سرورق مضمون

2016 آہوں اور سسکیوں کاسال

یوسف ندیم
پوری دنیا کی طرح کشمیر کے لئے بھی 2016 کا سال مایوس کن رہا ۔2016 نے کشمیریوں کو آہوں و سسکیوں کے سوا کچھ بھی نہ دیا ۔ اس سال عوام کی مشکلات میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا۔ سال کے شروع میں بہت سے لوگوں نے امید ظاہر کی تھی کہ یہ سال مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بہت اہم سال ہوگا ۔ لیکن ایسا نہ ہوا ۔ اس سال کے دوران کشمیری عوام کو روز نئی مصیبتوں کا منہ دیکھنا پڑا۔ ایک کے بعد ایک نئی مصیبت کا سامنا رہا ۔ پورے سال کے دوران حالات خراب رہے ۔ نہ امن ملا اور نہ چین کا سایہ ہی نصیب ہوا ۔ جنوری سے لے کر دسمبر تک پورا سال افراتفری کا سال ثابت ہوا۔2016کو کشمیر کے لوگ بہت عرصے تک یاد رکھیں گے ۔ قتل وغارت کا جو سلسلہ یہاں 1990 سے چل رہا ہے2016 میں وہ شدت کے ساتھ جاری رہا ۔ اس لحاظ سے کشمیر کے لئے یہ سال سخت مشکلات اور مصائب کا سال ثابت ہوا۔
2016 کا ابھی پہلا ہی ہفتہ چل رہا تھا کہ ریاست کے وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید مختصر علالت کے بعد 7 جنوری کو نئی دہلی کے میڈیکل انسٹیچوٹ میں اس دنیا سے انتقال کر گئے۔ ان کی موت سے ان کی پارٹی کے اندر صف ماتم بچھ گیا۔ کئی لیڈران مفتی محمد سعید کی وفات پرزور وقطار روتے دیکھے گئے۔ ملک کے نامور سیاست دانوں اور دوسری شخصیات نے ان کی موت پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔ وزیراعظم نریندر مود ی نے ان کی میت کو سرینگر روانہ کرنے سے پہلے ان کا آخری دیدار کیا اور میت پر پھول ڈالے۔ ان کے ہمراہ وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ بھی وہاں آئے تھے۔وزیرداخلہ مفتی کی میت کے ساتھ ان کی آخری رسومات میں حصہ لینے کے لئے سرینگر تک ساتھ آگئے ۔ یہاں مفتی کی میت کو ان کی رہائش گاہ گپکار روڑ لیا گیا جہاں سے غسل اور کفن پہنانے کے بعد انہیں ایس کے اسٹیڈیم سرینگر لایا گیا۔ اسٹیڈیم میں پولیس نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا ۔ بعد میں ان کو نماز جناز پڑھا گیا۔ نماز جنازہ تعلیم کے وزیر نعیم اختر نے پڑھایا ۔ جنازہ کی ادائیگی کے بعد انہیں سرکاری اعزاز کے تحت آبائی قصبہ بجبہاڑہ لیا گیا جہاں اُنہیں دفن کیا گیا ۔ ان کی موت سے پی ڈی پی حلقوں میں صف ماتم بچھ گیا۔ خاص طور سے ان کی بیٹی محبوبہ مفتی نے سخت ماتم کا اظہار کیا ۔ وزیراعلیٰ کا عہدہ خالی ہونے کے بعد محبوبہ مفتی سے فوری حلف اٹھانے کے لئے کہا گیا ۔ سخت دبائو کے باوجود محبوبہ مفتی بحیثیت وزیراعلیٰ فوراً حلف اٹھانے کےلئے تیار نہیں ہوئی ۔ اس کے بعد ریاست میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔ ریاست کے لئے یہ ساتواں موقعہ ہے جب یہاں ریاست پرگورنر راج نافذ کیا گیا ۔ محبوبہ مفتی پر دبائو بڑھنے لگا اور انہیں وزیراعلیٰ بننے کے لئے مجبور کیا جانے لگا ۔ انہوں نے کسی قسم کے دبائو میں آنے اور حلف اٹھانے سے انکار کیا ۔ اس دوران محبوبہ مفتی نے جب لگاتار بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانے میں ناراضگی دکھائی تاہم اپنی ہی پارٹی کے چند ایک ممبران نے ادھر اُدھر کرنا شروع کیا تو مجبوراً محبوبہ مفتی کو دلی کا رُخ اختیار کرنا پڑا، وہاں بی جے پی لیڈران کے ساتھ ملاقات کر کے ریاست کو پائور پروجیکٹوں کی واپسی کے شرط پر حکومت بنانے پر رضا مندی دکھائی تاہم جب محبوبہ مفتی کی یہ مانگ بھی بی جے پی لیڈران نے خاطر میں نہیں لائی تو مجبوراً انہوں نے بھی اقتدار کے لئے پرانے ہی تنخواہ پر کام کی رضا مندی ظاہر کی ، اور یوںریاست کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے محبوبہ مفتی اور اُن کی کابینہ کے وزراءکی تقریب حلف برداری سوموار یعنی4 اپریل کو جموں یونیورسٹی کے جنرل زور آور سنگھ آڈیٹوریم میں ہوئی ، جس کے ساتھ ہی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی وساطت سے بھارتیہ جنتا پارٹی جموں وکشمیر کی انتخابی تاریخ میں دوسری مرتبہ ملک کی واحد مسلم اکثریت والی اس ریاست میں حکومت کا حصہ بن گئی۔ اس طرح سے محبوبہ مفتی ریاست کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بن گئی۔ انہیں اگرچہ سیاست کا کافی تجربہ تھا اس کے باوجود بھی کئی لوگوں کا کہنا تھاکہ وزارت ان کے سر پر پھولوں کا نہیں بلکہ کانٹوں کا تاج ہوگا۔ ان کی پارٹی پی ڈی پی کا لوگوں کے اندر شہرت کا گراف بہت ہی نیچے آگیا تھا ۔ ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے پارٹی لوگوں کی نظروں میں گرچکی تھی ۔ اس وجہ سے محبوبہ مفتی کا پہلے ہی وزیراعلیٰ بننے میں تامل تھا، محبوبہ مفتی پارٹی کو مضبوط کرنا چاہتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے تین مہینے تک ٹال مٹول سے کام لیا ۔ حالانکہ پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی صدراور ممبر پارلیمنٹ محبوبہ مفتی نے حکومت سازی کے حوالے سے جاری تذبذب کو برقرار رکھتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں کرسی سے نہیں بلکہ ریاست جموں و کشمیر کے امن اوروقار کے ساتھ پیار ہے۔انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا تھاکہ انہیں ایسی کرسی نہیں چاہئے جس پر بیٹھ کر وہ عوام بالخصوص نوجوانوں کیلئے کچھ نہ کرسکے۔
اب باضابطہ محبوبہ مفتی نے بحیثیت وزیراعلیٰ حکومت کی بھاگ ڈور سنبھالی اور یوں وزیراعلیٰ کی Desigination کو پکڑ کر رکھا، محبوبہ مفتی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد ابتدا میں ہی یعنی 12 اپریل کو ہندوارہ میں اُس وقت صورتحال بگڑ گئی جب مبینہ طور ایک فوجی اہلکار نے ایک کمسن طالبہ سے بدتمیزی کرنے کی کوشش کی ، وہاں موجود کئی نوجوانوں نے فوجی اہلکار کی نازیبا حرکت پر آواز اٹھائی اور حالت قابو سے باہر ہونے لگی، نوجوانوں نے نازیبا حرکت پر احتجاج کرنا شروع کیا تو احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے گولیاں چلی جس کے نتیجے میں موقعے پر ہی دو نوجوانوں کی موت واقع ہوئی۔ آنا فانا چاروں اوور یہ خبر پھیل گئی، حالت مزید بگڑنے لگی۔ اس دوران احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور احتجاجیوں پر پھر سے گولیاں چلیں جس کے نتیجے میں مزید دو نوجوان اور ایک خاتون جان بحق ہوئی۔ اس دوران متاثرہ لڑکی کو حراست میں رکھا گیا اور متاثرہ لڑکی باہر کی حالت سے بے خبر تھی۔ لڑکی کو پانچ جانیں چلے جانے کی بالکل بھی خبر نہ تھی ۔ متاثرہ لڑکی کو حراست میں رکھ کر اُس سے ایک بیان دلوانے کے لئے تیار کیا جا رہا تھا جو فوجی اہلکاروں کو بچانے کے حق میں بن جائیں، دوسری اور حکومت نے معاملے کی تحقیقات کرانے کا حکم بھی صادر کیا تھا۔
اس کے بعد یہاںایک لہر سی چلی کہ ریاست جموں وکشمیر میں مائیگرنٹ پنڈتوں کو الگ سے بسانے اور سینک کالونی کے ساتھ ساتھ نئی صنعتی پالیسی منصوبوں کو عملانے سے ایک طرف اس بات کا خدشہ کیا جا رہا ہے کہ اس معاملے کو لے کر ریاست میں ایک بڑا لاوا پک رہا ہے جو حکومت کےلئے ایک بڑی چتاونی ہے۔ حکومت ریاست میں سینک اور پنڈت کالنیاں بنانے کے حق میں ہے،جس کا چرچہ ریاست کی اسمبلی میںبھی رہا، اس دوران حزب اختلاف کے لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے سینک اور پنڈت کالنیوں پر سوال اٹھایا تاہم اس کا دفاع کرتے ہوئے اگلے روز وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے قانون ساز اسمبلی میں عمر عبداللہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کبوتروں اور بلیوں کو ایک ساتھ نہیں رکھ سکتا۔ یعنی کبوتر کشمیری پنڈتوں اور بلی کشمیری مسلمانوں کو محبوبہ مفتی لقب دے چکی تھی۔ علیحدگی پسندوں کی طرف سے ریاستی سرکار کو خبردار کیا گیا کہ حکومت کے ان اقدام سے ریاست میں سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔18 مئی کو لبریشن فرنٹ کے سربراہ یٰسین ملک نے حیدر پورہ آکر حریت لیڈر سید علی گیلانی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے وقت حریت (گ)کے تمام سرکردہ رہنما وہاں موجود تھے۔ سیاسی حلقوں میں اس ملاقات کو بڑی اہمیت دی گئی۔ اس کے بعد کچھ عرصہ گذر جانے کے بعد پانپور میں سی آر پی ایف کی گاڑی پر ملی ٹینٹ حملہ ہوا جس میں8 سی آر پی ایف اہلکار مارے اور بیس زخمی ہوگئے اس حملےسے ملک بھر میں تشویش کی لہردوڑگئی۔ اس حملے کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی۔ ریاستی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اس حملے پر بیان دیتے ہوئے سخت دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسے حملوں سے اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی ہوتی ہے ۔ ان کے اس بیان پر اسمبلی میں اپوزیشن نے سخت ہنگامہ کیا۔
اس کے بعد سلسلہ آگے بڑھتا گیا عوام کچھ حد تک حکومت کے تئیں بدظن ہونے لگا اور اندر ہی اندر ایک لاوا پکنے لگا کہ کہ عید الفطر کے بعد پتہ نہیں ریاست میں کیا کچھ ہونے والا ہوگا، بہر حال ماہ رمضان گذر جانے کے بعد تیسری عید یعنی8 جولائی کو حزب المجاہدین کے معروف اور کم عمر کمانڈر برہان وانی کے اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ جان بحق ہونے کی خبر کیا آئی کہ پورا کشمیر برہان کی ہلاکت کو لے کر اُبل پڑا۔ ان کی ہلاکت نے پورے کشمیر میں سخت بحران پیدا کیا ۔ وادی بھر میں لوگ سڑکوں پر احتجاج کرنے نکل آئے ۔ بڑی تعداد میںلوگ جن میں بچے بوڑھے مرد خواتین شامل رہے، ان کے جنازے میں شرکت کے لئے برہان کے آبائی گائوں شریف آباد ترال پہنچ گئے۔ ان کے جنازے میں مبینہ طور پانچ لاکھ کے قریب لوگوں نے شرکت کی ۔ تعزیت کا یہ سلسلہ ختم ہونے کو نہیں آیا ۔ جگہ جگہ جلسے جلوس اور احتجاجوںکا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ اس حوالے سے کشمیر کی تاریخ کا سب سے طویل ہڑتال کیا گیا۔ برہان وانی کشمیر ملی ٹنسی کو سوشل میڈیا کے ذریعے چلانے کے لئے بہت ہی مشہور تھا ۔ اس سے وہ حزب المجاہدین میں درجنوں نئے عسکریت پسند بھرتی کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ برہان کشمیر کی نئی نسل کے لئے ایک ہیروقراردیا جانے لگا ۔ ان کی ہلاکت کی وجہ سے کشمیر میں تمام کاروبار زندگی ٹھپ ہوگیا اور لوگوں نے حریت قیادت کے تحت آزادی تک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ۔ وادی میں ہرقسم کا ٹرانسپورٹ بند ہوگیا ۔ سرکاری دفتر مفلوج ہوگئے اور کاروباری سرگرمیاں پوری طرح سے بند ہوگئیں ۔ پاکستان نے کشمیر جدوجہد کی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی مدد کرنے کا اعلان کیا ۔ پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے یواین جنرل کونسل میں تقریر کرتے ہوئے برہان وانی کو مجاہد آزادی قرار دیتے ہوئے اسے خراج عقیدت پیش کیا ۔اسی دوران اوڑی سیکٹر میں فوجی کیمپ پر فدائین حملہ کیا گیا جس میں19 فوجی مارے گئے۔ بھارت نے اس حملے کا ذمہ دار پاکستان کوقرار دیا اور جوابی حملے کی دھمکی دی ۔ اس پر پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی سطح پر تنائو شروع ہوگیا ۔ دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف حالت جنگ میں آگئے ۔ جنگ کسی طرح سے ٹل گئی ۔ بھارت نے سرجیکل سٹرائیک کرکے سرحد پار لشکر طیبہ کے کیمپ اڑانے اور کئی جنگجو مارنے کا دعویٰ کیا ۔پاکستان نے اس کی تردید کی ۔ البتہ ہندوستان نے اپنے دعوے کو سچ قرار دیا ۔ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی جنگ اور تنائو آج تک جاری ہے ۔
ادھر وادی میں فورسز نے بے تحاشہ طاقت کا استعمال کر کے متعدد شہری ہلاکتوں کو انجام دیا اور انتظامیہ نے پوری وادی میں لگاتار کرفیو نافذ کیا۔ تقریباً32 دنوں تک لگاتار ہڑتال، کرفیو اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد مجبوراً راجیہ سبھا میں اپوزیشن نے کشمیر کی صورتحال پر بحث کرنے کی مانگ کی۔ اپوزیشن کی لگاتار مانگ کو مد نظر رکھتے ہوئے 10 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کے مدعو کو لے کر ایک زبردست بحث چھیڑا گیا جس میں اپوزیشن لیڈر اور سابق ریاست کے وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے کشمیریوں کے کئی مدعوں کی طرف ایوان کی توجہ مبذول کرائی، تاہم بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینئر کانگریس لیڈر ڈاکٹر کرن سنگھ نے کہا کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور بھارت کو کبھی گولیاں بند کر کے اس مسئلہ کو حل کرنا ہوگا اس دوران ڈاکٹر کرن سنگھ نے کہا کہ کشمیر بھارت میں ضم نہیں ہوا ہے بلکہ بھارتی وفاق کے ساتھ اس کے تعلقات دفعہ 370کے تابع ہیں کرن سنگھ نے کہا ’ میرے والد نے تین باتوں پر حامی بھری، اس میں دفاع، مواصلات اور خارجی امور، بھارت نے اسی طرح دیگر ریاستوں کے ساتھ بھی دستاویزات پر دستخط کئے یہ تمام ریاستیں بھارت میں ضم ہوئی لیکن ریاست جموں وکشمیر ضم نہیں ہوئی۔ اس طرح سے راجیہ سبھا میں کشمیر کے مدعو کو لے کر بحث بھی بے سود نکلا۔
اس دوران 15 اگست کی تقریب کے سلسلے میں انتظامات ہو رہے تھے اور کشمیر میں بھی حسب روایت اس دن15 اگست کی سب سے بڑی تقریب بخشی سٹیڈیم میں منعقد کی جارہی تھی ۔ مگر وادی میں نامساعد حالات کے چلتے لگاتار کرفیو رہنے سے عام زندگی ایک طرح سے مفلوج ہو کر رہی گئی۔ عوام حکومت سے شہری ہلاکتوں کو لے کر سخت نالا ں تھا اور عوام جان و مال کی سلامتی کیلئے فکرمند تھا ۔ اس دوران37 دنوں کے لگاتار کرفیو کے باوجود بھی15 اگست کی بخشی سٹیڈیم تقریب میں وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کا تقریر بھی کشمیری نوجوانوں کےلئے مزید اشتعال کا سبب بنا۔
ادھر وادی میں لگاتار پیلٹ فائرنگ سے آئے روز یا تو شہری ہلاکتیں ہوتیں یا درجنوں زخمی ہوتے ہیں، سنگین صورتحال کے چلتے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے وادی میں لگاتار کرفیو، بندشوں اور ہڑتال کے چلتے کشمیر کادو روزہ دورہ کیا، دورے کے اختتام پریعنی لگاتار کرفیو کے 48 دن کے بعد قریباً68 شہری ہلاکتیں اور قریباً دس ہزار لوگوں کے زخمی جن میں سے سینکڑوں افراد بینائی سے بھی محروم ہوئے، ہونے کے بعد وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے ساتھ میڈیا کے سامنے آئیں اور ایک مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں محبوبہ مفتی پریس کانفرنس میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے بجائے خود بولنی لگی اور یوں پریس پر برس پڑی۔ اور زور زور سے چلانے لگی کہ جو لوگ مارے گئے وہ کیا ٹافی یا دودھ لانے کیمپوں پر گئے ، پریس کانفرنس میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ وزیراعلیٰ تو آپ کی اپنی ہے۔ وزیر داخلہ کا دورے کے بعد بھی وادی میں کئی اور شہری ہلاکتوں کے علاوہ سینکڑوں لوگ زخمی ہوئے، پیلٹ فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا اور حریت قائدین بھی ہڑتال کےلئے احتجاجی کلینڈر مشتہر کرتے رہے۔ اس طرح سے احتجاج کے دوران لوگ زخمی یا جان بحق ہوتے رہیں، جان بحق ہونے والے شہری کی تعداد پھر سو تک پہنچ گیا۔اس طرح سے وادی میں افرا تفری کا ماحول پورے پانچ مہینے بنا رہا، پانچ مہینوں کی ہڑتال سے کشمیر میں کروڑوں روپے کا نقصان ہوا اورسرکار پوری طرح سے مفلوج ہوکر رہ گئی۔احتجاج کو ختم کرنے کے لئے پولیس کو میدان میں لایا گیا ۔ پولیس نے نیم فوجی دستوں کی مدد سے ہڑتال ختم کرنے کے لئے تشدد سے کام لیا۔ ایک سو سے زیادہ نوجوا ن مارے گئے جو سب کے سب عام شہری بتائے جاتے ہیں ۔ پیلٹ گن استعمال کرکے دس ہزار کے لگ بھگ لوگ زخمی کئے گئے اور چھ سوشہریوں کو بینائی سے محروم کیا گیا۔اسی طرح چھ ہزار سے زیادہ لوگوں کو حراست میں لیا گیا۔تین بار دہلی سے ہوم منسٹر راج ناتھ سنگھ نے سرینگر آکر ریاستی حکومت سے مل کر عوامی مزاحمت پر قابو پانے کی کوشش کی تھی ۔ اس کے بعد ایک پارلیمانی وفد سرینگر آیا اور علاحدگی پسند رہنمائوں سے ملنے کی کوشش کی ۔ حریت قیادت نے اس ڈیلی گیشن کو ملاقات دینے سے انکار کیا ۔ گیلانی نے ان کی آمد پر دروازہ کھولنے سے انکار کیا ۔ ادھر ہڑتال میں نرمی کرنے نہ کرنے کے سلسلے میں 8نومبر کو جب حریت قائدین سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ عمرفاروق اور یٰسین ملک نے حریت قائد سید علی گیلانی کی رہائش گاہ پر ایک اجلاس بلایا، جس میں زندگی کے مختلف طبقوں سے وابستہ لوگوں نے شرکت کی۔ اجلاس اگر چہ دن بھر جاری رہا تھا تاہم شام دیر گئے حریت کانفرنس کی طرف سے ایک پریس بیان جاری کیا گیا، جس میں اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ حریت کو زندگی کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والی تنظیموں نے رواں تحریک کےلئے مستقبل کا پروگرام دینے کےلئے بھر پور اعتماد دیا تھا۔ تاہم اس دورا ن لوگوں کی ایک اچھی تعداد سید علی شاہ گیلانی کی رہائش گاہ کے باہر اس انتظار میں تھے کہ حریت قائدین کی طرف سے آئندہ کا لائحہ عمل کیا رہے گا ، اس سے پہلے کہ حریت قائدین کی طرف سے کچھ پروگرام آئے لوگوں کی ایک اچھی تعداد نے زبردست مظاہرے کئے جس میں حریت قائدین کو عندیہ دیا گیا کہ وہ کسی بھی صورت میں ہڑتال توڑنے کی کوشش نہ کریں، تاہم اُن احتجاجی لوگوں کی یہ کوشش بار آور ثابت ہوئی اور اجلاس میں اکثریت اس بات پر متفق ہوئی کہ حریت کی طرف سے تحریک آزادی کو آگے لے جانے کے لئے جو بھی پروگرام آئے گا وہ اس کو بر حق سمجھیں گے اور من عن اس پر عمل پیرا ہوں گے۔ دوسری اوور وادی کے اکثر لوگ اس روز زبردست تذبذب میں رہے کہ حریت کی طرف سے بلائے گئے اجلاس میں اگلہ لائحہ عمل کس طرح ترتیب دیا جائے ، ایک طبقہ یہ سننے کے لئے زبردست تشنہ تھے کہ کب ہڑتال کو ختم ہونے کی خبر سنی جائیں، ایک طبقہ اس بات کے لئے زبردست اتاولے ہو رہے ہیں کہ کہیں حریت قائدین ہڑتال میں کوئی نرمی نہ لائیں، ایک طبقہ اس بات کا گفت و شنید کرتے دیکھے گئے کہ چار مہینے سے جاری ہڑتال ابھی کوئی رنگ نہیں لایا اور کئی حلقے اس بات کو لے کر پریشان دکھ رہے تھے کہ ہڑتال کسی بھی صورت میں جاری رہنا چاہیے، اس حلقے کا کہنا ہے کہ100 لوگوں نے اس جاری ایجوٹیشن میں تحریک آزادی کےلئے اپنے جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور ہزاروں لوگ جسمانی طور ناکارہ بنائے اور تو اور سینکڑوں بچے اور بچیں اپنی بینائی سے محروم ہو گئے۔ اس طرح سے مختلف حلقوں سے مختلف رائے قائم کی گئی اور الگ الگ لوگوں کی الگ الگ امیدیں وابستہ ہوئیں۔ بہر حال اس کے بعد بھی حریت قائدین ہڑتال کے کلینڈر جاری کرتے رہے اور حسب معمول کلینڈر مشتہر کرتے رہے۔ ادھر دہلی سے آئے پارلیمانی دفدجس کی سربراہی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کر رہے تھے، حریت قیادت نے اس ڈیلی گیشن کو ملاقات دینے سے انکار کیا۔ ان کی ناکامی اور واپسی کے بعد سابق مرکزی وزیر اور بی جے پی رہنما یشونت سنہا کی قیادت میں پانچ رکنی ڈیلی گیشن سرینگر آکر حریت قیادت سے بات چیت کرنے میں کامیاب ہوئی۔ یہ وفد پہلے اکتوبر میں اور دوبارہ دسمبر میں سرینگر آیا ۔ وفد نے حریت رہنمائوں سے مل کر دہلی کشمیر بات چیت شروع کرانے کا عندیہ دیا ۔ اس وفد کی حریت لیڈروں سے ملاقات کے بعد حالات بدلنے لگے ۔ حریت رہنمائوں نے ہڑتالی کلینڈر میں نرمی لانے کا اعلان کیا۔ اس طرح سے جولائی میں شروع ہوئی ہڑتال کی شدت میں بہت حد تک کمی آگئی۔ اور حریت قائدین کی طرف سے14 دسمبر کو ایک اور کلینڈر جاری ہوا جس میں جمعہ اور سنیچر کو ہڑتال اور ہفتے کے باقی دنوں کو پوری ڈھیل دینے کا اعلان کیا گیا اور ہڑتال میں مزید نرمی لائی گئی ۔ اس طرح سے سال 2016 کو کشمیر کے لئے افراتفری کا سال قراردیا جارہاہے ۔(یوسف ندیم)