اداریہ کالم کی خبریں

معاشرے کا بگڑتا رجحان تشویشناک

27 Apr 2019 کو شائع کیا گیا

آج کل غیر مسلموں میں جہاں گھر والی اور باہر والی کا چلن عام ہے، اپنے شہر میں ایک اور باہر کی دنیا میں اور کسی کے چکر میں پریشان رہنا۔جناب کی حرکتیں آخرپگلوں کی جیسی کیوں ہوتی ہیں۔ان پگلوں کی طرح جو عاشقی میں مشوقہ کے چکر میں دنیا بلا دیتے ہیں، دنیا سے پرے سڑک پر چلتی، گاڑی میں بیٹھے اور سڑک کراس کرتے ہوئے مشوقہ کے حسین خوابوں میں کھوئے رہتے ہیں۔ ان جناب کا بھی یہی حال ہے مگر کمال یہ ہے کہ اپنے دوست ان کو ایک مخصوص نام سے پکارتے ہیں۔سنیچر کی شام 5بجے یہ صاحب دوستوں سے مزیدپڑھیں

لیڈران ووٹروں کو لبھانے میں مصروف

13 Apr 2019 کو شائع کیا گیا

ملک کے ساتھ ساتھ ریاست میں اس ماہ کی 11 تاریخ کو پارلیمانی چنائو کے پہلے دور کی ووٹنگ ہوئی ہے جس میں جموں صوبے سے تعلق رکھنے والے ووٹروں نے کشمیر صوبے کے بارہمولہ پارلیمانی سیٹ کے ووٹروں کی نسبت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس طرح سے جموں میں کشمیر کی نسبت سے مجموعی پولنگ کی شرح بہت زیادہ رہی ہے ۔ تاہم کئی ایک حلقوں کا ماننا ہے کہ بارہمولہ میں اگرچہ پولنگ کی شرح بہت کم رہی تاہم پولنگ سے پہلے اتنی تعداد میں پولنگ شرح مزیدپڑھیں

قومی شاہراہ پر بندشوں کا کیا مطلب؟

07 Apr 2019 کو شائع کیا گیا

جب وادی میں قومی شاہراہ پرہفتے میں دو دن سیول ٹریفک کی نقل و حمل پر پاندی کا اعلان کیا گیا تو سماج کے سبھی طبقوں نے سرکار کی طرف سے کئے گئے اس اعلان پر احتجاج کیا ۔ ان دو دنوں کے لئے شاہراہ پر کسی بھی سیول گاڑی کو چلنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔ یہ فیصلہ سی آر پی گاڑی پر ہوئے اس حملے کے تناظر میں لیا گیا جس میں درجنوں اہلکار مارے گئے۔ تازہ ترین فیصلے میں حفاظتی اقدام کے طور کسی بھی قسم کی دوسری گاڑیوں کو ان دو دنوں کے لئے شاہراہ پر چلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ جس سے عام لوگوں میں کافی پریشانیاں مزیدپڑھیں

کیا رضوان کی ہلاکت کی تحقیقات بھی رسمی ہوگی!

23 Mar 2019 کو شائع کیا گیا

کشمیر میں 1990 میں شروع ہوئی مسلح آرائی کے بعد سے اب تک ہزاروں عام شہری جان بحق ہوئے ہیں۔ پھر چاہئے وہ ملی ٹنسی یا پھر حفاظتی دستوں کے ہاتھوں ہو، ان30 برسوں میں درجنوں ایسے واقعات بھی پیش آئے جہاں معصوم کشمیری نوجوانوں کو فرضی تصادموں میں ہلاک کیا گیا۔
گذشتہ دنوں اونتی پورہ کے رہنے والے 28 سالہ مقامی اُستاد رضوان احمد پنڈت بھی سیکورٹی دستوں کی بھینٹ چرھ گیا۔ اُسے مقامی پولیس سٹیشن کے اہلکاروں نے دوران شب مزیدپڑھیں

سیاسی لیڈروں کی سرگرمیاںشروع

19 Mar 2019 کو شائع کیا گیا

ملک کے ساتھ ساتھ ریاست میں اگلے ماہ پارلیمانی چنائو ہونے جا رہا ہے اس سلسلے میں سیاسی لیڈروں یعنی پارلیمانی نشستوں پر چنائو لڑنے والے امیدواروں نے اپنے اپنے علاقوں میں سرگرمیاں شروع کی ہیں، کئی ایک امیدوار نے اپنے اپنے علاقوں کا دورہ کرنا شروع کیا اور لوگوں کو سبز باغ دکھانے شروع کئے ہیں اور لوگوں خاص کر محلہ کمیٹیوں کے ساتھ روابط کرنے لگے، کئی ایک جگہوں پر ان لیڈروں نے عوام کو اعتماد میں لینے کے لئے ان علاقوں میں محلہ کمیٹیوں یا اوقاف کمیٹیوں سے مطلوب کاموں کی فہرست بھی طلب کی ہے۔ حالانکہ یہ الگ بات ہے کہ ان مزیدپڑھیں

سیاسی تدبر ہی امن کی ضمانت ہے

10 Mar 2019 کو شائع کیا گیا

بھارت اور پا کستان کے تعلقات میں پچھلے مہینے پیدا ہونے والی غیر متوقع خرابی کے بعد دونوں ملک ایک تبا ہ کن جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں ۔حالیہ ایام میں کئی بار ایسا لگا کہ شائد جنگ اب نا گزیر بن چکی ہے اور شائد بر صغیر بالعموم اور پورا جنوب ایشیا ئی خطے ایک انسانی المیے کی دہلیز پر آن کھڑا ہو ا ہے۔تاہم یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے انتہا ئی تدبر اور بردباری کا مظاہرہ کر تے ہو ئے بھارتی فضائیہ کے گرفتار پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن ورتھمان کو غیر مشروط طور رہا کر نے کا فیصلہ کیا حالا نکہ ان کے اس اقدام کی مزیدپڑھیں

اقتدارپانے کے بعد!

05 Jan 2019 کو شائع کیا گیا

محبوبہ مفتی ریاست کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بننے کے بعد باقی سیاسی لیڈروں کی طرح عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں پوری طرح ناکام رہ چکی تھی، محبوبہ مفتی جب وزیراعلیٰ کے عہدے پر نہ تھیں اور پی ڈی پی بھی جب اقتدار میں نہیں تھا تو محبوبہ مفتی ریاست کے عوام خاص کر وادی کشمیر کے عوام کی غمخو ار بن رہی تھی، کشمیری عوام کے تئیں زبردست ہمدردیاں دیکھاتی تھی،اتنا ہی نہیں پی ڈی پی کو جب اقتدار نہ تھا اور محبوبہ مفتی کو بھی جب وزیراعلیٰ کا مزیدپڑھیں

انتخابات اورمطلب کی بولیاں

22 Sep 2018 کو شائع کیا گیا

ریاست میں فی الوقت گورنر راج کا نفاذ ہے اور گورنر انتظامیہ ریاست میں پنچایتی اور بلدیاتی چنائو کرانے کےلئے زبردست تگ دو میں ہیں۔ عوامی حلقوں کی رائے ہے کہ یہاں نئےگورنر کی تعیناتی اسی مقصد کےلئے کی گئی تاکہ ریاست میں یہ انتخابات کرانا ممکن بن سکیں۔ یہ بھی ایک لہر سی ہے کہ پُرانے گورنر یعنی این این ووہرا نے مرکزی سرکار کو فی الحال ریاست میں یہ چنائو کرانے کے لئے ماحول سازگار نہیں ہے کا سمجھائو دیا تھا، جس کے بلبوتے پر ہی ووہرا کو فی الفور گورنر کے عہدے سے ہٹایا گیا اور اپنے مزیدپڑھیں

کیا انتخابات ہو پائیں گے؟

17 Sep 2018 کو شائع کیا گیا

کیا الیکشن بائیکاٹ کے باوجود بھی ریاست میں بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات ہو پائیں گے ؟ یہ ایک سوالیہ ہے۔ ایک طرف قیاس آرائیاں ہو رہی ہے کہ انتخابات ہونا ایک مشکل مرحلہ ہے لیکن دوسری طرف سرکار بھی الیکشن کرانے پر بضد ہے اور اس طرح پہلے ریاست کی دو بڑی مین اسٹریم پارٹیوں کی طرف سے بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ آچکا ہے تاہم دونوں جماعتوں کے فیصلے کے بعد ریاستی گورنر انتظامیہ ہر صورت میں الیکشن کرانے کےلئے کوششیں تیز کی ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کے مزیدپڑھیں

انتخابات کےلئے بائیکاٹ

09 Sep 2018 کو شائع کیا گیا

یہ بات درست ہے کہ اگر ریاست کی مین سٹریم پارٹیاں پوری طرح الیکشن بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کرتی تو نہ صرف مرکزی سرکار دفعہ370 کے آرٹیکل35A کے حفاظت کی ضمانت دیتی بلکہ نئی دلی مین سٹریم جماعتوں کو اٹانومی دینے کے لئے بھی مجبور ہو جائے گی۔ شرط یہ ہے کہ سبھی مین سٹرمیم پارٹیاں ایک جٹ ہو کرتمام قسم کے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے انکار کرتے ۔ تب مرکزی سرکار 35A کی حفاظت کےلئے سبھی لازمی اقدامات کرے گی اور اتنا ہی نہیں بلکہ مرکزی سرکار سچ مچ ان پارٹیوں کو اٹانومی مزیدپڑھیں