خبریں

کُنن پوشہ پورہ سانحہ کے 27سال مکمل

کُنن پوشہ پورہ سانحہ کے 27سال مکمل

کُنن پوشہ پورہ سانحہ کے 27سال مکمل ہونے کے موقعے پرمشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا ہے کہ یہ واقعہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور فاشزم کا ایک زندہ جاوید ثبوت ہے اور اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جموں کشمیر پر بھارت کی افواج کتنے سنگین جنگی جرائم میں ملوث ہے
ایک پریس بیان میں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے اپیل کی ہے کہ وہ کُنن پوشہ پورہ اور اس نوعیت کے دوسرے واقعات کی وار کرائم ٹریبونل کے ذریعے سے اسی طرح تحقیقات کرائیں، جس طرح اس عالمی ادارے نے بوسنیا میں کرائی تھی اور جنگی جرائم میں ملوث لوگوں کو عدالتِ انصاف تک لایا گیا تھا۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا کہ فوج کے ہاتھوں خواتین کی عصمت دری کو بین الاقوامی سطح پر ایک جنگی جرم اور طریقہ اذیت قرار دیا گیا ہے اور جموں کشمیر میں پچھلے 25سال سے ریپ کو باضابطہ ایک جنگی ہتھیارکے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔انہوں نے یاددہانی کراتے ہوئے کہاکہ 23/24فروری 1991میں ضلع کپواڑہ کے ایک دور دراز گاؤں کُنن پوشہ پورہ میں بھارتی فوج کی 4راجپوتانہ رائفلز اور 68مونٹین برگیڈکے اہلکاروں نے درجنوں خواتین کی اجتماعی آبروریزی کی اور مردوں کا اجتماعی ٹارچر کیا گیا۔ اور یہ سلسلہ برابر جاری ہے اور آج تک ایک محتاط اندازے کے مطابق ساڑھے سات ہزار خواتین کی عصمت دری یا دست درازی کی گئی ہے۔
مزاحمتی قائدین نے کہا کہ جموں کشمیر میں افسپا اور ڈسٹربڈ ائیریا ایکٹ کی صورت میں فوج کو قتل اور ریپ کرنے کی کھلی لائسنس اور آزادی حاصل ہے، لہٰذا آج تک ایک بھی واقعے میں کسی جنگی مجرم کو کسی سول عدالت میں لایا جاسکا ہے اور نہ کسی کو کوئی سزا دی جاسکی ہے۔ عوامی دباؤ کے پیشِ نظر فوج نے کبھی کسی کیس کی از خود تحقیقات کرنے کا وعدہ بھی کیا، البتہ آگے چل کر فائل کو یہ کہہ کر بند کردیا گیا کہ اس سلسلے میں کافی شہادت دستیاب نہیں ہوسکی ہے اور کوئی ثبوت فراہم نہیں ہوسکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ایک سابق وزیر داخلہ ایل کے ایڈوانی کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ خطرناک جرائم میں ملوث فوجی اہلکاروں کو کسی قسم کی سزا نہیں دی جاسکتی ہے، کیونکہ اسطرح سے جموں کشمیر میں ڈیوٹی دے رہے فوج کا مورال متاثر ہوجائے گا اور وہ مناسب طریقے سے ملک کی حفاظت نہیں کرسکیں گے۔
مزاحمتی قائدین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ جموں کشمیر میں خواتین کی عصمت دری اور تذلیل کے واقعات پر روک نہیں لگائی جاسکی ہے اور یہ سلسلہ آج تک برابر جاری ہے۔ مشترکہ قیادت نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کُنن پوشہ پورہ میں جو انسانیت سوز اور شرم ناک واقع 1991میں پیش آیا تھا، اس کے حوالے سے آج 27سال گزرنے کے بعد بھی کوئی مقدمہ درج کرایا گیا ہے اور نہ کسی ملوث فوجی افسر یا اہلکار کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اس واقعے کو جان بوجھ کر دبانے کی کوشش کی گئی ہے اور اس کے لیے نہ صرف بھارتی مسلح افواج ذمہ دار ہیں، بلکہ ریاستی حکومت کا بھی اس سلسلے میں ایک مجرمانہ رول رہا ہے اور انہوں نے آج تک کوئی کیس درج کرانے کی کوئی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی ہے۔بیان کے مطابق آزادی پسند راہنماؤں نے کہا کہ حکومت چاہے نیشنل کانفرنس کی تھی، کانگریس کی تھی یا پی ڈی پی کی ہر ایک نے کُنن پوشہ پورہ واقعے کی پردہ پوشی کی اور انہوں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا، جس سے ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمہ دائیر کرانے کا راستہ کُھل جاتا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے اپیل کی ہے کہ وہ کُنن پوشہ پورہ اور اس نوعیت کے دوسرے واقعات کی وار کرائم ٹریبونل کے ذریعے سے اسی طرح تحقیقات کرائیں، جس طرح اس عالمی ادارے نے بوسنیا میں کرائی تھی اور جنگی جرائم میں ملوث لوگوں کو عدالتِ انصاف تک لایا گیا تھا۔ قائدین نے کہا کہ یہ اس ادارے کی منصبی ذمہ داریاں ہے کہ وہ خواتین کے حقوق اور ان کے تحفظ کے حوالے سے اپنا موثر کردار ادا کریں، جس کے لیے ضروری ہے کہ کُنن پوش پورہ اور اس جیسے تمام واقعات کی اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں تحقیقات کرائی جائے اور ملوث اہلکاروں کو قانون اورانسانی اقدار کو بحال کرنے کے لیے کٹہرے میں لاکر کڑی سے کڑی سزا دی جاسکے۔