اداریہ

ہندوپاک سرحدوں پر تنائو

ہندوپاک سرحدوں پر تنائو
گذشتہ دنوں سے لگاتار ہندپاک سرحدوں پر تنائو بنا ہوا ہے، آئے روز خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ پاکستان کی بلا جواز فائرنگ سے مالی اور جانی نقصان ہو رہا ہے اور پاکستان بھی بھارت کی بلا جواز فائرنگ سے ان کے شہری ہلاکت اور مالی نقصان ہونے کا اظہار کر رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت بھی یہی ہے کہ دونوں طرف اہلکاروں کے علاوہ عام شہری بھی مارے جاتے ہیں ۔ یہ سلسلہ دونوں طرف سے جاری ہے ۔ تازہ فائرنگ میں بھارت نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کی بلاجواز فائرنگ سے بی ایس ایف اہلکار اور عام شہری کی ہلاکت ہوئی ہے۔ حالانکہ دونوں طرف سے بلا جواز فائرنگ کا یہ سلسلہ جاری ہے۔اس وجہ سے سرحد کے آر پار رہنے والے لوگ سخت مشکلات سے دوچار ہیں ۔ ہند پاک سرحدوں کے نزدیک گولی باری سے تنگ آچکے مجبور بہت سے لوگ پہلے ہی گھربار چھوڑ کر محفوظ علاقوں میں پناہ لے چکے ہیں، اتنا ہی نہیں بلکہ ایسے علاقوں میں تعلیمی ادارے بھی بند کئے گئے یہاں تک کہ شہریوں کی نقل و حرکت بھی محدود کی گئی۔ اس طرح سے سرحدوں کے نزدیک رہ رہے لوگوں کی زندگی گزارنا بہت مشکل بن گیاہے۔ آر پار کی فوج آئے روز ایک دوسرے پر حملے کر رہے ہیں ۔ اور اس طرح سے عام لوگ خاص طور پر سرحدوں پر رہنے والے علاقوں کے لئے لائین آف کنٹرول وبال جان بن رہی ہے۔ کئی ایک لوگ اگرچہ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے اور کئی ایک لوگوں نے ان علاقوں سے نقل مکانی کی بھی ہے مگر کئی ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے علاقوں سے نکلنے کے پوزیشن میں بھی نہیں ہے۔ اب جبکہ سیاسی سطح پر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی آنے لگی۔ بھارت کے کئی سیاستدان پاکستان کو انتباہ دے رہا ہے کہ اگر وہ اپنا یہ رویہ تبدیل نہ کرے تو اس کے سخت نتائج نکلیں گے۔ ردعمل میں پاکستان اپنے آپ کو کسی سے کم نہیں مانتے ہیں وہاں سے بھی اندیشہ آرہا ہے کہ وہ سرحد پار کی کسی بھی جارحیت کا جواب اچھی طرح دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں کا لہجہ استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح سے نہ صرف سرحدوں پر آر پار کی گولی باری ہوتی ہے بلکہ سیاسی لیڈروں کی بیانات میں بھی سخت لہجہ استعمال ہوتا ہے۔ بہر حال اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دونوں ممالک جنگ کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہے کیونکہ دونوں ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں اور اس لحاظ سے دونوں میں سے کوئی ایک بھی جنگ کے لئے پہل نہیں کر سکتا۔ مگر سوچنے والی بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ تو نہیں ہو سکتی ہے البتہ سرحد کے آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے لوگ سخت خوف و ہراس کے شکار ہیں اور آئے روز کی فائرنگ کی وجہ سے ان علاقوں کو چھوڑنے پر آمادہ ہیں ۔ دونوں طرف کی فوجیں بڑی تعداد میں لاشیں اٹھانے پر مجبور ہورہی ہیں ۔ اس خون خرابے سے آج تک کسی ملک کو کچھ ہاتھ نہیں آیا ہے ۔ انسانی جانیں ضائع ہونے کے علاوہ کچھ بھی فائدہ نہیں مل رہا ہے ۔ اس کے باوجود دونوں ملک اس سلسلے کو ختم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ عوام کا حکمرانوں کی اس پالیسی سے ناراضگی یقینی ہیں ۔ حالانکہ ذی حس لوگ اس بات پر توجہ دے رہے ہیں کہ غریب عوام اور فوجی مررہے ہیں فائدہ سیاست دان اٹھارہے ہیں ۔ سرحدی علاقوں میں محاذ گرم رکھنے سے کوئی بھی ملک ایک دوسرے پر سبقت لینے میں کامیاب نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ سلسلہ دہائیوں سے چلتا آیا ہے ۔ اس وجہ سے کوئی ملک پیچھے ہٹانہ کوئی ایک انچ زمین جیت سکا ۔