سرورق مضمون

یوم جمہوریہ زندہ باد/ کشمیر بند ، فون بند ، انٹرنیٹ بند

یوم جمہوریہ زندہ باد/ کشمیر بند ، فون بند ، انٹرنیٹ بند

ڈیسک رپورٹ
26 جنوری کو سرینگر سے دہلی تک سخت حفاظتی انتظامات میں یوم جمہوریہ منایا گیا ۔ اس حوالے سے سب سے بڑی تقریب راج پتھ پر منعقد ہوئی جہاں آسیان ASEAN ملکوں سے آئے نمائندوں نے پریڈ میں شرکت کی ۔ اس موقعے پر صدر اور وزیراعظم ان کے ساتھ موجود تھے ۔ وزیراعظم نے یہ بات زور دے کر کہی کہ مہمان نمائندوں کے ممالک کے ساتھ ہندوستان کا اشتراک بڑھ رہاہے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان ممالک کے ساتھ دوستی کی وجہ سے ملک مادی ترقی میں آگے بڑھ جائے گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک پہلے ہی کافی ترقی کرچکا ہے ۔ تاہم مزید آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ۔ وزیراعظم نے یہ بات زور دے کرکہی کہ مادی ترقی کو آگے بڑھانے کے لئے مل جل کر کوششوں کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مستقبل کی ضروریات سے پوری طرح سے باخبر ہے اور لوگوں کو خوشحال بنانے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے ۔ اسی طرح کے خیالات کا اظہار ملک کے صدر نے کیا ۔ اس موقعے پر ان لوگوں کی عزت افزائی کی گئی جنہوں نے پچھلے سال کے دوران جرات مندانہ کام کئے ہیں ۔ انہیں میڈل اور ٹرافی سے نوازا گیا ۔ جموں کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں جنگجووں کے ساتھ مڈبھیڑ میںمارے گئے ایک فوجی آفیسر کو سب سے بڑے ملکی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔
جموں کشمیر میں بھی سخت حفاظتی بندوبست کے تحت یوم جمہوریہ منایا گیا ۔ اس سلسلے میں پہلے ہی ہائی الرٹ کیا گیا تھا ۔ جنگجووں کی طرف سے ممکنہ کاروائی کو روکنے کے لئے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے ۔ جنگجووں نے لوگوں کو ان تقریبات میں شامل نہ ہونے کی اپیل کی تھی ۔ خاص طور سے طلبہ کو ایسی کسی تقریب میں شریک ہونے پر جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی تھی ۔ اس وجہ سے حالات انتہائی کشیدہ تھے ۔ متحدہ حریت قیادت کی طرف سے پہلے ہی اس دن کو یوم سیاہ منانے اور مکمل ہڑتال کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ سرکاری فورسز نے پہلے ہی جگہ جگہ تلاشی کاروائیاں شروع کی تھی ۔ شیرکشمیر اسٹیڈیم جہاں یوم جمہوریہ کی تقریب منعقد کرنے کا پروگرام تھا ، پہلے ہی لوگوں کے لئے علاقہ غیر بنادیا گیا تھا ۔ اس طرف جانے والی تمام سڑکیں بند کی گئی تھیں اور لوگوں کو اس جگہ سے دور رہنے کے لئے کہا گیا تھا ۔کئی طلبہ کے والدین نے اسکول انتظامیہ سے بچے ان تقریبات میں شامل نہ کرنے کی اپیل کی تھی ۔ لیکن متعلقہ حکام نے ان کی اپیل ماننے سے انکار کیا۔ اس حوالے سے معلوم ہوا کہ جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلعے کے تین پرائیویٹ اسکولوں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کی دھمکی دی گئی ۔ اس کے بعد بہت سے اسکولوں کی طرف سے طلبہ ان تقریبات میں شامل ہوئے ۔ سرینگر کے اسٹیڈیم میں جو تقریب منعقد ہوئی اس میں پہلی بار طالبات نے سر پر دوپٹہ پہن کر کلچرل شو میں حصہ لیا ۔ سب سے اہم واقعہ پلوامہ میں پیش آیا جہاں مبینہ طور جنگجو مقامی سرکاری اسکول کے پرنسپل کے گھر میں داخل ہوئے اور اسے طالبات کے ان تقریبات میں شمولیت پر سخت ڈرایا دھمکایا ۔ اس کے بعد طلبہ میں سخت خوف وہراس پیدا ہوگیا ۔ سرکار نے یوم جمہوریہ سے ایک دن پہلے ہی انٹرنیٹ سروس بند کی ۔ جبکہ یوم جمہوریہ کے موقعے پر صبح سویرے فون سروس بند کی گئی۔ وادی میں حریت ہڑتال کی وجہ سے ہوکا عالم تھا ۔ دکانیں بند تھیں ۔ سرکاری دفاتر میں چھٹی تھی ۔ پورا کاروبار زندگی ٹھپ پڑا ہوا تھا ۔ سخت خوف وہراس کے عالم میں تقریب منعقد کی گئی ۔ اس موقعے پر ریاستی گورنر کی طرف سے مبارک بادی کا پیغام پڑھا گیا ۔ گورنر نے اپنے پیغام میں سرحدوں پر تنائو کی صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا ۔ اپنے پیغام میں انہوں نے اس کے لئے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان کی کوشش رہی کہ زیادہ تعداد میں دراندازوں کو کشمیر میں داخل کرے ۔ اسی غرض سے سرحد پر گولہ باری کی جاتی رہی ۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے سارا سال سرحد پر گولہ باری ہوتی رہی جس سے کئی جانیں ضایع ہوگئیں ۔ تاہم انہو ں نے فوج کو مبارکباد دی اور کہا کہ فوجی جوانوں کے چوکنا رہنے کی وجہ سے دراندازی کو ناکام بنایا گیا ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان جلد ہی ہوش کے ناخن لے گا اور امن کے راستے پر گامزن ہوگا ۔ سرحدوں پر یہ تنائو ابھی تک جاری ہے ۔ آرایس پورہ سیکٹر میں طرفین کے درمیان خیرسگالی کی میٹنگ ہونے کی اطلاع ہے ۔ تاہم کئی مقامات پر اس حوالے سے صورتحال جوں کی توں ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ یوم جمہوریہ کے موقعے پر روایتی ملاقاتوں اور مٹھائی کا تبادلہ کرنے کا جو رواج تھا اس میں جوش و خروش نظر نہ آیا ۔ کہا جاتا ہے کہ بیشتر مقامات پر ایسی تقریبات نہیں ہوئیں ۔ کانگریس کی طرف سے اس بات پر سخت احتجاج کیا گیا کہ سرکار نے سرحدی علاقوں میں بسنے والے شہریوں کی مشکلات کا جائزہ نہ لیا اور ان کی چارہ جوئی کی طرف توجہ نہ دی گئی ۔ ادھر اطلاع ہے کہ ریاستی پولیس نے ایک غیر ریاستی خاتون خود کش حملہ آور کو گرفتار کرلیا ہے ۔ اس بارے میں پولیس کو پہلے ہی خبردار کیا گیا تھا کہ ریاست میں خود کش حملہ ہونے والا ہے ۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ پونہ سے آنے والی اٹھارہ سالہ دوشیزہ کو بجبہاڑہ میں گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ اگرچہ غیر جانبدار حلقوں کی طرف سے تا حال اس خبر کی تصدیق نہیں کی گئی ہے ۔ تاہم پولیس نے اس گرفتاری کی اطلاع دی ہے اور اسے بہت بڑی کامیابی قرار دیا ہے ۔ پولیس نے گرفتار کی گئی خاتون بمبار کی سعدیہ شیخ کے طور شناخت کی ہے ۔ پولیس سربراہ کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہے اور حتمی نتیجہ تک نہیں پہنچا گیا ۔ اسی دوران آرایس ایس کے کئی کارکنوں نے دہلی سے آکر لالچوک میں ترنگا لہرانے کی کوشش کی ۔ پولیس نے انہیں یہاں پہنچتے ہی گرفتار کیا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ سامنے نہ آیا ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ریاست بھر میں مجموعی صورتحال پرامن رہی اور اس طرح سے 26 جنوری کا پورا دن خیریت سے گزر گیا ۔