سرورق مضمون

کورونا کا قہر عروج پر ، امرناتھ یاترا بھی منسوخ / کشمیر میں ڈاکٹروں پر پتھرائو ، جموں میں ٹول پلازہ کے خلاف احتجاج

کورونا کا قہر عروج پر ، امرناتھ یاترا بھی منسوخ / کشمیر میں ڈاکٹروں پر پتھرائو ، جموں میں ٹول پلازہ کے خلاف احتجاج

سرینگر ٹوڈےڈیسک
پچھلے دو ہفتوں سے جموں کشمیر میںکورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد لگاتار بڑھ رہی ہے ۔ ملک میں یہ تعداد 12 لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے ۔ اس دوران ملک کی معیشت اور لوگوں کی صحت کافی گرگئی ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں پہلی بار اس طرح کی مشکلات کا سامنا ہے ۔ اپوزیشن مالی مشکلات کے لئے حکومت کو ذمہ دار قرار دے رہی ہے ۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ صورتحال پر جلد ہی قابو پایا جائے گا ۔ حکومت دعویٰ کررہی ہے کہ لوگوں کو کھانے پینے کے علاوہ دوسری تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں ۔ ادھر جموں کشمیر میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے ۔ مرنے والوں کی تعداد تین سو تک پہنچنے کی اطلاع ہے ۔ اس پر کئی حلقوں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ کشمیر کی صوبائی انتظامیہ نے ایک بار پھر لاک ڈاون لاگو کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ حالانکہ اس بار کے لاک ڈاون پہلے سے نرم ہے۔کئی علاقوں میں ایمبولنسوں اور پولیس جیپوں میں لاک ڈاون نافذ ہونے کا اعلان کیا گیا ۔ لالچوک میں کرفیو کا سماں رہتا ہے ۔ حکومت نے یہ قدم اس وقت اٹھایا جب کورونا کے مریضوں کی تعداد چار سو سے لے کر سات سو روزانہ تک پہنچ گئی ۔ اس وجہ سے سرینگر کے بہت سے علاقوں کے علاوہ جنوب وشمال نئے ریڈ زون بنائے جانے کا اعلان کیا گیا ۔ اس وجہ سے پورے خطے میں سخت تشویش کی لہر پائی جاتی ہے ۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتحال یہی رہی تو اموات پر قابو پانا مشکل ہوگا ۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ لوگ ضروری ہدایات پر عمل کرنے میں کوتاہی دکھاتے ہیں ۔ لوگوں کی لاپرواہی کے نتیجے میں کورونا کیسوں میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے ۔ ادھر کئی حلقے الزام لگارہے ہیں کہ بیرونی ریاستوں سے بہت سے لوگ جموں کشمیر میں داخل ہوگئے ہیں۔ ان میں سے کچھ یہاں کے باشندے ہیں ۔ دو لاکھ سے زیادہ وہ لوگ واپس لائے گئے جو دوسرے شہروں یا ملکوں میں پھنس گئے تھے ۔ اس کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں بہار اور دوسری ریاستوں سے مزدور کشمیر لائے گئے ۔ ان مزدوروں کی کہیں پر اسکریننگ نہیں کی گئی ۔ بعد میں کئی حلقوں کی طرف سے احتجاج کے بعد جب ان کا ٹیسٹ کیا گیا تو ایک ہی روز میں سو کووڈ 19 مریض سامنے آگئے ۔ اس سے ان لوگوں کی بات ثابت ہوگئی جو انتظامیہ پر تساہل کا الزام لگارہے ہیں ۔ تازہ اطلاع یہ ہے کہ انتظامیہ نے ایسے کسی بھی شخص کو جموں کشمیر میں داخل ہونے پر پابندی لگائی ہے جس کا ٹیسٹ نہ کیا گیا ہو ۔ منفی ٹیسٹ ہونے کے بعد ہی ایسے لوگوں کو یہاں آنے دیا جائے گا ۔ کئی لوگ اس حوالے سے شک کا اظہار کررہے ہیں ۔ لوگوں کو خدشہ ہے کہ جعلی ٹیسٹ لے کر ایسے مزدور کشمیر میں داخل ہوسکتے ہیں ۔ لوگ پہلے ہی ٹیسٹوں کے حوالے سے خدشات کا اظہار کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ صحیح جانچ نہیں کرپاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ چوری چھپے غیر علاقائی باشندوں کا کشمیر داخل ہونا ناممکن نہیں ہے۔ یہاں کئی راستے ہیں جہاں سے لوگ کشمیر میں داخل ہوسکتے ہیں ۔ اس وجہ سے لوگوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ خاص کر جب سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا لوگ سخت خوف زدہ نظر آتے ہیں ۔ لوگ الزام لگارہے ہیں کہ طبی عملہ صحیح ڈھنگ سے اپنی ڈیوٹی انجام نہیں دیتا ہے ۔
کشمیر میں کورونا داخل ہونے کے پہلے ہی دن سے طبی عملے کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔ جب اس وجہ سے پہلی موت واقع ہوئی تو مرنے والے شخص کے پسماندگان نے زور دار الفاظ میں کہا کہ ڈاکٹروں کی لاپرواہی سے اس کی موت واقع ہوگئی ۔ ان کا کہنا تھا کہ مرنے والا شخص کورونا سے نہیں بلکہ ڈاکٹروں کی طرف سے توجہ نہ دئے جانے کی وجہ سے مرگیا ۔ اس دن سے برابر ڈاکٹر مریضوں کے غم وغصہ کا نشانہ بن رہے ہیں ۔ پچھلے دنوں سرینگر کے صدر ہسپتال میں موجود مریضوں نے بے قابو ہوکر ڈاکٹروں پر پتھرائو کیا اور ان کے خلاف سخت احتجاج کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر سرے سے ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے ہیں اور جان بوجھ کر مریضوں کو نظر انداز کررہے ہیں ۔ ڈاکٹروں کی طرف سے اس الزام کی تردید کی گئی ۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے ہی کئی ڈاکٹر کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں ۔ اس کے علاوہ نیم طبی عملے کے بہت سے اہلکار بھی اس وائرس کی زد میں آگئے ۔ بہت سے کورنٹین مراکز سے بھی اطلاع ہے کہ وہاں داخل اشخاص کسی طور مطمئن نہیں ہیں ۔ چند ایک مراکز کو چھوڑ کر مجموعی طور یہی بتایا جاتا ہے کہ ان مراکز میں کھانے پینے اور دوسری سہولیات کا معقول انتظام نہیں ہے ۔ اس حوالے سے بڈگام کے علاوہ پلوامہ سے احتجاج کی اطلاع ہے ۔ پلوامہ کے کئی مراکز میں لوگوں نے کہا جاتا ہے کہ احتجاج کے دوران سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ کی ۔ ان لوگوں کے خلاف سخت قدم اٹھاتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کی اطلاع ہے ۔ تاہم کورنٹین مراکز سے لی گئی تصویروں اور ویڈیوز سے پتہ چلتا ہے کہ لوگوں کو ناقص غذا فراہم کی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ ان مراکز میں صفائی ستھرائی کا فقدان ہونے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے ۔ یہ الزامات پچھلے طویل عرصے سے لگائے جاتے ہیں ۔ انتظامیہ نے ان اطلاعات کو سامنے لانے پر پابندی لگائی ہے ۔ جموں سے اطلاع ہے کہ لوگ اس وجہ سے سخت مشتعل ہیں کہ کئی جگہوں پر ٹول پلازہ کھڑا کئے گئے ہیں ۔ لکھن پور کے علاوہ کہا جاتا ہے کہ تین مزید ٹول پلازہ لگائے گئے ہیں ۔ اس طرح سے شہر میں چار ٹول پلازہ موجود ہونے کی تصدیق کی گئی ہے ۔ اس پر این سی کی طرف سے جمعرات کو کئی جگہوں پر احتجاجی جلوس نکالے گئے ۔ این سی کے جموں علاقے کے سربراہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جموں اب مندروں کا نہیں بلکہ ٹول پلازوں کا شہر کہلایا جائے گا ۔ اسی طرح دوسری کئی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے اس اقدام پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ جموں شہر کے ساتھ اس طرح کا ناروا سلوک لوگوں کے لئے حیرانگی کا باعث ہے ۔ اس طرح کے ایک احتجاج کے دوران الزام لگایا گیا کہ سرینگر کے بجائے جموں والوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا گیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں صرف ایک جگہ ٹول پلازہ ہے جبکہ جموں میں اب تک چار ٹول پلازہ موجود ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ دراز ہونے کا اندیشہ ہے ۔ یاد رہے کہ حکومت نے حال ہی میں دہلی کی ایک ایجنسی کو ٹول ٹیکس جمع کرنے کا ٹھیکہ دیا ہے ۔ اس پر کئی حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے ۔ تاہم حکومت نے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک جائز قدم قرار دیا ہے ۔