خبریں

گنگا اور مادھوکے متنازعہ بیان اور ردعمل

گنگا اور مادھوکے متنازعہ بیان اور ردعمل

بی جے پی لیڈر اور ریاستی وزیرچندرپرکاش گنگاکے بعد بی جے پی کے لیڈر اور جنرل سیکریٹری رام مادھوکا متنازعہ بیان سیاسی ہلچل کاباعث بن گیا۔ کشمیری نوجوان کیساتھ فوج کے سلوک کادفاع کرتے ہوئے رام مادھو نےواضح کیاہے’’ محبت اورجنگ میں سب جائزہوتاہے‘‘۔انہوں نے قیام امن کیلئے مخلوط سرکارکے اقدامات پرعدم اطمینان کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ریاستی سرکاراورسیکورٹی ایجنسیاں زیادہ موثراورفعال اقدامات اُٹھاسکتی ہیں۔پی ڈی پی ،بی جے پی ملن کے محرک رام مادھو نے کشمیروادی کی موجودہ صورتحال انتہائی پریشان کن قراردیتے ہوئے اس بات کااعتراف کیاہے کہ ہم روزانہ ایک لاش نہیں چاہتے جو حریت چاہتا ہے۔بھاجپاکے سینئرلیڈرنے سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کانام لئے بغیر کہاکہ جس سیاستدان نے نوجوان کوفوجی گاڑی کیساتھ باندھے جانے سے متعلق ویڈیوکووائرل کیا،وہ سماجی ویب سائٹ پر غیرذمہ دارانہ تحاریرکیلئے کافی مشہورہے ۔
ریاست میں برسراقتدارمخلوط سرکارکی کابینہ میں شامل وزیرصنعت وحرفت چندرپرکاش گنگاکی ذہرافشانی کے بعدپی ڈی پی ،بی جے پی اتحادکے محرک رام مادھونے بھی فوجی گاڑی کیساتھ نوجوان کوباندھے جانے کے تناظرمیں دئیے گئے بیان ’’محبت وجنگ میں سب جائز‘‘ہوتاہے کولیکرمخلوط سرکار میں پہلے سے ہی جاری چپقلش اوررسہ کشی میں مزیداضافہ ہوگیا۔ایک نجی نیوزچینل’سی این این نیوز 18 ‘ کودئیے انٹرویوکے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری رام مادھو نے جموں وکشمیر میں فوج کی گاڑی پر ایک نوجوان کو باندھ کر گھمائے جانے کی وائرل ویڈیو پر کہا ہے کہ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے۔ انہوں نے فوج کے اس طریقے کو صحیح بتایا جس میں ایک میجر نے ضمنی چناؤکے روزیعنی 9اپریل کووسطی ضلع بڈگام میں ایک کشمیری نوجوان کو فوجی جیپ کے بمپر پر باندھ کرکئی گاؤں میں گھمایا۔رام مادھو نے کہا کہ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وادی میں سیکورٹی فورس کس طرح کی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کشمیری نوجوان کوفوجی گاڑی کیساتھ باندھ کرگاؤں گاؤں گھمانے کی حرکت کادفاع کرتے ہوئے کہاکہ جن حالات میں سیکورٹی فورس کے دستے کام کرتے ہیں ،اُن حالات میں فوج کے نوجوان میجر کے پاس دو راستے تھے۔ اول یہ کہ وہ بھیڑ کو دوسرے لوگوں اور سیکورٹی فورسز کے قتل کرنے کی اجازت دیتا یادوئم یہ کہ فوجی میجر اپنے ساتھیوں کے ساتھ مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کرتا۔بھاجپاکے قومی جنرل سیکرٹری نے مزید کہا کہ یہ تعریف کے قابل ہے کہ میجر نے دونوں میں سے کوئی بھی طریقہ نہیں اپنایا ، کیونکہ اس سے بڑی تعداد میں لوگوں کی جان چلی جاتی۔رام مادھو کا کہنا تھاکہ اس سب کیلئے اگر کوئی ذمہ دار ہے تو وہ لوگ ہیں جو اس مشکل حالات میں مدد بھیجنے میں ناکام رہے ہیں۔ مادھو نےاس واقعہ کے تناظرمیں کہاکہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہوتا ہے۔سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کانام لئے بغیرکہاکہ جس غیرذمہ دارسیاستدان نے نوجوان کوفوجی گاڑی کیساتھ باندھے جانے سے متعلق ویڈیوکووائرل کیا،وہ سیاستدان سماجی ویب سائٹ غیرذمہ دارانہ تحاریرکیلئے کافی مشہورہے۔ اس سوال کہ کیا حکومت فوج کے میجر کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے، کے جواب میں رام مادھو نے کہا کہ حکومت صرف امن برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم روزانہ ایک لاش نہیں چاہتے جو حریت چاہتا ہے۔کشمیر میں بدامنی سے نمٹنے کے لئے بی جے پی اور پی ڈی پی مخلوط حکومت کی ناکامی سے متعلق پوچھے گئے سوال کاجواب دیتے ہوئے بھاجپاکے قومی جنرل سکریٹری نے کہا کہ ریاستی حکومت اورسیکورٹی ایجنسیوں کوحالات پرقابوپانے کیلئے جوکچھ کرناچاہئے تھاشایدوہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کو اس سلسلے میں مزید فعال اور ہوشیار رہنا چاہئے۔رام مادھوکاکہناتھاکہ امن وامان کی بحالی کے سلسلے میں حکومتی اورسیکورٹی کی سطح پر بہتر ہونے کی ضرورت ہے۔ بی جے پی اور پی ڈی پی اتحاد کی کامیابی کے سوال پر رام مادھو نے کہا کہ کشمیر کے حالات کا اتحاد سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ ملک اور قومی یکجہتی اور خودمختاری کے لئے ایک چیلنج ہے۔
ادھر رام مادھو کے بیان کے ردعمل میں مزاحمتی قائدین نے الزام لگایاکہ کشمیری عوام کاقتل عام بھارت کی قومی پالیسی ہے ۔مزاحمتی قائد سید علی گیلانی نے بی جے پی قومی جنرل سیکریٹری مسٹر رام مادھو کے کشمیری جوان کو جیپ سے باندھنے پر کئے گئے تبصرے کو انتہائی الارمنگ اور تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی وزیر مسٹر سی پی گنگا کا حالیہ بیان ان کا اپنا ذاتی خیال ہوسکتا ہے، البتہ مسٹر مادھو کا بیان حکومتِ ہندوستان کی پالیسی قرار پاتی ہے کہ وہ جن سنگھ حکومت کے پالیسی سازوں میں شامل ہیں اور وہ بی جے پی کے ٹاپ فور (Top 4)لیڈروں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مادھو کا بیان نہتے کشمیری عوام کے خلاف واضح اعلانِ جنگ کے مترادف ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوج کو کشمیر میں وہ سب کچھ کرنے کی آفشلی اجازت دے دی گئی ہے، جو عمومی طور کسی ملک کے ساتھ دوبدو جنگ کے وقت فوج کو حاصل ہوتی ہے۔موصولہ بیان میں حریت(گ)چیئرمین سیدعلی گیلانی نے کہا کہ رام مادھو کے نہتے شہری کو جیپ سے باندھنے پر فوجی میجر کی تعریف کرنے اور یہ کہنے کہ ’’جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے‘‘ میں ایک بڑا خطرناک پیغام پوشیدہ ہے کہ اس میں ایک طرف جہاں مسلح افواج کو تمام حدود پار کرنے کی کُھلی اجازت دی گئی ہے، وہاں یہ عام کشمیریوں کے لیے ایک واضح دھمکی ہے کہ ان کا کیا حشر ہونے والا ہے
اس دوران حریت کانفرنس (ع)کے چیرمین میرو اعظ عمر فاروق نے وادی کے مختلف علاقوں جن میں سرینگر ، بانڈی پورہ، اسلام آباد، پٹن، کنگن وغیرہ شامل ہیں میں سرکاری فورسز اور پولیس کے ہاتھوں سکولوں اور کالجوں کے احتجاجی طلباء اور طالبات کیخلاف پُر تشدد کارروائیوں کو ریاستی دہشت گردی کا بدترین نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی پولیس اور فورسز کی دست درازیوں سے اب یہاں کے تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہیں۔میرواعظ نے کہا کہ گزشتہ ہفتے پلوامہ میں کالج کے طلباء کے ساتھ زیادتیوں کے بعد اس واقعہ کیخلاف برسراحتجاج مختلف کالجوں کے طلباء کیخلاف طاقت اور تشدد کا استعمال اور طلباء کو ہراساں کرنے کا عمل حقوق انسانی کی سنگین خلاف ورزی ہے اور لگتا ہے کہ بھارتی جنتا پارٹی کے مرکزی جنرل سیکریٹری رام مادھو کے اس اعتراف کے بعد کہ وہ کشمیر میں حالت جنگ میں ہے اور ’’جنگ میں سب کچھ جائز ہے‘‘ سرکاری فورسز ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کشمیری عوام کیخلاف صف آرا ء ہو چکی ہیں۔انہوں نے اس بیان کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کس طرح نہتے کشمیری عوام کیخلاف ایک جنگ سی چھیڑ دی گئی ہے اور یہاں کے عوام کی جائز آواز کو طاقت اور تشدد کے بل پر دبانے کا مذموم عمل جاری ہے
ادھرلبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے بی جے پی اور آر ایس ایس کے لیڈران رام مادھو اور چندر پرکاش گنگا کے حالیہ بیانات جس میں ان دونوں نے کشمیریوں کو مارڈالنے اور انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے سے متعلق بیان دیا تھا کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کا یہ بے لاگ سچ ہے کہ آر ایس ایس کے موجدین ہٹلر اور مسولینی سے ملے تھے اور انسانیت کے ان دونوں دشمنوں سے تحریک پاکر انہوں نے بھی فسطائیت پر مبنی جماعت کی بنیاد ڈالی تھی۔یاسین ملک نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج بھارت کے اندر فسطائیت کو طاقت حاصل ہے اور یہ لوگ جسے قتل کرنا چاہیں کرسکتے ہیں لیکن انہیں تاریخ کی یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ انہی کی طرح ہٹلر اور مسولینی بھی کبھی طاقتور تھے لیکن بالآخر انہیں بدترین انجام سے دوچار ہونا پڑا ۔
دریں اثناء فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ نے بی جے پی کے جنرل سیکریٹری رام مادھو کے اس بیان کی شدید مذمت کی ہے۔ شبیر احمد شاہ نے کہا کہ یہ فرسودہ اور استعماری سوچ کی علامت ہے اور اقوام عالم کے ذمہ داروں کو اس بات کی تہہ میں جاکر دیکھنا ہوگا کہ آخر جموں کشمیر کی ریاست میں انسانی جانوں سے کھیلنے کے لئے اس طرح کی تاویل کیوں اور کس کی ایماء پر کی جارہی ہے اور کیوں اس طرح کی ذہنیت کے لوگوں کی پذیرائی کی جاتی ہے۔انھوں نے بی جے پی کے جنرل سیکریٹری کے بیان کو ذہنی بوکھلاہٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے روز ہی 9جوانوں کی موت ہوئی اور اسے زندگیوں کو بچانے کے کس مفروضے سے تاویل کی جاسکتی ہے ۔