اداریہ

ہائے اقتدار وائے اقتدار

اقتدار اور اقتدار کے بغیر لیڈران کی کیفیت الگ الگ سی ہوتی ہے، عام طور پر دیکھنے کو مل رہا ہے کہ جب ایک انسان کے پاس اقتدار ہوتا ہے تو وہ اقتدار کے زور سے کسی کا بھی نہیں سنتا ، حتیٰ کہ اس کو غلط اورصحیح کی تمیز بھی نہیں رہتا۔ اقتدار کے وقت سب کچھ بھول کر خالص اقتدار کے مزلے لوٹنے کی طرف گامزن رہتا ۔ اقتدار میں رہنے والے لوگوں کو جب اقتدار نہیں رہتا ،اقتدار نہ رہنا انہیں بہت زیادہ ستاتا ہے یہاں تک کہ ان کو اصلیت نظر آتی ہے ان کو سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے کا شعور آتاہے۔ گذشتہ دنوں سابق وزیراعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اس بات کے لئے تشویش ظاہر کیا کہ ہندوپاک کی لفظی جنگ سے کسی بھی صورت میں برصغیر میں قیام امن ممکن نہیں، ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہندوپاک کی دوستی میں جنوبی ایشا ،برصغیر خصوصاً ریاست میں امن کی ضمانت ہے اور اس میں سب سے بڑی رکاوٹ مسئلہ کشمیر ہی ہے جس کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ فاروق عبداللہ کا یہ بیان حقیقت پر مبنی ہے مگر بد قسمتی سے یہ بیان اس وقت دیا گیا جب خود فاروق عبداللہ اقتدار میں نہیں ہے اور تب انہیں مسئلہ کشمیر اور ہندوپاک کی دوستی میں پائیدار حل نظر آتا ہے، اگرڈاکٹر فاروق آج بھی حکمران ہوتے تو یہ بھی آج کے حکمرانوں کی طرح پاکستان کے خلاف بیان بازی کرتے جیسا انہوں نے اقتدار میں کیا تھا۔ آج کے حکمران بھی جب اقتدار میں نہیں رہیں گے تب وہ بھی حقیقت پر مبنی بیان دینے کے لئے مجبور ہو جائیں گے۔ اقتدار کے عوض انہیں ایسے بیان دینے پڑتے ہیں جس سے ان کے آقا خوش رہیں گے ورنہ سبھی حکمران جو آج تک اس اقتدار کی گدھی پر بیٹھے ہیں سب جانتے ہیں کہ بھلائی کس میں ہیں لیکن تب بھی محض اقتدار حاصل کرنے اور اس پر بدستور قائم رہنے کے لئے ایسے بیان بازی کرتے ہیں جس سے ان کے آقاخوش رہ کر اُنہیں اقتدار جاری رکھنے کے وعدے کرتے ہیں۔