مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط:۵ )
تاریخ کے طالب علم اور تاریخ نویس تاریخ کے دریچوں میں جھانکتے ہیں تو بہت سارے کیا بلکہ اکثر و بیشتر حقائق پر انہیں یقین کرنا ہی مشکل ہوتا ہے لیکن یہ بہر حال تاریخی حقائق ہوتے ہیں ، عبرتناک، ہیبتناک اور افسوس ناک ، مغل ایمپائر جو بھار ت میں صدیوں تک ایک عظیم بادشاہت رہی ، ان کے آخری تاجدار کو اتنی بڑی سلطنت میں دفن ہونے کے لئے دو گز زمین میسر نہیں آسکی ،،اندلس میں ایک ہزار برس کی حکمرانی کے باوجود وہاں کی مسجدوں میں کوئی مسلم اذان دینے کے لئے موجود نہیں رہا ،، ہمارے کشمیر کا ایک بہت ہی عظیم ، فاتح ،اولعزم بہادر اور بے پناہ صلاحیتوں کا مالک جس کی قسمت کا آفتاب ایک لمبے عرصے تک چمکتا رہا ، کچھ ایسے ہی حالات کا شکار رہا جس کا انجام ،،،،، حیرت انگیز اور ناقبل یقیں ہے ،،مثالیں ہزاروں ہیں لیکن ا ختصار کو مد دِِ نظر رکھتے ہوئے میں اب کشمیر کے اس ہندو راجہ کا تذکرہ ذرا تفصیل سے کروں گا کیونکہ اس راجہ کی بڑائی، اور بلندی کا تقاضا یہی ہے ، پھر ہندو دور میں یہاں کوئی ہماری تاریخ میں اس جیسا راجہ نظر آئے کہ نہ آئے ،،، یہ اس راجہ کا حق بنتا ہے ، جس کا نام للتا دت مکتا پیڈ تھا ،، یہ راجہ پرتاپ پیڈ کا تیسرا بیٹا تھا ، اس سے پہلے اس کے بڑے بھائی چندرا پیڈ نے ساڈھے آٹھ سا ل حکمرانی کی ، اس کے بعد اس کے بھائی تارا پیڈ نے اپنی چار سالہ حکمرانی میں عوام و خاص کو جن مصائب سے دوچار کیا وہ اپنے اندر ایک اور کہانی ہے لیکن اس کے بعد چھوٹے بیٹے راجہ للتا دت مکتا پیڈ نے۷۱۵؁ء میں عنان حکومت سنبھالی ، یہ لگ بھگ وہی دور ہے جب محمد بن قاسم خلیفہ ولید کے دور میں فاتح سندھ ہوگیا ،،پہلے پہلے اپنی اولین فرصت میں اس بہادر ، اور اولعزم بادشاہ نے اپنے بھائی کی تمام رضالتوں، کمینگیوں اور ظلمتوں کے نقوش مٹانے کی زبردست اور تیز رفتار کوششیں کیں ، اور ان میں اپنے عزم اور حوصلے سے بہت جلد کامیا ب ہوگیا ، پھررعایا پروری اور انصاف کو اپنا شعار بنایا ،تمام اپنے شعبہ جات درست کئے اور بڑی حد تک اپنی رعایا کے لئے امن وچین کا ماحول پیدا کرنے میں کامیاب ہوا اپنے پہلے ہی سال میں للتا دت نے پرگنہ ’’ہوکر ‘‘میں مندر مکتا سوامی کی بنیاد ڈالی ۔تمام ان علاقوں کو فتح کیا جو اس کے بھائی کے دور میں ہاتھوں سے نکل چکے تھے ، اس کے بعد فوراً ہی ایک بہت بڑی فوج لے کر پنجاب اور دہلی کو فتح کیا ،دہلی کے بعد اپنے گھوڈوں کے رخ قنوج کے بادشاہ بشو دام کے طرف موڈ دئے ،بڑی جنگ اور مقابلہ آوری کے بعد بشو دام کو شکست دی اور اس کے وزیر میتر شرما کو قید کیا۔یہاں سے کوچ کیا تو ’’کالکا‘‘میں ہی دم لیا شہر کالنگ پر قبضہ کرکے ۔بہار کا رخ کیا ، بہار کا راجہ خود ہی بہت سارے تحایف کے ساتھ حاضر خدمت ہوا ، اس لئے انہیں حکمرانی پر بر قرار رکھتے ہوئے دریائے گنگا کے راستے بنگالہ پر یورش کی یہ بنگال ہی ہوسکتا ہے ، یہاں زبردست جنگ کے بعد ہی بنگال پر قبضہ کیا اور تمام مال و اسباب کے ساتھ دریائے ’’ شور‘‘کے تمام علاقہ جات کو بھی فتح کیا ۔یہاں جگن ناتھ جی کے مندر کی شہرت سنی تو باریابی کا خیال آیا اور یہاں پہنچ کر مندر کے پجاریوں کو مال و دولت سے مالا مال کیا ،جو اس کی فراخ دلی کی طرف بھی ایک اشارہ ہے،پھر دکھن کی طرف چل پڑا ،تاریخوں میں ہے کہ اس زمانے میں ’’امارٹا ‘‘ نام کی ایک عورت یہاں حکمران تھی جو بڑی بہادر اور قابل عورت تھی ، اس نے اپنے لشکر کے ساتھ للتا دت کا راستہ روک لینے کی کوشش کی لیکن للتا کا مقدر بہت ہی خوب تھا ، یعنی قسمت ان پر مہر باں تھی ، میں ۔اس سفر کے دوران اس بادشاہ کی ان کہانیوں اور محیرا لعقول روایات کو قلمبند نہیں کر رہا ہوں جو تاریخ میں ان سے منسوب ضرور ہیں لیکن مجھے حکایات اور افسانوی کہانیوں سے زیادہ نہیں لگتیں ،کئی دنوں کی معرکہ آرائی کے بعد اس مقدر کے سکندر کو فتح نصیب ہوئی اور یہ رانی اطاعت پر مجبور ہوئی ، لیکن بہادری اور عجز و انکساری کی وجہ سے للتا دت مکتا پیڈ نے صلہ رحمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس رانی کو معمولی خراج کے عوض اپنے منصب پر بحال کیا ، تاریخ دانوں کے مطابق یہ راجہ یہاں سے جزائر سنگلدیپ، گجرات اور مالوہ کو فتح کرکے دوارکا، اور اجین کو روند تا ہوا پنجاب کے راستے سے کابل اور خراسان کی طرف روانہ ہوا تو کابل، ہرات اور خراسان پر فتح کے جھنڈے گاڈتے ہوئے آگے بخارا کی طرف روانہ ہوا ، بخارا کے حاکم مومن خان نے بڑی سخت جانی کے ساتھ کئی روز تک معرکہ کار زار گرم رکھا ، ایک جگہ سے دوسری جگہ محاظ جنگ منتقل کرتا رہا اور اس طرح چار مختلف مقامات پر للتا دت کے خلاف زبردست مہم جوئی کی لیکن جیسا میں نے کہا ہے کہ للتا دت اس معاملے میں مقدر کا سکندر تھا ، کسی نہ کسی اچانک ظہور ہونے والے واقعے سے جنگ میں فتح اس کے حصے میں آتی ، یہاں بھی یہی ہوا آخر کار مومن خان نے شکست تسلیم کی ، انکساری اور عاجزی کا اظہار کیا ،امان چاہی اور خراج دینا قبول کرکے اپنی بادشاہت بحال کر دی ، اور للتادت مکتا پیڈ نے یہاں سے تاشقند ،سمر قند، خوقند، کاشغر،تنگان اور ختن کے ممالک کے بادشاہوں کو یا تو جنگ سے یا خراج کے عوض مفتوع بنایا ۔ ظاہر ہے کہ ان مقامات کا مطلب ہے کہ اس عظیم جنگجو اور قسمت کے دھنی شہنشاہ نے ترکستان کے تمام ممالک اور شہر فتح کئے ،اب آپ خود ایک نقشہ بناکر سامنے رکھتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کر سکتے ہیں کہ بھارت کی پانچ ہزار تاریخ میں کیا کبھی کوئی شہنشاہ ایسا گذرا ہے جس کی مملکت میں لگ بھگ سارے بھارت کے علاہ افغانستان اور وسطی ایشیاء کے اتنے سارے ممالک رہے ہوں ، میری جہاں تک تاریخ پر نظر ہے کوئی ایسا شہنشاہ نہیں ملتا ، جو ایک زمستانی وادی سے نکل کر اپنی فتوحات کے جھنڈے وسطی ایشیاء تک کامیابی سے لہراتا ہوا اور اتنے سارے ممالک مطیع و فرمانبردار بناکر واپس کشمیر لوٹا ہو ، تاریخ دان اس پر متفق ہیں کہ یہ شہنشاہ ا ن فتوحات میں بارہ برس تک مصروف کار رہنے کے بعد تبت کے راستے سے وارد کشمیر ہوا ، اور اس کے ساتھ جو مال و اسباب تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے ایک مندر (بوتی شور مندر )کو نذرانے کے طور پر گیارہ کروڈ دینار دئے تھے ،،اس شہنشاہ کا دوسرا تابناک پہلو یہ تھا کہ ان ممالک سے للتا دت نے چن چن کر عالم و فاضل اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے زبردست اور بہترین کاریگروں کو اپنے ساتھ کشمیر لاکر عزت و احترام کے ساتھ بسایا ،،ایک ، تاریخ میں ایسا ہے کہ ان بہترین دماغوں اور انسانوں میں ایک شخص ( جتکن) نام کا بھی تھا جو انتہائی عقلمند ہونے کے ساتھ ساتھ شریف النفس بھی تھا اور کرشمے کرنے کی صلاحیتوں کا حامل تھا ،اس کے ساتھ ہی وہ فنِ کیمیا میں بے مثال تھا ، للتا دت نے اس شخص کو اپنا وزیر بنادیا،اس شخص کے بارے میں کئی ایسی کہانیاں تاریخ میں درج ہیں جو اس دور اور سائینٹفک سوچ کے ساتھ میل نہیں کھاتیں اس لئے انہیں دہرانا مناسب نہیں ۔لیکن ، کئی تاریخوں کی عبارات سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ آدمی جتکن،، حکیم ،زیرک ، ہوشیار ، معاملہ فہم ، اور انسانی نفسیات کو سمجھنے والا رہا ہوگا ، ،، شہنشاہ للتادت نے کشمیر میںبت خانے ، مہمان خانے اور شفاخانے تعمیر کئے، چونکہ بے حساب سونا چاندی اور مال و زر بارہ برس کی فتوحات سے حاصل ہوا تھا اس لئے فراخدلی سے خرچ کرتے ہوئے بہت سارے رفاعہ عامہ کے کام کر ڈالے ،،للتا پور ،، (لتہ پو ر ) سرینگر سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ، نسچت پور ،،رپت پور،،پہلہ پور، قصبہ پونچھ ،،پرسپور،،اور لوکہ بھون اسی راجہ کے دور میں تعمیر اور بسائے گئے ہیں ،، موضع للتا پور میں سورج مکھی کا مندر تعمیر کیا اور اس کے اخراجات کے لئے قنوج کا خراج مقرر کیا ، موضع ہا کورہ میں مکٹا سوامی مندر اور کوہ مہادیو پر مہا دیویسوامی کا مندر تعمیر کیا ،ہر ایک مندر کے قبہ کی ملمع سازی میں ایک لاکھ ہزار تولے سونا صرف کیا ،(تاریخوں میں مقدار میں فرق پایا جاتا ہے) موضع پرسپور میں ٹیلہ پر پری ہاسہ کا مندر کیشو کا مندر تعمیر کرایا ، اس کے گنبد کو بتیس لاکھ سولہ ہزار تولے چاندی سے ملمع کرایا ،اس کے نزدیک ہی موضع دیور میں مکتا کیشومندر تعمیر کیا جس کے گنبد کی ملمع کاری میں چوراسی ہزار تولے طلائی احمر صرف ہوا ،،،، دونوں مندروں میں ۸۴ ہزار بدھ کی مورتیاں پرستش کے لئے رکھی گئیں ،ان نئے منادر کے علاوہ سینکڑوں پرانے مندروں کی مرمت میں بے حساب روپیہ اور سونا چاندی صرف ہوا ،(مندر زشتی شور )واقع کوہِ شنکر اچاریہ (کوہِ سلیمان)کو دوبارہ تعمیر کروایا ، مٹن کے مندر ،ماٹنڈی شور کی مرمت کرائی ،، اس کے عہد میں موضع شیر دروں میں زمین کے نیچے سے ایک مندر بر آمد ہوا ہے جس کے دروازے پر کندہ تھا کہ یہ مندر رام چندر ، لچھمن جی نے بنوایا ہے ،،، اس راجہ نے ترکستان میں بھی ایک (مندر نرسنگ اوتار ) بنوایا تھا جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ محمود غز نوی نے اپنے دور میں اس سے منہدم کیا۔اس کے علاوہ زراعت کے فروغ کے لئے نہریں جاری کیں ، آخری عمر میں ملکی انتظامات کو سدھارنے کے لئے دوبارہ ترکستان کی طرف کوچ کیا،یہاں اور بھی شہر فتح کئے اور یہاں کسی ملک میں قیام کیا ،۔کشمیر کے امرا وزرا نے باشاہ کو عرضداشتیں لکھیں کہ اپنے ملک آکر ہمیں شرف دیدار سے سرفراز کریں ۔لیکن للتا دت جواب میں یہی لکھتا رہا کہ ابھی فتوحات سے میرا دل نہیں بھرا ،میرے دو بیٹوں ’’کولیا پیڈ اور وذادت پیڈ ‘‘ میں سے کسی ایک کو سلطنت کے تخت پر بٹھا دیں بلکہ اپنے خط میں اپنے بیٹوں کے لئے گائیڈ لائن بھی متعین کردی جو اس طرح تھی ،(۱)کشمیر کے پاسباں اس کے اونچے اونچے پہاڑ ہیں ،اس لئے اندرونی مدد کے بغیر کوئی اس سے فتح کرنے کا خیال بھی دل میں نہیں لاسکتا، اتفاق قائم کریں ،،(۲) کسانوں کے لئے ایک سال سے زیادہ کے لئے کھانے پینے کا سامان نہ چھوڑیں،کیونکہ عیش و آرام سے وہ کاہل اور قائر ہوجائیں گے (۳)ہتھیار رکھنے والوں کو کبھی ایک جگہ جمع ہونے نہ دیں (۴)قلعہ ، سڑکوں اور حرب و ضرب کے سامان سے غافل نہ ہوں (۵) عملہ اور ملازمین کو آپس میںرشتے قائم نہ کرنے دیں کیونکہ ا یک چور ہوتا ہے اور دوسرا پہردار،،،(۶) اہلکاروں و عمال کو معاشی تنگی سے دوچار نہ کریں ،،، ان گائڈ لائنز کے مشاہدے سے اس بات کا اندازہ کرنا کوئی مشکل نہیں کہ یہ راجہ سیاسی لحاظ سے کس قدر بیدار مغز اور تجربہ کا ر تھا ، یہ سطور آج بھی کسی نہ کسی طرح جمہوری سیاست کی اثاس اور بنیادیں نظر آتی ہیں اس کے بعد اس عظیم راجہ کے بارے میں تاریخ خاموش ہے ، لیکن کچھ مورخین کا خیال ہے کہ ترکستان ہی میں آخری سانسیں لیں اور کچھ مورخوں کا خیال ہے واپسی میںگلگت کے راستے آریا ٹک جس سے اب( دیوہ سوئی) کہتے ہیںپہنچا تو اپنی فوج اور سازو سامان کے ساتھ ہی برف باری میں گھر گیا اور یہیں دفن ہوا ، اگر ایسا ہے تو کس قدر خوفناک ، لر زہ خیز انجام رہا ہوگا ، یہ خیال قرین قیاس معلوم ہوتا ہے ،، اس کی حکومت چھتیس سال سات ماہ رہی ،،۷۵۱ ؁ءتک قائم رہی۔