مضامین کالم کی خبریں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

25 Jul 2020 کو شائع کیا گیا

(قسط:۶ )
للتا دت مکتا پیڈ، لا پتہ ہوگیا ، برف میں اپنے لشکر سمیت دفن ہوا ، یہی قرین قیاس ہے۔ اس کے بعد اس کا بیٹا کولیا پیڈایک سال تک ،کولیا پیڈ کا بھائی راجہ وزرادت ۔سات سال تک،وزارت کا بیٹا چار سال تک اور پھر اس کا بھائی سنگرام پیڈ صرف سات روز تک بادشاہ رہ کر اپنے چھوٹے بھائی کے ہاتھوں قتل ہوکر جیا پیڈ نے کلاہِ بادشاہی اپنے سر پر ۷۹۷ ؁ء میں سجالی،بیچ کے پیڈ خاندان کے بادشاہوں میں کوئی بھی حکمران تذکرے کے قابل نہیں ، اس لئے ہم بھی کچھ مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

18 Jul 2020 کو شائع کیا گیا

قسط:۵ )
تاریخ کے طالب علم اور تاریخ نویس تاریخ کے دریچوں میں جھانکتے ہیں تو بہت سارے کیا بلکہ اکثر و بیشتر حقائق پر انہیں یقین کرنا ہی مشکل ہوتا ہے لیکن یہ بہر حال تاریخی حقائق ہوتے ہیں ، عبرتناک، ہیبتناک اور افسوس ناک ، مغل ایمپائر جو بھار ت میں صدیوں تک ایک عظیم بادشاہت رہی ، ان کے آخری تاجدار کو اتنی بڑی سلطنت میں دفن ہونے کے لئے دو گز زمین میسر نہیں آسکی ،،اندلس میں ایک ہزار برس کی حکمرانی کے باوجود وہاں کی مسجدوں میں کوئی مسلم مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

18 Jul 2020 کو شائع کیا گیا

(قسط:۴ )
پہلی صدی عیسوی تک مجھے راج ترنگنی اور دوسری تاریخوں میں کئی ایسے ہندو حکمران نظر آئے جن کا دور ہر لحاظ سے اچھا اور زبردست رہا لیکن اختصار کو مدِ نظر رکھتے ہوئے میں پرور سین پر آجاتا ہوں جس کا ذکر ناگزیر ہے ہاں راجہ میگواہن جو قندہار سے کشمیر آئے اور مسند حکومت پر براجمان ہوئے زبردست بادشاہ گذرے ہیں ، جنہوں نے عدل و انصاف سے حکومت کی، ایک لشکر جرار تیار کیا اور ہندوستان پر حملہ آور ہوا ، تمام راجوں کو مطیع کرتا مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

06 Jul 2020 کو شائع کیا گیا

(قسط:۳ )

کشمیر میں بہت سارے تاریخ دان گذرے ہیں اور انہیں پڑھا جاسکتا ہے اس لئے میں کوئی تاریخ نہیں لکھ رہا بلکہ پانچ ہزار اٹھاسی برس اپنی تاریخ سے صرف وہ معلومات آپ کو فراہم کروں گا جو ضروری ہوں اورجو خود ایک تاریخ کی حیثیت رکھتے ہوں ، راج ترنگنی میں جو پہلا اور اولین مہاراجہ ہمیں نظر آتا ہے جس سے کلہن پنڈت نے ابتدا کی ہے وہ ’’راجہ اوکا نند ‘ ہے، اس کا دور ۱۷ سال تک ، ۳۱۲۱ ق، م میں رہا ہے ،،، مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

27 Jun 2020 کو شائع کیا گیا

رشید پروینؔ سوپور
rashid.parveen48@gmail.com

(قسط:۲ )

اس سے پہلے کہ اصل کہانی پر آجائیں ہم آپ کو کشمیر کی خوبصورتی کے بارے میں بتانا چاہیں گے ، لیکن کیسے بتائیں ، ایسے الفاظ زباںِ اردو میں ہوں تو ہوں لیکن میرے پاس نہیں جو کشمیر کی خوبصورتی ، دلکشی اور دلفریبی کی تصویر کھینچ سکیں اس لئے میں ان عظیم شعرا کی طرف ہی رخ کروں گا جنہوں نے کشمیر دیکھا ، اور پھر اس کی سحر انگیزی کو اپنے الفاظ کا پیرہن پہنانے کی کوشش مزیدپڑھیں

سر زمین کشمیر ،، تیر ے دامن سے جو آ ئیں ان ہواؤں کو سلام

21 Jun 2020 کو شائع کیا گیا

پہلے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپکو یاد دلاوں کہ سر زمین وادی کشمیر کو ۔کشمیری زباں میں (پیر وار ) کہا جاتا ہے جس کا ترجمہ صوفی، سنتوں، فقیروں ،اولیاکرام ، غوث،و اقطاب کا صحن یا آنگن ہی ہوسکتا ، مزیدپڑھیں

کشمیر ۔۔ تیری میری کہانی ہے

21 Jun 2020 کو شائع کیا گیا

پچھلے برس روزنامہ ’’ منصف ‘‘حیدر آباد میں میرے مضامین کے علاوہ ایک قسط وار پولیٹیکل کہانی ’’جمہوری دلہن کی عصمت دری ۴۷ سے اب تک ‘‘ قسط وار آرہا تھا کہ آٹھ دس قسطوں کے بعد ہی ۵ اگست سے ساری زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ، نیٹ فضا میں تحلیل ہوکر رہ گیا اور قلمکاروں کے قلم بھی سسک سسک کردم توڈ گئے ، اسی دوران میرے ذہن کے کسی گوشے میں اس خیال نے جنم لیا تھا کہ کشمیر کی قابل ذکر تاریخ کے چند اوراق مزیدپڑھیں

وادی کے ہسپتالوں میں عملے کی کمی تشویشناک

07 Apr 2019 کو شائع کیا گیا

پرویز احمد
وادی میں قائم غیرں اور ادویات کی دکانوں کے خلاف کاروائی عمل میں لاتے ہوئے محکمہ صحت نے مختلف اضلاع میں چھاپہ مار کاروائیوں کے دوران 151نجی کلنکوں ، اسپتالوں اور ادویات کی دکانوں کو سیل کردیا ہے اور یہ عوام کی شکایتوں کو صحیح ثابت کرتے ہوئے غیر قانونی اسپتالوںیا ۔ محکمہ صحت کی جانب سے شروع کی گئی اس خصوصی مہم سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ دیہی علاقوں میں غیر قانونی کلنکوں مزیدپڑھیں

کیا کشمیر میں پیلٹ گن کا استعمال بند ہوگا؟

02 Apr 2019 کو شائع کیا گیا

نصیر احمد
یورپی پارلیمنٹ کے تقریباً پچاس ممبران نے گذشتہ دنوں وزیراعظم نریندر مودی کو شورش زدہ ریاست جموں وکشمیر میں بدنام زمان پیلٹ گن کا استعمال فوری طور بند کرنے کی ایک مشترکہ مکتوب میں گذارش کی۔ یورپی پارلیمنٹ کے ان منتخبہ ممبران نے اپنے مکتوب میں اس بات پر شدید تشوش کا اظہار کیا کہ ریاست میں سالہا سال کے انسانی حقوق کی لگاتار خلاف ورزیاں ہوتی آرہی ہیں اور امن و قانون کی صورتحال کو بنائے رکھنے کی مزیدپڑھیں

جماعتِ اسلامی پر پابندی کتنی صحیح!

23 Mar 2019 کو شائع کیا گیا

نصیر احمد
لیتہ پورہ پلوامہ میں 14فروری کو خودکش بم حملے کے ایک ہفتہ بعدجب سرکار نے کشمیر میںجماعتِ اسلامی پر کریک ڈاون کر کے تقریباََ چار سو جماعت کارکنوں کو گرفتار کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا، اس بات کے اندیشے ظاہر کئے جا رہے تھے کہ مرکزی سرکار الیکشن سے قبل ریاست میں سیاسی سطح پر کچھ بڑا کرنے کاارادہ رکھتی ہے۔ یہ ابہام 28 فروری کی شام کو ختم ہوا۔ مرکزی وزارتِ داخلہ نے انتہا پسندی اور ملیٹنسی کو فروغ دینے مزیدپڑھیں