مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط:۸ )
تاریخ بہت سے لوگوں کے لئے بڑی دلچسپ اور حیران کن ثابت ہوتی ہے ، کیونکہ اکثر و بیشتر مدتوں بعد ممالک کو بہتر اور نیک دل راجہ نصیب ہوتے ہیں جو اپنی محنت اور مسلسل جدوجہد سے اپنے ممالک یا ریاستوں میں امن و امان کے ساتھ ساتھ ساتھ عدل و انصاف قائم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں لیکن عجیب طرح کی بدقسمتی سے بار بار تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہر نیک دل ، عادل ،انصاف پسند حکمران کی مدت کا ر ایک تو کم ہوتی ہے دوسری بات یہ کہ اس کی آنکھیں بند ہوتے ہی کئی رذیل۔ پاکھنڈی۔ پست ہمت ، شراب خور ،زناکار اور انصاف و عدل سے بے نیاز بادشاہ کسی نہ کسی طرح (اور ان میں زیادہ تر قتل ہی ہیں ) آتے رہے ہیں جن کی وجہ سے بڑی بڑی سلطنتیں ایک چھوٹی سی مدت میں زمین بوس ہوجاتی ہیں ، یہی حال ہماری تاریخ کا ہے ، اونتی ورما کے بعد اس کے بیٹے شنکر ورما نے بھی پہلے اپنے باپ کی طرح سے ہی اپنی حکمرانی کی شروعات ضرور کی لیکن سندھ ، خراسان ، کابل ،غزنی پر اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڈھتے ہی واپس کشمیر پہنچ کر گھمنڈ اور غرور کا تاج اپنے سر پر آراستہ کیا ، ،اور اس کے بعد قمار بازی ، زناکاری ،شرا ب نوشی کی لت نے اس سے تمام ملکی امو رات سے غافل کرکے ایک اچھی خاصی سلطنت اور مستحکم حکومت کو ریت کے ڈھیروں میں تبدیل کیا ، اس کا تذکرہ صرف اس لئے کر رہا ہوں کہ اس نے اپنے دارالخلافہ ’’شنکرا پٹنا ‘‘ جس سے آجکل’’ پٹن ‘‘کے نام سے جانا جاتا ہے میں دو بڑے معروف مندر بنوائے ،یہ قصبہ سرینگر سوپور نیشنل ہائی وے پر سرینگر سے ۲۷ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اسی قصبے کے بیچ سے سڑک گذرتی ہے ، اس کا تذکرہ اس لئے بھی ضروری تھا کہ ان دونوں مندروں کے کھنڈرات آج بھی آتے جاتے سبھی سفر کرنے والوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں یہ دونوں مندر پٹن میں آج بھی اپنا حال اپنی خاموش زباں سے دہرا رہے ہیں ، ایک اہم بات یہ ہے کہ کشمیری اور باہر کے لوگ بھی ، ان مندروں ، کو پانڈوں کے مندر سے منسوب کرتے ہیں جب کہ ایسا نہیں ہے ،ہمارے بچپن میں بھی ہمارے اسلاف ہمیں یہی بتاتے رہے ہیں کہ یہ پانڈووں کے بنائے ہوئے مندر ہیں ، اصل میں یہ شنکر ورما ہی کے زمانے میں بنے ہیں اور شنکر ورما نے لگ بھگ (۹۰۰ ؁ء سے ۹۱۹؁ء تک ۱۹ برس تک اپنی قوم کو مسلسل عذ اب میں مبتلا رکھا، جب اپنی عیاشی اور امیروں وزیروں کی لوٹ کھسوٹ سے سارے خزانے خالی ہوئے تو آس پا س کے ممالک میں مال دولت جمع کرنے کی خاطر نکل پڑا ، دریائے سندھ (اٹک ) کے کناروں تک ظلم و ستم اور لوٹ مار کا بازار گرم کیا واپسی پر اوڑی پہنچا تو بھائیوں ہی کی سازش کا شکار ہوکر کسی تیر کا شکار ہوا ، ،لاش دارالسلطنت پہنچائی گئی اور ولی عہد سلطنت گوپال ورما نے اعزاز و اکرام کے ساتھ لاش جلائی اور اس کے ساتھ ہی اس کی دو رانیاں بھی ستی ہوگئیں ، ایک تیسری رانی نے کسی طرح اپنے آپ کو بچالیا جس کا نام سوگندا تھا ، ،،، گوپال ورما نے سلطنت کا نظام سدھارنے کی زبردست کوشش کی ،لیکن امیروں وزیروں کو خود سری ، لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کا چسکہ پہلے ہی لگ چکا تھا اس لئے یہ کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں ،ادھر گوپال کی ماں سوگندا رانی، وزیر اور خزانچی کے ساتھ داد عیش دینے لگی ، جس سے گوپال ورما کا دل بجھ کر رہ گیا اور سدھار کاجذبہ اور حوصلہ بھی ٹوٹ گیا ،، صرف دوسال کی حکمرانی کے بعد دنیا کے جنجال سے چھوٹ گیا ،اس کے بعد اس کا بھائی سنگت ورما تخت نشین ہوا جس نے ایک نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے صرف دس روز تک تاج شاہی پہنا اور خود بھی پرلوک سدھار گیا، خود ہی طبعی موت مرا تھا یا نہیں اس کے بارے میں تاریخ خاموش ہے لیکن لگتا ہے جیسے حالات اسوقت رہے ہیں یہ کوئی بڑی بات نہیں کہ کسی اندر کی سازش سے ہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہو ، اس کے بعد سوگندا رانی خود شاہی میدان خالی پاکر میدان میں ڈٹ گئی اور اور تاج و تخت سنبھال لیا ، سوگندا آج کی ٹرم میں خاصی سیاسی ذہن کی مالک تھی جہاں تک میں سمجھا ہوں ، اور یہ عورت کئی لحاظ سے ایک اچھی حکمراں ثابت ہوسکتی تھی لیکن اس کی بد قسمتی تھی کہ وہ اپنے وزیر اور خزانچی کے ساتھ شنکر ورما کی موت کے بعد ہی منسلک ہوچکی تھی ، کیا ایسا کوئی اور شخص بھی تھا یہ تاریخ میں نہیں ہے لیکن اس جیسی عورت کے لئے یہ بھی کوئی بڑی بات نہیں ،، رانی سوگندا نے سوگندا پور ،اپنے نام سے اور اپنے بیٹے گوپال کے نام پر گوپال بٹ تعمیر کرائے ،، چونکہ شنکر ورما نے جو کانٹوں کی سیج پہلے ہی تیار کی تھی اس پر کسی بادشاہ کا ٹکنا محال ہی تھا ، سازشیں چلتی رہیں ،عوام بھی تنگ آچکے تھے اور آخر۹۲۳؁ء میں عوامی بغاوت کے ڈر سے سلطنت وزیر شیر مار کے بیٹے نر زتہ ورما عرف پنگوکو حکومت سونپ دی ، تاریخی طور یہ بات اہم ہے کہ اس دور میں تانتریں یعنی تانترے قبیلہ کے لوگ بہت زیادہ طاقت ور اور با اثر تھے ،نائک قبیلہ بھی بڑا مانا جاتا تھا اور ان دونوں میں آپس میں میں بھی نہیں بنتی تھی۔۔کئی ایسے راجے آتے اور جاتے رہے جن کا تذکرہ میرے لئے اس لئے ضروری نہیں کہ میں تاریخ رقم نہیں کر رہا ہوں اور تاریخ کے طالب علم ان سب راجگاں کا حال ہماری مختلف تاریخوں سے پڑھ سکتے ہیں ، سوگندا رانی کے بعد مجھے نہیں لگتا کہ عوام کے لئے کبھی سکھ اور چین کے لمحات میسر رہے تا آنکہ ایک نئے نام اور نئے خاندان کی بادشاہت شروع ہوتی ہے ،اور یہ راجہ یوشسکر تھا جس نے ۱۰ سال تین ماہ تک ۹۵۶؁ء سے ۹۶۶؁ء تک راج کیا ، اس راجہ کے حالات ہمیں تاریخ میں تفصیل سے نہیں ملتے بس اس قدر پتہ چلتا ہے کہ یہ راجہ پرور سین کی اولاد میں سے تھا جس کے بارے میں آپ پڑھ چکے ہیں ،، ۲۰۴۲ ق م میں راجہ لو نے اس خاندان کی بنیاد رکھی تھی حکمرانی کے لحاظ سے اس خاندان نے سب سے زیادہ طویل عرصے تک کشمیر میں حکومت کی ہے ،مجموعی طور پر یہ مدت ۱۷۹۹ سال پر محیط ہے ، بہرحال ایسا تاریخ دانوں کا گماں ہے کہ یہ راجہ اسی خاندان سے تھا اور اس بار راجہ یوشسکر نے ٹھیک ۹سال ۹ مہینے تک حکومت کی ،کہا جاتا ہے کہ یہ راجہ برہمنوں کی مدد سے تخت پر بیٹھا ، ذہانت کا یہ عالم تھا کہ دوسرے ہی روز بڑی سنجیدگی اور نرم لہجے میں ان سب برہمنوں اور مددگاروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ لوگ مجھے ایک طاقت ور حکمراں اور اچھے منتظم کے طور دیکھنا چاہتے ہیں تو ، میرے دربار میں بلا ضرورت آنے کی کوشش نہ کریں ، ، اور پھر انہیں سمجھایا کہ اگر وہ یہاں بیٹھ کر ملکی معاملات میں مداخلت کرتے رہے تو میں سلطنت کو استحکام نہیں دے سکتا ، اس لئے ان سب کو انعام و اکرام دے کر خوشی سے الوداع کہا اور امور مملکت میں مصروف ہوا ،، عوام کے لئے یہ ایک پیغام بنا کہ بادشاہ کسی کو خوش کرنے کی عادت سے محروم ہیں ، بلکہ اس کے ساتھ ہی خود سر امیروں وزیروں کو بھی لگام دی یا اپنے دربار سے خارج کیا ،، اس کے بعد یوشسکر نے سابقہ بد نظمی ، اور افراتفری کے عالم پر قابو پانے کے لئے نہایت سخت قوانین بنائے اور یہ بھی دیکھا کہ ان پر سختی سے عمل ہوتا ہے کہ نہیں ،قلیل مدت میں ہی تمام رعایا پر اپنا سکہ جمایا ، ، چوروں اور رہزنوں کو وہ سزائیں دیں کہ سارے ملک کے چور یاتو سدھر گئے یا ملک چھوڑ کر کہیں اور چلے گئے ، تاریخی طور پر ثابت ہے کہ لوگ اپنے گھروں ، اپنی دکانوں اور کاروباری مراکز کے دروازے کھلے چھوڑ کر بھی بڑے اطمینان اور سکون سے سوجاتے تھے ، ، اس کے دور میں کرپشن سے اہلکاروں نے توبہ کی ، جھوٹے حکیم ، سادھو بابا، پنڈت پروہت ، پجاری اور حیلہ گر تمام اپنی دکانوں کو بند کرکے ملک کے گمنام گوشوں میں چھپ گئے ،اور حق پرستوں اور گوشہ نشین افراد کے اہل خانہ کو وظیفے جاری کر دئے ،،اچھے برہمنوں اور مذہبی پروہتوں کے لئے وظایف مقرر کئے ،، فسق و فجور ، فحاشی اور زنا کاری سے معاشرے کو صاف کیا ،اور ایسا کہا جاتا ہے کہ یہ راجہ ان تمام اوصاف کا خود پیکر تھا بلکہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا تھا اور اسی لئے کسی سے جھوٹ گوارا بھی نہیں تھا ،اس عادل بادشاہ نے تعلیمی مراکز قائم کئے ، رفاہ عامہ کے کام کئے سڑکیں تعمیر کیں ، شفا خانے بنوائے غرض مختصر مدت میں اپنی رعایا کے کے لئے زبردست اور قابل ذکر کام کئے ، اس کے علاوہ ایک اچھے اور بہتر انسان کے خصائل کیا ہوتے ہیں ؟ کیا ’’علامہ ان کے لئے بھی یہی کہتے کہ قلب او مومن است ‘‘ بہر حال اس پائے کے بادشاہ سب ادواروں میں بہت کم گذرے ہیں وہ ، ہندو دور رہا ہوکہ مسلم دور ،، لیکن موت نے اس اچھے راجہ کو زیادہ فرصت نہیں دی اور صرف ۹سال نو ماہ کی حکمرانی کے بعد کسی مرض میں مبتلا ہوگیا ، ابھی بستر مرگ پر ہی تھا کہ چچیرے بھائی کو حکومت سونپی لیکن اس ظالم شخص نے کئی دنوں کے اندر ہی اپنا اصل روپ دکھانا شروع کیا ، لوگ بیمار راجہ کے پاس فریاد لے کر گئے تو فوراً ہی اس سے معزول کرکے اپنے کم سن بیٹے سنگرام دیو کو تخت پر بٹھایا ،ایسا لگتا ہے کہ یہ راجہ یقینی طور پر کسی اونچے اور بہتر راج گھرانے میں پلا بڑھا تھا ۔نہیں تو ایک مختصر سی مدت میں ایک بے حال اور نظم و ضبط سے عاری سلطنت کو صرف ایک دو برس کے بعد ایک مثالی رام راجیہ سلطنت میں ڈھالنا آسان نہیں رہا ہوگا ،جو اس نیک دل راجہ نے کر دکھایا لیکن تاریخ کا طالب علم حیران رہ جاتا ہے کہ اس نے جو تعمیری کام کئے ، شہر یا گاؤں بسائے تھے ا ن کا ذکر ہمیں کہیں نہیں ملتا اس کی دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ زبردست راج تاج اور کاموں سے فراغت ہی نہیں ملی کہ شہر اور قصبوں کی تعمیر کرتے کیونکہ اس کی زندگی کا سفر ہی بہت مختصر رہا ،،، اور بڑی جلدی میں پرلوک سدھار گئے ۔