مضامین

یو این او مارچ پر انتظامیہ کا قدغن

کشمیر میڈیا نیٹ ورک
گذشتہ روز یعنی 10 فروری کو مشترکہ مزاحتمی قیادت کی لالچوک اور یو این او چلو کال کو ناکام بنانے کیلئے شہر خاص اور سول لائنز کے بیشتر علاقوں میں کرفیو جیسی سخت پابندیاں عائد کرکے شہر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی ناممکن بنائی گئی جبکہ سید علی گیلانی،میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک سمیت متعددمزاحتمی لیڈران کو خانہ نظر بند یا گرفتار کیا گیا۔ادھر سوپور اور پلہالن پٹن سمیت کئی جگہوں پر نماز جمعہ کے بعد پولیس اور مظاہرین کے مابین پر تشدد جھڑپیں بھی ہوئیں۔
سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے مشترکہ طور لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ نماز جمعہ کے بعد لالچوک کا رُخ کریں جہاں سے سونہ وار میں قائم اقوام متحدہ فوجی مبصر کے آفس کی طرف مارچ کیا جائے گا۔تینوں مزاحتمی لیڈرا ن مختلف علاقوں سے خود لالچوک تک جلوسوں کی قیادت کرنے والے تھے۔ مزاحتمی قائدین نے اعلان کیا تھا کہ یواین آفس کے ذمہ داروں کو ایک یادداشت پیش کی جائے گی جس میں تہاڑ جیل کے اندر مدفون محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کی باقیات کشمیری عوام کو سونپ دینے کیلئے بھارت پر دبائو ڈالنے کامطالبہ کیا جائے گا۔تاہم اس اعلان کے پیش نظر پولیس اور سیکورٹی فورسز نے جمعرات کی شب سے ہی حساس علاقوں کو اپنی تحویل میں لینے کا عمل شروع کیا تھااور مجوزہ مارچ کو ناکام بنانے کیلئے لوگوں کے چلنے پھرنے پر پابندیاں عائد کی تھیں۔اس مقصد کیلئے لالچوک کی طرف جانے والے کم و بیش تمام راستے سیل کردئے گئے تھے اور جگہ جگہ ناکے بٹھاکر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری تعداد تعینات کی گئی تھی۔پولیس اسٹیشن کوٹھی باغ،مائسمہ، کرالہ کھڈ اور رام منشی باغ کے بیشتر علاقوں میں پولیس اور فورسز کے دستے متعدد مقامات پر گشت کرتے نظر آئے ۔فورسز اہلکاروں نے یو این آفس سونہ وار کی طرف جانے والے راستوں کی بھی سخت ناکہ بندی کررکھی تھی اور بکتر بند گاڑیاں کھڑی کرکے کسی کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔مجموعی طور پر شہر کے کم و بیش سول لائنز کے تمام علاقوں میں اپنی نوعیت کی سخت بندشیں عائد کرکے لوگوں کی نقل و حرکت محدود کردی گئی۔
پولیس نے مائسمہ، گائو کدل، ریڈ کراس روڑ، ایکسچینج روڑ،بڈشاہ چوک ریگل چوک، گھنٹہ گھراور گردونواح کے مصروف ترین بازاروں کی کم و بیش تمام اہم سڑکوں پر خاردار تار لگاکر لوگوں کی نقل و حمل ناممکن بنادی تھی اور فورسز اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد جگہ جگہ گشت پر مامور تھی۔کئی ناکوں پر مسافروں اور راہگیروں کو پولیس و فورسز اہلکاروں کی منت سماجت کرتے دیکھا گیا لیکن کسی کو ناکے عبور کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مسافروں نے بتایا کہ پابندیوں کے باعث انہیں دس منٹ کی مسافت طے کرنے کیلئے ایک گھنٹے کا سفر کرنا پڑا تھا جبکہ راہگیروں کو بھی گول گول گھوم کر اپنی منزلوں کی طرف جانا پڑا تھا۔ ان ناکوں پر اخباری نامہ نگاروں اور فوٹو گرافروں کو بھی گزرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی جو اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں پریس کالونی کی طرف جارہے تھے۔
مزاحتمی قیادت کی’’یو این چلو‘‘ کال کو ناکام بنانے کیلئے خانیار، نوہٹہ، مہاراج گنج، رعناواری ، صفاکدل اور پائین شہرکے دیگر پولیس تھانوںکے تحت آنے والے بیشتر علاقوں میںبھی غیر اعلانیہ طور کرفیو جیسی بندشیں عائد رہیں ۔جمعہ علی الصبح ہی سینکڑوں اضافی پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں کو شہر خاص کے تمام علاقوں میں تعینات کیا گیاتھا، لوگ جب صبح جاگ گئے تو اُنہوں نے اپنی بستیوں کو پولیس اور فورسز گھیرے میں پایا جو اُنہیں اُنکے گھروں کے اندر رہنے کی تلقین کررہے تھے۔ درجنوں مقامات پر لوگوں کی نقل و حرکت روکنے کے لئے ناکہ بندی کی گئی تھی اور خار دار تاریں بچھا کر رکائوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔اس صورتحال کے باعث سے کادی کدل، گوجوارہ،عالی کدل، صفاکدل ،سکہ ڈافر، نواب بازار، حبہ کدل، زالڈگر، بسنت باغ، گائو کدل، نوہٹہ ، جمالٹہ، خانیار، رعناواری، راجوری کدل ،بہوری کدل ، مہاراج گنج اور دیگر علاقوں میں دن بھر ہو کا عالم رہا۔ امن و قانون کو برقرار رکھنے کیلئے پولیس اور فورسز کے اضافی دستے ہر طرف نظرآرہے تھے اور مجموعی طور پر پائین شہر کے لوگوں کو گھروں کے اندر محصور رکھا گیا ۔ اس صورتحال کی وجہ سے نوہٹہ میں شہر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ جامع مسجد اور اس کے گردونواح کے علاقوں کی سخت ترین ناکہ بندی کی گئی تھی جس میں دوپہر ہوتے ہوتے مزید سختی برتی گئی اور لوگوں کو مسجد کی طرف جانے نہیں دیا گیا۔
قابل ذکر ہے کہ حریت کانفرنس(ع) کے چیرمین میرواعظ عمر فاروق جو جامع مسجد میں نما ز جمعہ کی پیشوائی کرتے ہیں، کو صبح سویرے ہی اپنی نگین رہائش گاہ پر نظر بند رکھا گیا تھا۔وہ جامع مسجد سے لالچوک کی طرف جلوس کی قیادت کرنے والے تھے۔ پولیس کے ایک سینئرآفیسر نے کشمیر میڈیا نیٹ ورک کے ساتھ بات کرتے ہوئے شہر کے کسی بھی علاقے میں باضابطہ کرفیو کے نفاذ سے انکار کیا ،تاہم انہوں نے بتایا کہ بعض علاقوں میں احتیاط کے بطور دفعہ144کے تحت امتناعی احکامات نافذ رہے ۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ احتجاج کو روکنے کیلئے یہ اقدام امن و قانون کوبرقرا رکھنے کیلئے اٹھایا گیا۔انہوں نے کہا کہ حکام کو خدشہ تھا کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران امن و قانون کا مسئلہ درپیش ہوسکتا ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ سید علی گیلانی ،شبیر احمد شاہ اور نعیم احمد خان سمیت متعدد مزاحتمی لیڈران پہلے سے ہی اپنے گھروں میں نظر بند ہیںجبکہ متعدد دیگر لیڈران کو بھی خانہ نظر بند یا گرفتار کیا گیا تھا۔البتہ لبریشن فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک رات بھر روپوش رہنے کے بعد نماز جمعہ کے بعد سرائے بالا میں نمودار ہوئے اور یو این آفس کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے انہیں حراست میں لیا۔حریت(ع) کے ترجمان نے بتایا کہ پولیس نے حریت کے راجباغ آفس کے باہر دو کارکنوں کو اُس وقت حراست میں لیا جب وہ لالچوک کی طرف جارہے تھے۔
دریں اثناء شمالی قصبہ سوپور سے کے ا یم ا ین کو موصولہ اطلاعات کے مطابق نمازجمعہ کے بعد لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے جامع مسجد علاقے میں جمع ہوکر اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے۔مظاہرین نے جب جلوس نکالنے کی کوشش کی تو انہیں روکنے کی کوشش کی گئی جس کے بعد طرفین کے درمیان پتھرائو کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا جبکہ مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس شیل اور سٹن گرینیڈ داغے گئے۔ادھرپٹن کے پلہالن میں بھی جمعہ نماز کے بعد اسی طرح کی صورتحال پیش آئی جب لوگوں نے جمع ہوکر سرینگر بارہمولہ شاہراہ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی۔پولیس نے فوری طور ان کا تعاقب کیا جس کے بعدجلوس کے شرکاء نے پولیس پر پتھر اور اینٹیں پھینکیں جس کے جواب میں ان پر اشک آور گیس کے گولے داغے گئے۔عینی شاہدین نے کشمیر میڈیا نیٹ ورک کو بتایا کہ گورنمنٹ ہائر اسکینڈری اسکول کے نزدیک جھڑپوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے کئی گھنٹوں تک جاری رہاجس دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے زوردار ٹیر گیس شیلنگ کی گئی۔