اداریہ

کیا درابو کوسیاسی کیرئیر برقرار رہے گا؟

گذشتہ دنوں ریاستی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے ڈاکٹر حسیب درابو سے خزانہ کی وزارت واپس لے کر سید الطاف بخاری کو تفویض کیا۔ حسیب درابو کو ایک اہم عہدے سے ہٹا یا گیا اور فی الوقت درابو اب محض ایک اسمبلی ممبر رہ گئے ہیں۔ یاد رہے درابو کو اس وقت کابینہ سے رخصت کیا گیا جب انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک متضاد بیان دیا ۔ اُس بیان میں درابو نے کہا کہ مسئلہ کشمیر سرے سے کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے ۔ حالانکہ بیان کے بعد ردعمل کے طور پر وادی میں ہلچل مچ گئی ۔ سیاسی مبصرین نے اسے پی ڈی پی کی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنائی گئی پالیسی کے بالکل مخالف قرار دیا ۔ یہاں کے تمام سیاسی حلقوں نے اس بیان پر پی ڈی پی کو آڑے ہاتھوں لیا اور اسے پارٹی موقف کے برعکس قرار دیا ۔ اس وجہ سے خیال ظاہر کیا جانے لگا کہ پی ڈی پی نے کشمیر پالیسی کو ترک کرکے بی جے پی کے سامنے سرنڈر کیا ۔ شاید اسی وجہ سے پی ڈی پی صدر نے کوئی انتظار کئے بغیر درابو کو وزارت سے باہر کرنے کا اعلان کیا ۔ اس متنازع بیان پر اگرچہ پارٹی میں کوئی بحث و مباحثہ نہ ہوا ۔ درابو کا کہنا ہے کہ اسے کوئی شو کاز نوٹس دیا گیا نہ وضاحت کرنے کا موقع دیا گیا بلکہ ضابطے کی کوئی بھی کارروائی کئے بغیر وزارت سے رخصت کیا گیا۔ حالانکہ اس دوران پارٹی کے کئی سینئر لیڈروں نے پارٹی صدر کو عوام کی ناراضگی کے بارے میں آگہی دی۔ پارٹی لیڈروں کے علاو نیشنل کانفرنس کے سرپرست اور پارلیمنٹ ممبر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے درابو کو وزارت سے نکالنے کا خیر مقدم کیا اور اس کی شاباشی کی، حالانکہ حکومت میں شامل وزیر سجاد غنی لون نے اس فیصلے کی نکتہ چینی کی اس دوران بی جے پی نے اسے پی ڈی پی کا اندرونی معاملہ قرار دیا ہے البتہ ان کے بیان کی حمایت کی ہے۔ وزارت خزانہ کا قلمدان چھیننے کے بعدحسیب درابو نے اپنے بیان میں راجپورہ حلقے کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کی بہبود کے کے لئے کام کرتے رہینگے ، اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حسیب درابو کا سیاسی کیرئیر اب بھی برقرار رہے گا کیا وہ پھر سے راجپورہ حلقے کے عوام میں ووٹ مانگنے جائینگے۔کیا درابو پی ڈی پی میں ہی رہیں گے یا اپنی من پسند جماعت میں شامل ہوں گے۔ قبل از وقت کچھ نہیں کہا جائے گا کیونکہ یہ سیاست ہے اور سیاست میں ہر کچھ یعنی سب کچھ ممکن ہوتا ہے۔ بہر حال اندیشہ اور خدشہ یہی ظاہر کیا جاتا ہے کہ درابو بہت جلد پارٹی چھوڑنے والے ہیں۔