مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط:۶ )
للتا دت مکتا پیڈ، لا پتہ ہوگیا ، برف میں اپنے لشکر سمیت دفن ہوا ، یہی قرین قیاس ہے۔ اس کے بعد اس کا بیٹا کولیا پیڈایک سال تک ،کولیا پیڈ کا بھائی راجہ وزرادت ۔سات سال تک،وزارت کا بیٹا چار سال تک اور پھر اس کا بھائی سنگرام پیڈ صرف سات روز تک بادشاہ رہ کر اپنے چھوٹے بھائی کے ہاتھوں قتل ہوکر جیا پیڈ نے کلاہِ بادشاہی اپنے سر پر ۷۹۷ ؁ء میں سجالی،بیچ کے پیڈ خاندان کے بادشاہوں میں کوئی بھی حکمران تذکرے کے قابل نہیں ، اس لئے ہم بھی کچھ لمحات کے لئے جیا پیڈ کے ساتھ رہیں گے ،، جیا پیڈ کے متعلق اس کے دادا نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ لڑکا اپنے پرکھوں کا نام روشن کرے گا اور ایک عظیم حکمران کی صورت تاریخ میں یاد کیا جائے گا ،اس پیشگوئی کے مطابق بھائی کے قتل اور تخت نشین ہونے کے فوراً بعد اطراف و اکناف کی شورشوں کو پوری طاقت اور قوت سے کچل دیا ، سارے ملک میں امن و امان قایم کیا۔ عدل و انصاف کو فروغ دیا ، تمام شعبہ جات میں سدھار کیا اور فراغت پاتے ہی تسخیر ممالک کی تیاریوں میں مصروف ہوگیا ،، تاریخ میں ہے کہ سوا تین لاکھ گھوڑ سوار ، پانچ لاکھ پیادہ فوج ، پچیس ہزار آراستہ کوتل گھوڑے ،دس ہزار مرصع و زرکار پالکیاں اور بے شمار اسباب حرب و ضرب کے ساتھ ہندوستان کی طرف اپنے اسلاف کی طرح مہم جوئی پر روانہ ہوا ۔اپنے ملک کشمیر کے تخت پر اپنی جگہ اپنے سالے کو نائب سلطنت بنا کر یہاں چھوڑا ،جس نے جیا پیڈ کی روانگی کے تھوڑی مدت بعد ہی اپنی آزادی کا اعلان کرکے بغاوت کا جھنڈا بلندکیا،،، جیا پیڈ پنجاب میں پہنچا ، معرکوں پر معرکے سر کرتا ہوا ’’ ’’پر پاک ‘‘ ( پریاگ کہتر ) بھی اس جگہ کا نام کئی تاریخوں میں درج ہے لیکن بہت ساری جگہوں کے بارے میں اب کوئی اندازہ نہیں ہوتا کہ کہاں تھیں اور کہاں سے شروع ہوکر کہاں ختم ہوجاتی تھیں ، پہنچاتو یہاں ایک کم ایک لاکھ گھوڑا، دان کرکے چاندی کی تختی پر اپنا لکھوایا اور ہدایت کی کہ جو پورے ایک لاکھ گھوڑے میرے بعد دان کردے تو اس کا نام میرے نام کی جگہ لکھا جائے ،،اپنے دادا کی طرح دریائے شور تک جا پہنچا ،اور اس طرح پھر ایک بار سارا ہندوستان فتح کیا ،، اس کے بعد اپنی تمام فوج اور لشکر قنوج میں چھوڑ کر سنیاسی کے روپ میں گوردیش (شاید بنگال کا ہی نام ہے )پہنچا وہاں کے راجہ کا نام جے اننت لکھا گیا ہے یہاں کو مار جی کے مندر میں ایک شاہی جشن ہوا کرتا تھا جس میں کملا نام کی کوئی بے نظیر اور ا س زمانے کی ٹاپ ڈانسر جو راجہ کی چہتی اور پسندیدہ رقاصہ تھی اپنے کرتب اور رقص سے شاہوں کو مسحور کیا کرتی تھی، جیا پیڈ فقریرانہ لباس میں اس جشن کو دیکھنے مندر کے احاطے میں تھا کہ کسی طرح کملا کی نگاہ اس جواں مرد پر پڑی تو پہلی ہی نظر میں دل دے بیٹھی ، کسی طرح جیا سے رابطہ کیا اور اس سے اپنے عشرت کدے میں داد عیش دینے کے لئے مدعو کیا ، لیکن ، جیا پیڈ نے کملا سے جو کہا ، وہ مکالمہ سب ہی تاریخوں میںسنسکرت زباں میںرقم ہے ، جس کا ترجمہ یہی ہوسکتا ہے کہ (جب تک سور ج اپنی منزل نہیں پاتا،شام کے سائیوں میں گم نہیں ہوتا اور اسی طرح بہادر مرد جب تک منزل نہیں پاتا عورت کے ساتھ داد عیش اس کے لئے تشفی کا سامان نہیں بنتا )یہاں پھر بھی وہ اس حسینہ کا کئی روز تک مہماں رہا ، اسی اثنا میں شہر کے اندر کسی شیر کے گھسنے کا شور بلند ہوا ، تمام لوگ اپنے اپنے گھروں میں دبک کر چھپ گئے ، راجہ نے اپنی ہمت اور بہادری کی بِنا پر باہر آکر شیر کو ڈھونڈا اور اپنے خنجر سے اس کا کام تمام کردیا ،دوسرے روز شیر کے مرنے کی خبر سب کو معلوم ہوئی اور شیر کے منہہ سے راجہ کی انگوٹھی بر آمد ہوئی جس پر راجہ جیا پیڈ کا نام درج تھا ،بات یہاں کے راجہ تک پہنچی ، تو اس نے جیا پیڈ کو عزت و احترام کے ساتھ اپنے محل لایا اور اپنی بیٹی کلیان دیوی سے جیا کی شادی کردی ،، اننت کے ملک کا بہت سارا حصہ ہاتھ سے نکل چکا تھا ، جیا نے چاروں اطراف فتوحات کے جھنڈے گاڑے اور اپنے سسرکی مملکت کو بھی وسعت بخشی ،یہاں سے پھر قنوج آیا اور جاہ جلال کے ساتھ کشمیر روانہ ہوا ، جہاں اس کے سالے نے بغاوت کرکے خود اپنی حکومت کا اعلان کیا تھا ، اس نے جب جیا کے لوٹ کر آنے کی خبر سنی تو مقابلے کے لئے سامنے آیا لیکن مارا گیا ،جیا پیڈ نے پھر ایک بار کارِ سلطنت کی طرف دھیان دیا ،اور عدل و انصاف سے حکومت شروع کی اس بار اپنا نام جیا پیڈ سے دینادت دوم رکھا ،اندر کوٹ نیا شہر بسایا اور محل کے سامنے ہی بڑے بڑے پتھروں سے دو مندر بنوائے جنہیں دوارکا سے منسوب کیا ،کہتے ہیں کہ جیا نے ایک بہت بڑا تالاب پُر کیا اور اور اس کے اوپر جے پور کے نام سے بھی ایک شہر بسایا ،ملہان پور بھی اسی راجہ کا بسایا ہوا شہر ہے اسکی بیوی کلیان دیوی نے اپنے نام سے کلیان پور اور دوسری بیوی کملا دیوی نے کملا پور اپنے ناموں پر یادگاریں تعمیر کیں ،تاریخ میں اس راجہ کے بارے میں ایک اور حیرت انگیز واقعہ درج ہے کہ ،جیاپیڈ جب پھر ایک بار ہندوستان کی سیاحت کو نکلا نیپال کا راجہ ارمڈ ۔اس کے استقبال کے لئے خود آیا لیکن منا فقوں کی وجہ کوئی ایسی بات ہوئی دونوں میں ٹھن گئی ،ارمڈی بھاگ نکلا اور جیا پیڈ اس کے تعاقب میں روانہ ہوا ،لیکن راستوں سے ناواقفیت کی بنا پروہ کسی سیلاب میں پھنسا اور اس کی ساری فوج بہہ گئی اور خود کسی اونچے درخت پر چڑھ کر جان بچائی لیکن اس خبر سے ارمڈ واپس آیا اور جیا پیڈ کو گرفتار کرکے جزیرہ کال گنڈ میں قید کردیا ،، ادھر کشمیر سے جیا کے وزیر نے ایک لشکر جرار بہم کر کے اس قید خان کے کنارے پر پڑاو ڈال دیا اور ارمڈ کو کسی طرح یقین دلایا کہ وہ جیا کا دشمن ہے اور چاہتا ہے کہ مملکت کشمیر پر اس کا قبضہ ہو ، لیکن یہ اس طرح سے بہت ہی آسان ہوگا کہ وہ جیا پیڈ سے کشمیر کے وزرا اور امرا کے لئے ایک خط حاصل کرے جس میں ارمڈ کے لئے فرمانبرداری کی ہدایت ہو ، ارمڈ نے فوراً ہی وزیر دیو شرما سے کہا کہ آپ سے بہتر کون ہوسکتا ہے اس لئے آپ ہی قید خانے میں جاکر یہ خط حاصل کریں ، اس طرح وزیر دیو شرما اپنے بادشاہ جیا پیڈ تک پہنچنے میں کامیاب ہوا ، یہا ں وزیر نے جیا سے سارا ماجرا بیان کر کے کہا کہ کہ اگر وہ د ریا کے کنارے تک تیر کر پہنچنے میں کامیاب ہوجائے تو وہ اپنے لشکر کو منتظر پائے گا ، جیا نے کہا کہ میں اس دریا کو بغیر کسی سہارے کے کیسے پار کردوں ، دیو شرما نے جیا سے کہا کہ کچھ دیر کے لئے باہر جائے اور جب وہ اندر آئے گا تو ایک طرح کی چھوٹی سی کشتی پائے گا جس پر وہ تیر کر دریا پار کرسکتا ہے ، یہاں مورخوں نے دو طرح کی باتیں لکھی ہیں ، کچھ مورخوں نے لکھا ہے کہ وزیر شرما دت نے اپنی خال کھینچ کر اس میں ہوا بھردی اور کچھ نے لکھا ہے کہ وزیر دیو شرما حبس دم کا ماہر تھا اور اس نے اپنے جسم میں اتنی ہوا بھر دی کی دریا پر تیر سکے ، ،دوسرا خیال کئی لحاظ سے قابل تسلیم ہے، کیونکہ سائنسی لحاظ سے یہ ماننے میں کوئی قباحت نہیں ۔ بادشاہ اندر آیا تو وزیر دیو شرما کی اس قربانی اور اپنی جان قربان کرنے کے جذبے سے نہ صرف متاثر ہوا بلکہ اس سے وزیر کی موت کابھی بہت دکھ ہوا ، بہر حال کھڑکی سے دریا میں کود کر اپنی فوج تک پہنچنے میں کامیاب ہوا ، گھمسان کی جنگ ہوئی ، ارمڈ کو گرفتار کیا ،شہروں کے شہر ویران کئے اور فاتح بن کر وارد کشمیر ہوا لیکن مرتے دم تک اپنے وزیر کے لئے اداس رہا ،،، جامع التواریخ،کا مصنف ایک اور واقعہ اس طرح لکھتا ہے کہ کسی طرح مندر جاتے ہوئے ایک برہمن زادے کی نگاہ جیا پیڈ کی کسی رانی پر پڑی تو اس کے عشق میں ایسا گرفتار ہوا کہ قریب ا لمرگ ہوا، آخر ماں کو اپنی بیماری سے آگاہ کیا اور ماں نے تدبیریں شروع کیں ، کسی طرح شاہی محل میں اسی رانی کی کنیز کا درجہ حاصل کیا ، اور کچھ ہی دنوں میں اس کی چہتی کنیز بن گئی ، اسی دوران ایک دن کنیز نے رو روکر رانی سے بیٹے کی بیماری کاحال بیان کرتے ہوئے کہا کہ کسی شخص کی زندگی بچانا کوئی پاپ نہیں بلکہ پُنیہ ہے ، اگر وہ چاہئے تو بس ایک رات اس کے ساتھ گزارنے سے ہی وہ برہمن زادہ نئی زندگی پاسکتا ہے ، رانی نے اپنے گورو کو بلاکر یہ پوچھا کہ اگر کسی کی جان بچانے کے لئے کوئی بڑا پاپ کرنا پڑے تو اس کے بارے میں اس کا کیا خیال ہے ، گورو نے یوں ہی تفصیلات معلوم کئے بغیر ہی کہا کہ جان بچانا پنیہ ہے کوئی پاپ نہیں اور اگر اس میں کوئی پاپ بھی ہوجائے تو نذر ونیاز یا ہون کرکے دھل سکتا ہے ،، رانی نے اس برہمن زادے کے ساتھ بن سنور کر ایک رات گذاردی، دوسرے روز رانی نے گورو یا پروہت کو بلاکر یہ سارا ماجرا سنایا تو پروہت نے کہا کہ نہیں یہ ایسا پاپ نہیں جس سے۔ ہون، سے مکتی مل سکے، اس کا واحد طریقہ جسم ِ خاکی کو آگ میں جھونکنے اور جلانے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ،،رانی نے اپنے آنگن میں لکڑیاں جمع کرنے اور اس میں آگ لگانے کا حکم دے کر خود بھی اس آگ میں کود گئی ،،،جیاپیڈ اپنی مہم سے واپس آیا تو صرف اتنا سنا کہ اس کی رانی نے اپنے آپ کو آگ کی نذر کردیا ،، بڑی مدت کے بعد ایک رات بادشاہ شب گردی کے لئے محل سے اکیلا نکلا تو کہیں کسی زرگر کی دکان پر رانی اور برہمن زادے کے عشق کی داستاں کوئی منظوم بیان کر رہا تھا ، صبح راجہ نے دربار میں اس ٹولی کو بلوایا اور ایک بار پھر انہیں یہی کہانی اسی طرح دہرانے کی ہدایت کی ، تصدیق ہوئی کہ یہی ہوا ہے اس کے بعد اس نیک دل اور انصاف پرور حکمران کا ذہنی توازن اس لحاظ سے بگڑ گیا۔ انتقام کی آگ اس کے اندر دہکنے لگی اور اپنے پروہت ، برہمن زادے کے ساتھ ساتھ سینکڑوں امرا وزرا کو قتل کروایا ،محل کے جتنے بھی ملازم تھے سبوں کے سر قلم کروائے ،، برہمنوں کا قتل عام کروایا ، اس دور میں برہمن کشمیر سے جان بچاکر دور دور تک بھاگ نکلے ، جوتشی ، پنڈت، وید خواں سب پر یکساں ظلم و ستم ڈھائے ،تمام شاستروں اور کتابوں کا ایک بہت بڑا ڈھیر جمع کرکے اس پر مٹی ڈھلوا کر ایک بندھ تعمیر کیا جس سے آج تک (مو ستھو )) کے نام سے جانا جاتا ہے جو تولہ مولہ کے راستے میں واقعہ ہے ۔چار سال تک اسی طرز طریق سے اپنے تابناک ماضی کو اندھیروں میں ڈبویا ، ایک ظالم اور جابر حکمران کی شبیہہ بنادی ، اور ایک دن خیمے کا ایک ستون اس کے پاوں پر گر پڑا اور زخمی ہوکر اسی زخم کی تکلیف سے مرگیا ، اس کا دورِ حکومت ۳۴ سال رہا جس میں ۳۰ سال کا دور شاندار اور جاندار تھا اور باقی آخری چار سال ذہنی توازن کے بگاڈ میں ہی گذار کراپنا دور اختتام تک پہنچایا۔