مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط:۹ )

اس کے بعد ۹۶۸ء تک کو ئی قابل ذکر راجہ مجھے نظر نہیں آتا ۔، اور جس راجہ کے حال احوال اب آپ جاننے جارہے ہیں،بظاہر یہ اتنے اہم نہیں ، لیکن یہ راجہ مجھے ساری تاریخ میں نہ صرف دلچسپ نظر آیا بلکہ اس کی حیثیت بھانڈوں اور مسخروں سے زیادہ نہیں لیکن بات آگے آئے گی اس کی ایک رانی جس کا نام دیدا رانی پڑ قابل ذکر بھی ہے اور اس سے آپ لوگوں کی پہچان بہت ضروری بھی ہے کہ آپ اس سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس صدی میں جہاں جمہوریت نے بہت سی دہشت پسند عورتوں کو تخت و تاج پر بٹھا یا ہے ان سے صدیوں پہلے بھی اس طرح کوئی دہشت پسند اور سفاک عورت رہی ہے جس نے تخت کی خاطر ،،، یہ آپ آگے جانیں گے ،، ،اس لحاظ سے دید رانی ہماری تاریخ میں ایک نیا موڑ تھا وہ اس نقطہ نگاہ سے کہ اب تک کی تاریخ تک کوئی عورت اس طرح پاور یا بادشاہت حاصل نہیں کر پائی تھی دوسری یہ کہ اس رانی نے بہت ساری انسانی لاشوں کو اپنے زینے بناکر تخت تک کا سفر کیا جس میں اس کے اپنے معصوم پوتوں کی لاشیں تھیں جنہیں خود اس رانی نے حکمرانی کی ہوس میں موت کی نیند سلادیا ،، ، ۹۶۸ ؁ ء میں راجہ کھیمہ گپت تخت شاہی پر بیٹھا،، بیٹھتے ہی اس بھانڈ کے اوصاف ظاہر ہونے لگے ، اس کا پسندیدہ لباس عورتوں جیسا ہی تھا ، یہ عورتوں جیسے ہی زیو رات پہننے کا شوقین بھی تھا اور بالکل رانیوں کے لباس میں دربار لگانا اس اس کا محبوب مشغلہ تھا ، اس لئے ظاہر ہے کہ اس کے دوست ، امرا اور وزرا میںبھی اسی قبیل کے لوگ شامل ہوئے جن میں ہیجڑوں کی تعداد بھی بہت تھی ،قوال ، رقاص ، گانے بجانے والے اور والیاں اس کی مصاحبت میں زور پکڑنے لگے ۔ اس کی محفل ہر وقت عورتوں اور ہیجڑوں سے پُر رہتی تھی ، جن کا مقصد ہی ہنسی مذاق اور گھٹیا درجے کا بازار سجاکر بادشاہ کی خوشنودی تھا، اتنا ہی نہیں بلکہ وہ اپنے دوستوں اور مصا حبوں کو بھی اسی ہیبت کذائی میں دیکھنے کاشیدائی تھاجس کی وجہ سے دانشور ، باغیرت ، اور شریف النفس لوگ اس سے دور رہنے لگے ، ، بھہمہ شاہ کی بیٹی دیدا رانی اس کی چہتی بیوی تھی اور بادشاہ سلامت زیادہ وقت اس کی بغل میں ہی بیٹھ کر گذارا کرتا تھا ، اس لئے دیدا رانی آہستہ آہستہ بہت طاقت ور ہوئی اور اکثر و بیشتر اسی کے احکامات کو حتمی حیثیت حاصل ہوتی گئی ۔ یہ راجہ گھوڑے پر بیٹھ کر بلیوں کا شکار کیا کرتا تھا اور ایک روز بارہمولہ کے کسی جنگل میں شکار کے دوران اس کے سامنے اچانک گیدڈ آگیا ، گیدڑ کو سامنے دیکھ کر ایسا خوفزدہ ہوا کہ دم ہی نکل گیا ، ہندو مورخوں نے لکھا ہے کہ اس گیدڑ کی آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے ،، زمانہ توہمات کا تھا اس لئے اتنی سی بات رہی ہوگی کہ بادشاہ ناگاہ گیدڈ کو سامنے کھڑا پاکر اس قدر خوفزدہ ہوا ہوگا کہ دل کی دھڑکن ہی بند ہوئی جس سے آجکل ہارٹ اٹیک کہتے ہیں ، اس نے آٹھ سال چھ مہینے اور کچھ دن راج کیا ، ، اس کا بیٹا ابھیو منیو، تخت کا وارث ابھی نابالغ ہی تھا ، اس لئے جانشین کے نام پر اس کی ماں دیدا رانی ہی حکمراں رہی ، کئی طرح کی بغاوتیں بھی ہوئیں ، جنہیں دیدارانی فرد کرنے میں کامیاب رہی ، ظاہر ہے کہ سوگندا رانی کی طرح اس میں سیاست کی اچھی سوجھ بوجھ رہی ہوگی اور شطرنج کے مہروں کو چلانے میں بھی ماہر رہی ہوگی ، بلکہ آگے بڑھ کر یہ دیدرانی زبردست سفاک اور بے رحم بھی ثابت ہوئی جس نے اپنے بیٹے کے جگر گوشوں کو بھی ایک ایک کرکے موت کی نیند سلادیا ،،اپنے وزیر پھلکن سے عاجز تھی ،کئی معرکے ہوئے ، اور آخر پہ بارہمولہ میں میدان جنگ سجا تو دیدارانی نے وزیر پھلکن سے جنگ کے شروع ہونے سے پہلے کہا ، کہ وہ ایک عورت کے خلاف لڑ کر کونسی مردانگی دکھانا چاہتاہے ، ؟اگر میرے شوہر زندہ ہوتے تو اس سے مقابلے کی ہمت ہی نہیں پڑتی ،، اس ایک جملے نے وہ کام کردیا جو ہزاروں تلواریں نہیں کر سکتی تھیں ، کہ وزیر پھلکن شرم سے خود ہی فوج سمیت جنگ کے بغیر ہی ہٹ گیا ، تاریخ میں ہے کہ ، اس کے بعد کشمیرکو ہی چھوڑ کر کہیںاور جا بسا ،، راجہ ابھیمینیو۱۳سال کچھ مہینوں کے بعد ہی اس دنیائے فانی سے رخصت ہوا ، ابھیمینو کے بعد دیدا رانی نے اس کے بیٹے نندی کو راجہ بنایا ، کسی وزیر کو ناظم بھی مقرر کیا ۔، لیکن یہ دکھاوا ہی تھا ا صل حکمراں دیدا رانی ہی تھی ، نندی گپت بالغ ہوا ۔ ملکی امورات میں دخل دینا شروع کیا تو یہ بات دیدا رانی کو کھٹکنے لگی، وہ ہر معاملے میں اپنے آپ کو ایک مکمل خود مختار حکمران دیکھنے کی ہی متمنی تھی ، اور کوئی بھی مداخلت اس کے اندر حسد کی آگ بھڑ کانے کے لئے کافی ثابت ہوجاتی تھی ،،دراصل انسانی طبیعت کو جب کسی چیز کی لت پڑتی ہے تو پھر یہ نہیں چھوٹتی ، میرے خیال میں یہ ڈرگ ایڈکشن ہی طرح کی چیز ہے جو سوچنے سمجھنے کی قوتوں کو ہی ماوف کردیتی ہے کیونکہ ایک عرصے سے پردے کے پیچھے اصل حکمران وہی تھی اس لئے مداخلت اس کی برداشت سے باہر کی چیز یا خطرے کی گھنٹی تھی ، ۔ جب یہ چسکہ لگ جاتا ہے تو آخری سانس تک بھی پیچھا نہیں چھوڑتا ،اس لئے ایک روز چپ کے سے ایک سال ایک ماہ اور نو دن کے بعد اپنے پوتے کو زہر دے کر آخری نیند سلادیا ،،، ۹۹۱؁ء میں دیدا رانی نے اپنے دوسرے پوتے تربھون گپت کو تخت پر بٹھایا لیکن دو سال کے بعد ہی دیدا رانی نے اپنے اس پوتے کو بھی اپنی راہ کا نٹا سمجھ کر قتل کروایا ،،، اس کے بعد دیدارانی نے تربھون کے بیٹے بھیمہ کو کو تخت پر بٹھایا ، یہ بھی ابھی نابالغ ہی تھا اس لئے خود ہی تمام ملکی امورات دیکھتی رہی اور تمام سیاہ و سفید کی مالک بنی رہی ،اس دوران دیدا رانی نے اچھے اور مخلص صلاح کاروں سے بھی خوف کھایا اور انہیں بھی ٹھکانے لگوادیا ،، وزیر پھلکن بھی دارِ فانی سے کوچ کر گیا اور دیدا رانی مکمل طور پر تخت پر بیٹھ کر تمام وسوسوں سے بری ہوکر حکومت کرنے لگی ،، اب ایک اہم بات جو آپ کے لئے اور سب کشمیریوں کے لئے بھی دلچسپی کی حامل ہے وہ یہ کہ اسی دوران پونچھ سے کوئی ایلچی یا شکار ی واردِ کشمیر ہوا جس کا نام تاریخوں میں (تونگ )لکھا ہے اس کے علاوہ اس شخص کے بارے میں کئی تفصیل نہیں ۔ قرین قیاس ہے کہ تونگ ایلچی ہی رہا ہوگا کیونکہ اس کی رسائی اس کے بغیر دربار تک ممکن ہی نہیں تھی ، ’’تونگ ‘‘کو دیکھتے ہی دیدرانی کا دل اس پر آگیا ، ،بغیر کسی مشکل سے تونگ کواپنے دربار میں جگہ دی اور خاص منصب پر براجمان کیا ، اب تونگ ہی کے سارے احکامات شاہی احکامات تسلیم کئے جانے لگے ،، کشمیر میں ابھی تک ایک ضرب المثل رائج ہے ۔ ، وہ یہ کہ جب کسی شخص کے بارے میں یہ کہنا ہو کہ وہ مکار ہے تو ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ (تُنگ ) ہے اور جب کسی شخص کی عیاری اور مکاری کو ڈیفائن کرنا ہو یا تشبیہہ سے واضح کرنا ہو تو کہتے ہیں کہ (اس نے (تُنگ )کی ہے ، در اصل دیدارانی سے تعلقات کے بعد اپنی چالاکی اور عیاری سے سب کو پیچھے چھوڑا تھا اور اسی عیاری سے ایسے ایسے کام کئے کہ سب درباری ڈرنے لگے کہ کہیں تونگ کسی طرح کی عیاری سے انہیں موردِ الزام ٹھہرا کر انہیں ذلیل و خوار کرنے کے ساماں کردے۔ اسی لئے آج تک اس ( تنگ) لفظ کو تاریخ کے صفحوں سے ہم نے فوک زبان میں جگہ دی ہے ۔ (تُنگ )کی عیاری ، چالاکی اور فریب نے دیدرانی کی حکمرانی میں کئی طرح سے اضافہ کیا کیونکہ دیدرانی نے جہاں اپنے پوتوں کو ایک کے بعد ایک کو موت کی نیند سلادیا وہاں اپنے دشمنوں سے نپٹنے میں وہ کس قدر سنگدل ہوسکتی تھی اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ، سوگندا میں اس قدر بے رحمی نہیں تھی ، دوسری بات یہ کہ ہماری تاریخ میں یہ پہلی عورت ہے جس نے پردے کے پیچھے اور پردہ اٹھاکر پورے ۱۸ سال چار ماہ۸ دن حکومت کی ہے ، اس کا چہتا تونگ گوجر تھا ، رانا بن گیا اور رانا کے بعد راجہ بن گیا ، ، کئی بار دیدرانی کے خلاف سازشیں بھی ہوئی لیکن یہ سفاک عورت اس معاملے میں بیدار مغز تھی اور سازشوں کی بو سونگھتے ہی اس کا تدارک بڑے بے رحمانہ انداز میں کرتی ،، پوری خود مختاری کے بعد دیدا رانی نے اپنی یادگاریں قائم کرنے کی طرف توجہ کی ۔ اس سلسلے میں اس نے ۶۲ مندر بنالئے ہیں لیکن کوئی تفصیل نہیں ،اپنے شوہر کی یاد میں کنگن پور آباد کیا جس سے آج کل ( کنگن )کہا جاتا ہے اور اسی طرح اپنے بیٹے کے نام پر ابہی مینیو پور بسادیا جس سے آجکل (بمن ) کہتے ہیں جو آج کل سرینگر کا ہی ایک علاقہ ہے ،، اپنے باپ کے نام پر بھیمہ بھٹ یادگار چھوڑی ، اپنے نام پر( دید مر )آباد کیا جو سرینگر ڈاون ٹاون یا شہر خاص میں ہی آج تک اسی نام سے جانا جاتا ہے ۔ دیدہ مر کا مطلب ہی دیدا کا گھر ہوتا ہے جس طرح سے زینہ مر زین العابدین کا گھر یا محل رہا ہے ، اس کا مطلب یہی ہے کہ دیدارانی نے آخر میں اسی دیدہ مر میں رہائش کی ہوگی ، اس رانی کے آخری دور میں ۱۰۱۵ ؁ء میں سلطان محمود غزنوی نے کشمیر پر بھی دھاوا بولا ہے لیکن اس کی فوج راستہ بھول گئی اور ادھر جاڈا بھی آن پہنچا ،برف باری میں غزنوی کے سپاہی کثیر تعداد میں ہلاک ہوئے سلطان خود شدید برف باری سے بمشکل اپنی جان بچانے میں کامیاب رہا اور ایک لٹا پٹا کاروں لیکر ہی واپس ہوسکا ،، اب دید رانی کو بھی اپنی عمر اور موت کا خیال ہوا ، پیچھے دیکھا تو یہ پایا کہ اس نے اپنے بیٹوں میں سے کسی کی اولاد کو زندہ چھوڑا ہی نہیں تھا اس لئے اپنے بھتیجے سنگرام دیو کو ولی عہد بناکر اس دنیا سے کوچ کر گئی ، دید ارانی نے پورے اٹھارہ سال ۴ماہ اور آٹھ دن حکمرانی کی اور اس دوران اپنے کئی پوتوں کے علاوہ بہت سارے قابل وزیروں کو بھی چالاکیوں اور سازشوں سے موت کے گھاٹ اتارا، ہماری تاریخ میں دیدرانی کے بعد شاید تخت پر عورتوں میں سے ہمارے دور میں صرف محبوبہ مفتی کو ڈھائی سال کے لئے بیٹھنے کا موقع ضرور ملا ہے لیکن یہ بی جے پی کی شراکت داری میں ہی تھی اس لئے شاید اس سے تخت شاہی پر خودمختار حکمرانی کے زمرے میں نہیں ڈالا جاسکتا ہے ،،،،اب آپ یہ سوچیں گے کہ یہ کیا بات ، کہاں شاہی دربار ، بادشاہتیں اور کہاں یہ جمہوری طرز حکومت ،، تو جناب یہ جمہوری طرز حکومت توپچھلی ماضی کی شاہی حکومتوں سے بھی گئی گذری ہیں ،دیواستبداد جمہوری قبا میں پائے کوب ،،، تو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری (اقبال)