اداریہ

کیا انسانیت دم توڑ چکی ہے؟

کٹھوعہ میں معصوم بچی کے ساتھ آبروریزی و قتل کا واقعہ رونما ہونا بظاہر ایک دلدوز واقعہ ہے اور اس سانحہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ مگر بد قسمتی سے اس واقعے کو فرقہ واریت اور سیاست کا رنگ دیا جارہاہے ۔ کئی ایک لوگ آبرو ریزی اور قتل میں ملوث افراد کے حق میں سیاسی فائدہ اٹھانے کےلئے ریلیاں نکال رہے ہیں ، جس سے ہر کوئی ذی حس انسان یہ کہنے کےلئے مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا انسانیت دم توڑ چکی ہے؟ جن لوگوں کو پھانسی کے پھندے پر بٹھانا چاہیے اُن کے حق میں ریلی نکلنا کوئی دانشمندی نہیں بلکہ صاف طور پر عیاں ہو جاتا ہے کہ ایسے عناصر کو سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے افراتفری پھیلانا خاص مقصد ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بھاجپا کے کچھ لیڈر اس مسئلے کوووٹ حاصل کرنے کا ذریعہ بنارہے ہیں اور جموں خطے کے مسلمان اس وجہ سے سخت خوف محسوس کر رہے ہیں ۔ حالانکہ نیشنل کانفرنس کے علاوہ کانگریس نے اس کو فرقہ پرستی یا سیاسی رنگ دینے کی مزمت کی ہے علاوہ ازیں کمیونسٹ پارٹی کے یوسف تاریگامی نے آبرو ریزی اور قتل میں ملوث افراد کو سخت سے سخت سزا دینے کی مانگ کی ہے ۔ ادھر حریت کی طرف سے آبی گزر سرینگر دھرنا میں سماجی کارکنوں نے بھی شرکت کی اور اس مسئلے کو کسی بھی جانبداری کے خلاف آگے بڑھانے کی مانگ کی ۔ اس وجہ سے اندازہ لگایاجاتا ہے کہ کٹھوعہ کا یہ مسئلہ سنگین رخ اختیار کررہاہے ، تاہم حکومت نے اس مسئلے کو قانون کے مطابق آگے بڑھانے کا پہلے ہی اعلان کیا ہے ۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جموں میں نکالی گئی ریلی پر ناراضگی کا اظہار کیا اور اس ریلے کے دوران ترنگا لہرانے کو ایک جرم قرار دیا ۔ وزیراعلیٰ نے کسی دبائو میں آنے سے انکار کیا اور مجرموں کو سزا دینے کی یقین دہانی کی ہے ۔ میرواعظ عمرفاروق کا کہنا تھا کہ اتنے سنگین جرم کی ہرسطح پر مزمت کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مزمت اور ناراضگی کا اظہار کرنے کے بجائے حکومت مجرموں کو تحفظ دینے کی کوشش کررہی ہے ۔ میرواعظ نے واقعے کو افسوسناک قراردیا۔ اس طرح کی صورتحال کو دیکھ کر کئی لوگ خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ کٹھوعہ مسئلہ سنگین رخ اختیار کرنے والا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ بھاجپا لیڈروں نے اگراسی طرح مداخلت جاری رکھی تو اس مسئلے کی تحقیقات کرنا ممکن نہ ہوگا ۔ اس وجہ سے علاقے میں سخت تنائو پایا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ ایک معصوم جان سے بڑھ کر فرقہ واریت اورسیاسی افراتفری کا مسئلہ بن رہاہے۔ بی جے پی نے اس مسئلے کو ووٹ بٹورنے کا ایک مسئلہ بنالیا ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ معصوم بچی کی عصمت ریزی کے بعد قتل کرنے والوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جانا چاہیے نہ کہ اس آبرو ریزی اور قتل کے مسئلے کو کسی پارٹی یا فرد کے لئے ووٹ بنک کے طور استعما ل کرنا چاہیے۔ اگر اس مسئلے کو ووٹ بنک بنانے کی کوشش کی گئی تو ظاہر سی بات ہے کہ ہر کوئی ذی حس طبقہ یہ کہنے پر مجبور ہو جائیگی کہ کیا انسانیت دم توڑ چکی ہے؟