مضامین

35Aکے ساتھ چھیڑ چھاڑ ناقابل برداشت

35Aکے ساتھ چھیڑ چھاڑ ناقابل برداشت

جموں وکشمیر کے مسئلہ کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ ایک متنازعہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے میرواعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کے عوام آج سے نہیں بلکہ 1947ء سے اپنے جائز حق ،’’حق خودارادیت‘‘ کے حصول کی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں اور یہاں کے عوام کے اس پیدائشی حق کو اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ پوری عالمی برادری نے تسلیم کیا ہے ۔ مرکزی جامع مسجد سرینگر میں جمعہ کے روز نماز جمعہ سے قبل ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ یہاں کے عوام کے جائز حقوق کو سلب کرنے کیلئے گزشتہ30برسوں سے بھارت نے طاقت، تشدد، مار دھاڑ سے عبارت پالیسیوں اور حقوق انسانی کی سنگین خلاف ورزیوں کا سہارا لیکر اس مسئلہ کی متنازعہ حیثیت اور ہیئت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی اور وقتاً فوقتاً کبھی اسمبلی ، کبھی پارلیمنٹ اور کبھی دیگر اداروں کے ذریعہ جموں وکشمیر کے عوام کے حقوق پر کاری ضرب لگانے کی کوشش کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ 1947ء سے1953ء تک پھر1953ء سے 1975ء تک ، پھر1975ء سے1990ء تک اور پھر1990ء سے آج تک مختلف طریقوں اور حربوں سے کوشش کی گئی کہ جموں وکشمیر کی متنازعہ حیثیت کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آج ایک بار پھر عدالتوں کا اور سپریم کورٹ کا سہارا لیا جارہا ہے کہ کس طرح جموں وکشمیر کے عوام کے حقوق کو کمزور کیا جائے اور کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ 2014 میں RSS سے وابستہ ایک جماعت We the Citizens نے بھارت کی سپریم کورٹ میں Article 35-A کے حوالے سے عدالت میں اس دفعہ کو ہٹانے کیلئے ایک عرضداشت پیش کی اور یہ وہی سوچ ہے جو RSS اور BJP آج سے نہیں بلکہ کئی برسوں سے جموں وکشمیر میں Implement کرنا چاہتے ہیں۔ میرواعظ نے کہا کہ کشمیر کے مسئلہ کی حیثیت اور ہیئت کو تبدیل کرنے کیلئے کوشش کی جارہی ہے کہ جموں وکشمیر کی آبادی کے تناسبDemography کو تبدیل کیا جائے اور اس کے لئے کوشش کی جارہی ہے کہ باہر کے لوگوں کو یہاں لاکر بسایا جائے تاکہ جموں وکشمیر کو legally, Culturally, Politically اور linguistically غرض ہر طریقے سے جموں وکشمیر کی متنازعہ حیثیت کو ختم کیا جائے ۔ میرواعظ نے کہا کہ جموں وکشمیر کی اس متنازعہ حیثیت کو اقوام متحدہ نے تسلیم کیا ہے اور بھارت اور پاکستان اس کے guarantor ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام حکومت ہند کے ساتھ ساتھ ان تمام اداروں کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ یہاں کے عوام 1931 سے اپنے جائز حق کے حصول کی لڑائی لڑرہے ہیں ، پہلے شخصی راج کی تاناشاہی کیخلاف اور1947 سے جموں وکشمیر پر بھارت کے قبضے کیخلاف یہاں کے عوام کی یہ لڑائی جاری ہے ۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کی متنازعہ حیثیت اور ہیئت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش اور عمل پر یہاں کے عوام چاہے وہ مزدور ہوں ، وکلاء ہوں، ٹریڈر ہوں، طالب علم ہوں یا ریڈی والا ہو حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ 6اگست کو بھارت کی سپریم کورٹ میںArticle 35-A کے حوالے سے کیا فیصلہ ہوتا ہے اور اگر ایسا کوئی فیصلہ آتا ہے جو جموں وکشمیر کے عوام کی مرضی اور منشاء کیخلاف ہوگا تو من حیث القوم جموں وکشمیر کا ہر فردسڑکوں کا رُخ کریگا اور اپنے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے تجدید عہد کریگا اور ایسے کسی بھی فیصلے کو قبول نہیں کیا جائیگا جو یہاں کے عوام کے مرضی اور منشا کیخلاف ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ ایسے کسی بھی فیصلے کے ردعمل میں عوامی احتجاج جو بھی شکل اختیار کریگا تو امن و امان کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ میرواعظ نے کہا کہ طاقت کے بل پر کشمیری عوام کو پشت بہ دیوار کیا جارہا ہے ۔ ہمارے حقوق سلب کئے جارہے ہیں۔1947 سے لیکر 1953 تک کشمیری عوام کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا گیا اس سے یہاں کا ہر فرد واقف ہے۔میرواعظ نے کہا کہ نہ بھارت کی پارلیمنٹ ، نہ یہاں کی اسمبلی اور نہ پاکستان کی اسمبلی اور پارلیمنٹ ایسا کوئی قدم اٹھا سکتی ہے جس میں جموں وکشمیر کے عوام کی رائے اور مرضی شامل نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کو ایک Colony بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اس سے ہر کشمیری کو خبردار رہنا چاہئے اور اپنے حق کے حصول کیلئے کھڑا ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ Article 35-A کے ساتھ چھیڑ چھاڑ برداشت نہیں کی جائیگی اور یہ مسئلہ صرف یا تو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل آوری یا پھر مسئلہ سے جڑے فریقین کے درمیان ایک بامعنی سہ فریقی مذاکراتی عمل سے ہی حل کیا جاسکتا ہے ۔ کسی بھی ملک کی کوئی پارلیمنٹ یا سپریم کورٹ یا کوئی ادارہ اس مسئلہ کو حل نہیں کرسکتااور نہ اس مسئلہ کی تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرسکتا ہے۔ میرواعظ نے پاکستان میں کامیاب اور عام انتخابات کے نتیجے میں ایک عوامی حکومت منتخب ہونے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی، معاشی اور اقتصادی لحاظ سے ایک مضبوط پاکستان اس پورے خطے کے مفاد میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں بلکہ عالمی اسلام کے مسلمانوں کا ترجمان ہے اور ہماری دعا ہے کہ اس ملک کے حوالے سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے جو خواب دیکھا تھا وہ جناب عمران خان کی قیادت میں شرمندۂ تعبیر ہو۔ میرواعظ نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ کشمیری عوام کے ایک وکیل اور مسئلہ کشمیر کے ایک تسلیم شدہ فریق کی حیثیت سے پاکستان اس مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کیلئے اپنی سیاسی اور سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم جنگ و جدل نہیں چاہتے بلکہ چاہتے ہیں کہ کشمیری عوام سے جو وعدے کئے گئے ہیں وہ پورے کئے جائیں اور بھارت اور پاکستان کے ساتھ ساتھ کشمیر کے عوام بھی امن و سکون سے رہیں۔