سرورق مضمون

کوور سٹوری گاندبل میں بی جے پی کارکن پر حملہ/ ہند چین سرحد پر خاموشی لیکن ہند پاک سرحد پر تنائو جاری

سرینگر ٹوڈےڈیسک

گاندربل میں اس وقت سراسیمگی پھیل گئی جب جنگجووں نے بی جے پی کارکن کے گھر پر حملہ کیا ۔ پولیس بیان کے مطابق منگلوارکوسوا آٹھ بجے نونر گاندربل میں بی جے پی کے نائب صدر غلام قادر راتھر پر حملہ کیا گیا ۔ جنگجووں کی طرف سے کئے گئے حملے میں راتھر بال بال بچ گیا ۔ تاہم اس کا محافظ زخمی ہوگیا اور ہسپتال لے جاتے ہوئے جان بحق ہو گیا۔ حملہ آورجنگجو موقعے پر ہی ہلاک ہوگیا۔ راتھر سرکار کی طرف سے چلائے جارہے بیک ٹو ولیج پروگرام میں شرکت کے لئے اپنے گھر آیا تھا ۔ اس کے گھر آنے کی اطلاع ملنے پر جنگجووں نے اچانک حملہ کیا ۔ جنگجو اس کے گھر میں داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کی ۔ اس کے جواب میں محافظوں نے گولی چلائی ۔ گولیوں کے تبادلے میں ایک محافظ کے علاوہ حملہ آور بھی مارا گیا ۔مارے گئے جنگجو کی شناخت اونتی پورہ کے رہائشی کے طور ہوئی ۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ جنگجو حزب المجاہدین کے مارے گئے آپریشنل کمانڈر ریاض نائیکو کا قریبی ساتھی تھا ۔ جبکہ بی جے پی کارکن کا محافظ سرینگر کے رتھ پورہ عید گاہ کا رہنے والا تھا ۔ محافظ کو پہلے پولیس کی طرف سے سلامی دی گئی ۔ اس کے بعد اس کے آخری رسومات میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔ اس سے پہلے جنگجووں کی فائرنگ میں بی جے پی کے دو کارکن اور ایک وکیل مارے گئے ۔ بابر قادری نامی وکیل کو حول سرینگر میں ان کی عارضی رہائش گاہ کے باہر گولیاں چلاکر ہلاک کیا گیا ۔ ان ہلاکتوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا جارہاہے ۔ یہ ہلاکتیس اس موقعے پر سامنے آئی جب انتظامیہ کی طرف سے پنچایتی انتخابات کے لئے زور وشور سے تیاریاں ہورہی ہیں ۔ حکومت کی طرف سے تاحال کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا ۔ تاہم باوثوق ذریعوں کا کہنا ہے کہ پنج اور سرپنجوں کی خالی اسامیوں کے لئے انتخابات اگلے ایک یا دو ماہ میں کرانے کا پروگرام ہے ۔ اس سلسلے میں ملازمین کے لئے ڈیوٹی کی فہرست بنائی جارہی ہے اور اعلان بہت جلد سامنے آنے کا امکان ہے ۔ ادھر نیشنل کانفرنس کی طرف سے زور ڈالا جارہاہے کہ کشمیر میں انتخابات سے کوئی بدلائو نہیں آسکتا ہے ۔ حال ہی میں این سی کے سینئر لیڈر اور پارلیمنٹ ممبرڈاکٹر فاروق نے مطالبہ کیا کہ جموں کشمیرکا خصوصی درجہ جلد از جلد بحال کیا جائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ 5 اگست سے پہلے کا خصوصی درجہ بحال کئے بغیر کشمیر میں امن قائم ہونا کسی بھی طرح ممکن نہیں ۔ اس دوران کانگریس کے سینئر لیڈر سیف الدین سوز کا کہنا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کشمیر کی خصوصی پوزیشن بحال کرنے کی کوششوں میں سرعت لانی چاہئے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پر تمام سیاسی جماعتوں کو مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے ۔ حریت کانفرنس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گیلانی کو مائنس کرکے حریت صفر ہے ۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ گیلانی کی خاموشی اختیار کرنے کے بعد حریت کا کہیں نام و نشان نہیں ۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ میر واعظ عمر فاروق لوگوں کی نمائندگی کرسکتے ہیں ۔ لیکن انہوں نے خاموشی اختیار کی ہے ۔ سوز نے میرواعظ کو مشورہ دیا کہ وہ چپ کا روزہ توڑ کر سامنے آئے اور غلط پالیسیوں کی مخالفت کرے۔ سوز کا کہنا تھا کہ وہ خود نظر بند تھے ۔ اس کے باوجود انہوں نے اہم مسئلوں پر بیانات دئے ۔ اس کو دیکھ کر میرواعظ کو نظر بندی کے دوران بیانات دیتے رہنا چاہئے ۔ اسی دوران میر واعظ نے الزام لگایا کہ میڈیا میں ان کے بیانات کو عوام تک نہیں پہنچایا جاتا ہے ۔ میرواعظ کا کہنا ہے کہ وہ ہر اہم مسئلے پر بیان دیتا ہے لیکن ان کے بیانات کو عوام تک پہنچایا نہیں جاتا ہے ۔ یاد رہے کہ کشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کئے جانے کے بعد تمام مین اسٹریم اور علاحدگی پسندوں کو نظر بند کیا گیا ۔ اس دوران گیلانی کی طرف سے اس پر کوئی خاص بیان نہیں دیا گیا ۔ بلکہ ان کے اہل خانہ نے پابندی لگادی کہ ان کے صحت کے پیش نظر انہیں بیانات دینے پر مجبور نہ کیا جائے ۔ خود گیلانی نے حریت کانفرنس سے استعفیٰ دے کر خاموشی اختیار کی ۔ اس کے ساتھ ہی اخبارات میں حریت کانفرنس کے بیانات آنا بند ہوگئے ۔ اس پر سیاسی حلقوں کی طرف سے کئی طرح کی خیال آرائی کی جارہی ہے ۔ گیلانی واقعی اپنی بزرگی یا صحت کی وجہ سے خاموش ہوگئے ہیں اس پر کچھ کہنا مشکل ہے ۔ تاہم یہ بات بڑی اہم ہے کہ گیلانی نے سیاسی اتھل پتھل کے اہم مرحلے پر گوشہ نشینی اختیار کی ۔ اس کے بعد میرواعظ کا بھی کوئی بیان سامنے نہیں ہے ۔ اس طرح کی حریت پالیسی کو معنی خیز سمجھا جارہاہے ۔
پچھلے کئی روزسے ہند چین تعلقات میں بہت حد تک ٹھہرائو آگیا ہے ۔ دونوں ملکوں کے درمیان لداخ کے علاقے میں جو بے چینی پائی جاتی تھی وہ اچانک ختم ہوگئی اور دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے خلاف بیانات دینا بند کئے ۔ وزیراعظم نریندر مودی کومبینہ چینی جارحیت پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہاہے۔چین نے اس حوالے سے اپنے آخری بیان میں کہا کہ وہ لداخ پر ہندوستانی موقف کی حمایت نہیں کرتا ہے ۔ اس پر اپوزیشن پارٹیوں نے مودی سرکار کے خلاف تیز وتند بیانات دئے۔ خاص طور سے کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے مودی کے خلاف سخت مہم چلائی ۔ پچھلے کئی روز سے ہند چین کی سرحد پر سرد مہری نظر آرہی ۔ لیکن ہند پاک کے درمیان موجود لائن آف کنٹرول پر گرما گرمی میں مزید تیزی آگئی ہے ۔ بدھ وار کو دونوں ملکوں کے درمیان اوڑی سیکٹر میں ایک بار پھر گولیوں کا تبادلہ ہوا ۔ اس واقعے میں ہندوستانی فوج کا ایک کمانڈر مارا گیا ۔ ہندوستانی فوج کے ترجمان نے اس حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوجیوں نے مارٹار گنوں سے فائر کرکے حاجی پیر علاقے میں بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ۔ ہندوستانی فوج کے جوانوں نے اس کے جواب میں فائرنگ کی اور دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان دیر تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا ۔ یہ سلسلہ دوسرے علاقوں میں وقفے وقفے سے دیکھا جاتا ہے ۔