اداریہ

2016افراتفری کا سال

سال2016 ہم سے رخصت ہو رہا ہے اور اب ہم نئے سال یعنی 2017 میں داخل ہونے جا رہے ہیں۔ اس طرح سے ہم سے 21ویں صدی کا ایک اور سال رخصت ہو رہا ہے۔ یہ صدی کا 16واں سال ہے۔ یہ سال کشمیر کے لئے کسی بھی لحاظ سے بہتر نہ رہا۔ کہیں بھی اور کسی بھی شعبے میں کوئی نئی ترقی نہ دیکھی گئی۔ پوری دنیا کی طرح کشمیر کے لئے بھی 2016 کا سال مایوس کن رہا ۔2016 نے کشمیریوں کو آہوں و سسکیوں کے سوا کچھ بھی نہ دیا ۔ اس سال میں عوام کی مشکلات میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا۔ سال کے شروع میں بہت سے لوگوں نے امید ظاہر کی تھی کہ یہ سال مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بہت اہم سال ہوگا ۔ لیکن ایسا نہ ہوا ۔ اس سال کے دوران کشمیری عوام کو روز نئی مصیبتوں کا منہ دیکھنا پڑا۔ ایک کے بعد ایک نئی مصیبت کا سامنا رہا ۔ پورے سال کے دوران حالات خراب رہے ۔ نہ امن ملا اور نہ چین کا سایہ ہی نصیب ہوا ۔ جنوری سے لے کر دسمبر تک پورا سال افراتفری کا سال ثابت ہوا۔2016کو کشمیر کے لوگ بہت عرصے تک یاد رکھیں گے ۔ قتل وغارت کا جو سلسلہ یہاں 1990 سے چل رہا ہے2016 میں وہ شدت کے ساتھ جاری رہا ۔ اس لحاظ سے کشمیر کے لئے یہ سال سخت مشکلات اور مصائب کا سال ثابت ہوا۔ اس سال کے ابتدا میں ہی ریاست کے وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید رحلت کر گئے اس کے بعد ریاست پر گورنر راج نافذ کیا گیا۔ کئی مہینوں کے گورنر راج رہنے کے بعد محبوبہ مفتی نے بھاجپا کے ساتھ اتحاد کر کے سیول سرکار تشکیل دی جس کی وہ سربراہ بنی۔ اس کے بعد ریاست میں سینک اور پنڈت کالنیوں کا مسئلہ چھایا رہا۔ جس کا چرچہ ریاست کی اسمبلی میں بھی رہا اس کے بعد8 جولائی کو حزب المجاہدین کے کم عمر کمانڈر برہان وانی دو ساتھیوں سمیت کوکرناگ کے بمڈورو علاقے میں جان بحق ہوئے ۔ اس کے بعد سے پورے پانچ مہینے وادی میں افراتفری کا ماحول رہا۔ روز نئی نئی شہری ہلاکتیں ہوتی رہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے جن میں سے کم عمر سے لے کر بوڑھے افراد بھی شامل ہیں اتنا ہی نہیں اس ایجو ٹیشن میں بچے، جوان، بوڑھے اور مستورات بھی متاثر ہوئے۔ اس طرح برہان وانی کے جان بحق ہونے کے بعد سے وادی میں بے چینی پائی جاتی تھی۔ زندگی کے سبھی طبقے متاثر ہوئے۔ کاروبار،تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتروں میں کام کاج مفلوج ہو کر رہ گیا۔ اس طرح سے اگر دیکھا جائے تو سال 2016 افراتفری کا سال ثابت ہو۔2016 کو رخصت کرنے کے ساتھ ہی اب2017 کے لئے امیدیں وابستہ کی جاتی ہیں کہ یہ سال کشمیری عوام کے لئے بہتری، سکون ، امن اور اخوت لے کر آئے۔