مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

(قسط:۱۱ )

ہرشد کے قتل کے بعد راجہ اوسچل ۱۱۱۴؁ء میں تخت نشین ہوا ،اس کا ایک اور بھائی سوسل بھی تھا ،،دونوں بھائی کچھ عرصہ تک اچھی خاصی حکمرانی کرتے رہے اور بہت سارے کام عوام کی فلاح و بہبود کے بھی انجام دئے ،لیکن پھر آگے بڑھ کر اپنے مصاحبوں کی وجہ سے ایک دوسرے کے دشمن ہوئے ،،راجہ اوسچل کا تذکرہ اس لئے ضروری ہوا کہ اس راجہ میں دو ایسی خصو صیات تھیں جنہوں نے آخری دور میں اس بادشاہ کو مصائب سے دوچار کردیا ،، یہ راجہ بد زباں تھا، کسی بھی شخص۔ خاص و عام کے ساتھ شائستگی اور تمیز کے ساتھ بات کرنے کا عادی نہیں تھا ،بلکہ بد کلامی ،اور بد زبانی اس کا شیواہ تھا اور دوسری اہم بات یہ کہ یہ راجہ( لڑاؤ )اور راج کرو کا عملی نمونہ تھا، اس سے آجکل بہتر پولٹیشن قرار دیا جاتا ہے اور یہ بالکل وہی طرز انداز ہے جس کے لئے انگریز حکومتیں مشہور ہیں،گویا یہ ٹیکٹکس پہلے بھی راجوں کی گھٹی میں رہے ہیں ،ان وجوہات کی بنا پر اور اپنے دورمیں اور کئی بگاڈوں کی وجہ سے قوم ڈانگر اس کا مخالف ہوئی ، سازشیں تیار ہوئیں اور ایک روز جب راجہ اوسچل تنِ تنہا حرم سرا کی طرف جارہا تھا تو دو آدمیوں نے اچانک نمودار ہوکر اس کا سر قلم کیا ، اور خون آلود کپڑوں ہی میں ملبوس(نچلا )جس نے راجہ کا سر قلم کیا تھا تخت پر قبضہ جما بیٹھا ،اوسچل کے رشتے داروں نے یہ خبر سپہ سالار تک پہنچائی جو شہر سے باہر کسی مہم میں مصروف تھا ، خبر ملتے ہی اس نے برق رفتاری سے شہر کی طرف کوچ کیا اور اسی پہلی رات کو ہی بلائے ناگہانی کی طرح اچانک محلہ پر دھاوا بول کر تمام دشمنوں کو تہہ تیغ کیا ، قاتل اور اس کے بھائی اور ساتھیوں کو رات کے پچھلے پہر ہی موت کے گھاٹ اتارا ، اوسچل کی لاش جو ابھی تک خاک و خون میں باہر ہی پڑی تھی ۔ دھوم دھام سے شمشان تک پہنچائی گئی اس کے ساتھ ہی راجہ کی کئی رانیاں ستی ہوئیں ،اس راجہ نے ۱۰ سال ۴ ماہ ،اور ایک روز حکومت کی ،اس کے بعد اس راجہ کا ایک رشتے دار (سلہن )۱۱۲۵؁ء میں تخت پہ براجمان ہوا ،اس راجہ کی حکمرانی ۳ ماہ ۲۷ دن رہی ،،، کئی حمائیتیوںاور مدد گاروں کے تعاون سے ۱۱۲۵؁ء میں حکومت کشمیر سوسل کو نصیب ہوئی ، سوسل راجہ اوسچل کا بھائی تھا یہ پہلے ہی آپ کو بتا چکاہوں ، یہ راجہ بیدار مغز اور اپنے وقت کا دانا تھا ، اس میں ہوشیاری اور فہم و فراست موجود تھی ، خود مستقل مزاج اور بہادر تھا ،اس لئے فوراً مفسدوں کو لگام دینے میں کامیاب ہوا ،ہر وقت چوکنا رہتا تھا ، اور مشکوک افراد پر خاصی نظر رکھ رہا تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور کن فتنوں کو جنم دے سکتے ہیں ،اپنے محسن گگنہ چند ر کی نمک حرامی پر اس سے جلائے وطن کیا ، لیکن گگنہ چندر پینترے بازی میں ماہر تھا اوسچل کے بیٹے سے مل گیا اور بغاوت بلند کی ،راجہ سوسل نے انہیں میدان جنگ میں شکست دی ، دونوں کو معاف کرکے چھوڑ دیا ، لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ اقتدار اور بادشاہت کبھی سازشوں سے صاف نہیں رہی ہے اور ہمیشہ موقعہ پرست اور مفسد اقربا اور یار دوست تخت چھین لینے کے فراق میں یا تو مارے گئے ہیں یا مارنے کے بعد تخت پر بیٹھے ہیں ، ایسا لگتا ہے کہ ہر ملک کی کہانی اس پسِ منظر اور بادشاہی دور میں ایک جیسی رہی ہے ،سوسل کی حکومت آٹھ سال رہی ، اور شورشوں میں ہی زیادہ تر وقت صرف ہوا ، اس کی عقل ، فہم و فراست کوئی کام نہ آسکی ،سوسل لوہر کوٹ بھاگنے پر مجبور ہوا ،اس لئے خلعت شاہی(بکھا چر )کو ملی ، اس کے بارے میں تھوڑی سی معلومات ناگزیر ہیں ، یہ بکھا مقتول ہرشدیو کا پوتا تھا ، اور سوسل کی بغاوت نے اوسچل کو اپنوں سے اتنا بد گماں کردیا تھا کہ وہ سب سے خائف بھی تھا اور بد ظن بھی ، اس لئے اس چھوٹے بچے کو جلادوں کے حوالے کرکے اس کے قتل کا حکم صادر کیا تھا ، جلادوں نے قتل گاہ تک پہنچا کر بکھا چر کے لئے رحم محسوس کیا تو کسی طرح اس سے بچاکر راجہ نروام والئی مالوہ کے پاس پہنچا دیا جس نے اولاد کی طرح ہی اس سے پال پوس کر بڑھا کیا ، اس بچے کے بارے میں دوسری کہانی یہ ہے کہ پھانسی کا پھندہ گلے میں پہناتے ہی سخت ہوا چلنے لگی ،اندھیرا چھا گیا ، رسی ٹوٹ گئی اور بکھچر پانی میں گر پڑا جہاں سے کسی عورت نے اس سے اٹھا کر ا س کی پرورش کی ،، احمد ملک مترجم رتنا گر (تاریخ رتنا گر ) لکھتا ہے کہ جلاد نے ہی کسی حیلے سے بکھاچر کو راجہ مالوہ کے پاس پہچایا ،،اور یہی درست بھی لگتا ہے ،،یہی لڑکا جوان ہوکر ۱۱۳۳؁ء کو تخت نشین ہوا۔ پہلے دو تین مہینوں میں اچھی خاصی رعایا پروری اور انصاف پسندی سے شروعات کی لیکن جلد ہی کشمیر کی خوبصورتی کا نشہ غالب ہوا اور یہ راجہ بھی اپنے پیشرؤں کی طرح لہو ولعب ، شراب ، زنا اور کار بدوں میں ایسا غرق ہوا کہ سارے ملک میں افرا تفری کا عالم پیدا ہوا، اپنے وزیر کو سوسل کی گرفتاری کے لئے بھیجا تو خود اس کی بیوی کو حرم سرا میں بلا کر رنگ رلیوں میں مدہوش ہوا ، وزیر کو پتہ چلاتو سوسل سے تعاون کرکے اس سے حملہ پر اکسایا ، اور سوسل کے ساتھ لشکر جرار کے ساتھ پہنچا ،بکھاچر بھی فوج کے ساتھ مقابلہ کے لئے تیا رہوا ، بیجبہاڈہ میں معرکہ آرائی ہوئی ، عوام پہلے ہی بد دل تھے ، امرا۔وزرا بھی ساتھ چھوڑ گئے سوسل فتحیاب ہوا اور شان و شوکت کے ساتھ سرینگر کی طرف روانہ ہوا اس طرح’’ بکھا چر کی ‘‘۶ماہ ۱۲ روز کے بعد حکمرانی ختم ہوئی اور راجہ سوسل اتنے ہی عرصے کے بعد پھر ایک بار بادشاہِ کشمیر بنا ۔راجہ سوسل پھر ایک بار تخت پر بیٹھنے میں اگر چہ کامیاب ہوا اور بکھا چر کو ملک کشمیر سے کوہستانی علاقوں میں پناہ لینی پڑی لیکن ذہنی طور پر اس نے ہار تسلیم نہیں کی تھی اس لئے بڑی جلدی پھر ایک بار مقابلے کے لئے صف آرا ہوا ،دوسری بار بھی میدان جنگ سوسل کے ہاتھ رہا ،اور بکھاچر پھر ایک بار روپوش ہوا ،لیکن جلدہی پھر لشکر لے کر سوسل پر چڑھ دوڈا، ظاہر ہے یہ سارا وقت محاظ اور جنگ کی نذر ہوا اور حسب معمول سوسل کے حمائتیوں میں بھی تخت کے لئے رسہ کشی کی وجہ سے رعایا بے حال ہوئی ، لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے زراعت نہیں ہوسکی ، کھانے پینے کی اشیاء نایاب ہوئیں اور قحط کی زبردست صورت حال پیدا ہوئی ، سوسل بھی تنگ آچکا تھا کیونکہ اس کے لئے بہت سارے محاظ کھل چکے تھے ، اس نے فوری طور پر ایک اچھا فیصلہ کیا کہ لوہر کوٹ سے اپنے بیٹے جے سنگھ کو بلوا بھیجا، جے سنگھ کی قسمت اچھی تھی کہ بارہمولہ پہنچتے ہیں لوگوں نے اس کا زبردست استقبال کیا ، اس کی وجہ شاید یہ رہی ہو کہ جے سنگھ نوجوان تھا ، اور اس کے بارے میں پہلے ہی اسکی ذہانت کے چرچے یہاں پہنچ چکے تھے ، سوسل نے اپنے بیٹے جے سنگھ کوتخت شاہی حوالہ کیا اور خود یکسوئی کے ساتھ بکھاچر کو سبق سکھانے کے لئے آزاد ہوا ، اس مرتبہ سوسل ایک سال تین مہینے اور چوبیس دن کی بادشاہی کے بعد اپنے بیٹے کے حق میں دستبردار ہوا ۔بکھا چر اور سوسل میں کئی خون ریز جھرپیں ہوئی ، اور اس دوران جے سنگھ بے غم بادشاہت کرتا رہا ۔ لیکن جیسا کہ محلات کی روائت سازشیں رہی ہیں یہ باپ بیٹا بھی ایسی ہی سازشوں کے شکار ہوئے ، اور جے سنگھ باپ کا دشمن ہوا ، ،باپ کو شکست سے دوچار کرنے کے لئے اپنے ازلی دشمن بکھا چر کے ساتھ تعاون کیا ، راجہ راجوری کے ساتھ بھی اتحاد کیا ،اسی اثنا میں بکھا چر نے سوسل کے کسی معتمد رنبل نام کے آدمی کو اپنے جال میں پھنسا کر سوسل کو قتل کروایا ،، یہ قاتل سوسل کا سر بکھاچر کی خدمت میں حاضر کرنا چاہتا تھا کہ راستے میں جے سنگھ کے آدمیوں کے ہتھے چڑھ گیا ، قتل ہوا اور اب باپ کے قتل کے بعد جے سنگھ کو بھی اصل حقائق معلوم ہوئے اور پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا ،، مجبور ہوکر خود میدان کار زار میں آیا اور بکھاچر اور دوسرے دشمنوں کے ساتھ جنگ کرتا رہا یہاں تک کہ اس کے ایک وزیر نے بڑی حکمت عملی کے ساتھ بکھا چر کے معاون جنگجو قوم گہسان کو اپنے ساتھ ملالیا ، بکھاچر کی قوت کمزور ہوئی ، اور اسی دوران میدان جنگ میں ایک تیر سیدھا اس کی آنکھ میں آلگا ، اس طرح اس کا بھی خاتمہ ہوا ،جے سنگھ نے اس کے بعد شورشوں کے بغیر حکومت کی ،، ۵۲۵ ھ میں چنگیز پنجاب پر حملہ آور ہوا ،، پنجاب کے تمام راجوں نے اتحاد کیا جس میں کشمیر کا یہ راجہ بھی تھا اور دریائے اٹک کے نزدیک میدان کا زار گرم ہوا ، بہت دن لڑاء جاری رہی اور اسی میں ایک دن جے سنگھ کا مول چند جاسوسی کی خاطر خود رات کے وقت چنگیز کے خیمہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوا ، چنگیز سو رہا تھا لیکن مول چند نے اس کا کام تمام کرنے کے بجائے اپنا جوتا اور ایک خط چھوڑا جس میں لکھا تھا کہ میں تمہارا قتل بھی کرسکتا ہوں لیکن یہ مردانگی نہیں ہوتی ، اگر شرم ہے تو تو خود سوچ لو کہ بہادر کیسے ہوتے ہیں ، دوسری صبح اس جوتے اور خط نے چنگیز کو نہ صرف حیران کیا بلکہ یہیں سے واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا ،اسکے بعد کوئی اور مہم در پییش ہوئی جس میں مخالف جماعت نے شب خون مارا اور اسی شبخون میں جے سنگھ ۲۶ برس گیارہ مہینے اور ۲۷ دن ۱۱۳۵؁ ء تک کی حکمرانی کے بعد مارا گیا ،کلہن نے لکھا ہے کہ یہ شبخون ترکوں نے مارا تھا ، لیکن یہ یاد رہے کہ جہاں بھی کہیں کلہن کسی ظالم کا ذکر کرتا ہے تو انہیں ترک ہی لکھتا ہے ، کسی دوسری تاریخ میں ترک استعمال نہیں ہوا ہے ۔