نقطہ نظر

2016 میں تشدد اور ہلاکتیں

یکم جنوری تا دسمبر 2016 تک 148 جنگجو اور 90 فوجی و نیم فوجی اہلکار معرکہ آرائیوں کے دوران از جان ہوئے جبکہ سیکورٹی ایجنسیوں نے موسم سرما کے دوران جنگجوئیانہ حملوں میں شدت آنے کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا تھا کہ امسال سرحد پار سے 116 جنگجو دراندازی کر کے کشمیر میں داخل ہوئے۔ اُدھر جولائی میں چھڑی طویل ترین ایجی ٹیشن کے دوران سو سے زیادہ عام شہری اور کئی پولیس اہلکار اپنی جانیں گنوا بیٹھے اور 15 ہزار سے زیادہ عام شہری اور سیکورٹی اہلکار سنگباری ، ٹیر گیس شلنگ اور پیلٹ فائرنگ کی زد میں آکر زخمی ہوئے جن میں سے لگ بھگ 650 عام شہریوں کی آنکھوں اور بینائی کو پیلٹ فائر اور چھرے لگنے سے شدید نقصان پہنچا، گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں سال تشدد اور ہلاکتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ 2015 کے برعکس امسال سرحدی ٹکراؤ کے واقعات اور دراندازی کی کوششیں بھی زیادہ ہوئیں۔ سیکورٹی ایجنسیوں کے مطابق سال 2015 کے دوران کل 97 جنگجو مختلف جھڑپوں کے دوران مارے گئے تھے جبکہ رواں برس یکم جنوری سے 17 دسمبر تک 148 مقامی اور غیر ملکی جنگجو ریاست میں مختلف مقامات پر جھڑپوں کے دوران از جان ہوئے۔ ذرائع کے مطابق جنگجوؤں کے ساتھ ساتھ فوجی، نیم فوجی اہلکاروں اور فورسز و پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں میں بھی امسال اضافہ ریکارڈ کیا گیا کیونکہ جہاں سال 2015 کے دوران سرحدی ٹکراؤ، دراندازی کی کوششوں اور جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپوں میں کچھ ہی اہلکار مارے گئے تھے، وہیں امسال لائین آف کنٹرول پر پاکستانی فورسز کی فائرنگ، جنگجوئیانہ حملوں اور دراندازی کی کوششوں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں 90 فوجی و نیم فوجی اہلکار مارے گئے۔ ذرائع کے مطابق صرف کشمیر وادی میں جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران 63 سیکورٹی اہلکار مارے گئے، جن میں 17 دسمبر 2016 کو پانپور کے نزدیک ہوئے حملے میں مارے گئے تین فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ سال 2016 کے دوران جنگجوؤں کی طرف سے سیکورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لئے اوڑی، نگروٹہ اور دیگر مقامات پر بڑے حملے کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ 16 دسمبر تک لائین آف کنٹرول پر پاکستانی فوج، رینجرز اور جنگجوؤں کی طرف سے کی گئی بلا اشتعال فائرنگ اور مارٹر شلنگ کی زد میں آکر 23 فوجی و نیم فوجی اہلکار مارے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ سال 2014 اور 15 کے دوران ایل او سی پر بالترتیب صرف پانچ اور چار فوجی و نیم فوجی اہلکار گولی باری کی زد میں آکر از جان ہوئے تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ 2014 میں مختلف مقامات پر 27 سیکورٹی اہلکار مارے گئے تھے جبکہ 2015 کے دوران مارے گئے فوجی و نیم فوجی اہلکاروں کی تعداد 29 تھی۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ برس جھڑپوں کے دوران جہاں 97 جنگجو مارے گئے تھے ، وہیں رواں برس اب تک 148 مقامی اور غیر ملکی جنگجو جھڑپوں کے دوران مارے جا چکے ہیں۔ سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ امسال مارے گئے جنگجوؤں میں ایسے کئی مقامی جنگجو نوجوان بھی شامل ہیں جو کچھ ماہ قبل جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی نوجوان زیادہ تر حزب المجاہدین، لشکر طیبہ اور جیش محمد میں شامل ہوئے ار اس وجہ سے کشمیر وادی میں ان تینوں جنگجو گروپوں کو سر نو اپنی صفیں مضبوط کرنے کا موقعہ ملا۔ سیکورٹی ایجنسیوں نے انکشاف کیا کہ رواں برس سرحد پار سے جنگجوؤں نے دراندازی کی کامیاب کوشش کیں اور اسی وجہ سے تقریباً116 جنگجو کشمیر میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے جبکہ سال 2015 کے دوران صرف35 جنگجو حد متارکہ عبور کر کے کشمیر میں داخل ہوئے تھے۔ سیکورٹی ایجنسیوں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ موسم سرما کے دوران کشمیر وادی میں تشدد اور ہلاکتوں کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ بڑی تعداد میں سرحد پار سے آئے جنگجو جنگلوں اور دور افتادہ علاقوں کے بجائے آبادی والے علاقوں میں پہنچ کر سرگرم ہو چکے ہیں۔ اس دوران سیکورٹی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ماہ جولائی کی 8 تاریخ سے شروع ہوئی ایجی ٹیشن جاب تک وادی میں ہوئی سب سے طویل ترین ایجی ٹیشن تھی۔ انہوں نے بتایا کہ لگ بھگ 6 ماہ تک جاری رہنے والی ایجی ٹیشن کے دوران بڑے پیمانے پر تشدد کے واقعات رونما ہوئے اور اس وجہ سے صورتحال پر قابو پانے کیلئے پولیس اور سی آر پی ایف کے ساتھ ساتھ دیگر فورسز ایجنسیوں کو مشکل ترین حالات سے گزرنا پڑا۔ خیال رہے کہ 8 جولائی کو حزب المجاہدین کے مقامی معروف جنگجو کمانڈر برہان مظفر وانی کے جان بحق ہونے کے بعد بڑے پیمانے پر پوری وادی میں احتجاجی مظاہروں اور پر تشدد واقعات کا سلسلہ شروع ہوا، جس کے نتیجے میں صرف 9 اور 10 جولائی کی د وران دو درجن سے زیادہ عام شہر پولیس اور فورسز کارروائیوں کے دوران اپنی جانیں گنوا بیٹھے جبکہ ماہ نومبر تک پر تشدد مظاہروں کے دوران پولیس اور فورسز کی طرف سے سنگبازی کر رہے نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لئے کی گئی ٹیر گیس شلنگ، پیٹ فائرنگ اور راست گولی باری کے نتیجے میں سو سے زیادہ عام شہری اور کئی پولیس اہلکار اپنی جانیں گنوا بیٹھے اور 15 ہزار سے زیادہ عام شہری اور سیکورٹی اہلکار سنگباری، ٹیر گیس شلنگ اور پیلٹ فائرنگ کی زد میں آکر زخمی ہوئے جن میں سے لگ بھگ 650 عام شہریوں کی آنکھیں اور بینائی کو پیٹ فائر اور چھرے لگنے سے شدید نقصان پہنچا۔