سرورق مضمون

ہند چین دوستی اچانک دشمنی میں بدل گئی/ گلوان ویلی کا دفاع کرتے 20 بھارتی فوجی مارے گئے

سرینگر ٹوڈےڈیسک

سوموار کو لداخ سیکٹر میں ہندوستانی فوج کے بیس اہلکار اس وقت مارے گئے جب چین کے ساتھ ان کی مڈبھیڑ ہوگئی ۔ یہ واقعہ لائن آف کنٹرول پر پیش آیا جس میں ایک کرنل سمیت بیس فوجیوں کے مارے جانے کی اطلاع ہے ۔ مشہور سیاحتی مقام پنگون جھیل کے پاس گلوان ویلی میں دونوں طرف کے فوجی ایک دوسرے کے سامنے آگئے ۔ پہلے شور شرابا پھر دھکم پیل اور آخر میں ہاتھا پائی ہوئی ۔ جھڑپ میں دونوں طرف کے کئی فوجی زخمی ہوگئے ۔ ان میں سے بعد میں ہندوستانی فوج کی طرف سے بیس اہلکاروں کے مارے جانے کی تصدیق کی گئی ۔ کہا جاتا ہے کہ چینی فوجیوں نے ان پر پتھروں ہتھوڑوں اور دوسرے آلات سے حملہ کیا ۔ یہ حملہ اچانک ہوا ۔ دونوں طرف کے اہلکار فوجی ساز وسامان سے لیس نہیں تھے۔ گولیوں کے کسی طرح کے تبادلے کی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے ۔ تاہم کچھ اہلکاروں پر گولیوں کے نشانات پائے جانے کی خبر ہے ۔ جس کی تاحال تصدیق نہیں ہوئی ۔ بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ جھڑپ میں چین کے تیس سے چالیس تک اہلکار مارے گئے ۔ چین نے ابھی تک اس حوالے سے کچھ نہیں کہا۔ غیر ملکی میڈیا نے اپنے طور ہلاکتوں کی کوئی خبر نہیں دی ہے ۔ اس حوالے سے سرکاری بیان کو ہی آگے بڑھایا گیا ۔ اس وجہ سے زیادہ تفصیل سامنے نہ آسکی ۔ بھارتی عوام میں چین کی طرف سے کی گئی کاروائی پر سخت غم وغصہ پایا جاتا ہے ۔ دونوں ملکوں کے سربراہان نے برداشت سے کام لینے اور امن بحال رکھنے پر زور دیا ہے ۔ تاہم لائن آف کنٹرول پر مبینہ طور تاحال سخت تنائو پایا جاتا ہے ۔
دہلی سرکار کی طرف سے ہند چین سرحد پر پائے گئے تنائو پر پہلے خاموشی اختیار کی گئی ۔ اس دوران سوشل میڈیا کے علاوہ کئی ٹی وی چینلوں نےگلوان وادی میں ہندوستانی فوجیوں کے مارے جانے کی اطلاع دی ۔ اس پر سخت شور شرابہ دیکھنے کو ملا ۔ منگلوار کو ایک کرنل سمیت تین فوجیوں کے مارے جانے کی تصدیق کی گئی اور غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق دو درجن فوجیوں کے لاپتہ ہونے کی خبر بھی سامنے آئی ۔ بعد میں فوج نے اعداد وشمار پیش کرتے ہوئے بیس فوجیوں کی لاشیں اٹھانے کی تصدیق کی۔ ہلاکتوں کی وجہ کیا رہی اور جھڑپ کیسے پیش آئی اس بارے میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ۔ وزیراعظم نے اس واقعے پر خاموشی اختیار کی اور ان کے دفتر سے بھی کوئی بیان نہیں دیا گیا ۔ یہاں تک کہ وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے بیان دینے سے پرہیز کیا ۔ اس دوران اپوزیشن کی طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ وزیراعظم اصل صورتحال سامنے لائے ۔ بدھ وار کو وزیردفاع اور وزیراعظم نے اس پر پہلی بار بیان دیا اور چین کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا اعلان کیا۔وزیردفاع نے فوج کے سربراہ کے علاوہ تینوں شعبوں کے سربراہوں سے میٹنگ کی جس کے بعد انہوں نے بیان دیا ۔ انہوں نے بیس فوجیوں کی ہلاکت پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے بدلہ لینے کی بات کی ۔ اس کے جلد بعد وزیراعظم نے ہلاکتوں پر دکھ کا اظہار کیا ۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ان کی حکومت امن کی خواہش مند ہے ۔ تاہم جارحیت کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ وزیراعظم نے یقین دلایا کہ مارے گئے فوجیوں کا خون رائیگان نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ فوجیوں کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے اس خون کی قیمت چکانے کی بات کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ مارے گئے فوجیوں نے ملک کے دفاع میں اپنی جانیں دیں ۔ اس لئے ان کی قربانیوں کی قدر کی جائے گی ۔ انہوں نے ان فوجیوں کے عزیز واقارب سے کہا کہ پوری قوم ان کے غم اور دکھ میں شریک ہے ۔ وزیراعظم نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے کل جماعتی میٹنگ بلانے کا اعلان کیا ۔ اس میٹنگ کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کو دعوت دی گئی ۔ اس دوران کانگریس نے وزیراعظم کو ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کی سخت تنقید کی ۔
بدھ وار کو اس وقت حالات میں ٹھہرائو آگیا جب دونوں ملکوں نے کشیدگی کو ختم کرنے کے لئے بات چیت پر رضامندی کا اظہارکیا ۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ چین میں ہندوستان کے سفیر نے وہاں کے وزیرخارجہ کے ساتھ فون پر بات چیت کی ۔ اس موقعے پر ہندوستانی سفیر کی طرف سے اپنے ملک کے بیس فوجی جوانوں کی ہلاکت پر مبینہ طور سخت احتجاج کیا ۔ بعد میں دونوں ملکوں کے نمائندوں نے حالات پر امن بنانے کے لئے بات چیت آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ۔ کہا جاتا ہے کہ دونوں ملکوں نے بدھ وار کو میجر جنرل سطح کی ملاقات کی ۔ اس موقعے پر کشیدگی کو ختم کرنے اورگلوان ویلی میں امن بحال کرنے پر زور دیا گیا ۔ اگلے روز چین نے ان دس فوجیوں کو رہا کیا جنہیں پیر کو دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان ہوئی جھڑپ کے دوران چین نے اپنی تحویل میں لیا تھا ۔ میجر جنرل کی ملاقات میں اگرچہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ۔ تاہم بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ظاہر کیا گیا ۔ امید کی جارہی ہے کہ اگلے چند دنوں کے اندر اس طرح کی ایک اور ملاقات ہوگی ۔ اس دوران وزیراعظم کی طرف سے بلائی گئی کل جماعتی میٹنگ میں شریک لیڈروں کو گلوان درے میں پیش آئے واقعے کی تفصیل بتائی گئی ۔ اس موقعے پر مارے گئے بیس فوجیوں کے گھر والوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گیا ۔ تمام سیاسی لیڈروں نے اس بات کا اعلان کیا کہ کشیدگی کے اس موقعے پر ملک کے عوام یک جا ہوکر فوج کے ساتھ کھڑا ہیں ۔ میٹنگ میں وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ ملک کی ایک انچ بھی چین کے قبضہ میں نہیں ہے اور کسی بھی فوجی پیکٹ پر چینی فوجوں نے قبضہ نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ میٹنگ میں کہا جاتا ہے کہ بڑے خوش گوار ماحول میں ہوئی اور فوجی معاملات پر یکجہتی کا اظہار کیا گیا ۔ اگرچہ گلوان وادی میں حالات کشیدہ ہیں تاہم تنازع بڑھنے کا امکان ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ دونوں ملکوں نے امن کے لئے بات چیت آگے بڑھانے کا اعلان کیا ہے ۔ ہندوستان کی طرف سے کسی بھی جارحت کا بھر پور جواب دینے کا اظہار کیا جارہاہے ۔ کہا جاتا ہے کہ لداخ میں بڑے پیمانے پر فوج جمع کرکے کسی بھی قسم کی جنگ کو ٹالا گیا ہے ۔