مضامین

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

رشید پروینؔ سوپور
rashid.parveen48@gmail.com

پچھلے برس روزنامہ ’’ منصف ‘‘حیدر آباد میں میرے مضامین کے علاوہ ایک قسط وار پولیٹیکل کہانی ’’جمہوری دلہن کی عصمت دری ۴۷ سے اب تک ‘‘ قسط وار آرہا تھا کہ آٹھ دس قسطوں کے بعد ہی ۵ اگست سے ساری زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ، نیٹ فضا میں تحلیل ہوکر رہ گیا اور قلمکاروں کے قلم بھی سسک سسک کردم توڈ گئے ، اسی دوران میرے ذہن کے کسی گوشے میں اس خیال نے جنم لیا تھا کہ کشمیر کی قابل ذکر تاریخ کے چند اوراق کو کشمیر سے باہر متعارف کرانے کی سخت ضرورت ہے۔ اللہ کا کرم ہوا کہ ایڈیٹر ’’ عوامی نیوز ، جن کے اخبار کے کئی ایڈیشن مختلف شہروں کلکتہ، بہار ، رانچی،ککوٹااور کئی شہروں سے بیک وقت نکلتے ہیں نے میرے کئی آرٹیکل اپنے روز نامے میں ڈالے تھے ۔مجھ سے کشمیر کے حالات پر دو تیں آرٹیکل لکھنے کی استدعا کی ،میں نے کشمیر کی تاریخ کو قسط وار لکھنے کی حامی بھر لی ، ’’منصف‘‘ سے بات ہوئی انہوں نے بھی خیال کو سراہا اور اس آرٹیکل کے لئے ادارتی صفحہ مخصوس کیا ، عوامی نیوز نے بدھ کا ادارتی صفحہ اور یہاں کشمیر کے ایک روز نامہ اور ایک ہفت وار اخبار نے بھی اس مضمون کو اپنے موقر اخبار میں ہفتہ وار دینے کی شروعات کی ہے ، اب محترم ریشی صاحب ’’سرینگر ٹوڈے ‘‘نے بھی اس مضمون کو اپنے مو قر اخبار میں ہفتہ وار دینے کا ارادہ کیا ہے ۔ یہ مضامین کشمیر کی سوشیو پولٹیکل، اقتصادیات، رہن سہن ، رسم و رواج، او ر مختصر طور پر ماضی اورحال پر محیط رہیں گے۔۔1

(قسط:۱ )

بھارت کو اگر اس بات پر غرور ہے کہ اس ملک کی تاریخ پانچ ہزار سال پر مشتمل ہے تو کشمیر یوں کو اس بات پر فخر ہے کہ ہمارے تاریخ دانوں نے ہماری تاریخ کوپانچ ہزار اٹھاسی برس ماضی بعید تک کھوجا ہے ،اس مضمون میں بس ایک مختصر سا تعارف بہتر رہے گا تاکہ آپ کشمیر کی ابتدا اور’’ کشمیر ‘‘ نام کی وجہ تسمیہ سے بھی واقف رہیں ‘‘اس سے پہلے کہ میں اپنے موضوع پر آؤں میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں کوئی تاریخ داں نہیں ۔ بس تاریخ کا ایک ادنیٰ سا طالب علم ہوں، اس لئے تحقیق میری راہ نہیں رہے گی ، ہاں جو کچھ بھی ابتدا ئی اور معروف تاریخوں سے سمجھ چکا ہوں وہ آپ کی معلومات اور تسکین طبع کے لئے پہنچاتا ر ہوں گا کشمیر کی تاریخ ’’راج ترنگنی ‘‘جس کا ترجمہ ’’بادشاہوں کے دریا ‘‘ سے کیا جاسکتاہے سنسکرت میں لکھی ہوئی منظوم تاریخ ہے ، جس کا حوالہ تمام ان تاریخ دانوں نے دیا ہے جنہوں نے باریویں صدی کے بعد تاریخیں لکھی ہیں ، کلہن ایک کشمیری برہمن تھے جن کے والد کہا جاتا ہے کہ بادشاہ کے درباری یا وزیر تھے ، یہ سنسکرت میں منظوم تاریخ ہے جو سات ہزار آٹھ سو چھیاسی اشعار اور آٹھ حصوں یا ترنگوں پر محیط ہے ۔ نظم میں بادو ساغر کہے بغیر بات نہیں بنتی اس لئے اس تاریخ میں بھی اس لحاظ سے واقعات کی نوعیت پرتھوڈا سا اثر ضرور رہا ہوگا ، ،، تاریخی واقعات میں بڑی حد تک دیو مالائی کہانیاں بھی جابجا نظر آتی ہیں۔کلہن نے اپنی تاریخ ہی’’ ستی سر‘‘ کہانی سے شروع کی ہے اور جو کچھ بھی بیان کیا ہے آج عقلی کسوٹی پر ان کا وجود ذہنی اختراع سے زیادہ کچھ نہیں لگتا،اور ان دیوی دیوتاؤں اور عفریتوں کا چلن کوئی معنی ہی نہیں رکھتا ۔ لیکن ابھی تاریخ دانوں کو یہ کہانیاں آگے بڑھانے اور لکھنے کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں کہ کلہن کو بھی اپنے اگلے تاریخ دانوں سے یہی کچھ ملا ہے جس سے کلہن پنڈت نے منظوم انداز میں رقم کرکے اپنی قلم کاریوں کے جوہر بھی نمایاں کئے اور پھر ُاس دور کے پسِ منظر میں یہ کوئی انجانی یا انہونی بات نہیں رہی ہوگی ،جب آندھی ، طوفان ، بارش ،برف ، دھوپ ،چاند ، ستاروں،گرہن اور دوسرے ایسے جیسے معمولات کو دیوی ، دیوتاؤں اور پاتالوں میں رہنے والی عفریتوں اور بھوت پریت کی کارکردگی سے تعبیر کیا جاتا رہا ہوگا ۔ راج ترنگنی کے بعد جتنی بھی تاریخیں لکھی گئی ہیں سر زمین کشمیر کا ظہور راج ترنگنی کی دیو مالایائی کہانی پر ہی مبنی ہے ، لیکن یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ صرف کلہن ہی تاریخ داں نہیں ہیں بلکہ اُس سے پہلے بھی مورخوں کی ایک کھیپ گزر چکی ہے،اِن تصنیفات میں (نیل مت پوران)محفوظ ہے ۔اس کے پیش رؤں میں ہیل راج (آٹھویں صدی)رتنا گر بعہدِراجہ اونتی ورمن،اور کھیم اندر بعہدِراجہ کلش قابل ذکر ہیں اس کے بعد بھی تاریخ نویسی ہوتی رہی ، بڈشاہ کے درباری امیر ملا احمد نے راج ترنگنی کا فارسی میں ترجمہ کیا ،فارسی میں تاریخ نویسی کرنے والوں میں حیدر ملک،نرائن کول (۱۷۱۰؁)محمد اعظم دیدہ مرہ (۱۷۴۷؁)بیربل کاچرو (۱۸۵۰؁)اور آخر میں حسن شاہ کھوئہامی کا نام آتا ہے، بہر حال ان سب تاریخ دانوں نے کشمیر کا اوریجن راج ترنگنی پر ہی موقوف رکھا ہے جو کچھ یوں ہے ،ماہرین ارضیات کا گمان ہے کہ سر زمین کشمیر دس کروڑ سال پہلے وجود میں آئی تھی اور کروڑوں سال پہلے یہ علاقہ زیر آب تھا یعنی ایک چھوٹا سا سمندر رہا ہو گا جس سے ’’ستی سر‘‘ سے جانا جاتا تھا اور صرف پہاڑوں کی چوٹیوں پر ہی مختصر سی آبادی تھی ، کلہن کے مطابق اس جھیل کے پانیوں میں ایک آدم خور دیو ’’جل دیو ‘‘رہائش پزیر تھا جو یہاں کی مختصر سی پہاڈی آبادی کے لئے مصیبت بنا ہوا تھا ، ایک زمانے میں یہاں آخر کشپ رشی ایک بزرگ آیا ،کشپ کا تعلق دیو تاوں سے تھا ، لوگ اس کے پاس فریاد لے کر گئے ، کشپ نے ہندو میتھالوجی کے مطابق ہزار برس تک ریاضت کی ۔مہا دیو کو کشپ پر رحم آیا اور اس نے بشن اور برہما کو جلدیو،‘‘ کوانجام تک پہنچانے کے لئے مقرر کیا لیکن بہت عرصے تک وہ جل دیو پر قابو نہ پاسکے آخر وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ پہلے ستی سر کا پانی خشک کیا جائے تاکہ جل دیو کو چھپنے کا موقع نہ مل سکے اس لئے بشن نے بارہمولہ کے نزدیک ہی کھاد نیار۔( جو بارہمولہ میں دریا کنارے ایک جگہ آج بھی ہے) میں پہاڑ کاٹ کر پانی کی نکاسی کا انتظام کیا۔ اسی موقعے پر پہلے پہل خشک زمین نمودار ہوئی ۔لیکن جل دیو ، کہیں کسی جگہ گہرے پانی میں چھپ گیا ،بشن نے کوہ سمیر ، کا ایک بڑا ٹکڑا اٹھا کر اس جوہڑ پر ڈالا جس میں جل دیو چھپا تھا ، جل دیو کا خاتمہ ہوا اور اس طرح مختصر سی آبادی بلا خوف و خطر جینے لگی ، دوسری روائئیت میں ہے کہ حضرت سلیمان اپنے دور میں یہاں سیر کرتے ہوئے اپنے تخت پر آئے ، ستی سر جھیل کی خوبصورتی نے انہیں مسحور کیا ، چونکہ ان کے ماتحت جن و انس ،چرند و پرند سبھی تھے انہوں نے اپنے ایک ماتحت دیو’’ کشپ دیو‘‘ کو جھیل خشک کرنے پر مامور کیا ، جس نے بارہمولہ کے پاس پہاڑ کاٹ کر پانی کا راستہ بنایا ،اس کے بارے میں یہ بھی روایت ہے کہ کشپ دیو ، ایک پری پیکر کے عشق میں گرفتار تھا جس کا نام’’ میر ‘‘تھا۔ پانی خشک ہونے کے بعد حضرت سلیمان نے وعدے کے مطابق’’ میر‘‘ کشپ دیو کو بخش دی اور اس طرح اس نئی سر زمین کا نام کشپ میر‘‘ پڑا جو آہستہ آہستہ کشمیر میں تبدیل ہوا ،ویسے ’’میر ‘‘کسی سطح مرتفع کو بھی کہتے ہیں جیسے پامیر ، اجمیر ، کوہ سلیمانی اور تخت سلیمانی کے بارے میں ابھی تک کشمیر میں بہت ساری روایات ہیں۔کشمیر کو باغِ سلیمانی بھی کہتے ہیں جو آج تک بھی عام و خاص حلقوں میں معروف نام ہے ، ،،بعض علمی ہستیاں اس نام کی ایک اور وجہ تسمیہ بیان کرتی ہیں جو یوں ہے کہ زبانِ شاستر میں( کم ) پانی کو کہتے ہیں اور ’’ شمیر ‘‘باہر نکلنے کو چونکہ ستی سر کا پانی باہر نکالا گیا تھا اس لئے اس زمین کا نام ’’کم شیر جو کشمیر میں تبدیل ہوا ، ‘‘ چارلس ایلی بیٹسن نے اپنی کتاب اے گزیٹیر آف کشمیر میں لکھا ہے کہ ’’کش ‘‘ کے معنی روشنی اور’’ میر‘‘ کے معنی سمندر کے ہیں یعنی روشنی کا سمندر ،، ایک اور روائیت میں ہے کہ 588 قبل مسیح میں بنی اسرائیل کے کچھ قبائیل افغانستان ، گلگت اور اس وادی میں وارد ہوئے یہاں کی خوبصورتی اور دلکشی نے انہیں مسحور کیا انہوں نے ہی اس حسین سرزمین کا نام ’’کشیر ‘‘ رکھا جو’’ ک‘‘ اور ’’اشیر ‘‘کا مرکب ہے یعنی اشیر جیسا ۔اشیر عبرانی زباں میں ’’شام ‘‘ اور انگریزی زباں میں یہ syria کے نام سے موسوم ہے گویا بنی اسرائیل کو یہ سر زمین شام جیسی شاداب اور خوبصورت نظر آئی ، اس طرح بہت ساری اور بھی روایات ہماری تاریخوں میں موجود ہیں لیکن اختصار کرتے ہوئے یہی خیال اخذ ہوتا ہے کہ جو کچھ بھی رہا ہو ، لیکن کشمیر ایک بڑی جھیل کے مانند موجود تھی اور ’’کشپ ‘‘ کوئی مافوق الفطرت طاقت ہستی تھی یا واقعی حضرت سلیمان ؑکا کوئی ماتحت جن رہا ہوگا ،جس نے بارہمولہ کے نزدیک پانی کی نکاسی ممکن بنائی تھی اور یہ جنت نماں سر زمین وجود میں آگئی ۔ میں نے پہلے ہی اوپر لکھا ہے کہ یہ کہانیاں دیو مالیائی اور بھوت پریتوں کی کہانیاں ہیںجنہیں اس سائینٹفک دور میں عقلی بنیادوں پر پرکھا جائے تو افسانوں یاگھڑی ہوئی کہانیوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں ۔لیکن ۔یہ جھیل رہی ہے ،اس میں ہمیں کوئی دو رائیں نظر نہیں آتی ،کیونکہ یہاں پہاڑوں کی انچائیوں پر کشتیاں باندھنے کے بندن اور سوراخوں سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ کبھی ان چوٹیوں پر کشتیاں باندھی گئی ہیں ،اور اگر ایسا ہے تو یقینی طور پر یہ سر زمین (ستی سر)ایک بڑی سی جھیل ضرور رہی ہوگی ،،،