سرورق مضمون

کٹھوعہ ریپ کیس کا نیا موڑ / ملزم کا وکیل سرکار کا سپاہی،کیا ہوگا کیس کا؟

ڈیسک رپورٹ
کٹھوعہ ریپ کیس میں ایک نامزد ملزم کا دفاع کرنے والے وکیل کو ریاست کا ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بنایا گیا ۔ اس حوالے سے گورنر انتظامیہ کی طرف سے ایک حکم نامہ سامنے آیا جس میں اسیم سہانی کو اس اہم عہدے پر تعینات کیا گیا ہے ۔ سہانی کٹھوعہ میں پیش آئے ریپ اور قتل کیس میں ملوث ایک ملزم کے لئے دفاع کرنے والا وکیل تھا ۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے پہلے ہی عدالت سے درخواست کی ہے کہ اس کا وکالت نامہ منسوخ کیا جائے اور وہ ملزم کا وکیل نہیں ہوگا ۔ سرکاری نوکری میں آنے کے بعد وہ کسی ایسے مقدمے میں فریق نہیں ہوسکتا ہے جس میںسرکار ایک فریق بنی ہو۔ یادرہے کہ کٹھوعہ میں آٹھ سالہ آصفہ کو مبینہ طور اغوا کرکے ایک مندر میں رکھا گیا جہاں اس کا کئی روز تک پہلے ریپ اور پھر قتل کیا گیا ۔ جموں کے ایک وزیرسمیت کئی ہندو بنیاد پرستوں نے اس کیس کی ریاستی پولیس کے ذریعے تحقیقات کرنے کی مخالفت کی اور کیس سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اس وقت کی حکومت نے ان کا مطالبہ ماننے سے انکار کیا۔ جس کے نتیجے میں بی جے پی کے کابینہ وزیروں کا ردوبدل اور بعد میں حکومت برخاست کی گئی ۔اس کے بعد ریاست پر گورنر راج نافذ ہے ۔ ریاستی گورنر نے حال ہی میں کئی اہم عہدوں پر تقرریاں عمل میں لائیں ۔ ادھر اسیم سہانی کو ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کے عہدے پر تعینات کیا گیا ۔ اس تقرری سے تمام حلقوں میں مایوسی پائی جاتی ہے ۔
ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کا عہدہ ایک نازک عہدہ ہے ۔ ریاست پہلے ہی کئی حساس معاملوں کو لے کر عدالت کا سامنا کررہی ہے ۔ ریاست کی خصوصی پوزیشن کے حوالے سے سپریم کورٹ میں مقدمہ زیرسماعت ہے ۔ ان مقدمات میں کہا جاتا ہے کہ بی جے پی کا ہاتھ ہے ۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان مقدمات میں ریاست کا دفاع کرے اور ریاست مخالف عناصر کو کامیاب نہ ہونے دے۔ اس طرح کے نازک مرحلے پر ایک ایسے شخص کو ریاست کا ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بنایا گیا جو پہلے متنازع وکیل کے طور سامنے آیا ہے ۔ اس نے نہ صرف ایسے ملزم کی وکالت کا کام اپنے ہاتھ میں لیا جو ایک سنگین جرم کا مرتکب تھا ۔ بلکہ مذکورہ شخص نے میڈیا کے سامنے ریاستی پولیس اور حکومت کی نکتہ چینی کی تھی ۔ اس نے پولیس تحقیقات پر انگلی اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ کیس سی بی آئی کے ہاتھوں میں دیا جائے ۔ یہاں تک کہ اس نے اس بات کا سرے سے انکار کیا تھا کہ آٹھ سالہ بچی کو کسی بھی صورت میں ریپ کیا گیا ہے ۔ یہ شخص اس مقدمے کے حوالے سے ہندو فاشسٹ طبقے کے خیالات کا ڈھنڈورہ پیٹتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی اور سیاسی حلقوں نے اس کی تعیناتی کی مخالفت کی ۔ نیشنل کانفرنس نے اسے ایک مذاق قرار دیا ہے۔ پی ڈی پی نے گورنر سے اپیل کی ہے کہ اس تعیناتی کو منسوخ کرکے کسی غیر جانبدار شخص کو اس عہدے پر تعینات کیا جائے ۔ پارٹی کے ترجمان رفیع احمد میر نے کہا کہ یہ ایسی تقرری ہے جس کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ میرنے اس تقرری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے انصاف کے پورا ہونے کی کوئی امید نہیں ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ پوری قوم کٹھوعہ مقدمے پر نظریں رکھی ہوئی ہے ۔ لوگ چاہتے ہیں کہ اس مقدمے کا جلد از جلد فیصلہ ہوجائے اور مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے ۔ پی ڈی پی ترجمان کو خدشہ ہے کہ اب اس کیس میں انصاف کے تقاضے پورے کرنا مشکل ہے۔ کانگریس نے بھی اس تقرری کی مخالفت کی ہے ۔ جموں حلقوں میں اس حوالے سے تاحال کوئی ردعمل نہیں پایا جاتا ہے ۔ سہانی کو کس کے کہنے پر ایڈوکیٹ جنرل کے آفس میں تعینات کیا گیا اب تک معلوم نہ ہوا ۔ کئی لوگ خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ دہلی میں بیٹھے بی جے پی رہنمائوں کے کہنے پر ایسا کیا گیا ۔ یاد رہے کہ جموں میں کٹھوعہ ریپ کے معاملے پر بی جے پی سخت مشکلات کی شکار ہے ۔ سابق وزیر لال سنگھ نے پہلے ہی بی جے پی سے دوری اختیار کی ہے ۔ سنگھ کو اس وقت وزارتی کونسل سے الگ کیا تھا جب اس نے مخلوط سرکار میں ہوتے ہوئے سرکاری پالیسی کی خلاف ورزی کی تھی ۔ اس نے ایک ایسی ریلی میں شرکت کی تھی جس میں کٹھوعہ کیس کے ملزموں کے حق میں نعرے لگائے گئے تھے اور ان کے دشمنوں کو ملک دشمن قراردیا گیا تھا ۔ تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ لال سنگھ نے ایک نئی پارٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ جلد ہی اس پارٹی کا نام سامنے لائیں گے ۔ اگر ایسا ہوا تو لال سنگھ جموں میں الیکشن میں حصہ لے کر بی جے پی کے لئے خطرے کا باعث بن سکتا ہے ۔ بی جے پی کو جموں میں ایک مضبوط ووٹ بینک ہے ۔ لیکن حالیہ اقدامات سے اس کو سخت دھچکہ لگا ہے ۔ کئی مبصرین کا خیال ہے کہ آئندہ سال کے پارلیمانی انتخابات میں پارٹی کو جموں کے کئی علاقوں میں سخت مزاحمت کا سامنا ہوگا ۔ خاص طور سے گوجر کمیونٹی بی جے پی سے سخت ناراض ہے ۔ بی جے پی مخالف حلقے جن میں بھیم سنگھ کا خاص طور سے نام لیا جاتا ہے جموں میں اپنا ووٹ بینک بنانے میںلگے ہیں ۔ ادھر اطلاع ہے کہ بی جے پی ریاست میں نئی سرکار بنانے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے ۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ پی ڈی پی کے کئی ناراض ایم ایل اے نئی حکومت کا حصہ بننے کو تیار ہیں ۔ پی ڈی پی حلقوں میں اس وجہ سے سخت کش مکش پائی جاتی ہے ۔ پارٹی صدر محبوبہ مفتی نے اپنی سرگرمیوں میں تیزی لائی ہے ۔ اس نے پہلے سرینگر میں اعلیٰ عہدیداروں سے میٹنگ کی اور پارٹی کو مضبوط بنانے پر زوردیا ۔ بعد میں جنوبی کشمیر کے اسمبلی ارکان کے ساتھ ایک نشست کی ۔ اس نشست میں کہا جاتا ہے کہ راجپورہ پلوامہ اور نورآباد کولگام کے اسمبلی ممبروں کو چھوڑ کر باقی ارکان اسمبلی موجود تھے ۔ اس میٹنگ میں پارٹی سربراہ پر زور دیا گیا کہ جن لیڈروں کے خلاف الزامات لگائے گئے ہیں ان کے خلاف کاروائی کی جائے ۔ محبوبہ مفتی نے اس بات کی حامی بھرلی ہے کہ پارٹی عہدوں پر دیانت دار افراد کو تعینات کیا جائے گا ۔ اس سے پہلے عمران انصاری کی سربراہی میں کچھ اسمبلی ارکان نے پریس کے سامنے آکر محبوبہ مفتی کو نشانہ بنایا ۔ مرکز نے کہا جاتا ہے کہ ان ممبران کو یقین دلایا ہے کہ امرناتھ یاترا کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کی کوششوں میں تیزی لائی جائے گی ۔ تاہم بی جے پی نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ وہ ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے حکومت بنانے یا پی ڈی پی کو توڑنے کی کوششوں میں لگی ہے ۔ محبوبہ مفتی نے مرکز کو خبردار کیا کہ پی ڈی پی کو توڑنے کی کوشش کی گئی تو ریاست میں عسکریت کا نیا محاذ کھل جائے گا ۔ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ الیکشن دھاندلیوں نے سید صلاح الدین اور یاسین ملک کو بندوق اٹھانے پر مجبور کیا ۔ ایسی کوئی نئی کوشش کی گئی تو اس کے نتیجے میں نئے صلاح الدین اور یاسین ملک پیدا ہونگے ۔ ان کے اس بیان سے ان کے مخالفین میں سخت غصہ پایا جاتا ہے ۔ انہوں نے اسے کھلی دھمکی سے تعبیر کیا۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ کسی شخص نے عدالت جاکر ان کے خلاف ملک دشمنی کا مقدمہ دائر کیا ۔ اس طرح سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کشمیر میں سخت سیاسی کش مکش پائی جاتی ہے ۔ آگے کیا کچھ ہونے والا ہے اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ تاہم سب کی نظریں دہلی کی طرف لگی ہیں جہاں کئی حلقوں کی طرف سے مستقبل کانقشہ تیار کرنے کے لئے خفیہ سرگرمیاں جاری ہیں ۔ حسیب درابو کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ نئی سرکار بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والا ہے۔ درابو نے ان سرگرمیوں سے انکار کیا ہے۔ تاہم کئی حلقے ان کے انکار کو سیاسی چال بتارہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے لئے اسٹیج تیار کرنے کیلئے درابو کی کوششیں بڑی اہم ہیں ۔
یہ بات تو طے ہے کہ آج نہیں تو کل، سرکار بن کر رہے گی۔ مگر ریاست میں حالات کافی نازک موڑ پر ہیں اور کئی معاملات پر سرکار کی غیر سنجیدگی اور غل فیصلوں سے ریاست میں خرمن امن کو آگ لگ سکتی ہے، جسے بچانا نہ صرف مشکل ہو گا بلکہ نہ جانے یہ کس کس کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی، کٹھوعہ کیس بھی ایک ایسا ہی معاملہ ہے جس پر سب خاص طور سے مسلمان طبقہ نظریں جمائے ہوئے ہیں، بی جے پی اپنے منشور سے ایک ہند نواز پارٹی ہے، ہر پارٹی اپنی آئیڈیالوجی سے جانی جاتی ہے جس کی بنا پر اس کا قیام وجود میں لایا جاتا ہے، مگر اس طرح کے عصمت دری معاملات پر کوئی سیاست نہیں کی جانی چاہئے کیونکہ اس سے منافرت کو ہوا لگتی ہے اور پہلے ہی مشکل ترین دور سے گزر رہی ریاست جموں وکشمیر میں مذہب کی بنیاد پر منافرت کو ہوا دینے سے حالات مزید پیچیدہ ہونگے۔ موجودہ گورنر این این ووہرا ایک اچھے منتظم کی شناخت رکھتے ہیں ،مگر ایسے متنازعہ اور غیر حساس فیصلے سے ان کی شناخت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ کیا ریاست میں کوئی دوسرا ایسا وکیل نہیں تھا جسے اس عہدے پر تعینات کیا جاسکتا تھا۔ عوام میں کئی طرح کے خدشات ابھر رہے ہیں جن کا جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے کیونکہ ایسے نازک موڑ پر ایسے غیر سنجیدہ فیصلوں کی کوئی گنجائش نہیں۔