مضامین کالم کی خبریں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

19 Sep 2020 کو شائع کیا گیا

قسط:۱۲ )

جے سنگھ کے قتل کے بعد عوام کی خواہش تھی کہ وزیر مول چند تخت پر بیٹھے لیکن مول چند نے جے سنگھ کے بیٹے پرانو کو مسند تخت پر بٹھایا ،ظاہر ہے کہ مول چند نہ تو حریص تھا اور نہ ہی نمک حرام بلکہ ایک سلجھے ہوئے ذہن کا مالک تھا ، راج درباروں میں اس طرح کے لوگ بہت ہی کامیاب ہوتے ہیں ،اس سے مول چند کی قدرو منزلت اور عزت میں بھی اضافہ ہوا ،، کئی نزدیکی راجگاں پھکلی ، جموں ،کشتواڑ ۔ مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

14 Sep 2020 کو شائع کیا گیا

قسط:۱۱ )

ہرشد کے قتل کے بعد راجہ اوسچل ۱۱۱۴؁ء میں تخت نشین ہوا ،اس کا ایک اور بھائی سوسل بھی تھا ،،دونوں بھائی کچھ عرصہ تک اچھی خاصی حکمرانی کرتے رہے اور بہت سارے کام عوام کی فلاح و بہبود کے بھی انجام دئے ،لیکن پھر آگے بڑھ کر اپنے مصاحبوں کی وجہ سے ایک دوسرے کے دشمن ہوئے ،،راجہ اوسچل کا تذکرہ اس لئے ضروری ہوا کہ اس راجہ میں دو ایسی خصو صیات تھیں جنہوں نے آخری دور میں اس مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

29 Aug 2020 کو شائع کیا گیا

قسط:۹ )

اس کے بعد ۹۶۸ء تک کو ئی قابل ذکر راجہ مجھے نظر نہیں آتا ۔، اور جس راجہ کے حال احوال اب آپ جاننے جارہے ہیں،بظاہر یہ اتنے اہم نہیں ، لیکن یہ راجہ مجھے ساری تاریخ میں نہ صرف دلچسپ نظر آیا بلکہ اس کی حیثیت بھانڈوں اور مسخروں سے زیادہ نہیں لیکن بات آگے آئے گی اس کی ایک رانی جس کا نام دیدا رانی پڑ قابل ذکر بھی ہے اور اس سے آپ لوگوں کی پہچان بہت ضروری بھی ہے کہ آپ اس سے مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

24 Aug 2020 کو شائع کیا گیا

(قسط:۸ )
تاریخ بہت سے لوگوں کے لئے بڑی دلچسپ اور حیران کن ثابت ہوتی ہے ، کیونکہ اکثر و بیشتر مدتوں بعد ممالک کو بہتر اور نیک دل راجہ نصیب ہوتے ہیں جو اپنی محنت اور مسلسل جدوجہد سے اپنے ممالک یا ریاستوں میں امن و امان کے ساتھ ساتھ ساتھ عدل و انصاف قائم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں لیکن عجیب طرح کی بدقسمتی سے بار بار تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہر نیک دل ، عادل ،انصاف پسند حکمران کی مدت کا ر ایک تو کم ہوتی ہے دوسری بات یہ کہ اس کی آنکھیں مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

25 Jul 2020 کو شائع کیا گیا

(قسط:۶ )
للتا دت مکتا پیڈ، لا پتہ ہوگیا ، برف میں اپنے لشکر سمیت دفن ہوا ، یہی قرین قیاس ہے۔ اس کے بعد اس کا بیٹا کولیا پیڈایک سال تک ،کولیا پیڈ کا بھائی راجہ وزرادت ۔سات سال تک،وزارت کا بیٹا چار سال تک اور پھر اس کا بھائی سنگرام پیڈ صرف سات روز تک بادشاہ رہ کر اپنے چھوٹے بھائی کے ہاتھوں قتل ہوکر جیا پیڈ نے کلاہِ بادشاہی اپنے سر پر ۷۹۷ ؁ء میں سجالی،بیچ کے پیڈ خاندان کے بادشاہوں میں کوئی بھی حکمران تذکرے کے قابل نہیں ، اس لئے ہم بھی کچھ مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

18 Jul 2020 کو شائع کیا گیا

قسط:۵ )
تاریخ کے طالب علم اور تاریخ نویس تاریخ کے دریچوں میں جھانکتے ہیں تو بہت سارے کیا بلکہ اکثر و بیشتر حقائق پر انہیں یقین کرنا ہی مشکل ہوتا ہے لیکن یہ بہر حال تاریخی حقائق ہوتے ہیں ، عبرتناک، ہیبتناک اور افسوس ناک ، مغل ایمپائر جو بھار ت میں صدیوں تک ایک عظیم بادشاہت رہی ، ان کے آخری تاجدار کو اتنی بڑی سلطنت میں دفن ہونے کے لئے دو گز زمین میسر نہیں آسکی ،،اندلس میں ایک ہزار برس کی حکمرانی کے باوجود وہاں کی مسجدوں میں کوئی مسلم مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

18 Jul 2020 کو شائع کیا گیا

(قسط:۴ )
پہلی صدی عیسوی تک مجھے راج ترنگنی اور دوسری تاریخوں میں کئی ایسے ہندو حکمران نظر آئے جن کا دور ہر لحاظ سے اچھا اور زبردست رہا لیکن اختصار کو مدِ نظر رکھتے ہوئے میں پرور سین پر آجاتا ہوں جس کا ذکر ناگزیر ہے ہاں راجہ میگواہن جو قندہار سے کشمیر آئے اور مسند حکومت پر براجمان ہوئے زبردست بادشاہ گذرے ہیں ، جنہوں نے عدل و انصاف سے حکومت کی، ایک لشکر جرار تیار کیا اور ہندوستان پر حملہ آور ہوا ، تمام راجوں کو مطیع کرتا مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

06 Jul 2020 کو شائع کیا گیا

(قسط:۳ )

کشمیر میں بہت سارے تاریخ دان گذرے ہیں اور انہیں پڑھا جاسکتا ہے اس لئے میں کوئی تاریخ نہیں لکھ رہا بلکہ پانچ ہزار اٹھاسی برس اپنی تاریخ سے صرف وہ معلومات آپ کو فراہم کروں گا جو ضروری ہوں اورجو خود ایک تاریخ کی حیثیت رکھتے ہوں ، راج ترنگنی میں جو پہلا اور اولین مہاراجہ ہمیں نظر آتا ہے جس سے کلہن پنڈت نے ابتدا کی ہے وہ ’’راجہ اوکا نند ‘ ہے، اس کا دور ۱۷ سال تک ، ۳۱۲۱ ق، م میں رہا ہے ،،، مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

27 Jun 2020 کو شائع کیا گیا

رشید پروینؔ سوپور
rashid.parveen48@gmail.com

(قسط:۲ )

اس سے پہلے کہ اصل کہانی پر آجائیں ہم آپ کو کشمیر کی خوبصورتی کے بارے میں بتانا چاہیں گے ، لیکن کیسے بتائیں ، ایسے الفاظ زباںِ اردو میں ہوں تو ہوں لیکن میرے پاس نہیں جو کشمیر کی خوبصورتی ، دلکشی اور دلفریبی کی تصویر کھینچ سکیں اس لئے میں ان عظیم شعرا کی طرف ہی رخ کروں گا جنہوں نے کشمیر دیکھا ، اور پھر اس کی سحر انگیزی کو اپنے الفاظ کا پیرہن پہنانے کی کوشش مزیدپڑھیں

سر زمین کشمیر ،، تیر ے دامن سے جو آ ئیں ان ہواؤں کو سلام

21 Jun 2020 کو شائع کیا گیا

پہلے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپکو یاد دلاوں کہ سر زمین وادی کشمیر کو ۔کشمیری زباں میں (پیر وار ) کہا جاتا ہے جس کا ترجمہ صوفی، سنتوں، فقیروں ،اولیاکرام ، غوث،و اقطاب کا صحن یا آنگن ہی ہوسکتا ، مزیدپڑھیں