سرورق مضمون

ہلاکتوں کا سلسلہ جاری /جی ایس ٹی پر اسمبلی اجلاس طلب

ہلاکتوں کا سلسلہ جاری /جی ایس ٹی پر اسمبلی اجلاس طلب

ڈیسک رپورٹ
ریاستی گورنر این این ووہرا نے ایک نوٹی فکیشن جاری کرکے اسمبلی کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس طلب کیا ہے ۔ اجلاس 17 جون کو سرینگر میں منعقد کئے جانے کا فیصلہ لیا گیا ہے ۔ اس اجلاس کے ہنگامہ خیز ہونے کا اندازہ لگایا جارہاہے ۔ اجلاس ایک ایسے مرحلے پر بلایا گیا ہے جب کہ وادی میں افراتفری کا عالم پایا جاتا ہے ۔ شوپیان میں ایک عام شہری کی ہلاکت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا ۔ یہ نوجوان اس وقت مارا گیا جب فوج نے شوپیان علاقے کے گنوپورہ گائوںمیں کریک ڈاون کرکے گھر گھر تلاشی شروع کی ۔ فوج کو اطلاع تھی کہ یہاں کچھ جنگجو چھپے ہوئے ہیں ۔ جنگجووں کو تلاش کرنے کے لئے فوج اور پولیس ٹاسک فورس نے مشترکہ کاروائی شروع کی ۔ اس دوران یہاں احتجاج اور پتھر بازی کا سلسلہ شروع ہوا ۔ فوج نے گولی چلاکر ایک نوجوان کو ہلاک کیا۔ا س پر وادی بھر میں احتجاجی جلوس نکالے گئے ۔ اونتی پوری یونیورسٹی کے طلبہ کے علاوہ کئی کالجوں میں طلباو طالبات نے جلوس نکالے ۔ اس پر پولیس نے جوابی کاروائی کی ۔ اس کاروائی سے کئی طلبا اور طالبات کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے ۔ واقعے کے خلاف حریت کانفرنس نے جمعہ کو بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ۔ حریت احتجاج کو ناکام بنانے کے لئے انتظامیہ نے سرینگر کے علاوہ گاندربل ، اننت ناگ اور بڈگام میں بندشیں لگانے کا اعلان کیا ۔ اس کے علاوہ ایک دن کے لئے تمام تعلیمی ادارے بند کئے گئے ۔ اس وجہ سے وادی میں ایک بار پھر صورتحال انتہائی خراب قرار دی جارہی ہے ۔ ادھر حکومت نے اسمبلی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اسمبلی اجلاس سے پہلے اپوزیشن نیشنل کانفرنس نے جی ایس ٹی معاملے پر پارٹی اجلاس بلانے کی تجویز دی ہے جس کا وزیرخزانہ حسیب درابو نے خیرمقدم کیا ہے ۔ تاہم اس بارے میں حکومت کا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے ۔
حکومت نے اپنے کابینہ اجلاس میں جی ایس ٹی لاگو کرنے کو منظوری دی ہے ۔ البتہ کچھ آئینی مشکلات کو دور کرنے کے لئے اس پر اسمبلی کے دونوں ایوانوں کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ جی ایس ٹی کے بارے میں جو ملک کے وزرا خزانہ کی کانفرنس ہوئی اس کی میزبانی کا شرف ریاست کو حاصل ہوا ۔ اس دوران کئی حلقوں کی طرف سے سوال اٹھایا گیا کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کی وجہ سے جی ایس ٹی کو براہ راست ریاست پر لاگو نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ این سی سربراہ عمر عبداللہ نے اس مسئلے کو لے کر سخت بیان دیا ۔ عمر عبداللہ کے بیان کے جواب میں وزیرخزانہ نے کہا کہ جی ایس ٹی بل کا ڈرافٹ تیار کرنے والی کمیٹی کے سربراہ این سی کے سینئر لیڈر اور اس وقت کے ریاستی وزیرخزانہ رحیم راتھر تھے ۔ راتھر کی سربراہی میں بل کا ڈرافٹ تیار کیا گیا ۔ا س وقت این سی کو ریاست کی خصوصی پوزیشن یاد نہیں تھی ۔ درابو کے اس بیان نے این سی سربراہ کو خاموش کیا ۔ اس کے بعد ان کا شورشرابہ ختم ہوا ۔ البتہ این سی سربراہ نے کل جماعتی اجلاس بلانے کی تجویز پیش کی ۔ اجلاس کب بلایا جائے گا اور اس میں کیا فیصلہ ہوگا ، اب تک معلوم نہ ہوسکا ۔ تاہم یہ پہلا موقعہ جب حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے سے مصالحت کے موڑ میں نظر آتے ہیں ۔ این سی نے پہلی بار کسی معاملے پر افہام و تفہیم کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ البتہ کئی تجارتی حلقے ریاست پر جی ایس ٹی لاگو کرنے کے سخت مخالف بتائے جاتے ہیں ۔ ان حلقوں نے حکومت کے اس فیصلے کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرنے کی دھمکی دی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے یہاں کے تجارتی حلقوں کو سخت نقصان کا خطرہ ہے ۔ ان کا الزام ہے کہ اس طرح سے ریاست کی خودمختار ٹیکس پالیسی کے ختم ہونے کا خدشہ ہے ۔ تاہم وزیرخزانہ نے ان خدشات کو پوری طرح سے مسترد کیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ بل کو اسمبلی میں پیش کیا جائے گا ۔ اس پر آزادانہ بحث کے بعد ہی اس پر فیصلہ لیا جائے گا ۔ اس سے پہلے مرکزی وزیرخزانہ ارون جیٹلی نے اپنے بیان میں کہا کہ ریاست کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ جی ایس ٹی قبول کرے یا اسے مسترد کرے ۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس قانون کی عمل آوری نہ کرنے کی صورت میں یہاں کے صارفین کو دوگنا ٹیکس دینا پڑے گا ۔ جیٹلی کے بیان نے ریاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے ۔ اس کے بعد کئی حلقوں میں نرمی آئی ہے ۔ اب خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ اسمبلی جی ایس ٹی بل منظور کرنے میں کامیاب ہوگی ۔ اپوزیشن کی طرف سے زیادہ مزاحمت کا خطرہ نہیں رہاہے ۔ این سی نے کل جماعتی کانفرنس بلانے کی جو تجویز پیش کی ہے اسے ان کا مصالحانہ قدم قرار دیا جاتا ہے ۔ البتہ تجارتی حلقوں میں اس حوالے سے کئی طرح کے خدشات پائے جاتے ہیں ۔ حکومت کی کوشش ہے کہ تجارتی حلقوں کو مطمئن کیا جائے ۔ اس میں ناکامی کی صورت میں تجارتی حلقوں کا ایک حصہ حکومت کے حق میں کرنے کی کوشش ہوگی ۔ البتہ حکومت اس بات کا فیصلہ لے چکی ہے کہ جی ایس ٹی ریاست پر لاگو کیا جائے گا ۔ اس نے مرکزی سرکار کو اس حوالے سے یقین دہانی کرائی ہے کہ ریاست پر اس قانون کا اطلاق ضروری بنایا جائے گا ۔ اس غرض سے اسمبلی کا جو مشترکہ اجلاس بلایا گیا ہے اس کے آخر پر بل منظور کرائی جائے گی ۔ حکومت کو یقین ہے کہ اسے بل منظور کرانے کے لئے دو تہائی اکثریت حاصل ہوگی ۔ عوام میں اس مسئلے پر زیادہ بحث و مباحثہ نہیں ہوسکا ۔ بلکہ وادی میں خون ریزی کی وجہ سے جی ایس ٹی عوامی حلقوں میں بحث و مباحثے کا موضوع نہیں بن سکا ۔ اس وجہ سے عوامی بغاوت کا خطرہ نہیں ۔ البتہ وادی میں پہلے ہی حالات انتہائی مخدوش ہیں ۔ اس وجہ سے حکومت سخت پریشانیوں سے دوچار ہے ۔ آئے روز کی ہلاکتوں کی وجہ سے حکومت کے خلاف شورش میں اضافہ ہوتا نظر آتا ہے ۔