مضامین کالم کی خبریں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

21 Nov 2020 کو شائع کیا گیا

(قسط:۲۱)

مجھے خود بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ ہمارے تاریخی اور مشہور باغات کا اتنا لمبا سلسلہ ہے ، میں اسی نتیجہ پر پہنچا کہ قدرت نے اپنی کرشمہ سازیوں سے بے انتہا حسن اور حسین نظاروں ، کوہساروں ، مرغزاروں ، ازلی اور ابدی ،لازوال چشموں اور ان میں رواں آب حیات کو جو خوبصورتی اور دلکشی عطا کی ہے ، اس کی کوئی اور مثال کہیں اور نہیں ،باغات کی تفصیل کے ساتھ حکمراں کا تذکرہ مفید ہی رہے گا مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

16 Nov 2020 کو شائع کیا گیا

(قسط:۲۰)
درگاہ حضرت بل ۔تاریخی اہمیت اور موئے مقدس کی مناسبت سے میں نے مناسب سمجھا کہ اس شہرہ آفاق آستانہ عالیہ کی تاریخ ذرا تفصیل سے بیان کی جائے تاکہ پڑھنے والے۔جنہوں نے صرف نام سنا ہے بھی اس کی عظمتوں اور کشمیری عوام کے دل میں اس زیارت گاہ کے لئے بے انتہا محبت ، اور عشق کی کیفیات سے ا ٓ شنا ہوجائیں ،میرے کشمیر کے لوک گیتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جن میں اس آستانے کی عظمتوں اور اس سے مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

02 Nov 2020 کو شائع کیا گیا

(قسط:۱۸ )
میں نے ابتدا میں کہیں لکھا تھا اور فیصلہ بھی کیا تھا کہ کشمیر کے مشہور مقامات ، باغات ، دریا اور چشموں کے بارے میں اپنے اپنے عہد اور بادشاہوں جن کا تعلق ان کے ساتھ رہا ہے ، تذکرہ کیا جائے گا ، لیکن ۔ کشمیر کے پرگنوں پر مشتمل مختصر سی قسط کی جس طرح سے پذیرائی ہوئی ہے اور جس طرح سے پڑھنے والے کشمیر سے واقف ہوئے ہیں ، اس نے مجھے قائل کیا کہ اخبار بینوں کے لئے، جو ان قسطوں سے محظوظ ہورہے ہیں یہ بہتر ہے کہ جس طرح سے پرگنوں کو ایک مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

19 Oct 2020 کو شائع کیا گیا

قسط:۱۶ )
راجوری، کشمیر کے مغربی گوشے کی جانب دریا کے دائیں کنارے بلندی پر واقع ہے ، سطح سمندر سے ۳۰۹۴ فٹ کی بلندی پر ہے اور سرینگر سے اس کی مسافت ۱۵۷ کلو میٹر ہے جو اگلے وقتوں میں ۹۷ میل کہلاتی تھی ،، مہاراجہ گلاب سنگھ نے اس کا نام رام پور کیا تھا لیکن اس سے آج بھی یہاں کی مقامی زباں میں راجور ہی کہتے ہیں ، ، قدیم زمانے سے وہاں کے اپنے راجاؤں کا پایہ تخت رہا ہے ، ان راجاؤں نے سلطان زین العابدین کے زمانے میں اسلام قبول کیا تھا اور پھر مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

12 Oct 2020 کو شائع کیا گیا

(قسط:۱۵ )

شاہ میر۱۳۴۳؁ء کو اپنے دادا قور شاہ کی پیشگوئی کے مطابق کشمیر کا بادشاہ ہوا ، وہ لوگ جو عقل کو کل سمجھتے ہیں اور قدرت کے منصوبوں سے یا تو صرف نظر کرتے ہیں یا اس وہم و گماں میں رہتے ہیں کہ انسان کلی طور پر اپنی تقدیر آپ بناتا ہے زندگی کے کسی نہ کسی موڈ پر اپنے خیالات بدلنے پر مجبور ہوتے ہیں ، کس سے اندازہ رہا ہوگا کہ شاہ میر جو ایک طرح سے کسمپرسی کی حالت میں وارد کشمیر ہوا ایک روز اس مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

26 Sep 2020 کو شائع کیا گیا

(قسط:۱۳ )
پچھلی کئی قسطوں کے شائع ہوتے ہی درجنوں فون مجھے موصول ہو رہے ہیں ، وہ جو بھی کہتے ہیں اور جس طرح ہماری تاریخ میں دلچسپی دکھا رہے ہیں وہ میرے لیے بھی حوصلہ افزا ہے مجھے اعتراف ہے کہ ان میں زیادہ لوگ میری ریاست سے باہر کے ہیں،میں ان کا شکریہ ادا کرکے بس اس بات کی استدعا کرتا ہوں کہ میرے بجائے وہ میرے ان اخبارات کا شکریہ کریں جنہوں نے مجھے یہ سلسلہ شروع کرنے کی پریرنا اور ہمت دی ہے ، دیکھتے دیکھتے اب میرے مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

19 Sep 2020 کو شائع کیا گیا

قسط:۱۲ )

جے سنگھ کے قتل کے بعد عوام کی خواہش تھی کہ وزیر مول چند تخت پر بیٹھے لیکن مول چند نے جے سنگھ کے بیٹے پرانو کو مسند تخت پر بٹھایا ،ظاہر ہے کہ مول چند نہ تو حریص تھا اور نہ ہی نمک حرام بلکہ ایک سلجھے ہوئے ذہن کا مالک تھا ، راج درباروں میں اس طرح کے لوگ بہت ہی کامیاب ہوتے ہیں ،اس سے مول چند کی قدرو منزلت اور عزت میں بھی اضافہ ہوا ،، کئی نزدیکی راجگاں پھکلی ، جموں ،کشتواڑ ۔ مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

14 Sep 2020 کو شائع کیا گیا

قسط:۱۱ )

ہرشد کے قتل کے بعد راجہ اوسچل ۱۱۱۴؁ء میں تخت نشین ہوا ،اس کا ایک اور بھائی سوسل بھی تھا ،،دونوں بھائی کچھ عرصہ تک اچھی خاصی حکمرانی کرتے رہے اور بہت سارے کام عوام کی فلاح و بہبود کے بھی انجام دئے ،لیکن پھر آگے بڑھ کر اپنے مصاحبوں کی وجہ سے ایک دوسرے کے دشمن ہوئے ،،راجہ اوسچل کا تذکرہ اس لئے ضروری ہوا کہ اس راجہ میں دو ایسی خصو صیات تھیں جنہوں نے آخری دور میں اس مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

29 Aug 2020 کو شائع کیا گیا

قسط:۹ )

اس کے بعد ۹۶۸ء تک کو ئی قابل ذکر راجہ مجھے نظر نہیں آتا ۔، اور جس راجہ کے حال احوال اب آپ جاننے جارہے ہیں،بظاہر یہ اتنے اہم نہیں ، لیکن یہ راجہ مجھے ساری تاریخ میں نہ صرف دلچسپ نظر آیا بلکہ اس کی حیثیت بھانڈوں اور مسخروں سے زیادہ نہیں لیکن بات آگے آئے گی اس کی ایک رانی جس کا نام دیدا رانی پڑ قابل ذکر بھی ہے اور اس سے آپ لوگوں کی پہچان بہت ضروری بھی ہے کہ آپ اس سے مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

24 Aug 2020 کو شائع کیا گیا

(قسط:۸ )
تاریخ بہت سے لوگوں کے لئے بڑی دلچسپ اور حیران کن ثابت ہوتی ہے ، کیونکہ اکثر و بیشتر مدتوں بعد ممالک کو بہتر اور نیک دل راجہ نصیب ہوتے ہیں جو اپنی محنت اور مسلسل جدوجہد سے اپنے ممالک یا ریاستوں میں امن و امان کے ساتھ ساتھ ساتھ عدل و انصاف قائم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں لیکن عجیب طرح کی بدقسمتی سے بار بار تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہر نیک دل ، عادل ،انصاف پسند حکمران کی مدت کا ر ایک تو کم ہوتی ہے دوسری بات یہ کہ اس کی آنکھیں مزیدپڑھیں