مضامین

کیا کشمیر میں پیلٹ گن کا استعمال بند ہوگا؟

کیا کشمیر میں پیلٹ گن کا استعمال بند ہوگا؟

نصیر احمد
یورپی پارلیمنٹ کے تقریباً پچاس ممبران نے گذشتہ دنوں وزیراعظم نریندر مودی کو شورش زدہ ریاست جموں وکشمیر میں بدنام زمان پیلٹ گن کا استعمال فوری طور بند کرنے کی ایک مشترکہ مکتوب میں گذارش کی۔ یورپی پارلیمنٹ کے ان منتخبہ ممبران نے اپنے مکتوب میں اس بات پر شدید تشوش کا اظہار کیا کہ ریاست میں سالہا سال کے انسانی حقوق کی لگاتار خلاف ورزیاں ہوتی آرہی ہیں اور امن و قانون کی صورتحال کو بنائے رکھنے کی آڑ میں عام لوگوں اور نو نہال بچوں کو شدیدتشدد خاص طور سے پیلٹ گن کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ پھر چاہئے وہ شویان ضلع سے تعلق رکھنے والی ۱۹ ماہ عمر کی ننھی بچی حبا ہو یا پھر دیگر سینکڑوں نوجوان جن میں سے درجنوں پیلٹ لگنے سے یا تو معزور ہو گئے۔تاہم عمر بھر کے لئے اپنی آنکھوں کی بینائی کھو بیٹے۔ ان ممبران نے وزیراعظم مودی کو پیلٹ گن کے استعمال کو فوری طور بند کرنے اور افسپا اور دیگر کالے قوانین کو بھی کالعدم قرار دئے جانے کی اپیل کی۔ ان ممبران نے نہ صرف اس بندوق کے استعمال کو فوری طور بند کرنے بلکہ اُن نوجوانوں کی بازآبادکاری اور معقول علاج و معالجہ فراہم کرنے کی مانگ کی ہے جنہیں سیکورٹی دستوں کی طرف سے پیلٹ گن کا شکار بنایا گیا ہے۔ ساتھ ہی ممبران نے اُن واقعات کی بھی سنجیدہ تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا جن میں پیلٹ لگنے سے عام شہریوں کی موت ہوئی یا پھر شدید زخمی ہوئے۔ پوری پارلیمنٹ کے ان ممبران کے اس تازہ مکتوب سے ایک بار پھر پیلٹ گن کے استعمال پر بحث چھیڑ گئی ہے۔
2010 میں عوامی اجتماعوں پر قابو پانے کےلئے اس وقت کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ریاست میں پیلٹ گن کے استعمال کی اجازت دی جس پر اب بھی انہیں شدید تنقید کا شکار ہونا پڑ رہا ہے۔ جب اس بندوق کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی اُس وقت یہ دفاع کیا گیا تھا کہ چونکہ بعض اوقات عوامی احتجاج شدید رُخ اختیار کرتے ہیں اس لئے اُس سنگین صورتحال میں جان و مال کے تحفظ کےلئے غیر مہلک پیلٹ گن کا استعمال ضروری ہے۔ سیکورٹی دستوں کے ضابطہ عمل کے تحت پیلٹ گن کو صرف اس صورت میں استعمال کیا جا سکتا ہے جب عوامی احتجاج شدید سنگین اور پُرتشدد رُک اختیار کریں اور جن پر روایتی طور طریقوں سے قابو پانا نا ممکن ہو۔ اس صورت میں بھی پیلٹ گن کا استعمال محض ٹانگوں کو نشانہ بنا کر کیا جانا چاہئے تاکہ پرتشدد عناصر کو پیچھے دھکیلا جا سکے۔ مگر یہ ضابطہ عمل گزشتہ ایک دہائی سے محض کا غذی ثابت ہوا ہے اور سینکڑوں نوجوانوں اور نونہال بچوں اور بزرگوں کو اس بندوق کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ درجنوں نوجوانوں کے آنکھوں میں پیلٹ لگنے سے عمر بھر کے لئے اپنی بینائی سے محروم ہو گئے اور کئی نوجوانوں کی موت واقع ہو گئی۔
2016 میں حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد ریاست میں بڑے عوامی احتجاج ہوئے جن پر قابو پانے کے لئے پیلٹ گن کا بے دریغ ا ستعمال کیا جاتارہاہے۔2016 میںسینکڑوں نوجوانوں کو پیلٹ گن کا شکار بنایا گیا جس کی عالمی سطح پر وسیع مذمت اور نکتہ چینی ہوئی اور بین الاقوامی میڈیا نے اسے جان بوجھ کر لوگوں کی بینائی چھیننے جانے سے تعبیر کیا۔
وسیع مذمت کے بعد ملک کی پارلیمنٹ میں بھی پیلٹ گن کے استعمال پر بحث ہوئی اور اکثر ممبران نے اس چھرے والی بندوق کے استعمال کو فوری طور بند کرکے اسکا متبادل ڈھونڈنے کے بارے میں کہا۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نےپارلیمنٹ میں کہا تھا کہ اسکا متبادل تلاش کیا جائے گا جس کےلئے انہوں نے ایک کمیشن بھی تشکیل دی تاہم چند مہینوں بعد کشمیر میں محبوبہ مفتی کی موجودگی میں ایک پریس کانفرنس میں راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ پیلٹ گن کا استعمال بند نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا استعمال ابھی لگاتار جاری ہے۔ پلٹ گن کے استعمال کے متبادل کے طور پر ربر سے بنی غیر مہلک گولیوں کے استعمال کے لئے بھی بحث ہوئی۔ چند ماہ قبل مرکز نے ربر سے بنی دس لاکھ گولیوں کو ریاست میں سی آر پی ایف اور نیم فوجی دستوں کو بھیجنے کا اعلان کیا تاکہ امن و قانون کی صورتحال کے وقت اسکا استعمال کیا جا سکے اور انسانی جانوں کے زیاں کو روکا جا سکے۔ ربر سے بنی ان گولیوں کا کبھی استعمال نہیں ہوا البتہ 2016 سے کئی ایسے واقعات پیش آئے جہاں پیلٹ تو دور نوجوانوں اور عام شہریوں کو سیدھے گولیاں کا نشانہ بنا کر جان بحق کیا گیا۔ اس ساری صورتحال اور پیلٹ گن ہر بحث کے بعد یہ سوال پھر سے اُبھر رہے ہیں کہ کوئی بھی متبادل تب تک کار گر ثابت نہیں ہو سکتا جب تک جب تک نہ ضابطہ عمل پر سختی سے عمل کیا جائے۔
2016سے پیش آئے ایسے درجنوں واقعات کی کبھی تحقیقات نہیں ہوئی۔ جن معاملوں میں تحقیقات کا حکم دیا بھی گیا وہ کبھی سامنے نہیں آئیں اور ماضی کی طرح پارینہ بن کر رہ گئیں۔ایسے میں پوری پارلیمنٹ کے اس تازہ مکتوب سے ریاست میں پیلٹ گن کے بے دریغ استعمال کا مقابلہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے جسے بین الاقوامی میڈیا نے کافی اُجاگر کیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا نے ہندوستان کو دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے درجے کا احترام کرتے ہوئے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے، عام کشمیریوں پر بیجا تشدد کو روکنے خاص طور سے پیلٹ گن کے استعمال کو فوری طور بند کرنے کی اپیل کی ہے۔ ننھی حبا کی تصاویر پوری دنیا میں وائرل ہو گئیں اور مختلف ممالک میں پیلٹ گن کے استعمال کو روکنے کے حق میں ریلیاں بھی نکالی گئیں۔ ریاست میں دہائیوں سے عوامی احتجاج ہوتے آرہے ہیں مگر احتجاجوں پر سیکورٹی فورسز کے تشدد سے حالات سنگین بن گئے ہیں۔ یہاں تک کہ کئی معاملات میں بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی کو لے کر احتجاج کر رہے عوام کو بھی پیلٹ گن کا شکار بنایا گیا۔ ایسے میں یہ سوال پھر اُٹھ رہے ہیں کہ اگر وزیراعظم کشمیری عوام کے دل جیتنے کی بات کر رہے ہیں پھر اُن سے جانوروں جیسا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے؟۔ کب تک ریاست میں جانوروں پر استعمال ہونے والے پیلٹ گن کا استعمال ہوتا رہے گا۔