مضامین

کیا کشمیر کو غیرسیاسی معاملہ قرار دینا سیاست نہیں؟

نصیراحمد
وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے پی ڈی پی کے ایک اہم ممبر اور رُکن مانے جانے والے اور مرحوم وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کے قریبی ساتھی رہ چکے ڈاکٹر حسیب درابو کو وزرا کی کونسل سے برخواست کیا۔ڈاکٹر حسیب درابو کو وزارت خزانہ سے دستبردار کئے جانے کی وجہ اُن کا وہ متنازعہ بیان بنا جس میں انہوں نے کشمیر کو ایک غیر سیاسی مسئلہ قرار دیا۔ سیاسی اور سماجی حلقوں کے اعتراض کے بعد پی ڈی پی ڈاکٹر درابو کے اس بیان سے سکتے میں آگئی اور پارٹی کے اندر سابق وزیر خزانہ کے خلاف بغاوت ہونے لگی۔
وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے گورنر این این ووہرا کے نام حسیب درابو کی وزراکی کونسل سے برخواست کئے جانے سے متعلق مکتوب بھیجا جسے گورنر نے منظور کر لیا اور حسیب درابو سے کابینہ وزیر ہونے کا عہدہ واپس لے لیا گیا۔
پی ڈی پی کے اندونی ذرائع کے مطابق حسیب درابو کے خلاف لمبے وقت سے بغاوت کو ہوا مل رہی تھی کیونکہ وہ خود کو وزیراعلیٰ سے بھی بڑا تصور کرنے لگے تھے اور دیگر وزرا کے کام کاج میں روڑے اٹکا رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق جلد بازی میں پبلک اکائونٹس آفس کے قیام کے حسیب درابو کے فیصلے سے نہ صرف ٹھیکداروں کی واجبات باقی رہیں بلکہ ترقیات کے کام بھی ٹھپ ہو کر رہ گئے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق حسیب درابو پر جموں وکشمیر بنک کے ذریعے اپنے قریبی دوستوں کو کروڑوں روپے کے قرضہ جات فراہم کرنے، بنک کی انسانی وسائل اور آئی ٹی ونگ میں اپنی سفارش پر افراد کو تعینات کرنے اور سروشکھا ابھیان کے تحت کام کرنے والے اساتذہ کی تنخواہیں روکنے جیسے اُن کے فصلوں پر کافی عرصے سے پارٹی میں اُن کے خلاف بغاوت شروع ہونے لگی تھی اور کشمیر کو غیر سیاسی معاملہ قرار دئے جانے کے حسیب درابو کے بیان نے آگ کو ہوا دینے کا کام کیا اور کئی اہم ممبران نے وزیراعلیٰ سے حسیب درابو کو وزرا کی کونسل سے برخواست کرنے کی سفارش کی جس پر وزیراعلیٰ نے گورنر کو سفارشی خط بھیجا اور انہیں وزرا کی کونسل سے برخواست کر دیا گیا۔
پارٹی کے مطابق پی ڈی پی کشمیر کو ہمیشہ سے ہی ایک سیاسی مسئلہ مانتی آئی ہے اور حسیب درابو کے متذکرہ بالا فیصلہ جات اور بیان نے پارٹی ذرائع کے مطابق پارٹی کی ساخت کو کافی نقصان پہنچایا، اس لئے حسیب درابو کو برخواست کرنا ناگزیر بن گیا۔ اگر چہ کئی سیاسی پارٹیوں نے وزیراعلیٰ کے اس فیصلےکا خیر مقدم کیا ہے تاہم حسیب درابو نے اس فیصلے پر یہ کہہ کر حیرانگی ظاہر کی ہے کہ انہیں اپنے بیان کی وضاحت دینے کے بجائے میڈیا کے ذریعے وزیر کے طور برخواست کئے جانے کی خبر ملی۔ حسیب درابو کے مطابق اُن کے بیان کو میڈیا کے چند حلقوں میں غلط ڈھنگ سے پیش کیا گیا ہے۔ پھر بھی انہوں نے اس فیصلے کو منظور کیا ہے۔
2014کےاسمبلی انتخابات کے بعد بی جے پی کے ساتھ اتحاد اور مخلوط سرکار کی تشکیل میں درابو نے مرکزی کرداراداکیا۔
حسیب درابو کو ریاستی معیشت کی بہتری کےلئے کئی اہم اقدامات کرنے کا فخر بھی حاصل ہے۔ ملازمین کےلئے جی پی فنڈ کی ادائیگی میں معقولیت لانا، کیجول اور کنٹرویکچول ملازمین کی مستقلی کے لئے جامع پالیسی تیار کرنا، 7 ویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات کو منظور کرنا جیسے اقدامات ہیں ،مگر جس ایجنڈا آف الائنس کوتشکیل دینے کا دعویٰ حسیب درابو نے کیا ہےاس میں علیحدگی پسندوں کے سات بات چیت کا عمل ایک واضح نقطہ ہے اور درابو کا حالیہ بیان جس میں انہوں نے کشمیر کو غیر سیاسی مسئلہ قراردیا ہے بالکل متضاد ہے۔ اگر کشمیر سیاسی مسئلہ نہیں پھر علیحدگی پسندوں سے بات چیت کا نقطہ ایجنڈا آف الائنس میں کیوں شامل کیا۔ کیا یہ سیاست نہیں!