سرورق مضمون

کیابائیکاٹ کے باوجود بھی ریاست میں بلدیاتی اور پنچایتی چنائوہو پائیں گے؟

ڈیسک رپورٹ
کشمیر کے سیاسی حلقوں میں اس وقت گہما گہمی دیکھنے کو ملی جب نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنی رہائش گاہ پر ایک اہم کل جماعتی میٹنگ بلائی ۔ این سی نے دعویٰ کیا کہ پی ڈی پی کو چھوڑ کر ریاست کی تمام مین اسٹریم پارٹیوں نے میٹنگ میں شرکت کی ۔ پی ڈی پی ترجمان نے میٹنگ میں شرکت نہ کرنے کی یہ وجہ بتائی کہ میٹنگ کا ایجنڈا پہلے سے نہیں بتایا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ پی ڈی پی نے میٹنگ میں شرکت نہیں کی ۔ میٹنگ کہاں تک کامیاب رہی اس بارے میں ابھی سے کچھ کہنا مشکل ہے ۔ تاہم سیاسی حلقوں میں اسے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جارہاہے ۔ اس حوالے سے کہا جارہا ہے کہ ریاست میں حالات آئے دن پیچیدہ صورت اختیار کررہے ہیں ۔ اس صورتحال کے تناظر میں یہ میٹنگ بڑی اہم مانی جاتی ہے ۔ اس میٹنگ سے سیاسی حلقے کوئی مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے میں کامیاب ہونگے یا نہیں مختلف آرا کا اظہار کیا جارہاہے ۔ سیاسی مبصروں کی نگاہیں آئندہ کی صورتحال پر لگی ہوئی ہیں ۔
کل جماعتی میٹنگ جمعرات کو ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی دعوت پر ان کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی ۔ میٹنگ میں شرکت کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ این سی کے کئی لیڈروں کے علاوہ اس میں کانگریس کے سینئر لیڈر تاج محی الدین ، کیمونسٹ پارٹی کے محمد یوسف تاریگامی ، ڈیموکریٹک پارٹی کے غلام حسن میر اور دوسرے کئی لیڈروں نے شرکت کی اور میٹنگ کو بہت ہی اہم قرار دیا ۔ میٹنگ میں موجودہ سیکورٹی صورتحال پر غور وخوض کیا گیا ۔ خاص طور سے گورنر انتظامیہ کی طرف سے بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے انعقاد پر تفصیل سے بحث کیا گیا ۔
یاد رہے کہ ریاست کی دو اہم جماعتوں نے ان انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کیا ہے۔ سب سے پہلے نیشنل کانفرنس نے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ابتدائی مرحلے پر پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق نے انتخابات کو ریاست کی تعمیر وترقی کے لئے اہم قرار دیا تھا ۔ انہوں نے انتخابات میں شرکت کرنے کا اشارہ دیا تھا ۔ لیکن بعد میں فیصلہ تبدیل کیا گیا ۔ اس دوران وزیراعظم کے سیکورٹی کے مشیر اجیت ڈول کی طرف سے ایک بیان دیا گیا ۔ بیان میں جموں کشمیر کے لئے الگ آئین کو بڑی سیاسی غلطی سے تعبیر کیا گیا ۔ اس بیان پر این سی حلقوں نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ۔ یہ آئین بنانے اور اس کو پاس کرانے میں این سی کے بانی صدر شیخ محمد عبداللہ نے کلیدی رول ادا کیا ۔ یہ این سی پر سیدھا وار قرار دیا جارہاہے ۔ اس کے بعد این سی کی کور کمیٹی کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں انتخابات کے حوالے سے اہم فیصلے لئے گئے ۔ کہا جاتا ہے کہ میٹنگ میں کئی اہم لیڈروں خاص کر پارٹی کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے مشورہ کئے بغیر انتخابات میں شرکت کے اعلان پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے اس بات پر غصہ دکھایا کہ حالات کا جائزہ لئے بغیر انتخابات کا اعلان کیا گیا ۔ اس سے پہلے کئی حلقوں نے الزام لگایا کہ این سی کے صدر کے مشورے پر ہی گورنر انتظامیہ نے انتخابات کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ لیکن پارٹی کے اندر افراتفری دیکھ کر فیصلے پر نظر ثانی کی گئی ۔ اس کے بعد ایک بیان میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ میں آئین کی دفعہ 35A پر دائر مقدمے کو واپس لینے لی شرط پر این سی انتخابات میں حصہ لے گی ۔ ایسا نہ کیا گیا تو انتخابات کا بائیکاٹ کیا جائے گا ۔ این سی کے اس اعلان کے بعد تمام مین اسٹریم جماعتوں کے لئے انتخابات میں حصہ لینا مشکل بن گیا ۔
پی ڈی پی رہنمائوں نے اعلان کیا کہ پارٹی اپنے کارکنوں کے ساتھ مشورہ کرکے حتمی فیصلہ لے گی ۔ اس کے بعد سرینگر میں بلائے گئے اجلاس میں فیصلہ لیا گیا کہ پارٹی الیکشن میں حصہ نہیں لے گی ۔ کانگریس پارٹی نے اسی طرح کی ایک اہم میٹنگ میں انتخابات کے انعقاد پر غور کرنے کے لئے میٹنگ بلائی ۔ میٹنگ کے بعد اعلان کیا گیا کہ مرکزی لیڈر شپ کو پوری صورتحال سے باخبر کیا جائے گا جو اس حوالے سے آخری فیصلہ لیں گے ۔ اس طرح کی صورتحال کے بعد بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کے حوالے سے سوالات اٹھائے جانے لگے ۔ تمام حلقوں نے دو بڑی مین اسٹریم جماعتوں کی طرف سے انتخابات میں شرکت کے بعد ان انتخابات کو بے معنی قرار دیا ۔ اسی دوران ریاست کے چیف سیکریٹری نے اعلان کیا کہ انتخابات پروگرام کے مطابق ہونگے اور ملتوی کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ کہا جاتا ہے کہ مرکز کی طرف سے این سی پر دبائو بڑھایا گیا ہے اور انتخابات میں شرکت کرنے پر زورڈالا جارہاہے ۔ این سی اس دبائو کا مقابلہ کرپائے گی ایسا بہت مشکل ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ مرکز کی طرف سے سخت اقدامات کا اشارہ دیا گیا ہے ۔ اس کے بعد پارٹی نے اپنے موقف کو نرم کرنے کا اشارہ دیا ہے ۔ دوسری طرف سیکورٹی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا جارہاہے ۔
عسکری کمانڈروں نے دھمکی دی ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا ۔ اس طرح سے مین اسٹریم جماعتوں کے لئے مشکل صورتحال درپیش ہے ۔ پیچھے ہٹنے سے مرکز کی ناراضگی کا خطرہ ہے جبکہ الیکشن میں حصہ لینا مشکلات کو دعوت دینے کے برابر ہے ۔ پچھلے کئی روز سے صورتحال بڑی پیچیدہ بنی ہوئی ہے ۔ جموں سرینگر ہائی وے پر ایک کاروائی میں جیش محمد کے تین جنگجو مارے گئے ۔ اس حوالے سے کہا جارہاہے کہ جنگجو ایک ٹرک میں جموں سے سرینگر آرہے تھے ۔ سیکورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ فدائی حملہ کرنے کے لئے ٹرک میں سوار ہورہے تھے ۔ اس دوران ٹرک کو ایک چیک پوسٹ پر رکنے کے لئے کہا گیا ۔ لیکن ٹرک زبردستی سے وہاں سے بھاگ نکلا ۔ ٹرک کا پیچھا کیا گیا ۔ اس دوران ٹرک میں سوار جنگجو نزدیکی جنگلوں کی طرف بھاگ گئے اور ایک مکان میں پناہ لی ۔ اس کے بعد سخت لڑائی ہوئی جس میں تینوں جنگجو مارے گئے اور ایک درجن کے لگ بھگ سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے ۔ اسی طرح شمالی کشمیر میں ہوئی دو جھڑپوں میں چار جنگجو مارے گئے ۔ ہلاکتوں کا یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب سوپور کے بومئی علاقے میں مبینہ طور حریت کے ایک کارکن کو مشکوک بندوق برداروں نے جان بحق کیا۔ اسی روز سرینگر میں آئی ایس آئی ایس سے وابستہ قرار دئے گئے ایک جنگجو کو مارا گیا ۔ اگلے روز سرینگر میں کپوارہ کے ایک شخص کو نامعلوم جنگجووں نے ہلاک کیا ۔ ان ہلاکتوں کی وجہ سے ریاست میں سخت خوف و ہراس پایا جاتا ہے ۔ تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ این سی کے عمر عبداللہ نے گورنر سے ملاقات کی اور کل جماعتی اجلاس میں لئے گئے فیصلوں سے انہیں آگاہ کیا ۔ کہا جاتا ہے کہ عمر عبداللہ نے مطالبہ کیا کہ دفعہ 35A کیس میں ریاست کی طرف سے وکالت کرنے والے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل تشار مہتا کو کیس سے ہٹایا جائے ۔اس کے علاوہ ریاست میں نئی سیاسی حکومت بننے تک کیس کی سماعت نہ کی جائے ۔ کل جماعتی میٹنگ میں کہا جاتا ہے کہ تمام پارٹیوں نے دفعہ 35A کا دفاع کرنے پر زور دیا۔ اس طرح سے سیاسی صورتحال میں نئی پیش رفت کا اندازہ لگایا جارہاہے ۔