نقطہ نظر

ہند پاک کشید گی میں کمی کیا جنگ کا خطرہ ٹل گیا ؟

شیخ تجمل
لیتہ پورہ پلوامہ میں جنگجوئوں کی جانب سے نیم فوجی فورس سی آر پی ایف کی ایک کانوائے کو نشانہ بنا کر کئے گئے فدائین حملے کے بعد بھارت اور پاکستا ن کے مابین تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور پھر پاکستان کے بالاکوٹ علاقہ میں بھارتی فضائیہ کی جانب سے جیش محمد کے مبینہ تربیتی کیمپ پر کئے گئے حملوں اور اس کے جواب میں پاکستان کی جانب سے بھارتی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور پھر بھارتی فضائیہ کے ایک MiGطیارے کو مار گرائے جانے اور اسکے پائیلٹ ابھینندن ورتھمان کو گرفتار کر نے سے دونوں ملکوں میں پیدا جنگی صورتحال پر اگرچہ ونگ کمانڈر ابھی نندن ورتھمان کی رہا ئی کے بعد کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے تاہم دونوں ملکوں کے مابین سرحدوں پر تنائو اور پھر لفاظی جنگ ابھی تک جاری ہے ۔جنگی صورتحال کو ہوا دینے کے حوالے سے اکثر بیانات اگر چہ بھارت کی طرف سے ہی آرہے ہیں تاہم پاکستان کے کچھ سیاستدان بھی بھارت کے خلاف زہر افشانی کر نے سے کسی بھی صورت پیچھے نہیں ہیں ۔ونگ کمانڈر ابھی نندن کی رہا ئی اور پاکستان میں مقیم ملی ٹنٹ تنظیموں کیخلاف کریک ڈائوں کی شروعات کے بیچ اگر چہ دونوں ملکوں کے بیچ تنائو میں کافی حد تک کمی آئی ہے تاہم نیوکلیائی ہتھیار رکھنے والے دو پڑوسیوں کے بیچ جنگ کے امکانات ابھی تک موجود ہیں اور اس حوالے سے آنے والے ایک دو ماہ انتہا ئی اہمیت کے حامل ہو سکتے ہیں ۔
معروف انگریزی روزنامہ ’’واشنگٹن پوسٹ ‘‘ میں کچھ روز قبل چھپے ایک مضمون میں اسی مسئلہ پر بحث و تمحیص کی گئی تھی اور مصنفین جو کہ دونوں بھارتی ہیں نے کئی وجوہات پیش کی تھیں جن کی وجہ سے دونوں ملکوں میں جنگ کے امکانات موجود ہیں اور اگر دونوں ملکوں کی سیا سی لیڈرشپ نے تنا ئو کو کم کر نے کی خاطر صحیح اور سنجیدہ اقدامات نہیں کئے تو یہ پورے جنوبی ایشیاء بلکہ پوری دنیا کے امن کی خاطر ایک خطر نا ک صورتحال ثابت ہو سکتی ہے ۔جن چیزوں کو دونوں ممالک کے بیچ کشید گی کو ہوا دینے میں معاون کہا گیا ہے ان میں سیا سی لیڈران کے بیا نا ت اور میڈیا کی جانب سے ہر خبر کو بڑھا چڑھا کر پیش کر نے کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف خفیہ سازشوں کے تحت غیر ریا ستی ایکٹرس کا استعمال شامل ہے۔پلوامہ حملہ اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات کی زہر افشاں کوریج خاص کر ہندوستا ن کی کچھ میڈیا چینلوں کے ذریعے موجودہ کشیدگی کی اولین وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔پلوامہ حملے کے بعد بھارتی میڈیا نے جس شدت کے ساتھ بھارت کو پا کستان کے خلاف جنگ پر ابھارا اور بدلہ لئے جانے کی جس شدت کے ساتھ ما نگ کی گئی اس نے بغیر کسی شک و شبہ کے دونوں ملکوں کو جنگ کی دہلیز پر لا کھڑا کیا تھا ۔واشنگٹن پو سٹ میں چھپے اس تجزیاتی مضمون میں مصنفین نے بھارت کی اکثر میڈیا چینلوں کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی پرو پیگنڈا مشینری قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان چینلوں نے پا کستا ن سے بدلہ لئے جانے کی مانگ کو لے کر تما م تر صحافتی آداب کو بالا ئے طا ق رکھا اور یوں ہندوستانی میڈیا نے ایک منفی رول ادا کیا ۔ بالا کوٹ میں جیش محمد کے مبینہ تر بیتی کیمپ پر ہو نے والے فضائی حملے کے بعد پا کستانی میڈیا میں بھی ایک ہیجانی کیفیت پیدا ہو ئی اور یہاں پر بھی حکمرانوں کو جنگ پر ابھارے جا نے کاسلسلہ شروع ہو ا اور ہر طرف ایک ہی مطالبہ زور پکڑ نے لگا کہ بھارت پر جوابی حملہ کیا جا ئے تاکہ بالاکوٹ میں ہو ئے حملے کی وجہ سے مجروح پاکستا نی عوام کے اعتما د کو دوبارہ بحال کیا جا ئے ۔اس کے بعدکیا صورتحال پیدا ہو ئی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اور اسکا یہاں پر ذکر کر نا بھی شائد ضروری نہیں ۔
سیا سی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ لیتہ پورہ حملے نے جہاں بھا رت اور پا کستان کو ایک جنگ جیسی صورتحال میں دھکیل دیا ہے وہیں اس واقعے کی ٹائیمنگ سے بھارت میں نریندر مو دی کی سر براہی والی بھارتیہ جنتا پا رٹی کو بھی کا فی سیاسی فائدہ ہوا ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ چونکہ بھارت میں لوک سبھا انتخابات اگلے ایک دو ما ہ میں ہی ہو رہے ہیں اور ملک بھر میں سیا سی ما حول خاصا گرم ہے ایسے میں پلوامہ جیسے واقعے کا ہو نا شدت پسند نظریا ت کی حامل سیا سی جماعتوں جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا بھی شما ر ہو تا ہے کیلئے Blessing in Disguiseہی کہا جا سکتا ہے۔اس واقعے نے پورے ملک کی عوام کو اور ان کی ہمدردیوں کو ملک کی سیا سی قیادت اور فوج کے ارد گرد جمع کر دیا اور یوں نریندر مودی کی سر براہی والی حکو مت کے پاس ایک انتہا ئی قیمتی موقعہ ہا تھ آیا کہ پو رے ملک کی عوام کو یہ تاثر دیا جا ئے کہ شدت پسندی کے خلاف مرکزی حکو مت کو ئی سمجھو تہ نہیں کر ے گی اور لیتہ پورہ حملے میں ما رے گئے 40سے زیا دہ سکیورٹی اہلکاروں کے خون کا بدلہ لینے کے لئے حکو مت کسی بھی حد تک جا سکتی ہے ۔بھارتیہ جنتا پارٹی جس پر اس کے مخالفین ہمیشہ سے یہ الزام لگا تے آرہے ہیں کہ وہ مذہبی معاملا ت پر سیا ست کر تی ہے کی اصل کو ششیں اس وقت اسی چیز پر صرف ہو رہی ہیں کہ ملک بھر میں مذہبی جز بات کو ابھارا جا ئے تاکہ اس کا فائدہ آنے والے انتخابات میں پارٹی کو ہندو ووٹ کی صورت میں ملے اور یو ں موجودہ وزیراعظم نریندر مو دی کے 2030تک وزارت عظمیٰ پر براجمان رہنے کے سپنے کے ایک پڑائو کو پا یہ ٔ تکمیل تک پہنچا یا جا سکے ۔
لیتہ پورہ حملے کے بعد پاکستان کی جانب سے گرفتار بھا رتی پائیلٹ ابھی نندن ورتھمان کو واپس وطن بھیجے جانے کے بعد اگرچہ جنگی امکانات کا فی حد تک کم ہو گئے ہیں تاہم یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گاکہ دونوں ملکوں کے مابین اب جنگ کے امکانات یکسر ختم ہو گئے ہیں ۔حالیہ واقعات کے بعد دونوں ممالک خاص کر بھارت کی اعلیٰ سیا سی قیادت کی جانب سے دئے جا رہے بیا نات اور پھر پس پر دہ ہو نے والی کئی چیزیں اس بات کی عکا سی کر رہی ہیں کہ ابھی تعلقات میں اس قدر خوشگوار تبدیلی رونما نہیں ہو ئی ہے۔بھارتی وزیر اعظم نے حال ہی میں نئی دہلی میں سائینسدانوں کو انعامات سے نوازے جا نے کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب سے خطا ب کرتے ہو ئے حالیہ حملے یا پاکستان کا تذکرہ کئے بغیر کہا کہ بھارت نے ابھی ابھی ایک پائیلٹ پروجیکٹ مکمل کیا ہے اور وہ ایک تجربہ تھا جبکہ اصل پروجیکٹ ابھی باقی ہے ۔سیا سی تجزیہ نگا روں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیا ن کو کا فی سنجیدگی کے ساتھ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ پا کستا ن کی جانب سے بھا رتی فضائیہ کے ایک (پاکستانی دعوے کے مطابق2)طیا روں کے ما ر گرائے جانے اور پھر ونگ کمانڈر ابھی نندن کو گرفتار کرنے سے وزیر اعظم نریندر مو دی کی سیا سی چھبی کو کا فی نقصان ہوا ہے اور وہ پاکستان کے خلاف کو ئی نیا جارحانہ قدم اٹھا کر نہ صرف پا کستا ن کو ایک واضح پیغام دینا چاہتے ہیں بلکہ اپنے سیا سی مخالفین پر بھی اپنا رعب اور دبدبہ قائم رکھنا چاہتے ہیں ۔ونگ کمانڈر ابھی نندن کی رہا ئی کے فیصلے کو ایک خیر سگا لی اقدام کی حیثیت سے قبول نہ کر نا اور اسے پاکستانی حکومت کی ہار یا پھر بھارت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے تعبیر کیا جا نا بھی سیاسی ما ہرین کے آگے ایک ایسی صورتحال ہے جس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ بھارتی سیا سی قیادت میں پلوامہ حملے کے بعد پا کستان کے تئیں پیدا ہونے والے غم و غصے میں ابھی کو ئی کمی نہیں آئی ہے اور یہ کہ انتخابات سے قبل رائے عامہ کو اپنے حق میں استوار کر نے کی خاطر مر کز ی سیا سی قیادت پا کستا ن کے خلاف کو ئی بھی جارحانہ اقدام کر سکتی ہے ۔
پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی سر براہی والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اگر چہ بڑی تحمل مزاجی کا مظاہرہ کر تے ہو ئے نہ صرف بھارتی پا ئیلٹ ابھینندن ورتھما ن کو محض 48گھنٹوں کے اندر رہا کر نے کا فیصلہ کیا تاہم ملک کی مختلف اپوزیشن جماعتوں کے علا وہ عمران خان کی کا بینہ کے اکا دکا وزراء نے بھی سخت گیر بیا نات دینا ترک نہیں کیا ہے ۔پاکستان میں ریلوے کے وزیر شیخ رشید نے پچھلے کچھ ایام میں کچھ ایسے انٹر ویو دئے ہیں جو جنگی ما حول کو ہو ادینے کے حوالے سے کا فی خطر نا ک تصور کئے جا رہے ہیں ۔اسکے علاوہ ملک کی مختلف اپوزیشن جماعتوں نے عمران خان کی حکو مت کو بالاکوٹ واقعہ کے بعد بھارت کے تئیں نرم گوشہ اختیا ر کر نے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنا تے ہو ئے بھارت کو سبق سکھا نے کا لگاتا ر مطا لبہ کیا ہے ۔پاکستانی بحریہ نے کل ہی اپنے ایک بیا ن میں بھارت کے خلاف دھمکی آمیز الفاظ استعمال کر تے ہوئے خبر دار کیا کہ اگر بھا رت نے پا کستان کے بحری حدود کی خلاف ورزی کر نے یا پا کستان کے بحری حدود کے اندر کو ئی کا روائی کرنے کی کو شش کی تو اسکے بھیا نک نتا ئج نکلیں گے۔بھارتی اور پاکستانی سیا سی قیادت کے بیانات اور پھر دونوں ملکوں کے میڈیا کی جا نب سے چھو ٹی موٹی چیزوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کئے جا نے کی اس صورتحال سے یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ ابھی تک دونوں ملکوں کے مابین جنگ کے خطرات پوری طرح سے رفع نہیں ہو ئے ہیں ۔