اداریہ کالم کی خبریں

قبل از وقت کی پیش گوئی کرنا مشکل

28 Jul 2018 کو شائع کیا گیا

پاکستان میں عام چنائو میں برتری حاصل کرنے کے بعد تحریک انصاف پارٹی کے سربراہ اور شہرت یا فتہ کرکٹ کھلاڑی عمران خان نے کشمیر سے متعلق ایک خاص بیان دے کر کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان کور ایشو ہے۔ مسئلے کے حل کے تئیں انہوں نے اپنے بیان میںکہا ہے کہ بھارت اگر ایک قدم آگے بڑھتا ہے تو پاکستان دو قدم بڑھنے کے لئے تیار ہے۔ ان باتوں کا اظہار اگرچہ عمران خان نے چنائو نتائج آنے کے فوراً بعد کیا تاہم بیان کے ردعمل میں بھارتی میڈیا نے عمران خان پر سخت تنقید کیا۔ آپ کو مزیدپڑھیں

غیر سنجیدہ فیصلوں کی گنجائش نہیں

21 Jul 2018 کو شائع کیا گیا

امسال ابتدا میں ہی کٹھوعہ میں آٹھ سالہ آصفہ کو مبینہ طور اغوا کرکے ایک مندر میں رکھا گیا جہاں اس کا کئی روز تک پہلے ریپ اور پھر قتل کیا گیا ۔ جموں کے ایک وزیرسمیت کئی ہندو بنیاد پرستوں نے اس کیس کی ریاستی پولیس کے ذریعے تحقیقات کرنے کی مخالفت کی اور کیس سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اس وقت کی حکومت نے ان کا مطالبہ ماننے سے انکار کیا۔ جس کے نتیجے میں بی جے پی کے کابینہ وزیروں کا ردوبدل اور بعد میں حکومت برخاست کی گئی ۔اس کے بعد ریاست پر گورنر راج نافذ ہے ۔ ریاستی مزیدپڑھیں

معاملہ اقتدار کھونے کا!

14 Jul 2018 کو شائع کیا گیا

سابق خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی طرح پارٹی کے دوسرے لیڈران اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعدبوکھلاہٹ کے شکار ہو رہے ہیں،خود پارٹی صدر محبوبہ مفتی مرکزی سرکار کو سمجھا رہی ہیںکہ اُنہیں اقتدار سے بے داخل کرنے کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں اور اُن کی پارٹی کے ساتھ اب چھیڑ چھاڑ کرنے سے بہت سارے مسائل پیدا ہو نے جا رہے ہیں۔ معاملہ یہ ہے کہ محبوبہ مفتی یہ باتیں تب کہتی ہیں جب ان کی بادشاہیت چلی گئی تب وہ مرکزی سرکار کو سمجھا رہی ہیں کہ کشمیر میں کیا کچھ ہو رہا ہے؟ اور کیا کچھ ہونے مزیدپڑھیں

اقتدار کے بعد وطیرہ الگ کیوں؟

07 Jul 2018 کو شائع کیا گیا

اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد اب سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی بھی کشمیر شورش کو جائز ٹھہرائے گی اور حکومت کو وقت وقت پر تنقید کا شکار بنائے گی۔اقتدار سے بے دخل ہوئے دوسرے لیڈروں کی طرح محبوبہ مفتی بھی اب وہ سب کچھ جائز ٹھہرائے گی جو وہ اپنے دور اقتدار میں ناجائز قرار دیتی رہیں تھی۔ اقتدار کھونے کے بعد اب محبوبہ مفتی نے باضابطہ کشمیر کے تئیں بیانات میں نرمی لانے کا آغاز کیا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اقتدار کھونے کے بعد، جائز جائز کیوں لگتا ہے اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد ایسا مزیدپڑھیں

اور سیلاب کا خطرہ ٹل گیا

02 Jul 2018 کو شائع کیا گیا

دو روز کی موسلادھار بارشوں نے وادی کے لوگوں میں ایک بار پھرگھبراہٹ اور تشویش پیدا کی، حالیہ بارشوں سے لوگوں کو ستمبر 2014 کے وہ مناظر یاد آئے جس میں وادی کے بیشتر علاقے زیر آب آئے اور آنا ً فاناً تباہی ہی تباہی مچ گئی۔ جس میں بیٹا باپ کواور باپ بیٹے کو بچانے کیلئے سہارا نہ دے سکا۔ جس طوفانی سیلاب میں حاملہ عورتوں یہاں تک کہ زچگی کی حالت میں کئی عورتوں کو محفوظ مقامات پر جانے کے لئے میلوںپانی میں سفر کرنا پڑا۔ جس میں کئی انسانی جانوں کے تلف ہونے کے ساتھ ساتھ کافی تعداد میں مال و جائیداد تباہ و برباد ہو کر رہ گیا۔ اس طوفانی سیلاب میں مزیدپڑھیں

اور محبوبہ سخت مزاج کی بن گئی!

23 Jun 2018 کو شائع کیا گیا

محبوبہ مفتی ریاست کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بننے کے بعد باقی سیاسی لیڈروں کی طرح عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں پوری طرح ناکام رہیں، محبوبہ مفتی جب وزیراعلیٰ کے عہدے پر نہ تھیں اور پی ڈی پی بھی جب اقتدار میں نہیں تھا تو محبوبہ مفتی ریاست کے عوام خاص کر وادی کشمیر کے عوام کی غمخو ار بن رہی تھی، کشمیری عوام کے تئیں زبردست ہمدردیاں دیکھاتی تھی،اتنا ہی نہیں پی ڈی پی کو جب اقتدار نہ تھا اور محبوبہ مفتی کو بھی جب وزیراعلیٰ کا منصب نہ تھا، وادی میں اگر کہیں پر کوئی ہلاکت مزیدپڑھیں

مارا ماری کب تک؟

19 Jun 2018 کو شائع کیا گیا

پولیس پر جنگجووں کے حملے پچھلے کئی مہینوں سے برابر جاری ہیں۔ اس سے پہلے 2008 , 2010 اور2016کی ایجی ٹیشن کے دوران پولیس کو لوگوں کے غیض و غضب کا نشانہ بننا پڑا۔ ان ایجی ٹیشنوں کے دوران پولیس نے مبینہ طور عوام دشمن رول ادا کیا ۔ اس وجہ سے پولیس عوام کے عتاب کا شکار بنی ۔ اس کے باوجود جنگجووں نے پولیس کو براہ راست نشانہ بنانے سے احتراض کیا ۔ تازہ واقعہ پلوامہ کے تکیہ واگم میں پیش آیا۔ وہاں عدالت پر بندوق برداروں نے اچانک حملہ کیا اور ڈیوٹی پر تعینات تین پولیس اہلکاروں پر شدید فائرنگ کی ۔ ان میں سے دو موقعے پر ہی مارے مزیدپڑھیں

سیز فائر اور مذاکرات

10 Jun 2018 کو شائع کیا گیا

وادی میں ان دنوں یکطرفہ سیز فائر چل رہا ہے۔ اس سیز فائر کا اعلان مرکزی سرکار کی طرف سے رمضان المبارک کے پیش نظر کیا گیا۔حالانکہ اس کی تجویز کل جماعتی میٹنگ میں دی گئی اور اس کے بعد ریاست کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے مرکزی سرکار سے ریاست میں سیز فائر کرنے کی استدعا کی ہے، تاہم محبوبہ مفتی کی مرکزی سرکار سے اپیل کے فوراً بعد حکومت میں شامل بی جے پی کے لیڈروں نے کھلے عام سیز فائر کی مخالفت کی ہے۔ اس طرح سے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کو اپنی سرکار میں شامل ساجھے مزیدپڑھیں

مذاکرات کی پیشکش

03 Jun 2018 کو شائع کیا گیا

وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اگر چہ رمضان کے پیش نظر سیزفائر کا اعلان کیا تاہم رمضان کے کئی دن گذرنے کے ساتھ ہی وادی میں اگر چہ کئی ایک جگہ پر گرینیڈ پھینکنے کے واقعات سامنے آئے اور اس کے فوراً بعد ہی وزیر داخلہ نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ وادی میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھ بندھے ہوئے نہیں ہے بلکہ رمضان میں لوگوں کی سہولیات کے لئے روزمرہ کے آپریشنز بند کئے گئے، یاد رہے کہ وزیر داخلہ نے سیز فائر کا اعلان اُس وقت کیا جب وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے مرکزی سرکار سے ریاست میں سیز فائر کی مانگ کی ۔ اس کے بعد مزیدپڑھیں

کیا درابو کوسیاسی کیرئیر برقرار رہے گا؟

17 Mar 2018 کو شائع کیا گیا

گذشتہ دنوں ریاستی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے ڈاکٹر حسیب درابو سے خزانہ کی وزارت واپس لے کر سید الطاف بخاری کو تفویض کیا۔ حسیب درابو کو ایک اہم عہدے سے ہٹا یا گیا اور فی الوقت درابو اب محض ایک اسمبلی ممبر رہ گئے ہیں۔ یاد رہے درابو کو اس وقت کابینہ سے رخصت کیا گیا جب انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک متضاد بیان دیا ۔ اُس بیان میں درابو نے کہا کہ مسئلہ کشمیر سرے سے کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے ۔ حالانکہ بیان کے بعد ردعمل کے طور پر وادی میں ہلچل مزیدپڑھیں