اداریہ

کیا رضوان کی ہلاکت کی تحقیقات بھی رسمی ہوگی!

کشمیر میں 1990 میں شروع ہوئی مسلح آرائی کے بعد سے اب تک ہزاروں عام شہری جان بحق ہوئے ہیں۔ پھر چاہئے وہ ملی ٹنسی یا پھر حفاظتی دستوں کے ہاتھوں ہو، ان30 برسوں میں درجنوں ایسے واقعات بھی پیش آئے جہاں معصوم کشمیری نوجوانوں کو فرضی تصادموں میں ہلاک کیا گیا۔
گذشتہ دنوں اونتی پورہ کے رہنے والے 28 سالہ مقامی اُستاد رضوان احمد پنڈت بھی سیکورٹی دستوں کی بھینٹ چرھ گیا۔ اُسے مقامی پولیس سٹیشن کے اہلکاروں نے دوران شب اپنے آبائی گھر سے حراست میں لیا مگر حراست کے محض دو دنوں میں اُسے بے دردی کے ساتھ مارا گیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ رضوان حراست میں رہتے گاڑی سے کود گیا اور زخمی ہونے کے سبب جان بحق ہوا مگر اُس کے جسم پر بربریت اور تشدد کے نشانات سے یہ بات صاف ہوئی ہے کہ اُسے پولیس حراست میں شدید بربریت اور تشدد کا شکار بنایا گیا جس کی وجہ سے اُس کی موت واقع ہوئی۔ رضوان کی اس زیر حراست ہلاکت نے ایک بار پھر سیکورٹی دستوں اور سرکار کے اُن دعوئوں کی پول کھول کر رکھ دی ہے جس میں وہ اکثر یہ نام نہاد دعوے کرتے رہتے ہیں کہ وہ کشمیری نوجوانوں کے خیر خواہ ہیں اور اُنہیں پُر امن زندگی گزاتے دیکھنے کے متمنی ہیں۔رضوان کی اس ہلاکت نے ریاست میں ہر ایک کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے اور شدید مخالفت کے بعد انتظامیہ نے اس ہلاکت کی تحقیقات کا حکم دیا تو دیا مگر مقامی پولیس تھانے میں مہلوک رضوان کے خلاف کیس درج کیا گیا وہ بھی رضوان کی ہلاکت کے بعد۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2008 سے اب تک ریاست میں زیر حراست اور فرضی تصادموں میں مقامی شہریوں کی ہلاکت سے متعلق ایک سو سے زائد معاملوں میں تحقیقات کا حکم دیا گیا مگر آج تک اُن تحقیقاتی ٹیموں کی سفارشات اور جانچ پڑتال کی کسی کو خبر تک نہیں ہوئی ۔ ان مہلوک افراد کے لواحقین کو حالات کے رحم و کرم پر انصاف کےلئے دردر کی ٹھوکریں کھانے کے بعد بے بسی اور لاچاری میں مبتلا ہوئے اور یہ تحقیقاتی حکمنامے اُن کے لئے سراب کے سوا کچھ اور ثابت نہیں ہوئے۔ رضوان کی ہلاکت بھی زیر حراست ہوئی ہے جس کا پولیس نے اعتراف بھی کیا ہے۔ ورنہ اکثر معاملوں میں پولیس زیر حراست ہلاکتوں سے انکارہی کرتی آئی ہے۔ انتظامیہ نے چار ہفتوں میں رضوان کی حراستی ہلاکت کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ تحقیقات کبھی سامنے آئے گی یا پھر ماضی کی طرح معصوم عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ثابت ہو گی۔ آخر کب تک کشمیری عوام اس مظلومیت اور بربریت کے شکار ہوتے رہینگے اور کب تک اُنہیں ناکردہ گناہوں کی بھینٹ چڑھنا پڑےگا۔