سرورق مضمون

35A پر ہنگامہ جاری

ڈیسک رپورٹ

ہندوستانی آئین میں شامل دفعہ35Aکو لے کر کشمیر میں شورشرابہ جاری ہے ۔ سپریم کورٹ میں ایک درخواست داخل کی گئی ہے جس کی سماعت سوموار کو رکھی گئی ہے ۔ کئی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ درخواست بی جے پی کی منشا پر داخل کی گئی ہے ۔ اس مقدمے کو لے کر کشمیر میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے ۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ کشمیر کی مسلم اکثریت کو ختم کرنے کے لئے اس دفعہ کو چیلنج کیا گیا ہے۔ عدالت میں اس مقدمے کو منسوخ کرنے کے لئے وادی میں کئی حلقے منظم ہوگئے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت نے آئین کی اس شک کو منسوخ کرنے کا آڈر دیا تو سخت ایجی ٹیشن شروع کی جائے گی۔ اس وجہ سے کشمیر میں حالات سخت کشیدہ بتائے جاتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ سیکورٹی حلقوں نے کسی بھی ایجی ٹیشن سے نمٹنے کے لئے ایک پلان پہلے ہی تشکیل دیا ہے۔ اس کے باوجود عوام کو متحرک کرنے کی تاریاں جاری ہیں ۔ معلوم ہوا ہے کہ اس دفعہ کی منسوخی کی صورت میں مرکزی سرکار کے خلاف سخت مزاحمت کی جائے گی۔
کشمیر میں ڈوگرہ راج کے دوران ایک آرڈی ننس کے تحت کسی بھی غیرریاستی باشندہ کو اراضی خریدنے کی ممانعت رکھی گئی تھی ۔ ڈوگرہ راج ختم ہونے کے بعد کشمیر کے مہاراجہ نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کیا تو آئین بنانے والوں نے ریاست کو خصوصی درجہ دینے کا اعلان کیا ۔ آئین میں جو دفعات شامل کی گئیں ان میں دفعہ 35A کے تحت کسی بھی غیر ریاستی باشندہ کو شہری حقوق حاصل نہیں ہوسکتے ہیں ۔ اس دفعہ کی وجہ سے کوئی بھی ایسا شخص جو یہاں کا پشتنی باشندہ نہیں ہے ریاست میں زمین کے مالکانہ حقوق حاصل کرسکتا ہے نہ سرکاری نوکری کے لئے درخواست دے سکتا ہے ۔ پچھلے ستھر سالوں سے ہندو بنیاد پرستوں کی کوشش ہے کہ 35Aاور اسی طرح کی دوسری ان تمام دفعات کو آئین سے ختم کیا جائے جن کے تحت کشمیر کو خصوصی درجہ حاصل ہے ۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ کشمیر کو ملک میں ضم کرکے اسی طرح کی ایک ریاست بنایا جائے جس طرح دوسری ریاستیں ہیں ۔ کشمیر کے عوام کا کہنا ہے کہ ریاست پر ہندوستان نے جبری قبضہ کیا ۔ جب یہ قبضہ کیا گیا تو عوامی ایجی ٹیشن سے بچنے کے لئے کشمیر کو خصوصی درجہ دیا گیا ۔ شیخ عبداللہ مرحوم کا کہنا ہے کہ اس دفعہ کو قائم رکھنے کے لئے انہیں سخت دوڑ دھوپ کرنی پڑی اور جواہر لعل نہرو کی مداخلت کے بعد ہی یہ دفعات آئین کا حصہ بنیں ۔ اس کے باوجود کئی ہندو بنیاد پرستوں کی مخالفت جاری رہی ۔ دہلی پر بی جے پی کی سرکار قائم ہونے کے بعد کشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کرنے کی کوششوں میں سرعت لائی گئی ۔ بی جے پی نے اپنے الیکشن مینی فیسٹو میں اعلان کیا کہ کشمیر کے خصوصی درجے کو ختم کرنے کے لئے آئین میں ترمیم کی جائے گی ۔ ایسا تو نہیں کیا گیا البتہ سپریم کورٹ میں ان دفعات کے خلاف درخواست دی گئی ۔ اب سوموار کو مقدمے پر سماعت کی تاریخ قریب آتے ہی کشمیر میں سخت ہلچل پائی جاتی ہے ۔ مشترکہ حریت قیادت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی طرز پر مسلم اکثریت کو ختم کرنے اور زمین پر قبضہ کرنے کے لئے یہ درخواست دی گئی ہے ۔ سب سے زیادہ شور تاجر برادری نے مچایا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دفعہ کو منسوخ کیا گیا تو سخت مزاحمت کی جائے گی ۔ تمام تاجر یونینوں کی انجمن بناتے ہوئے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا گیا کہ اس مقدمے کے خلاف ایجی ٹیشن شروع کی جائے گی ۔ اس کے لئے سوموار کو ہڑتال کرنے کی اپیل کی گئی ۔ اسی دوران مشترکہ حریت قیادت نے اتوار اور سوموار دو دن کے لئے ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ۔ این سی نے اس ایجی ٹیشن کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ۔ جموں کشمیر کانگریس کمیٹی نے اسے ملک کے سیکولر کردار کو ختم کرنے کی سازش قراردیا ۔ وکلا برادری نے اس کے خلاف سڑکوں پر آنے کی دھمکی دی ۔ ادھر ریاستی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور اسمبلی ممبر یوسف تاریگامی نے مقدمے میں کردار ادا کرنے کے لئے عدالت میں ایک درخواست جمع کرائی ہے ۔ سب سے اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ ریاستی گورنر نے وزارت داخلہ کو ایک خط لکھا اور سفارش کی کہ مقدمے کو ریاست میں عوامی سرکار بننے تک ملتوی کیا جائے ۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ بی جے پی کے دہلی حلقوں میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔ گورنر کی معیاد پہلے ہی مکمل ہوچکی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ریاست کے لئے نیا گورنر نامزد کرنے کی کوششیں شروع کی گئی ہیں ۔ اس سلسلے میں کئی نام گشت کررہے ہیں ۔
کشمیر میں تمام سیاسی ، عوامی اور قانون دان حلقے دفعہ 35A کا دفاع کرنے کے لئے منظم بتائے جاتے ہیں ۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اس دفعہ کا دفاع کرنا بہت ضروری ہے ۔ بی جے پی نے کھل کر اعلان کیا ہے کہ وہ اس دفعہ کو منسوخ کرنے کی حمایت کرے گی ۔ بی جے پی نے اس دفعہ کو آئین کی بدقسمتی قراردیا ہے۔حالات کیا رخ اختیار کریں گے اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ البتہ مبصرین کا کہنا ہے کہ لوگ اس پر سخت غم وغصے کا اظہار کررہے ہیں ۔ اس وجہ سے خون خرابے کا بھی خطرہ ہے ۔ راجوری میں بھی لوگوں نے ہڑتال کی کال کی حمایت کی ہے اور سوموار کو مکمل بند کا اعلان کیا ہے ۔ اسی طرح چناب ویلی کے علاقے میں بھی اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جارہاہے ۔ لداخ میں بھی کئی حلقوں نے اس پر ایجی ٹیشن کی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔ یہاں پہلے ہی تاجربرادری کی ایک میٹنگ میں اعلان کیا گیا کہ کشمیری عوام کا شانہ بشانہ ساتھ دیا جائے گا ۔ اسی طرح جموں میں بھی اس حوالے سے الگ الگ رائے پائی جاتی ہے ۔ ایک حلقے کا کہنا ہے کہ اس سے جموں کےڈوگرہ شناخت کے ختم ہونے کا خطرہ ہے ۔ اس کے بجائے بی جے پی کے حمایتی اس دفعہ کو منسوخ کرنے کی حمایت کررہے ہیں ۔ اس سے کشمیر کے علاوہ جموں اور لداخ میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے ۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ جموں اور لداخ کی طرف سے کشمیر کا ساتھ دینے کا اعلان کیا گیا ۔ سیاسی حلقے الزام لگارہے ہیں کہ بی جے پی اگلے سال کے پارلیمانی انتخابات کے لئے راہ ہموار کررہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی عوام سے کئے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ۔ اب ہندوتوا کارڈ کھیلنے کی کوشش کررہی ہے ۔ دفعہ35A کو منسوخ کرنے میں پارٹی اسی وجہ سے دلچسپی دکھارہی ہے تاکہ عوام کو وٹ دینے پر تیار کیا جائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی ہرمحاذ پر ناکام ہوگئی ہے ۔اب کشمیر کو لے کر الیکشن میں ووٹ بینک بنانے کی کوشش کررہی ہے ۔ کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن جماعتیں متحد ہورہی ہیں۔ اس اتحاد کا توڑ کرنے کے لئے کشمیر کارڈ کھیلا جارہاہے ۔ اس سے بی جے پی کوکوئی فائدہ ملے گا کہ نہیں البتہ کشمیر میں ہنگامہ آرائی کا خطرہ ظاہر کیا جارہاہے۔ ایسا ہوا تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ بی جے پی کو ہی حاصل ہوگا ۔ اسی وجہ سے بی جے پی اس میں دلچسپی دکھا رہی ہے ۔