سرورق مضمون

گپکار گینگ دہشت کی حامی :امیت شاہ/ بی جے پی ہمارے اتحاد سے خوف زدہ :عمر عبداللہ

گپکار گینگ دہشت کی حامی  :امیت شاہ/ بی جے پی ہمارے اتحاد سے خوف زدہ  :عمر عبداللہ

سرینگر ٹوڈےڈیسک
کشمیر مین اسٹریم اور بی جے پی کے درمیان الفاظ کی جنگ پچھلے ایک سال سے جاری ہے ۔ جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کرنے کے بعد مرکزی سرکار نے مین اسٹریم کے تمام لیڈروں کو نظربند کیا ۔ اس طرح سے ان کے خلاف اعلان جنگ کیا۔ یہ جنگ آج تک جاری ہے ۔ اس میں اس وقت تیزی آئی جب بی جے پی کے کئی لیڈروں نے این سی اور پی ڈی پی کو ملک دشمن قرار دیا ۔ ڈاکٹر فاروق کے اس بیان نے بی جے پی حلقوں میں سخت اشتعال پیدا کیا جس میں فاروق نے کہا تھا کہ کشمیر کے لوگ ہندوستان کے بجائے چین سے زیادہ قریب نظر آتے ہیں۔ چین کی لداخ میںفوجی مداخلت کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان سخت تنائو پایا جاتا تھا ۔ اس موقعے پر ڈاکٹر فاروق نے ایسا بیان دیا جو ملک کے ساتھ کشمیریوں کی نفرت کی عکاسی کرتا تھا ۔ اس پر مرکزی لیڈروں نے سخت احتجاج کیا ۔ ایک بی جے پی رہنما نے مرکزی سرکار کو مشورہ دیا کہ ان ملک دشمن رہنمائوں کو پاکستان بھیجا جانا چاہئے ۔ اس کے جواب میں ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ انہیں پاکستان جانا پسند ہوتا تو 1947 میں ہندوستان کے بجائے پاکستان سے الحاق کرتے ۔ فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے گاندھی کے ہندوستان کے ساتھ الحاق کیا تھا ۔ لیکن اب یہ ملک انتہا پسندی کی طرف جارہاہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں مودی کا ملک تسلیم نہیں ۔ اسی دوران پی ڈی پی صدر اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے ایک پریس کانفرنس میں اس جھنڈے کی نمائش کی جو پچھلے سال دفعہ 370 منسوخ کئے جانے کے بعد سیکریٹریٹ سے اتارا گیا تھا ۔ اس کے بعد پہلا موقعہ تھا کہ کسی تقریب کشمیر کے ہل والے جھنڈے کی نمائش کی گئی ۔ محبوبہ کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت تک ہندوستان کا ترنگا نہیں لہرائیں گی جب تک کشمیر کی خصوصی پوزیشن واپس نہیں کی جائے گی ۔ اس بیان پر بھی بی جے پی کے لیڈر سخت سیخ پا ہوگئے ۔ انہوں نے کئی بار مطالبہ کیا کہ محبوبہ مفتی کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کیا جانا چاہئے ۔ کئی ایک لیڈروں نے اس بات پر زور دیا کہ محبوبہ مفتی کو گرفتار کیا جانا چاہئے۔ اس پر محبوبہ مفتی نے بھی اپنی طرف سے جوابی بیان بازی شروع کیا ۔ یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ۔ بیان بازی میں اس وقت سخت تیزی آگئی جب پچھلے دنوں ملک کے وزیرداخلہ امیت شاہ نے کشمیری لیڈروں کی طرف سے گپکار میںتشکیل دئے گئے اتحاد پیپلز الائنس کو گپکار گینگ قرار دے کر ملک دشمن اور بیرونی طاقتوں کا آلہ کار بتایا ۔ اس کے جواب میں اتحاد میں شامل لیڈروں نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور بتایا کہ وہ ملک کے وفادار ہیں ۔
پیپلز الائنس کے حوالے سے امیت شاہ کے جن ریمارکس کا چرچا ہے وہ انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھے تھے ۔ منگلوار کو سوشل میڈیا پر جاری کئے گئے اس ٹویٹ میں کہا گیا کہ گپکار گینگ کا مقصد عالمی طاقتوں کو کشمیر مسئلے میں ملوث کرنا ہے ۔ اس ٹویٹ میں انہوں نے کشمیر مین اسٹریم کے ساتھ کانگریس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ لیڈر اپنے راستے سے ہٹ گئے ہیں ۔ اگر یہ صحیح راستے پر نہیں آئے تو لوگ انہیں نیست ونابود کریں گے ۔ اپنے کئی سلسلہ وار ٹویٹوں میں انہوں نے گپکار الائنس کے خلاف سخت الفاظ کے ساتھ انہیں ملک دشمن قرار دیا ۔ ان الفاظ پر سخت حیرانی کے ساتھ ڈاکٹر فاروق کے علاوہ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے جوابی وار کئے ۔ عمر عبداللہ نے پیپلز الائنس کو ایک سیاسی اتحاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک جائز اور آئینی اتحاد ہے ۔ محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ بی جے پی کے خلاف اتحاد بنانا ان کا حق ہے وہ اس سے کسی طور الگ نہیں ہوجائیں گے ۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ بی جے پی کے خلاف الیکشن لڑنا کوئی جرم نہیں اور نہ یہ ملک کے خلاف کوئی سازش ہے۔اس بیان پر سخت ترین بیان فاروق عبداللہ کی طرف سے دیا گیا ۔ انہوں نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں تفصیل سے اس پر بات کی ۔ فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ گپکار اتحاد ہندوستان کا حامی ہے اور کسی بھی ملک دشمن سازش میں ملوث نہیں ۔ انہوں نے امیت شاہ کے مطلق کہا کہ اس نے فاروق عبداللہ کی تاریخ نہیں پڑھی ۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی عالمی فورموں میں اس نے ہندوستان کی نمائندگی کرکے ملک کا دفاع کیا ۔ جب بھی کشمیر مسئلے پر ہندوستان کو ضرورت پڑی فاروق عبداللہ نے ہندوستان کا ساتھ دیا ۔ان کا کہنا تھا کہ جموں کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے ورکروں نے اپنی جان دے کر ملک کے ساتھ وفاداری دکھائی اور ترنگا لہرانے کا کام انجام دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی ہندوستان کو اقوام متحدہ میں ضرورت پڑی فاروق عبداللہ آگے آگے تھا ۔ فاروق عبداللہ نے خود کو ہندوستان کا وفادار قرار دیا ۔ اس دوران کئی لوگوں نے امیت شاہ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جن لیڈروں کو وہ ملک دشمن قرار دے رہے ہیں ماضی میں وہ بی جے پی کے اتحادی رہے ہیں ۔ اس حوالے سے واضح کیا گیا کہ بی جے پی نے پہلے نیشنل کانفرنس کے ساتھ اتحاد کرتے ہوئے عمر عبداللہ کو مرکز میں وزیربنایا ۔ اسی طرح جموں کشمیر میں بی جے پی اور پی ڈی پی اتحاد تشکیل دے کر مشترکہ حکومت بنائی گئی ۔ اس حکومت میں بی جے پی کی طرف سے پیپلز الائنس کے ترجمان سجادلون کو کابینہ وزیر بنایا گیا ۔ اسی طرح دوسرے کئی لیڈروں کے بارے میں اسی طرح کی رائے پیش کی گئی ۔ اس دوران بی جے پی کے علاقائی اور مرکزی رہنمائوں کے بیان جاری ہیں ۔ مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے امیت شاہ کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ گپکار الائنس ایک گمراہ گینگ ہے ۔ انہوں نے اس اتحاد کو عوام دشمن قرار دیا ۔ نقوی نے بیان میں کہا کہ دفعہ 370 ایک گئی گزری بات ہے اس دفعہ کو کسی بھی حال میں دوبارہ بحال نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ بی جے پی کے جموں کشمیر یونٹ کے سربراہ نے گپکار اتحاد کو ملک دشمن قراردیا ۔ یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی نے بھی اس اتحاد کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے ملک دشمن قراردیا ۔