مضامین

گولی یاگالی کشمیرمسئلہ کاحل نہیں

گولی یاگالی کشمیرمسئلہ کاحل نہیں

15 اگست کی تقریب پر وزیراعظم نریندر مودی نے ایک مرتبہ پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ ’نہ گولی سے نہ گالی سے کشمیر مسئلہ حل ہوگا کشمیریوں کوگلے لگانے سے ‘‘۔ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ مٹھی بھر علیحدگی پسند کشمیر میں حالات خراب کرنے کیلئے ذمہ دار ہیں جبکہ انہوں نے علیحدگی پسند اور جنگجوؤں کو مین اسٹریم میں شامل ہونے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ جنگجوئیت اور جنگجو دونوں کیخلاف ان کی سرکار کی جانب سے کوئی نرمی نہیں برتی جائیگی بلکہ ان کیساتھ سختی برتی جائیگی۔ انہوں نے واضح کر دیا کہ حکومت اس راہ پر چل پڑی ہے جہاں کشمیر کو دوبارہ سے جنت بنایا جائیگا ۔ وزیراعظم نے بھی کشمیر میں پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ انہیں امید ہے کہ اگلے مہینے لوگوں کو ان انتخابات میں اپنے حق رائے دہی استعمال کرنے کا موقع ملے گا تاہم انہوں نے کہاکہ کشمیری پچھلے ایک سال سے پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات کا ذکر کرتے رہے ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ اگلے مہینوں سے اس عمل کا آغاز کیاجائے ۔
بھارت کے72ویں یوم آزادی پر لال قلعہ پر اپنی تقریر میں وزیراعظم نریند ر مودی نے براہ راست کشمیر کا ذکر چھیڑ دیا اور کشمیر میں پیدا شدہ حالات کی منظر کشی کرتے ہوئے خبردار کیا کہ چند مٹھی بھر علیحدگی پسند کشمیر میں ایک نہ دوسرے طریقے سے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور یہی لوگ کشمیر کے حالات خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں اور حکومت ان تک پہنچ رہی ہے۔وزیراعظم مودی نے علیحدگی پسندوں اورجنگجووں دونوں کو مین اسٹریم میں شامل ہونے کی پیش کش کی اور کہا کہ مین اسٹریم میں انہیں بولنے کا پورا پورا حق حاصل رہیگا اور ان کے مسئلے حل کئے جائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ انتہاپسندی اور علیحدگی پسند ی کی سوچ تباہی کا راستہ ہیں اور یقینی طور پر کشمیرمیں علیحدگی پسند اورجنگجوئیت کے راستے پر چلنے والوں کیساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائیگی ۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کشمیر مسئلے کا حل صرف اور صرف کشمیریوں کوگلے لگانے سے ہوا اور بھارت کی کروڑوں عوام اس راہ پر چل پڑی ہیں۔انہوں نے نعرہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’نہ گولی سے نہ گالی سے کشمیر مسئلہ حل ہواگا کشمیریوں کو گلے لگانے سے ‘‘۔انہوں نے مزید کہاکہ اگر ایسا نہیں کیا جائیگا تو پھر ہم یہ نہیں سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے کا کوئی حل نکل سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کو آئینی طور پر تحفظ فراہم کرنا ہوگا اور اس سلسلے میں ہر سطح پر کام کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ مٹھی بھر عناصر کشمیر میں موجود ہیں جو کبھی ایک تو کبھی دوسرے طرح سے کشمیر کے حالات کو بگاڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ملی ٹینسی کیخلاف ہمارا اپروچ سخت ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں علیحدگی پسند نئے نئے پینترے آزما رہے ہیں اور جمہوریت کو کمزور کرنے اور حالات کو خراب کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔لیکن ہم نے ان کے ان حرکات پر کڑی نگاہ رکھی ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ کشمیر کو پھر سے جنت بنانے کا وقت آگیا ہے اور اس کی شانِ رفتہ کی بحالی پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پورا ملک کشمیر میں حالات کو بہتر بنانے کا متمنی ہے اور ایسے میں انہوںنے فورسز اور فوجی اہلکاروں کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے نکسلواد پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے کیونکہ ان نکلسوادیوں کی وجہ سے کافی سارا جانی نقصان ہورہا تھا ۔
وزیرعظم نے واضح کر دیا کہ دہشت گردی اور جنگجووں دونوں کیخلاف سخت رویہ اختیار کیا گیا ہے اور دہشت گردی میں ہم یعنی بھارت اکیلے نہیں ہیں بلکہ کئی ایک دیش ہمارے ساتھ ہیں ۔انہوں نے بیک وقت پاکستان کا نام لئے بغیر کہا کہ جب ہم نے سرجیکل اسٹرائکس کیں تو پوری دنیا بھارت کی طاقت سے آگاہ ہوگئی اور اب کسی کو بھی بھارت کی فوجی یا دفاعی طاقت پر شک نہیں ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری سرحدیں محفوظ ہیں اور ان سرحدوں کی حفاظت کیلئے پورا بھارت تیار ہے ۔
وزیراعظم نے واشگاف طور پر اعلان کیا کہ جموں وکشمیر کا مسئلہ گالی یا گولی سے سلجھنے والا نہیں ہے اسلئے ہم نے یہ اپروچ اختیار کر لیا ہے کہ کسی بھی اعتبار سے سے گولی اور گالی نہیں بلکہ ہمیں کشمیریوں کو گلے لگانے سے ہی کام چلانا ہوگا ۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب کے دوران کسی بھی ملک کا نام لئے بغیر کہا کہ ہم دہشت گردی پر یقین نہیں رکھتے ہیں اور اس بدعت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے بھارت اکیلا نہیں ہے ، دنیا کے کئی ممالک بھارت کے نقشہ قدم پر چل کر اس ناسور کو نابود کرنے کیلئے اپنی حمایت دینے کیلئے تیار ہیں ۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ہم ایک نئے بھارت کا قیام عمل میں لانا چاہتے ہیں جس میں ہر ایک طبقہ سے وابستہ لوگوں کو یکساں حقوق حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اسلافوں نے آزادی حاصل کر کے ملک کو ترقی کی منزلوں پر لے جانے کی بنیاد رکھی اور ہم نے ان کے ادھورے مشن کو پائے تکمیل تک پہنچا نے کی کوشش کرنی ہیں ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت کے عزائم نہیں رکھتا ہے تاہم ملک کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے نجات دلانے کیلئے کوئی بھی کسر باقی نہیں چھوڑ دی جائیگی ۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی اصولوں پر مبنی ہے ہم تمام ہمسایہ ملکوں کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملا کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں اوربھارت دنیا میں ایک طاقتور ملک کی حیثیت سے ابھر کر سامنا آرہا ہے ،ہم اپنے پڑوسیوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہماری سرحدوں کو کمزور کرنے کی کوئی کوشش کریں ۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ہم ایک نئے بھارت کا قیام عمل میں لانا چاہتے ہیں جہاں ہر طبقہ سے وابستہ لوگوں کو یکساں حقوق حاصل ہو،انہوں نے کہاکہ یکم جنوری2019ملک کیلئے ایک نئی صبح ہو گی ، ہم ایک عظیم بھارت کا قیام عمل میں لانے جا رہے ہیں جہاں نہ کوئی چھوٹا ہو گا نہ بڑا ۔وزیر اعظم نے اپنے خطاب کے دوران رشوت خوری ،بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کئی بار سخت فیصلے لئے اور جس طرح سے ملک کے عوام نے تعاون دیا اس کیلئے وہ مبارکباد کے مستحق ہے ۔بھارت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا عقیدے کے نام پر تشدد کو انڈیا میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ ملک امن، اتحاد اور خیر سگالی سے چلتا ہے۔ سب کو ساتھ لے کر چلنا ہماری تہذیب اور ثقافت ہے۔انھوں نے کہا کہ ایک وقت بھارت چھوڑو کا نعرہ تھا اور آج بھارت جوڑو کا نعرہ ہے۔انھوں نے تین طلاق کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے خلاف لڑنے والی خواتین کی مدد کی جائے گی۔انھوں نے اپنی حکومت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کالے دھن اور بدعنوانی کے خلاف ہماری جنگ جاری رہے گی ہم ٹیکنالوجی کے ساتھ شفافیت لانے کی سمت میں کام کر رہے ہیں۔ملک میں نوٹ بندی کے اپنے فیصلے پر انھوں نے کہا کہ نوٹ بندی سے ہم نے کالے دھن کو کنٹرول کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ تقریباً تین لاکھ کروڑ روپیہ بینکاری نظام میں واپس آیا۔