اداریہ کالم کی خبریں

انتخابات اورمطلب کی بولیاں

22 Sep 2018 کو شائع کیا گیا

ریاست میں فی الوقت گورنر راج کا نفاذ ہے اور گورنر انتظامیہ ریاست میں پنچایتی اور بلدیاتی چنائو کرانے کےلئے زبردست تگ دو میں ہیں۔ عوامی حلقوں کی رائے ہے کہ یہاں نئےگورنر کی تعیناتی اسی مقصد کےلئے کی گئی تاکہ ریاست میں یہ انتخابات کرانا ممکن بن سکیں۔ یہ بھی ایک لہر سی ہے کہ پُرانے گورنر یعنی این این ووہرا نے مرکزی سرکار کو فی الحال ریاست میں یہ چنائو کرانے کے لئے ماحول سازگار نہیں ہے کا سمجھائو دیا تھا، جس کے بلبوتے پر ہی ووہرا کو فی الفور گورنر کے عہدے سے ہٹایا گیا اور اپنے مزیدپڑھیں

کیا انتخابات ہو پائیں گے؟

17 Sep 2018 کو شائع کیا گیا

کیا الیکشن بائیکاٹ کے باوجود بھی ریاست میں بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات ہو پائیں گے ؟ یہ ایک سوالیہ ہے۔ ایک طرف قیاس آرائیاں ہو رہی ہے کہ انتخابات ہونا ایک مشکل مرحلہ ہے لیکن دوسری طرف سرکار بھی الیکشن کرانے پر بضد ہے اور اس طرح پہلے ریاست کی دو بڑی مین اسٹریم پارٹیوں کی طرف سے بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ آچکا ہے تاہم دونوں جماعتوں کے فیصلے کے بعد ریاستی گورنر انتظامیہ ہر صورت میں الیکشن کرانے کےلئے کوششیں تیز کی ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کے مزیدپڑھیں

انتخابات کےلئے بائیکاٹ

09 Sep 2018 کو شائع کیا گیا

یہ بات درست ہے کہ اگر ریاست کی مین سٹریم پارٹیاں پوری طرح الیکشن بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کرتی تو نہ صرف مرکزی سرکار دفعہ370 کے آرٹیکل35A کے حفاظت کی ضمانت دیتی بلکہ نئی دلی مین سٹریم جماعتوں کو اٹانومی دینے کے لئے بھی مجبور ہو جائے گی۔ شرط یہ ہے کہ سبھی مین سٹرمیم پارٹیاں ایک جٹ ہو کرتمام قسم کے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے انکار کرتے ۔ تب مرکزی سرکار 35A کی حفاظت کےلئے سبھی لازمی اقدامات کرے گی اور اتنا ہی نہیں بلکہ مرکزی سرکار سچ مچ ان پارٹیوں کو اٹانومی مزیدپڑھیں

اب دفعہ35Aکا شوشہ

02 Sep 2018 کو شائع کیا گیا

ریاست جموں وکشمیر میں اِس وقت پوری طرح فلسطین ماڈل اپنائے جانے کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ اس کام میں بھارت کو اسرائیل کے تجربے کی ہی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی بھی بھرپور مدد حاصل ہے اور اس کا انکشاف حال ہی میں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی کشمیر کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بھی کیا گیا ہے،اس طرح سے اب بھارت کشمیر میں دفعہ370 کے آرٹیکل35A کو منسوخ کرانے کے حق میں ہیں ، ریاست میں اگر چہ آزادی کی لڑائی لڑی جا رہی ہیں تاہم کئی حلقوں کا ماننا ہے کہ بھارت اس لڑائی میں کچھ حد تک کمزور دکھائی دے رہا ہے جس کے مزیدپڑھیں

قبل از وقت کی پیش گوئی کرنا مشکل

28 Jul 2018 کو شائع کیا گیا

پاکستان میں عام چنائو میں برتری حاصل کرنے کے بعد تحریک انصاف پارٹی کے سربراہ اور شہرت یا فتہ کرکٹ کھلاڑی عمران خان نے کشمیر سے متعلق ایک خاص بیان دے کر کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان کور ایشو ہے۔ مسئلے کے حل کے تئیں انہوں نے اپنے بیان میںکہا ہے کہ بھارت اگر ایک قدم آگے بڑھتا ہے تو پاکستان دو قدم بڑھنے کے لئے تیار ہے۔ ان باتوں کا اظہار اگرچہ عمران خان نے چنائو نتائج آنے کے فوراً بعد کیا تاہم بیان کے ردعمل میں بھارتی میڈیا نے عمران خان پر سخت تنقید کیا۔ آپ کو مزیدپڑھیں

غیر سنجیدہ فیصلوں کی گنجائش نہیں

21 Jul 2018 کو شائع کیا گیا

امسال ابتدا میں ہی کٹھوعہ میں آٹھ سالہ آصفہ کو مبینہ طور اغوا کرکے ایک مندر میں رکھا گیا جہاں اس کا کئی روز تک پہلے ریپ اور پھر قتل کیا گیا ۔ جموں کے ایک وزیرسمیت کئی ہندو بنیاد پرستوں نے اس کیس کی ریاستی پولیس کے ذریعے تحقیقات کرنے کی مخالفت کی اور کیس سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اس وقت کی حکومت نے ان کا مطالبہ ماننے سے انکار کیا۔ جس کے نتیجے میں بی جے پی کے کابینہ وزیروں کا ردوبدل اور بعد میں حکومت برخاست کی گئی ۔اس کے بعد ریاست پر گورنر راج نافذ ہے ۔ ریاستی مزیدپڑھیں

معاملہ اقتدار کھونے کا!

14 Jul 2018 کو شائع کیا گیا

سابق خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی طرح پارٹی کے دوسرے لیڈران اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعدبوکھلاہٹ کے شکار ہو رہے ہیں،خود پارٹی صدر محبوبہ مفتی مرکزی سرکار کو سمجھا رہی ہیںکہ اُنہیں اقتدار سے بے داخل کرنے کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں اور اُن کی پارٹی کے ساتھ اب چھیڑ چھاڑ کرنے سے بہت سارے مسائل پیدا ہو نے جا رہے ہیں۔ معاملہ یہ ہے کہ محبوبہ مفتی یہ باتیں تب کہتی ہیں جب ان کی بادشاہیت چلی گئی تب وہ مرکزی سرکار کو سمجھا رہی ہیں کہ کشمیر میں کیا کچھ ہو رہا ہے؟ اور کیا کچھ ہونے مزیدپڑھیں

اقتدار کے بعد وطیرہ الگ کیوں؟

07 Jul 2018 کو شائع کیا گیا

اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد اب سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی بھی کشمیر شورش کو جائز ٹھہرائے گی اور حکومت کو وقت وقت پر تنقید کا شکار بنائے گی۔اقتدار سے بے دخل ہوئے دوسرے لیڈروں کی طرح محبوبہ مفتی بھی اب وہ سب کچھ جائز ٹھہرائے گی جو وہ اپنے دور اقتدار میں ناجائز قرار دیتی رہیں تھی۔ اقتدار کھونے کے بعد اب محبوبہ مفتی نے باضابطہ کشمیر کے تئیں بیانات میں نرمی لانے کا آغاز کیا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اقتدار کھونے کے بعد، جائز جائز کیوں لگتا ہے اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد ایسا مزیدپڑھیں

اور سیلاب کا خطرہ ٹل گیا

02 Jul 2018 کو شائع کیا گیا

دو روز کی موسلادھار بارشوں نے وادی کے لوگوں میں ایک بار پھرگھبراہٹ اور تشویش پیدا کی، حالیہ بارشوں سے لوگوں کو ستمبر 2014 کے وہ مناظر یاد آئے جس میں وادی کے بیشتر علاقے زیر آب آئے اور آنا ً فاناً تباہی ہی تباہی مچ گئی۔ جس میں بیٹا باپ کواور باپ بیٹے کو بچانے کیلئے سہارا نہ دے سکا۔ جس طوفانی سیلاب میں حاملہ عورتوں یہاں تک کہ زچگی کی حالت میں کئی عورتوں کو محفوظ مقامات پر جانے کے لئے میلوںپانی میں سفر کرنا پڑا۔ جس میں کئی انسانی جانوں کے تلف ہونے کے ساتھ ساتھ کافی تعداد میں مال و جائیداد تباہ و برباد ہو کر رہ گیا۔ اس طوفانی سیلاب میں مزیدپڑھیں

اور محبوبہ سخت مزاج کی بن گئی!

23 Jun 2018 کو شائع کیا گیا

محبوبہ مفتی ریاست کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بننے کے بعد باقی سیاسی لیڈروں کی طرح عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں پوری طرح ناکام رہیں، محبوبہ مفتی جب وزیراعلیٰ کے عہدے پر نہ تھیں اور پی ڈی پی بھی جب اقتدار میں نہیں تھا تو محبوبہ مفتی ریاست کے عوام خاص کر وادی کشمیر کے عوام کی غمخو ار بن رہی تھی، کشمیری عوام کے تئیں زبردست ہمدردیاں دیکھاتی تھی،اتنا ہی نہیں پی ڈی پی کو جب اقتدار نہ تھا اور محبوبہ مفتی کو بھی جب وزیراعلیٰ کا منصب نہ تھا، وادی میں اگر کہیں پر کوئی ہلاکت مزیدپڑھیں