اداریہ

کیا انتخابات ہو پائیں گے؟

کیا الیکشن بائیکاٹ کے باوجود بھی ریاست میں بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات ہو پائیں گے ؟ یہ ایک سوالیہ ہے۔ ایک طرف قیاس آرائیاں ہو رہی ہے کہ انتخابات ہونا ایک مشکل مرحلہ ہے لیکن دوسری طرف سرکار بھی الیکشن کرانے پر بضد ہے اور اس طرح پہلے ریاست کی دو بڑی مین اسٹریم پارٹیوں کی طرف سے بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ آچکا ہے تاہم دونوں جماعتوں کے فیصلے کے بعد ریاستی گورنر انتظامیہ ہر صورت میں الیکشن کرانے کےلئے کوششیں تیز کی ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کے چیف سیکریٹری نے اعلان کیا کہ ریاست میں یہ انتخابات ہوکےہی رہیں گے تاہم چیف سیکریٹری کے بیان کے باوجود بھی نیشنل کانفرنس نے ایک کل جماعتی میٹنگ بلائی جس میں انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے پر غور وخوض کیا گیا تاہم اس میٹنگ میں پی ڈی پی کے بغیر تمام یک نفری پارٹیوں نے حصہ لیا اور یہی کہا جا رہا ہے کہ میٹنگ میں بہ اتفاق رائے فیصلہ لیا گیا کہ جب تک مرکز دفعہ370 کے آرٹیکل 35A کو محفوظ رکھنے کی ضمانت نہ دے دیتا تب تک الیکشن میں حصہ نہ لیا جائے۔ دوسری اور بھاجپا کے کئی لیڈران پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ کرنے والی پارٹیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ ان پارٹیوں نے اپنی ہار تسلیم کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ الیکشن میں حصہ لینے سے کتراتے ہیں۔ بہرحال یہ سیاسی بیانات ہے اور لوگوں کی نظریں بالکل اسی پر ہے کہ ریاست کی دو بڑی پارٹیوں کے انتخابات میں بائیکاٹ کرنے کے فیصلے کے باوجود بھی الیکشن ہوپائیں گے کہ نہیں؟۔