ ، اہم مقامات اور مشہور و معروف تاریخی عمارات موجود ہیں ، یہی علاقہ کشمیر کے بڑے بادشاہ ، بڈشاہ کا مسکن اور دارالخلافہ رہا ،ہے جو آج بھی اسی علاقے میں ، زینہ مر ، کے نام سے جانا جاتا ہے ، ظاہر ہے کہ زینہ کا مطلب سلطان زین العابدین اور ( مر ) کا مطلب گھر ہوتا ہے ،،، جامع مسجد نوہٹہ ، باغ علی مرداں ، خانقاہ معلیٰ ،مہاراج گنج ،پتھر مسجد ، نواب بازار ، صراف کدل ، زیارت شریف پیر پیراں ، خانیار ، پرانا قلعہ ۔ حضرت سلطا ن العارفین، صورہ ، آنچار ، عالی مسجد ، درگاہ حضرت بل ، ساز گری پورہ ، رنگریٹ، اور دوسری درجنوں اہم اور تاریخی جگہیں اور مانو منٹس یہاں اسی پرانے شہر میں ہیں کیونکہ یہی علاقے ہیں جو اب بھی اپنے اپنے زمانوں اور ادوار کی یادگاروں کو سینے میں رکھے ان کی یاد دلا رہے ہیں ، اور میرا خیال ہے کہ ان سب قابل ذکر مقامات ،عمارات باغات اور محلات کی معلومات ادوار کے حساب سے آپ تک آسانی اور قابل فہم طریقے پر پہنچائی جاسکتی ہے اس لئے میں نے یہاں مغل با غات کا بھی کوئی تذکرہ نہیں کیا ہے ،بس ’’سوریا نگر ‘‘یا سرینگرکا ایک اجمالی سا خاکہ پیش کیا ہے ،ڈوگرہ راجوں کا دور جس سے ہم کشمیر کی تاریخ کا پانچواں دور کہہ سکتے ہیں ۔کے محلات اور دفاتر بھی جہلم کے کنارے ’’شیر گڈھی ‘‘کی صورت ہمیں اسی پرانے شہر میں نظر آتے ہیں ، غرض شہر خاص اپنے آپ میں ایک بہت ہی اہم تاریخ ہے ۔صورہ بھی اسی تاریخی پرانے شہر کا حصہ ہے ، جو آج میڈیکل انسٹی ٹیو ٹ کی وجہ سے بہت ہی مشہور جگہ ہے اس ا نسٹیچیوٹ کے سارے مغربی طرف جھیل آنچار پھیلی ہوئی ہے ، کبھی اپنے زمانوں میں یہ جھیل ڈل کی طرح ،پر شباب اور جواں رہی ہوگی ، اب جیسا ہم جانتے ہیں کہ ڈل کی طرح یہ جھیل اپنی فنا کے قریب ہے اور جب بھی آپ اس سے دیکھیں گے تو آپ کو اس وسعت کا اندازہ ان بستیوں سے ضرور ہوگا جو آنچار پر تجاوزات کی صورت موجود ہیں ،صورہ میں ہی ایک مشہور و معروف (جناب صاحب )) کی زیارت گاہ ہے اور اس علاقے کا نام بھی ایک اور بزرگ ہستی ا ور صوفی ’’ملک الدین ‘‘ سہر وردی کے نام پر صورہ ہوا ہے ،،کشمیر میں انیک سیر گاہیں ہیں ، خوبصور ت اور حسین ،مقامات ہیں جنہیں دیکھنے کے لئے ساری دنیا کے لوگ اپنے دلوں میں آرزو اور جستجوئیں رکھتے ہیں ، اور جو لوگ یہاں آجاتے ہیں سرینگر میںٹھہرتے ہیں جن کے لئے قابل دید مقامات بہت زیادہ ہیں،جنہیں شاید کوئی ہی سیاح وقت کی تنگ دامنی کی وجہ سے دیکھ پاتا ہولیکن ، جن مقامات کو دیکھے بنا ان کی سرینگر یاترا ادھوری اور آدھی رہ جاتی ہے ان کی تفصیل یہ ہے یعنی یہ مقامات لازمی طور پر انہیں دیکھنے ہی پڑتے ہیں(نگین جھیل )مغل باغات (۳) داچھی گام نیشنل پارک (۴) ٹولیپ گارڈن (۵) حضرت بل مسجد ،(۶) شنکر آچاریہ مندر (۷) پری محل (۸) ڈل لیک (۹) چار چناری (۱۰)چشمہ شاہی (قلعہ ہاری پربت ، یہ سب مقامات ، آثار قدیمہ اور معروف جگہیں مقامات اور مختلف ادوار کے حکمرانوں کی نشانیاں ہیں ، جن کی تفصیل اپنے اپنے ادوار میں آ ئے گی تاکہ واقعات ، اور زمانے گڈ مڈ نہ ہو جائیں اور پڑ ھنے والا ٹھیک طرح سے سمجھ سکے کہ کو نسی جگہ کب اور کس دور میں بنی ہے اور کس حکمران سے وابستہ ہے ،، اس تصویر سے جو سرینگر کی کھینچی گئی ہے ظاہر ہے کہ راجہ پرور سین زبردست اور زیرک راجہ رہا ہوگا ، جس نے کشمیر ہی نہیں بلکہ کشمیر سے باہر ہندوستان کے ایک بڑے حصے تک اپنی مملکت کو وسعت دی تھی اس طرح اور اس درجے کے کئی ہندو بادشاہ تاریخ میں رہے ہیں جن کا مختصر تذکرہ اپنے پیچھے چھوڑی ہوئی یادگاروں کے ساتھ کیا جائے گا ،،،