مضامین

35Aپر پالیسی واضح نہ کرنے تک نیشنل کانفرنس کسی بھی الیکشن کا حصہ نہیں بنے گی

نیشنل کانفرنس صدر اور ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے خبردار کیا کہ اگر مرکزی حکومت نے 35Aپر پالیسی واضح نہیں کی تو این سی پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات کیساتھ ساتھ لوک سبھا اور پارلیمنٹ انتخابات کا بھی بائیکاٹ کریگی ۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی پاکستانی حکومت کیساتھ مذاکرات کی بحالی میں مرکزی حکومت پیش رفت کر سکتی ہے ۔
مرحوم شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے 36 ویں یوم وصال پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مرکزی حکومت جب تک 35Aمعاملے پر حتمی رائے ظاہر نہیں کریگی ریاست میں اطمینان نہیں آئیگا ۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اندر اور باہر تحفظ کی ضمانت دینی ہی ہوگی تب ہی جاکر لوگوں کے پاس جا کر ان سے ووٹ طلب کیا جاسکتا ہے انہوں نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہم کس طر ح سے لوگوں کے پاس ووٹ کیلئے جائیں گے اور انہیں گھروں سے باہر آکر ووٹ ڈالنے کو کہیں گے،پہلے ان کیساتھ انصاف کرو اور مرکزی حکومت اس معاملے پر اپنی پالیسی وضح کرے ،انہوں نے مرکزی حکومت کو خبردار اور انتباہ دیا کہ اگر مرکزی حکومت ہماری خصوصی پوزیشن کو کمزور کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں تو پھر ہماری راہیں جدا ہیں۔پھر ہم الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے صرف پنچائتی اور بلدیاتی ہی نہیں بلکہ لوک سبھا اور پارلیمانی انتخابات کا ہی بائیکاٹ کریں گے ۔ انہوں نے صاف کر دیا کہ ان کی جماعت انتخابات سے بھاگنا نہیں چاہتی ہے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ مرکزی حکومت ریاستی عوام کیساتھ انصاف کرے اور ریاست کی خصوصی پوزیشن کی بیخ کنی کے بجائے اس کو مزید مضبو ط کرے تاکہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کو مستحکم بنایا جا سکے ۔انہوں نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مرکزی حکومت ریاست میں بلدیاتی انتخابات اور پنچائتی انتخابات چاہتی ہے لیکن دوسری طرف وہ آرٹیکل 35Aاوردفعہ370کو کمزور کرنے اور ریاست کے آئین پر حملہ کرنے کی کوشش بھی کررہی ہے انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت نے بلدیاتی اور پنچائتی انتخابات کے اعلان میں بھی جلدی بازی کا مظاہرہ کیا جوکہ اگلے مہینے سے ہی شروع ہونگے ،اگر انتخابات کا اعلان کرنا ہی تھا تو پھر انہیں ہمارے ساتھ بھی بات کرنا تھی اور ہمیں بھی اعتماد میں لینا تھا ۔ انہیں ہماری لیڈر شپ کو کال کرنا تھا انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ لال قلعے کی فصیل سے ہی الیکشن کا بگل بجایا تھا ۔وزیراعظم نے لال قلعے کی فصیل سے ہی کشمیر میں انتخابات کا بگل بجایا ،ڈاکٹر فاروق عبداللہ قومی سلامتی کے مشیر پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے جو بیان دیا ہے وہ کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں ہے ۔انہوں نے کہااگرکشمیر کے علیحدہ آئین کو غلطی قرار دیا تو پھر انہیں الحاق کو بھی غلطی قرار دینی چاہئے تھی ، ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مزید کہا کہ میں انہیں اس اسٹیج سے یہ پیغام دیتا ہوں اگر آئین ایک غلطی تھی تو بھارت کیساتھ جموں وکشمیر کا الحاق بھی ایک غلطی ہے ۔ڈاکٹر فارو ق عبداللہ کا کہنا تھا کہ ایک طرف وہ ہمیں تاج کہتے ہیں تو دوسری طرف اسی تاج کو پیروں تلے مژھل رہے ہیں۔ لہذا اب دلی کو سوچنا چاہئے وہ اس ریاست کو کنٹرول نہیں کرسکتے اگر انہوں نے کشمیر کے آئین یا خصوصی پوزیشن کیساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ کی ۔ اگر انہیں ہمارے ساتھ رہنا ہے تو پھر انہیں ایسے اقدامات اور بیانات دینے سے گریز کرنا ہوگا ۔
فاروق عبداللہ نے امید ظاہر کی کہ عمران خان کی سربراہی میں پاکستان میں نئی جمہوری سرکار آگئی ہے اور امید کی جانی چاہئے کہ نئی دلی پاکستان کی اس حکومت کیساتھ رشتہ جوڑ لے گی اور امن وامان کے قیام کیلئے مذاکرات بحال کریگی ۔انہوں نے مزید کہاکہ عمران خان نے اپنے اقتدار میں آنے کیساتھ ہی یہ بھارت کیساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھانے کااعلان کیا ہے جس کو دیکھتے ہوئے یہ امید باندھی جاسکتی ہے کہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان دوستی ہوگی اور امن وامان کی خاطر مذاکراتی عمل بحال ہوجائیگا ۔ دریں اثنا فاروق عبداللہ نے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے بیان کہ ’جموں وکشمیر کے لئے الگ آئین ایک غلطی تھی‘ پر کہا کہ ’اگر ریاست کا آئین، دفعہ 35 اے اور دفعہ 370 غلط ہیں تو ریاست کا بھارت سے الحاق بھی غلط ہے‘۔ انہوں نے کہا ’ان کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر دوول صاحب نے کشمیر پر ایک اور چھری چلائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے لئے الگ آئین ایک غلطی تھی۔ میں آج اس مقبرے سے دوول صاحب اور مرکزی حکومت کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر ریاست کا آئین، دفعہ 35 اے اور دفعہ 370 غلط ہیں تو ریاست کا بھارت سے الحاق بھی غلط ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارت میں مدغم نہیں ہوئے ہیں، جموں وکشمیر بھارت کی دیگر ریاستوں کی طرح نہیں، مہاراجہ ہری سنگھ نے جو الحاق کیا اُس کے بعد ریاست کو الگ مقام دلانے کے لئے ہمارے قائدین نے بہت جدوجہد کی۔ ہماری اس منفرد پہچان کو بھارت کے آئین میں ضمانت حاصل ہوئی ہے اور اگر اس پہچان کو ختم کیا جاتا ہے تو اس کا براہ راست اثر مشروط الحاق پر بھی پڑے گا۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ نئی دلی نے بار بار ریاست کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کے لئے نت نئے حربے اپنائے اور حال ہی میں سابق پی ڈی پی سرکار کی طرف سے جی ایس ٹی کے اطلاق نے ہماری مالی خودمختاری چھین لی۔ جس دن اس قانون کا اطلاق جموں وکشمیر پر ہوا اُسی روز مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ آج بھاجپا اور آر ایس ایس کے بانی شاما پرساد مکھرجی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرکزی سرکار کو جموں وکشمیر کے تئیں اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف آپ ہمیں ملک کا تاج بولتے ہیں اور دوسری جانب ہماری ریاست کو غلط پالیسیوں اور منصوبہ بند سازشوں کے ذریعے برباد کیا جارہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے کشمیر سے متعلق کئی اعلانات کئے لیکن 4سال کے دوران زمینی سطح عملی کام نہیں ہوا۔