سرورق مضمون

گپکار ڈیکلریشن آر پار حمایت کا اعلان

سرینگر ٹوڈےڈیسک
نیشنل کانفرنس کے سربراہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی قیادت میں ہند نواز پارٹیوں نے ایک بار پھر گپکار ڈیکلریشن کو آگے لے جانے کا اعلان کیا ہے ۔ اس اعلامیہ کے تحت جموں کشمیر کو ریاست کا درجہ واپس دئے جانے کے علاوہ مبینہ طور دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کا مطالبہ کیا جارہاہے ۔ ڈاکٹر فاروق اور نیشنل کانفرنس پر حال ہی میں الزام لگایا جارہاتھا کہ انہوں نے مرکز کے ساتھ ساز باز کرکے کشمیر کے خصوصی درجے کو ختم کرنے کی مرکز کے فیصلے کی مخالفت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ الزامات اس وقت لگائے گئے جب فاروق عبداللہ نے اپنے بیانات میں جموں کشمیر کو ریاست کا درجہ واپس دئے جانے اور الیکشن کرنے کی بات کی ۔ اس موقعے پر انہوں نے دفعہ 370اور 35A کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا تھا ۔ ان کے اس بیان پر بہت سے سیاسی اور عوامی حلقوں میں ان کے خلاف غم وغصے کا اظہار کیا گیا ۔ ان حلقوں کی طرف سے الزام لگایا گیا کہ فاروق عبداللہ اور ان کے بیٹے عمر عبداللہ کو اس شرط پر رہا کیا گیا کہ وہ خصوصی درجہ بحال کرنے کی بات زبان پر نہیں لائیں گے ۔ فاروق عبداللہ نے اس طرح کی کسی بھی سودا بازی سے انکار کیا ۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی پارٹی نیشنل کانفرنس کے کئی سینئر رہنمائوں کے ساتھ اپنی رہائش گاہ واقع گپکار روڑ پر ملاقات کی ۔ ملاقات کے بعد انہوں نے گپکار ڈیکلریشن کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا ۔ یاد رہے کہ گپکار ڈیکلریشن کا ڈرافٹ اس وقت تیار کیا گیا تھا جب جموں کشمیر میں پچھلے سال 5اگست سے پہلے یہ افواہیں پھیل گئی تھیں کہ جموں کشمیر کے لئے آئین کے تحت دئے گئے خصوصی درجے کو ختم کیا جارہاہے ۔ اس کے بعد تمام مین اسٹریم پارٹیوں نے فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پر ایک کل جماعتی میٹنگ بلائی گئی تھی ۔ میٹنگ میں این سی کے علاوہ بی جے پی کو چھوڑ کر تمام چھوٹی بڑی مین اسٹریم جماعتوں کے سربراہوں نے شرکت کی تھی ۔ اس موقعے پر تمام جماعتوں نے ایک مشترکہ اعلانیہ جاری کیا جس میں جموں کشمیر کے لئے خصوصی درجہ بحال رکھنے اور تمام دوسرے حقوق قائم کرنے کی مانگ کی گئی تھی ۔ اس کے بعد اجلاس میں شریک تمام لیڈروں کو نظر بند کیا گیا ۔ کچھ ہفتے پہلے این سی اور دوسری جماعتوں کے بیشتر رہنما رہا کئے گئے ۔ تاہم پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی ابھی تک نظر بند ہے ۔ اس کی رہائی کے امکانات ابھی تک نظر نہیں آتے ہیں ۔ اس دوران نیشنل کانفرنس کے صدر اور پارلیمنٹ ممبر فاروق عبداللہ نے ایک بار پھر سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا ۔ انہوں نے لاک ڈاون کی وجہ سے اپنی رہائش گاہ پر پارٹی کارکنوں کے چھوٹے چھوٹے اجلاس بلائے ۔ اس کے علاوہ کہا جاتا ہے کہ دوسری جماعتوں کے لیڈروں کے ساتھ بھی رابطہ کیا گیا۔ اس کے بعد ایک بار پھر گپکار ڈیکلریشن کا اعادہ کیا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ تمام جماعتوں کے رہنمائوں نے ایک بار پھر اس اعلان نامے پر کاربند رہنے کا وعدہ کیا ہے ۔ کیمونسٹ پارٹی کے ایک وفد نے حال ہی میں فاروق عبداللہ کے ساتھ مل کر اپنی حمایت کا اعلان کیا ۔ سابق مرکزی وزیراور کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدامبرم نے کھل کر اس ریزولیشن کی حمایت کی ہے ۔ انہوں نے مشورہ دیا ہے کہ لوگوں کو اس ڈیکلریشن کی حمایت کرنے کے لئے بھرپور جدوجہد کا آغاز کرنا چاہئے ۔ اگرچہ لوگوںمیں اس حوالے سے تاحال کوئی دلچسپی نہیں پائی جاتی ہے ۔ تاہم سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ گپکار ڈیکلریشن ایک مثبت قدم ہے جو جلد ہی اپنا رنگ دکھائے گا ۔ دہلی کے بہت سے سیاسی حلقوں نے اپنی طرف سے حمایت کا اظہار کیا ہے ۔ بی جے پی کے سابق مرکزی وزیراور ناراض لیڈر یشونت سنہا نے بھی گپکار ڈیکلریشن کی بھرپور حمایت کی ہے ۔ اپنے بیان میں انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ کشمیر کے تمام سیاسی لیڈر اس مقصد سے اکٹھے ہیں اور جدوجہد کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کشمیر میں اس طرح کی جدوجہد کو زورزبردستی دبایا جاتا ہے ۔ انہوں نے ہندوستان کے عوام سے اپیل کی کہ وہ کشمیریوں کی جائز جدو جہد کی حمایت کریں ۔
گپکار ڈیکلریشن کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت یہ سامنے آئی کہ پاکستان نے اس کی حمایت کا اعلان کیا ۔ پاکستان اس مسئلے کو کئی بار عالمی اداروں میں اٹھاچکا ہے ۔ پاکستان کے وزیرخارجہ نے اسلامی ممالک کے مشترکہ فورم او آئی سی سے اپیل کی تھی کہ اس حوالے سے وزراء خارجہ کا اجلاس بلاکر اپنی حمایت کا اعلان کرے ۔ لیکن سعودی عرب نے پاکستان کی اپیل پر توجہ نہیں دی اور اجلاس بلانے کی کوششوں کو مبینہ طور ناکام بنایا۔ اس کے بعد پاکستان نے اپنے حامی ممالک کا الگ اجلاس بلانے کا اشارہ دیا ۔ اس دوران عرب امارات کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ اس سے کشمیر کا مسئلہ ایک بار پھر کھٹائی میں پڑگیا ۔ تاہم پاکستان کی طرف سے گپکار اعلان نامے کی حمایت کا اعلان سامنے آیا ۔ پاکستان کے اس اعلان سے بی جے پی کو سخت تشویش پیدا ہوئی ۔ جموں کشمیر بی جے پی یونٹ کے صدر کی طرف سے ایک سخت بیان منظر عام پر لایا گیا ۔ بیان میں گپکار ڈیکلریشن کی سخت مخالفت کی گئی اور الزام لگایا گیا کہ اس ڈیکلریشن کی حمایت کرنے والے پاکستان کے ایجنٹ ہیں ۔ اس دوران بی جے پی کے مرکزی جنرل سیکریٹری رام مادھو سرینگر پہنچ گئے جہاں انہوں نے جمعرات کو حالات کا جائزہ لیا ۔ ادھر پی ڈی پی نے سرینگر میں ایک احتجاجی ریلے منعقد کرنے کی کوشش کی۔ پی ڈی پی کے کئی رہنما بلیک رنگ کے بینر لے کر سرینگر میں جمع ہوگئے ۔ ان کے احتجاج کو ناکام بنانے کے لئے پولیس فوری طور حرکت میں آگئی اور احتجاج کرنے والوں کو حراست میں لیا ۔ اس کے علاوہ اپنی پارٹی کی طرف سے ایک اجلاس بلایا گیا ۔ اجلاس میں پارٹی کے لیڈروں نے خصوصی پوزیشن کی بحالی کے لئے قانونی کاروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ۔ اس طرح سے کشمیر میں ایک بار پھر خصوصی پوزیشن کو لے کر کوششیں نظر آنے لگی ہیں ۔