سرورق مضمون

کٹھوعہ عصمت ریزی اور قتل کیس کاسیاسی رخ / این سی کے بعدحریت بھی میدان میں

کٹھوعہ عصمت ریزی اور قتل کیس کاسیاسی رخ / این سی کے بعدحریت بھی میدان میں

ڈیسک رپورٹ
متحدہ حریت کانفرنس نے جمعرات کو سرینگر میں علامتی دھرنا دے کر الزام لگایا کہ جموں میں مسلمانوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے ۔ حریت لیڈر سید علی گیلانی نے دھمکی دی ہے کہ مسلمانوں کو کسی قسم کا نقصان پہنچایا گیا تو خاموش نہیں رہاجائے گا ۔ دھرنے سے پہلے یاسین ملک نے میڈیا نمائندوں سے بات کی اور احتجاج کا مقصد واضح کیا ۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے فوراََبعد ملک کو پولیس نے گرفتار کرکے نزدیکی تھانے میں بند کیا ۔ احتجا ج کرنے والوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جن پر انصاف کی مانگ کے نعرے درج تھے۔ متحدہ حریت کانفرنس کا الزام ہے کہ جموں میں حکومت کی مدد سے اکثریتی فرقہ مسلمانوں کو تنگ کررہاہے ۔ حکومت ان الزامات سے انکار کرتی ہے اور جموں میں حالات پرامن ہونے کا دعویٰ کرتی ہے ۔
یادرہے دھرنا کٹھوعہ کے ہیرا نگر علاقے میں ایک کم سن لڑکی کو ریپ اور قتل کرنے کے خلاف دیا گیا۔احتجاجی اجتماع سے سید علی گیلانی کے علاوہ میرواعظ عمرفاروق نے فون پر خطاب کیا اوراس واقعے کو فرقہ واریت کا رنگ دینے کی سخت الفاظ میں مزمت کی ۔
کٹھوعہ کے ہیرانگر علاقے میں پچھلے کئی روز سے سخت تنائو پایا جاتا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق یہاں آصفہ نامی ایک آٹھ سالہ بچی کی بہیمانہ انداز میں پہلے عصمت ریزی کی گئی اور پھر قتل کرکے اس کی لاش کو چھپایا گیا ۔ کئی روز تک اس حوالے سے کچھ معلوم نہیں ہوا ۔ پولیس نے اس وقت کاروائی شروع کی جب لڑکی کے لواحقین نے سخت احتجاج کرکے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اغوا شدہ بچی کو باز یاب کیا جائے ۔ پولیس نے پہلے احتجاج کرنے والوں پر تشدد کیا جس سے جلوس میں شامل کئی لوگ زخمی ہوگئے ۔ اس معاملے کی گونج اسمبلی میں سنی گئی جہاں این سی کے سربراہ اور اپوزیشن لیڈر عمرعبداللہ نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ۔ اس کے بعد پولیس نے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے کر کاروائی کو آگے بڑھایا ۔ پہلے کچھ نوجوانوں کو اغواکاری کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ بعد میں پولیس کی کرائم برانچ کو کیس سونپا گیا ۔
تفتیش کے دوران پولیس محکمے میں کام کرنے والے ایک ایس پی او پرشک گزرا اور اسے گرفتار کیا گیا ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار کئے گئے ایس پی او نے اغوا ،ریپ اور قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے ۔ اس کے ایک اورساتھی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے ۔ قتل کی گئی کمسن بچی گوجر قبیلے سے تعلق رکھتی ہے ۔ جبکہ گرفتار کئے گئے دونوں اہلکار اکثریتی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اسی دوران ہندوایکتا منچ نے جموں میں احتجاجی ریلے نکالی جس کی قیادت مبینہ طوربی جے پی کا ایک مقامی لیڈر کررہاتھا ۔ ریلے میں شریک لوگ الزام لگارہے تھے کہ گرفتار یاں فرقہ واریت کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی ہیں ۔ یہ لوگ گرفتار کئے گئے اہلکاروں کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کررہے تھے ۔ بی جے پی رہنما کا کہنا تھا کہ کیس کی تحقیقات مسلمان اہلکاروں کے سپرد کی گئی ہے جو کسی ثبوت کے بغیر دو اہلکاروں کو اس میں ملوث کررہے ہیں ۔ ریلے میں شریک لوگوں نے ملک کا قومی جھنڈا لہرایا ہوا تھا ۔
وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے قومی جھنڈے کو اس مقصد سے استعمال کرنے کی مزمت کی اور اسے جھنڈے کی بے حرمتی قرار دیا ۔ اگرچہ پولیس نے گرفتار کئے گئے اہلکاروں کو رہا کرنے سے انکار کیا ۔ تاہم کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ بھاجپا لیڈر انتظامیہ پر دبائو ڈال رہے ہیں کہ ا س کیس کو آگے نہ بڑھایاجائے ۔
ادھر گوجر کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کٹھوعہ ضلعی ہیڈکواٹر پر احتجاج کرنے کی کوشش کی جسے ناکام بنایاگیا ۔ اسی دوران تین نوجوانوں کو پولیس نے گرفتار کرکے ان کا جوڈیشل ریمانڈ حاصل کیا ۔ کہا جاتا ہے کہ یہ تین نوجوان بدھ کو کٹھوعہ میں اخباری نمائندوں کے سامنے اس کیس کے بارے میں جانکاری دینے کی کوشش میں لگے تھے ۔ انتظامیہ کو اس بارے میں بروقت اطلاع ملی تو تینوں نوجوانوں کو گرفتار کرکے تھانے پہنچایا گیا ۔ ہیرانگر سب ڈویژن میں امتناعی احکامات کا اطلاق کیا گیا ہے جس کے تحت چار یا چار سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی لگائی گئی ہے۔
عوامی حلقے الزام لگارہے ہیں کہ آبروریزی کے ایک دلدوز واقعے کو فرقہ واریت اور سیاست کا رنگ دیا جارہاہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ بھاجپا کے کچھ لیڈر اس مسئلے کوووٹ حاصل کا ذریعہ بنارہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ جموں خطے کے مسلمان اس وجہ سے سخت خوف کا شکار ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں اس مسئلے کو بہت ہی سیریس لیا گیا ہے ۔
نیشنل کانفرنس کے علاوہ کانگریس نے بھی اس کیس کو فرقہ پرستی یا سیاسی رنگ دینے کی مزمت کی ہے ۔ کمیونسٹ پارٹی کے رہنما اور ایم ایل اے یوسف تاریگامی نے ملوث افراد کو سخت سے سخت سزا دینے کی مانگ کی ہے ۔
حریت کی طرف سے آبی گزر سرینگر دھرنا میں سماجی کارکنوں نے بھی شرکت کی اور اس مسئلے کو کسی بھی جانبداری کے خلاف آگے بڑھانے کی مانگ کی ۔ اس وجہ سے اندازہ لگایاجاتا ہے کہ کٹھوعہ کا یہ مسئلہ سنگین رخ اختیار کررہاہے ۔ حکومت نے اس مسئلے کو قانون کے مطابق آگے بڑھانے کا اعلان کیا ہے ۔
وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جموں میں نکالی گئی ریلے پر ناراضگی کا اظہار کیا اور اس ریلے کے دوران ترنگا لہرانے کو ایک جرم قرار دیا ۔ وزیراعلیٰ نے کسی دبائو میں آنے سے انکار کیا اور مجرموں کو سزا دینے کی یقین دہانی کی ہے ۔ میرواعظ عمرفاروق نے جمعرات کو دئے گئے دھرنا شرکا سے ٹیلی فونک خطاب میں اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ اتنے سنگین مسئلے کو سیاسی رنگ دیا جارہاہے۔ میرواعظ کا کہنا تھا کہ اتنے سنگین جرم کی ہرسطح پر مزمت کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مزمت اور ناراضگی کا اظہار کرنے کے بجائے حکومت مجرموں کو تحفظ دینے کی کوشش کررہی ہے ۔ انہوں نے اسے ایک افسوسناک واقع قراردیا۔ اس طرح کی صورتحال کو دیکھ کر کئی لوگ خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ کٹھوعہ مسئلہ سنگین رخ اختیار کرنے والا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ بھاجپا لیڈروں نے اگراسی طرح مداخلت جاری رکھی تو اس مسئلے کی تحقیقات کرنا ممکن نہ ہوگا ۔ اس وجہ سے علاقے میں سخت تنائو پایا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ ایک معصوم جان سے بڑھ کر فرقہ واریت اورسیاسی افراتفری کا مسئلہ بن رہاہے۔ بی جے پی نے اس مسئلے کو ووٹ بٹورنے کا ایک مسئلہ بنالیا ہے ۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ این سی نے اسمبلی میں اس مسئلے کو لے جاکر گوجر لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ پارٹی لیڈروں کا الزام ہے کہ این سی نے ہی اسے سیاسی رنگ دیا ۔ اسی کے ردعمل میں بی جے پی نے ریلی میں حصہ لیا ۔ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی بہت حد تک اپنے مقصد میں کامیاب ہے ۔ اس نے اکثریتی طبقے کی حمایت حاصل کی اور اپنا سیاسی غرض وغایت حاصل کرنے میں کامیاب نظر آتی ہے۔