سرورق مضمون

گلوان وادی میں تنائو جاری تاہم حالات قابو میں / ہند پاک سفارتی تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ

سرینگر ٹوڈےڈیسک
لداخ کی گلوان وادی میں بھارت اور چین کے درمیان محاذ آرائی بدستور قائم ہے ۔ دونوں طرف کی فوجوں کے درمیان اگرچہ مذاکرات جاری ہیں ۔ تاہم ابھی تک کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔ چین نے دعویٰ کیا ہے کہ گلوان ویلی پر کوئی تنازع نہیں پایا جاتا ہے ۔ چین میں دفاعی امور کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پوری گلوان وادی چین کا حصہ ہے ۔ اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ وادی میں کئی سالوں سے چین کی فوجیں گشت کرتی رہی ہیں اور اس کے تصرف میں ہے ۔ البتہ ہندوستان کی طرف سے اچانک دراندازی کی وجہ سے دونوں طرف کی فوجوں کے درمیان تصادم آرائی ہوئی جس میں ہندوستان کے بیس فوجی مارے گئے اور دس تحویل میں لئے گئے ۔ یہ فوجی بعد میں رہا کئے گئے ۔ ادھر ہندوستان کی طرف سے دعویٰ کیا گیا کہ دونوں طرف کی فوجوں نے بہت پہلے سے قائم پوزیشنوں پر جانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس حوالے سے طرفین میں کئی دنوں سے بات چیت جاری تھی ۔ یہ تنازع جب شروع ہوا تو امریکہ نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا ۔ بعد میں وائٹ ہاوس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور امید کرتا ہے کہ دونوں ممالک صبر وتحمل کا اظہار کرتے ہوئے تنائو پر قابو پائیں گے ۔ اس درمیان روس میں چین اور ہندوستان سمیت ایک سہ ملکی میٹنگ کے تناظر میں امکان ظاہر کیا جارہاتھا کہ روس دونوں ملکوں کے درمیان صلح کرائے گا ۔ لیکن روس نے ایسے کسی بھی امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ روس اس پر کوئی رول ادا نہیں کرے گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہندوستان اور چین کا آپسی معاملہ ہے جس میں روس مداخلت نہیں کرے گا ۔ سخت کشیدگی کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان جنگ ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ گلوان وادی سے باہر دونوں ملکوں کے درمیان سرحدوں پر کوئی تنائو ہونے کے بجائے سکون پایا جاتا ہے ۔ کسی بھی ملک نے دوسرے کسی بھی مقام پر فوجوں کو حرکت میں نہیں لایا ہے ۔ اس دوران ہندوستان کے فوجی سربراہ نے لداخ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سرحد کی اگلی چوکیوں پر تعینات فوج کے افسروں سے ملاقات کی ۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے زمینی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ضروری ہدایات بھی دیں۔ اس حوالے سے یہ بھی اطلاع ہے کہ ہندوستان نے جموں کشمیر کے کئی فوجی دستوں کو لداخ پہنچ جانے کا حکم دیا ۔ سرینگر لداخ شاہراہ کو سیول مسافر گاڑیوں کے لئے ممنوع قرار دیا گیا اور صرف فوجی گاڑیوں کو اس سڑک پر چلنے کے لئے مخصوص کیا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ فوج اور انتظامیہ نے لداخ کے کئی علاقوں میں راشن کے ذخیرے بھی جمع کئے۔ اگرچہ حالات بہت حد تک قابو میں ہیں تاہم سرکار کی طرف سے تاحال کسی قسم کی بڑی فوجی کاروائی کا امکان ظاہر نہیں کیا گیا ۔ دہلی کی بی جے پی سرکار کو لداخ میں بیس فوجی اہلکاروں کی ہلاکت پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہاہے ۔ کانگریس نے اس حوالے سے کئی سوالات اٹھائے اور بہت سے خدشات کا اظہار کیا ۔ وزیراعظم نے گلوان وادی میں تنائو کو لے کر ایک کل جماعتی میٹنگ منعقد کی جہاں تمام پارٹیوں نے اپنی حمایت کا اظہار کیا ۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مخالفت جاری ہے ۔ اس درمیان وزیراعظم نے بیان دیا کہ لداخ میں ہندوستان کے کسی بھی حصے پر کسی دوسرے ملک نے حملہ کیا نہ زمین کا کوئی ٹکڑا ہاتھ سے نکل گیا ہے ۔ مودی کے اس بیان پر سخت شبہات کا اظہار کیا گیا ۔ کئی حلقوں نے الزام لگایا کہ مودی نے اس طرح کا بیان دے کر گلوان وادی پر چین کا حق مان لیا ہے ۔ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے اس بیان پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے سفارتی ناکامی قرار دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بیان سے ہندوستان کو جو نقصان اٹھانا پڑے گا اس کو پورا کرنا ممکن نہیں ۔ بی جے پی حلقوں میں سنگھ کے اس بیان پر برہمی کا اظہار کیا گیا ۔ بی جے پی نے اسے حکومت اور ملک کی فوج پر کیچڑ اچھالنے کے مترادف قرار دیا۔ اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کئی جگہوں پر پارٹی کے کارکنوں نے احتجاج کیا ۔ اس کے باوجود کانگریس کی طرف سے حکومت کی تنقید جاری ہے ۔
گلوان وادی میں ہند چین کے درمیان تنازع جاری ہے ۔ اس دوران ہندوستان نے دہلی میں قائم پاکستانی سفارت خانے کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے عملے کو کم کرکے وہاں تعینات نصف اہلکاروں کو واپس وطن بھیجدے۔ اس سےپہلے پاکستان نے مبینہ طور اسلام آباد میں مقیم دو ہندوستانی سفارتی اہلکاروں کو اغوا کرکے اپنے ملک واپس بھیجدیا ۔ پاکستان کی طرف سے یہ ردعمل ہندوستان کی طرف سے دو اہلکاروں کو اسلام آباد زبردستی بھیجدینے پر سامنے آیا۔ اس سے اندازہ ہورہاہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تنائو جاری ہے اور اس میں آئے دن اضافہ ہورہاہے ۔